Doctor Waqar Khan

میں نے جس کے لئے – ڈاکٹر وقار خان

میں نے جس کے لئے – ڈاکٹر وقار خان

میں نے جس کے لئے خدا چھوڑا آخرش اُس کو بھی گنوا چھوڑا ایک جَھلّی سی سانولی لڑکی جس نے پاگل مجھے بنا چھوڑا سوچتا ہوں کہ کچھ خداؤں نے بھولے لوگوں کو کیوں لڑا چھوڑا جب مری جاں‘ ہوا کے حق میں تھی میں نے جلتا دِیا بُجھا چھوڑا ایک ایمان آ بچا مرے پاس باقی جو بھی تھا‘ سب لُٹا چھوڑا اس نے بھی اپنا دین چھو...

ذات کا جو سفر کرے تو کرے – ڈاکٹر وقار خان

ذات کا جو سفر کرے تو کرے – ڈاکٹر وقار خان

ذات کا جو سفر کرے تو کرے اپنے قدموں کو پَر کرے تو کرے میرے الفاظ‘ سب ہی ضائع گئے اب مرا خوں اثر کرے تو کرے مجھ سے تو یہ بسر نہیں ہوتی زندگی وہ بسر کرے تو کرے وہ تو پھر خود کشی نہیں ہوتی جو ترے نام پر کرے تو کرے بھیک اب مانگتا نہیں ہوں میں تُو اِدھر خود نظر کرے تو کرے میں نہیں کر سکا ہوں پر یہ وقت قد...

یہ میرا نام یہ پہچان‘ – ڈاکٹر وقار خان

یہ میرا نام یہ پہچان‘ – ڈاکٹر وقار خان

یہ میرا نام یہ پہچان‘ فِیْ سَبِیْلِ الْعِشْق یہ میری روح مری جان‘ فِیْ سَبِیْلِ الْعِشْق مجھے سمجھ نہیں سکتا تُو جا کے اُس سے پوچھ بنایا جس نے ہر انسان‘ فِیْ سَبِیْلِ الْعِشْق شعورِ عشق کی تفسیر طحہٰ و یسیٰن خدا نے لکھا ہے قرآن‘ فِیْ سَبِیْلِ الْعِشْق ہزار نسلوں سے ہم عشق زاد ہیں صاحب ہماری نسل بھی...

کیا مری بات سُن نہیں – ڈاکٹر وقار خان

کیا مری بات سُن نہیں – ڈاکٹر وقار خان

کیا مری بات سُن نہیں پایا یا مجھے دے رہا ہے بہکاوا؟ میں ہوں شرمندہ اے مرے الفاظ! میں تمہیں زندگی نہ دے پایا جتنا بھی تھا، وہی رہا مرا قد گھٹتا بڑھتا رہا مگر سایا اے مرے سانپ کیوں مجھے نہ ڈسا تجھ کو تو دودھ بھی تھا پلوایا اب مرا کیا قصور کچھ بھی کروں پہلے تو تُو نے مجھ کو بہکایا!

جس طرح جاری ہے یاں خون و – ڈاکٹر وقار خان

جس طرح جاری ہے یاں خون و – ڈاکٹر وقار خان

جس طرح جاری ہے یاں خون و خرابات کی جنگ کیا خبر ہونے لگے واں پہ بھی درجات کی جنگ اب تو بتلا دے ہمیں کون خدا‘ کون ہیں ہم واعظا! چھوڑ بھی دے اپنے مفادات کی جنگ میں نے ایمان بچانے کے لئے جنگ لڑی جنگ وہ عشق کی تھی یا کہ مری ذات کی جنگ کب تلک تجھ سے مرا درد سہا جائے گا؟ کب تلک لڑتا رہوں گا یونہی حالات کی ...

نذرِ غالب – ڈاکٹر وقار خان

نذرِ غالب – ڈاکٹر وقار خان

نذرِ غالب ہم ترے ہوتے تو اپنوں کی طرح پیش آتا بس ترے ہونے کا احسان اُٹھا رکھتے تھے وہ بھی کیا یاد کرے گا کہ بشر پیدا کئے ’’ ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے‘‘

ضائع ہونے کے مراحل سے – ڈاکٹر وقار خان

ضائع ہونے کے مراحل سے – ڈاکٹر وقار خان

ضائع ہونے کے مراحل سے گزارا بھی گیا مار کر زندہ کیا‘ زندہ کو مارا بھی گیا پیار پر فخر کیا، فخر پہ مِلنی تھی سزا اُس کو جیتا بھی گیا، جیت کے ہارا بھی گیا اُس کا اک نام ہی تھا میرے لئے بیساکھی وہ مجھے چھوڑ گیا، میرا سہارا بھی گیا موت کا اپنا کوئی ہوتا نہیں کیا صاحب! چھوڑ کر چاند گیا، چاند کا تارا بھی ...

اے آسمان! ترے اُس طرف – ڈاکٹر وقار خان

اے آسمان! ترے اُس طرف – ڈاکٹر وقار خان

اے آسمان! ترے اُس طرف خدا ہے کیا؟ اُدھر ہی یار ہے میرا‘ ذرا بتا ___ ہے کیا؟ تمہاری آنکھوں میں لالی دکھائی دیتی ہے کہو‘ وہ شخص تمہیں بھی کہیں ملا ہے کیا؟ اے میرے دوست ! تجھے اپنا خوں معاف کیا بتا کہ دوستی کا حق ادا ہوا ہے کیا؟ مرا شعور مجھے لازوال کر دے گا مرا وجود زمانہ مٹا سکا ہے کیا؟ میں اپنے حق...

مرا آگے بڑھنے کا شوق – ڈاکٹر وقار خان

مرا آگے بڑھنے کا شوق – ڈاکٹر وقار خان

مرا آگے بڑھنے کا شوق بھی‘ مرا حوصلہ بھی فریب تھا مجھے منزلوں کا گمان کیا‘ مرا راستہ بھی فریب تھا ہم اندھیر نگری کے باسیوں کو ‘ پتہ کبھی بھی نہ چل سکا وہ جو روشنی تھی فریب تھی‘ وہ ترا دِیا بھی فریب تھا میں نے مسجدوں کی زیارتوں میں خدا بھی اپنا گنوا دیا مری پوجا پاٹ بھی جھوٹ تھی‘ مرا دیوتا بھی فریب ت...

دیکھ پگلی نہ دل لگا مرے – ڈاکٹر وقار خان

دیکھ پگلی نہ دل لگا مرے – ڈاکٹر وقار خان

دیکھ پگلی نہ دل لگا مرے ساتھ اتنی اچھی نہیں وفا مرے ساتھ یار‘ جو مجھ پہ جان وارتے تھے کیا کوئی واقعی مَرا، مرے ساتھ؟ میں تو کمزور تھا میں کیا لڑتا وہ مگر پھر بھی لڑ پڑا مرے ساتھ میں پریشان تو نہیں مرے دوست! اتنی ہمدردی مت جتا مرے ساتھ اے خدا! تُو تو جانتا تھا مجھے تُو نے اچھا نہیں کِیا مرے ساتھ اب م...

وہ میرا یار ہے پر میری – ڈاکٹر وقار خان

وہ میرا یار ہے پر میری – ڈاکٹر وقار خان

وہ میرا یار ہے پر میری مانتا نہیں ہے وہ درد دیتا ہے پر درد بانٹتا نہیں ہے یا اُس کو میری زباں کی سمجھ نہیں آتی یا جان بوجھ کے اس سمت دیکھتا نہیں ہے تُو اُس کے پاس کبھی جا کے تھوڑا وقت گزار کہ جتنا تُو نے سنا اُتنا وہ بُرا نہیں ہے وہ بولی تیرے لئے خاندان کیوں چھوڑوں؟ وقارؔ تجھ سے مرا رشتہ خون کا نہی...

کبھی تو نام کبھی انتساب – ڈاکٹر وقار خان

کبھی تو نام کبھی انتساب – ڈاکٹر وقار خان

کبھی تو نام کبھی انتساب دیکھتے ہیں ہم اپنے ہاتھ میں اپنی کتاب دیکھتے ہیں میں نا سمجھ ہوں مجھے صرف اتنا پوچھنا ہے تو اب بھی آپ زمینوں کے باب دیکھتے ہیں؟ مجھے تو ایسے ہی لوگوں سے خوف آتا ہے جو صرف جیتے ہی رہنے کے خواب دیکھتے ہیں یہ تیرا بولنا مروائے گا تجھے مرے دوست جو چپ رہا اُسے ہم کامیاب دیکھتے ہ...

جب ترا نام لیا جائے گا – ڈاکٹر وقار خان

جب ترا نام لیا جائے گا – ڈاکٹر وقار خان

جب ترا نام لیا جائے گا درد اک دل میں اُٹھا جائے گا آج میں چپ نہیں رہنے والا آج تو شور کیا جائے گا میں بھی تو دور چلا جاؤں گا وہ بھی تو دور چلا جائے گا میں تمہیں یاد نہیں آؤں گا؟ جب مرا ذکر کیا جائے گا اے شبِ ہجر! مرا ساتھ تو دے تیرا بھی ساتھ دیا جائے گا اشک تو پی ہی لئے جائیں گے کس طرح خون پیا جا...

وہ عورت تھی  – ڈاکٹر وقار خان

وہ عورت تھی – ڈاکٹر وقار خان

وہ عورت تھی ________ خلا کی مشکلات اپنی جگہ قائم تھیں اور دنیا اُجڑتی، بھُربھری، بنجر زمینوں کی نشانی تھی ستارے سرخ تھے اور چاند سورج پر اندھیروں کا بسیرا تھا درختوں پر پرندوں کی جگہ ویرانیوں کے گھونسلے ہوتے زمیں کی کوکھ میں بس تھور تھا اور خار اُگتے تھے ہوا کو سانس لینے میں بہت دشواریاں ہوتیں تو پھ...

عاشقی کا حصول ہے تری یاد – ڈاکٹر وقار خان

عاشقی کا حصول ہے تری یاد – ڈاکٹر وقار خان

عاشقی کا حصول ہے تری یاد ہجر کا عرض و طول ہے تری یاد مجھ سے دو چار ہی خطائیں ہوئیں اُن میںسے ایک بھول ہے تری یاد یاد تیری عذاب ہے ویسے مجھ کو پھر بھی قبول ہے تری یاد زندگی کے اصول ہوتے ہیں اور پہلا اصول ہے تری یاد خود پہ کتنا ملال ہے مجھ کو خود بھی کتنی ملول ہے تری یاد * آسماں والے ایک بات بتا یہ ز...

اشک آنکھوں میں چھپائے – ڈاکٹر وقار خان

اشک آنکھوں میں چھپائے – ڈاکٹر وقار خان

اشک آنکھوں میں چھپائے تو نہیں جاتے ہیں اپنی مرضی سے بہائے تو نہیں جاتے ہیں ہائے وہ لوگ جو راہوں میں بچھڑ جاتے ہیں ہائے وہ لوگ بھلائے تو نہیں جاتے ہیں وہ مٹا لیں بھی اگر اپنی کتابوں سے نقوش نقش آنکھوں سے مٹائے تو نہیں جاتے ہیں ڈوب جاتا ہے ترے وصل کا سورج جاناں پر تری یاد کے سائے تو نہیں جاتے ہیں سا...

محبتیں ہیں کسی قِسم کی – ڈاکٹر وقار خان

محبتیں ہیں کسی قِسم کی – ڈاکٹر وقار خان

محبتیں ہیں کسی قِسم کی نہ چاہتیں ہیں مرے نصیب میں لکھی ہوئی اذیّتیں ہیں وہ گاؤں والے تو آئے تھے شہر میں جینے یہاں تو شہر میں قبروں پہ بھی عمارتیں ہیں کہاں معاوضہ ملتا ہے سوچنے کا مجھے میں سوچتا ہوں کہ میری بھی تو ضرورتیں ہیں میں اپنے سینے پہ سر رکھ کے سونا چاہتا ہوں تمہارے بعد بھی مجھ میں تمہاری عا...

دل سے اپنے خدا کی نہ کی – ڈاکٹر وقار خان

دل سے اپنے خدا کی نہ کی – ڈاکٹر وقار خان

دل سے اپنے خدا کی نہ کی بندگی احتراماً ہی تھامے رکھی بندگی میری نظریں نہ انسانیت پر پڑیں میں نے آنکھوں پہ باندھے رکھی بندگی تُو خدا کے مقابل‘ خدا بن گیا تیرے ہاتھوں سے جاتی رہی بندگی اے خداؤ! میں تم سب کا منکر ہوا میں نے تم جیسوں کی چھوڑ دی بندگی تیرے حصے میں دَیر و حرم ہی رہے شیخ تُو نے تو ہرگز نہ...

وہ میری سمت تو میں اُس – ڈاکٹر وقار خان

وہ میری سمت تو میں اُس – ڈاکٹر وقار خان

وہ میری سمت تو میں اُس کی سمت چلنے لگا ہمارا پیار بھی خود ہم سے آج جلنے لگا میں ایسی چال چلی وہ خدا بھی چیخ پڑا میں ایسا ہاتھ کِیا‘ وقت ہاتھ مَلنے لگا وہ چاہتی ہی نہیں تھی کہ میرے ساتھ چلے سو اُس کو دیکھ کے میں راستہ بدلنے لگا میں تیرے خوف سے خود اپنا نام بھول گیا پھر ایک دن میں ترے خوف سے نکلنے لگ...

کسی کے عشق میں اب دیدہ – ڈاکٹر وقار خان

کسی کے عشق میں اب دیدہ – ڈاکٹر وقار خان

کسی کے عشق میں اب دیدہ تر نہیں رہنا مِرا ہے دشت مجھے دربدر نہیں رہنا اگر ہے آپ کو ہم سے کوئی گلہ ‘ تو رہے ہمیں بھی آپ کے زیرِ اثر نہیں رہنا کئی خداؤں کے ہم لوگ ہیں ستائے ہوئے ہماری آہ کو اب بے اثر نہیں رہنا وہ جس نے دھوپ فروشی میں عمر کاٹی ہو تو اُس کا اَبر کے سائے میں گھر نہیں رہنا

جو باتیں ہیں مرے اندر – ڈاکٹر وقار خان

جو باتیں ہیں مرے اندر – ڈاکٹر وقار خان

جو باتیں ہیں مرے اندر بیان کر جاؤں کوئی بھی خوف نہیں چاہے پھر میں مر جاؤں مجھے تو اپنے ہی لہجے سے خوف آتا ہے کہ جتنا سچا ہوں میں زہر سے نہ بھر جاؤں وہ بے بسی ہے کہ چہرے پہ ساتھ دِکھتی ہے وہ شرم ہے کہ میں اب خود میں ہی اُتر جاؤں کبھی تو میرے لئے منتظر ہوں گھر والے میں چاہتا ہوں کبھی میں بھی اپنے گھر...

ہم جی رہے ہیں عالمِ صد – ڈاکٹر وقار خان

ہم جی رہے ہیں عالمِ صد – ڈاکٹر وقار خان

ہم جی رہے ہیں عالمِ صد خوفناک میں رُسوا کیا گیا ہمیں بزمِ تپاک میں ہائے فریبِ وصل ترے انتظار میں گزری حیاتِ خضر دما دم فراق میں تیغِ عدو سے مجھ کو نہیں خوف اب کوئی لیکن ہے میری اپنی سِپر میری تاک میں مجھ کو مرے وجود سے کر دے الگ کوئی دم گھُٹ رہا ہے مرقدِ ہستی کی دھاک میں منزل نہ ہمسفر نہ کوئی راستہ ...

شوقِ حُسن و ادا، دل لگی – ڈاکٹر وقار خان

شوقِ حُسن و ادا، دل لگی – ڈاکٹر وقار خان

شوقِ حُسن و ادا، دل لگی معذرت ساقیا! معذرت‘ مے کشی معذرت میرا احساس عاری ہے جذبات سے چشمِ نَم، سوزِ دل، بے بسی‘ معذرت قافلہ لُوٹنے سے میں قاصر رہا رہبرو! معذرت، رہبری معذرت میں بسر کر نہ پایا تجھے ڈھنگ سے معذرت زندگی، زندگی معذرت میری حالت کہیں درمیاں میں رہی بے خودی معذرت‘ آگہی معذرت مجھ کو دَیر و...

آسودگانِ خاک ہیں‘ اپنا – ڈاکٹر وقار خان

آسودگانِ خاک ہیں‘ اپنا – ڈاکٹر وقار خان

آسودگانِ خاک ہیں‘ اپنا جہان خاک اپنا وجود خاک ہے، اپنا نشان خاک شعلہ بدن بھی خاک سے پیدا کئے گئے ان مہ رخوں کی ساری ادااور اُٹھان خاک تیرے شعور و فہم سے آگے مرے سجود واعظ ترے تمام ہی وعظ و بیان خاک اے اہلِ شہر ہوئیے مت آستان بوس سب دستگیر خاک ہیں، سب مہربان خاک یہ انتہائے شوقِ وفا ہے کہ اب مجھے ہ...

مانتا ہوں کہ رہگزر میں – ڈاکٹر وقار خان

مانتا ہوں کہ رہگزر میں – ڈاکٹر وقار خان

مانتا ہوں کہ رہگزر میں ہوں تیری جانب مگر سفر میں ہوں ہر طرف بے بسی نمایاں ہے ایسا لگتا ہے اپنے گھر میں ہوں وہ مجھے رائگاں سمجھتے ہیں جب کہ میں بھی کسی نظر میں ہوں زندگی جان چھوڑ دے میری اب تو میں موت کے سفر میں ہوں عشق کو دردِ سَر بھی کہتے ہیں مبتلا میں بھی دردِ سَر میں ہوں اے خدا! بات کیوں نہیں کرت...

خطا قبول نہیں ہے تو خود – ڈاکٹر وقار خان

خطا قبول نہیں ہے تو خود – ڈاکٹر وقار خان

خطا قبول نہیں ہے تو خود خطا کر دیکھ یا ایک بار برابر میں میرے آ کر دیکھ یہ میرا صبر ہے‘ یہ مجھ پِسے ہوئے کا صبر خدائے قہر ! تُو آ قہر آزما کر دیکھ غرور وار دیا میں نے فِیْ سَبِیْلِ الْعِشْقْ اے عشق تُو بھی تو اب تھوڑا حوصلہ کر دیکھ میں دل کا اچھا ہوں لیکن ذرا سا ہوں گستاخ تُو ایک بار مجھے سینے سے...

یہاں پہ کون کبھی مفت – ڈاکٹر وقار خان

یہاں پہ کون کبھی مفت – ڈاکٹر وقار خان

یہاں پہ کون کبھی مفت تیری تھاں پہ گیا جو تیرے پاس گیا کھیل کر وہ جاں پہ گیا تری زمین نے تجھ کو نہ میرا ہونے دیا ترے حصول کی خاطر میں آسماں پہ گیا تُو اک یقین زدہ اک یقین کی اولاد ترا عقیدہ مگر کس لیے گماں پہ گیا لگائی تُو نے یہ تہمت کہ اُس کوعشق نہیں خدا کو چھوڑ کے جو تیرے آستاں پہ گیا یہاں پہ جس ...

کچھ پرستار ترے سینے سے – ڈاکٹر وقار خان

کچھ پرستار ترے سینے سے – ڈاکٹر وقار خان

کچھ پرستار ترے سینے سے لگنے کے لئے کب سے بیتاب کھڑے ہیں ترے گھر کے باہر خود پسندی نے مجھے خود سے نکلنے نہ دیا عاجزی لا نہ سکا اپنے بیاں کے اندر یوں سرِ راہ تو میں شعر سنانے سے رہا جا کسی بھیڑ میں جا ڈھونڈ کوئی بازی گر میں وقارؔ اُس کو دلاسے ہی تو دے سکتا ہوں جانی آ! دیکھ کوئی فکر نہ کر، فکر نہ کر

جاری ہے نالہ و فغاں ہائے – ڈاکٹر وقار خان

جاری ہے نالہ و فغاں ہائے – ڈاکٹر وقار خان

جاری ہے نالہ و فغاں ہائے از زمیں تا بہ آسماں‘ ہائے وہ جہاں محفلیں سجا کرتیں اُٹھ رہا ہے وہاں دھواں‘ ہائے ہائے وہ لوگ ‘ وہ قدآور لوگ مٹ گیا اُن کا بھی نشاں ‘ ہائے اچھا تھا اپنا ہی نہ مانتے وہ چھوڑتے پر نہ درمیاں‘ ہائے جسم تو وصل کی ہوس میں گیا روح کا خود کیا زیاں‘ ہائے آنکھ ہے نَم اور اُس نمی میں ...

میں نے کتنی ہی صدیاں – ڈاکٹر وقار خان

میں نے کتنی ہی صدیاں – ڈاکٹر وقار خان

میں نے کتنی ہی صدیاں دیکھی ہیں صرف اِکّیس سال کا ہوں میں صرف اکیس سال دیکھے ہیں؟ تم بھی سوچو گے دیکھو بچہ ہے اس کو کیا غم ہمارے جیسے بھَلا اس کو کیا اس جہان سے مطلب اپنی مستی میں رہتا ہو گا مست اے مرے خوش خیال! اے خوش فہم! جب ازل میں وہ پانی اور مٹی گوندھ کر اُن پہ آگہی کی آگ جھونکنے والا تھا تو ا...

صدقۂ آلِ عبا فُزْتُ – ڈاکٹر وقار خان

صدقۂ آلِ عبا فُزْتُ – ڈاکٹر وقار خان

صدقۂ آلِ عبا فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَہ میں جہاں جا کے لڑا‘ فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَہ اہلِ شمشیر ابھی منتظرِ فیصلہ تھے بول اُٹھا شیرِ خدا‘ فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَہ اِنّمَا فُزْتُ عَلی الدُنْیَا وَ اَدْوَارِ الحَشْر اُن کی جب خاک ہوا‘ فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَہ میں ثنا خوانِ علی ؑ ہوں‘ مرے الفاظ کی ...

آرزوئے حیات – ڈاکٹر وقار خان

آرزوئے حیات – ڈاکٹر وقار خان

آرزوئے حیات اے آرزوئے حیات! اب کی بار جان بھی چھوڑ تجھے خبر ہی نہیں کیسے دن گزرتے ہیں اے آرزوئے نَفَس! اب مُعَاف کر مجھ کو تجھے یہ علم نہیں کتنی مہنگی ہیں سانسیں کہ تُو تو لفظ ہے ، بس ایک لفظ اَدھ مُردہ ترے خمیر کی مٹی کا رنگ لال گُلال سلگتی آگ نے تجھ کو جَنا ہے اور تُو خود اک ایسی بانجھ ہے جس س...

میں خاک زاد! ترے نام پر – ڈاکٹر وقار خان

میں خاک زاد! ترے نام پر – ڈاکٹر وقار خان

میں خاک زاد! ترے نام پر فدا ہو کر فلک نشین چلا تیری خاکِ پا ہو کر کسی کو چین نہیں تاج و تخت کے ہوتے کسی نے راج کیا ملک پر گدا ہو کر یہ میرا حوصلہ کہ مجھ بشر نے درد سہے ترا کرم کہ دیے تُو نے دکھ خدا ہو کر میں اپنے آپ سے کیوں اس قدر ہُوا مانوس مجھے ملال نہیں اُس سے بھی جدا ہو کر وہ وقت اچھا تھا جب لو...

دنیا میں جتنے لوگ ہوئے – ڈاکٹر وقار خان

دنیا میں جتنے لوگ ہوئے – ڈاکٹر وقار خان

دنیا میں جتنے لوگ ہوئے مبتلائے عشق ہر ایک کو ہی کرب کی سُولی چڑھائے عشق جس جس نے تیرے عنبریں پیکر پہ جان دی وہ لامحالہ بنتا گیا ہے خدائے عشق جب سے تمام شہر پہ قابض ہوئے ہیں قیس تب سے چہار سمت ہے بس ہائے ہائے عشق یہ عشق اک وجود سے تا عالمین ہے سجدے میں آسمان کو آخر جھکائے عشق میرے شعورِ زیست میں زن...

وہ جب بھی اپنی اداؤں کی – ڈاکٹر وقار خان

وہ جب بھی اپنی اداؤں کی – ڈاکٹر وقار خان

وہ جب بھی اپنی اداؤں کی بات کرتے ہیں تو ہم بہشت کی چھاؤں کی بات کرتے ہیں یہ ’’میر جعفر و صادق‘‘ سے لوگ بھی دیکھو ہمارے ساتھ وفاؤں کی بات کرتے ہیں وہ جن کی ذات کے اندر بھی اک قفس ہے وقارؔ وہ ہم سے تازہ ہواؤں کی بات کرتے ہیں

کب تلک دھوپ نہیں نکلے گی – ڈاکٹر وقار خان

کب تلک دھوپ نہیں نکلے گی – ڈاکٹر وقار خان

کب تلک دھوپ نہیں نکلے گی بینائی کی دھند ظلمت کی زمانے سے ٹلے گی کب تک کیا یونہی وقت ارادوں میں گزر جائے گا دلہنِ وقت یونہی ہاتھ مَلے گی کب تک اے خدا اور کوئی مدِّ مقابل آئے اپنی ہی آگ میں یہ قوم جلے گی کب تک

پل بھر کی وصل رات سے – ڈاکٹر وقار خان

پل بھر کی وصل رات سے – ڈاکٹر وقار خان

پل بھر کی وصل رات سے نکلے نہیں ہیں ہم اُن کی نوازشات سے نکلے نہیں ہیں ہم کیونکر بُجھا دیا گیا ہے آفتاب کو کیونکر اندھیری رات سے نکلے نہیں ہیں ہم سب کچھ لٹا چکے ہیں اناؤں کے کھیل میں اور پھر بھی سحرِ ذات سے نکلے نہیں ہیں ہم اوروں کی خواہشات کو پورا کریں تو کیا اپنی ہی خواہشات سے نکلے نہیں ہیں ہم ہم ...

میں نے جس کے لئے خدا – ڈاکٹر وقار خان

میں نے جس کے لئے خدا – ڈاکٹر وقار خان

میں نے جس کے لئے خدا چھوڑا ہائے! وہ شخص بھی مرا نہ ہوا اک طرف رب تھا اک طرف مرا یار اور پھر مجھ سے فیصلہ نہ ہوا آگ کو زَعم تھا‘ جلا دے گی عشق کو مسئلہ ذرا نہ ہوا درد مندانِ شہر سب بے سود جُز صنم کوئی کام کا نہ ہوا میں نے انسان سے محبت کی میرا یہ دین کیا نیا نہ ہوا؟ تُو نے یہ جسم مجھ کو سونپا ہے؟ یہ...

ستم پسند بھی کوئی کسی – ڈاکٹر وقار خان

ستم پسند بھی کوئی کسی – ڈاکٹر وقار خان

ستم پسند بھی کوئی کسی ستم میں مَرا یا کوئی ڈھیٹ بھلا ایسے ایک دم میں مَرا یہ کُڑھتے رہنا کچھ آسان تو نہیں صاحب مجھے بھی دیکھ کہ میں دوسروں کے غم میں مَرا وجود اپنی ہی مرضی کا جب نہیں پایا عدم میں جیتا رہا اور پھر عدم میں مَرا جب اعتماد نہیں تھا بہت سکون میں تھا میں خود فریب تو بس اپنے ہی بھرم میں م...

اَسرارِ کائنات ہیں میرے – ڈاکٹر وقار خان

اَسرارِ کائنات ہیں میرے – ڈاکٹر وقار خان

اَسرارِ کائنات ہیں میرے بیان میں کتنے ہی آسمان ہیں‘ اِس آسمان میں اے بزدلانِ جنگ! کرو اب تو کوئی وار اک تیر بھی نہیں بچا میری کمان میں یہ عشق ماورائے وجود و نبود ہے ڈھونڈا گیا مگر اسے کون و مکان میں اے تشنگانِ جامِ عدم‘ عاشقانِ دشت! رکھا ہی کیا ہے اپنے لئے اس جہان میں

گواہی  – ڈاکٹر وقار خان

گواہی – ڈاکٹر وقار خان

گواہی میں محبت کے ستاروں سے نکلتا ہوا نور حق و نا حق کے لبادوں میں چھپا ایک شعور میرے ہی دم سے ہوا مسجد و مندر کا ظہور میں مسلمان و برہمن کے ارادوں کا فتور میں حَیازَادی و خوش نَین کے ہونٹوں کا سُرور کسی مجبور طوائف کی نگاہوں کا قصور میری خواہش تھی کہ میں خود ہی زمیں پر جاؤں اور زمیں زاد کا خود جا ک...

چھوڑ کر جب سے وہ چلی گئی – ڈاکٹر وقار خان

چھوڑ کر جب سے وہ چلی گئی – ڈاکٹر وقار خان

چھوڑ کر جب سے وہ چلی گئی ہے زندگی مجھ سے روٹھ سی گئی ہے پیار بھی تو خدا کی صورت ہے صورتِ رب پہ جان دی گئی ہے یہ ہے دربارِ عشق کھُل کے کہو کَس و نا کَس کی یاں سُنی گئی ہے

ہے میرے صبر کی راہوں کا – ڈاکٹر وقار خان

ہے میرے صبر کی راہوں کا – ڈاکٹر وقار خان

ہے میرے صبر کی راہوں کا امتحاں خواہش مرا یقین ہے خواہش، مرا گماں خواہش تمہارے ہجر کی آتش میں جسم جلتا ہے خیالِ وصل ہے مردہ، دھواں دھواں خواہش مرے نَفَس کی بقا تیرا عنبریں پیکر مری نگاہ سے ہوتی ہے جاوداں خواہش یہ کیا پڑی ہے تجھے مجھ کو چھوڑ جانے کی ابھی تو ہونے لگی تھی کہیں جواں خواہش میں تیرے عشق ک...

عیب  – ڈاکٹر وقار خان

عیب – ڈاکٹر وقار خان

عیب یہ ایک لفظ ’’ بُرا‘‘ جو کہ ایک لفظ ہے بس تو کیا برائی ہے، اس لفظ کا قصور ہے کیا تو کیا یہ ٹھیک ہے اس کو بُرا ہی کہتے رہیں؟ یہ رات جو کہ اندھیری ہے‘ کیوں اندھیری ہے؟ بس ایک رات کو ہی کیوں اندھیر کر دیا ہے یہ کالی رات ہے کتنے ہی راز رکھے ہوئے اور ایک ہم ہیں کہ رب کا بھی راز رکھتے نہیں _______ یہ ا...

تصورات میں جب بھی رہا‘ – ڈاکٹر وقار خان

تصورات میں جب بھی رہا‘ – ڈاکٹر وقار خان

تصورات میں جب بھی رہا‘ رہا اک جسم خیالِ قرب کی نظروں میں گھومتا اک جسم یہ اہلِ شوق سبھی منہ چھپائے پھرتے ہیں ہے ان کے شوق کے باطن کا آئنہ اک جسم نہ چاہتے ہوئے پھر بھی تو ہو رہا مائل کہ مجھ کو اپنی طرف کیوں ہے کھینچتا اک جسم ترے خیال میں اس کو ہوس کہیں گے میاں؟ میں اک کے بعد اگر مانگوں دوسرا اک جسم ...

نذرِ جون ایلیا – ڈاکٹر وقار خان

نذرِ جون ایلیا – ڈاکٹر وقار خان

نذرِ جون ایلیا اب تو جہانِ لطف سے رشتہ بحال بھی نہیں خوفِ فراق بھی نہیں، شوقِ وصال بھی نہیں میرے وجودِ خاک کو‘ تیری ہوس نہیں رہی میرا شعورِ قرب اب‘ رُو بہ زوال بھی نہیں تُو بھی مرے بغیر خوش، میں بھی ہوں سانس لے رہا تیری مثال بھی نہیں، میری مثال بھی نہیں اُن کی نگاہِ تیز سے، میری نگاہ جا ملے اتنی مجا...

سب مِرے دوست، سب مِرے غم – ڈاکٹر وقار خان

سب مِرے دوست، سب مِرے غم – ڈاکٹر وقار خان

سب مِرے دوست، سب مِرے غم خوار اپنے مطلب تلک ہیں سارے یار میں تو اب سب سے ہو چکا مایوس جیسی دنیا ہے، ویسے دنیا دار! زندگی کا بدل چکا مفہوم پھر بھی ہے تجھ کو زندگی درکار؟ لے ترے سامنے ہوں‘ دیکھ مجھے کیا تجھے اب بھی ہے مرا انکار؟ بھائیو! آؤ خون کرتے ہیں اپنا اپنا نبھائیے کردار اے مرے علم! میں تو بھوکا...

مَاسِوا خاک‘ کچھ نہیں – ڈاکٹر وقار خان

مَاسِوا خاک‘ کچھ نہیں – ڈاکٹر وقار خان

مَاسِوا خاک‘ کچھ نہیں ملتا پوری دنیا کی خاک چھانی ہے دیکھ شیطانِ وصل دور ہی رہ نیتِ ہجر میں نے باندھی ہے خوف کیوں کھاؤں میں مصیبت کا رات دن ماں دعائیں دیتی ہے کلمۂ عشق پر یقین رکھو یہی ایمان کی صفائی ہے مجھ میں تُو ہے تو تجھ میں کیوں نہیں میں؟ کیوں وقارؔ اس قدر یہ دوری ہے؟

چوٹ دشمن پہ بھی پڑتی ہے – ڈاکٹر وقار خان

چوٹ دشمن پہ بھی پڑتی ہے – ڈاکٹر وقار خان

چوٹ دشمن پہ بھی پڑتی ہے تو رو پڑتے ہیں خاک لڑ پائیں گے احساس کے مارے ہوئے لوگ کسی گمنام سے دربار پہ جا بیٹھیں گے تیری دنیا سے بھی تھک ہار کے ہارے ہوئے لوگ اب تو مجبور ہیں جو نام ملے رکھ لیں گے ہاں مگر عرشِ معلی سے اُتارے ہوئے لوگ ہم پہ تم جبر کرو گے تو کرو گے کیا جبر ہم تو ہیں عشق کی راہوں سے گزارے ...

وقت ایسا بھی مجھ پہ آئے – ڈاکٹر وقار خان

وقت ایسا بھی مجھ پہ آئے – ڈاکٹر وقار خان

وقت ایسا بھی مجھ پہ آئے گا؟ یہ زمانہ مجھے سکھائے گا؟ تجھ کو تو اپنی بھی نہیں پہچان تُو مجھے خاک جان پائے گا اے خدا! تجھ کو ہم رہیں گے یاد تُو بھی تو ہم کو یاد آئے گا ہم اگر دونوں خود کشی کر لیں جانی! کیا حوصلہ دکھائے گا؟ جانتا ہوں وہ بے وفا ہے مگر مطلبی ہے‘ سو لوٹ آئے گا تُو اگر اپنا حصہ چھوڑے وق...

فریبِ شوق تری ذات کو – ڈاکٹر وقار خان

فریبِ شوق تری ذات کو – ڈاکٹر وقار خان

فریبِ شوق تری ذات کو ثبات کہاں اب اُس کے بعد بھلا اور خواہشات کہاں میں ایک وہم کی پرچھائیں‘ تُو خدائے جہاں مری بساط کہاں اور تیری ذات کہاں تجھے جو سوچوں تو ہستی سے ماورا ہو جاؤں مرا شعورِ وجود از تصورات کہاں یہ عشق ہے اِسے محدود کون کہتا ہے میاں یہ دشتِ بَلا اور کائنات کہاں وقارؔ آج ملیں وہ تو دیکھ...

ایک اچھا ہے ، اک بُرا – ڈاکٹر وقار خان

ایک اچھا ہے ، اک بُرا – ڈاکٹر وقار خان

ایک اچھا ہے ، اک بُرا ساتھی چاہیے تجھ کو کون سا ساتھی؟ وہ بھی تنہا تھا‘ اس لئے اُس نے آدمی کو بنا لیا ساتھی ایک ساتھی کو مار ڈالا گیا اور چپ دیکھتا رہا ساتھی میں بڑے دل کا آدمی ہوں سو تُو بات دل کی زباں پہ لا ساتھی! سب زمینی سفر میں ساتھ رہے آسماں پر ہوئے جدا ساتھی میں ہوں موقع پرست چھوڑ مجھے جا ...

یہ مانتا ہوں کہ سَو بار – ڈاکٹر وقار خان

یہ مانتا ہوں کہ سَو بار – ڈاکٹر وقار خان

یہ مانتا ہوں کہ سَو بار جھوٹ کہتا ہے مگر یہ سچ ہے وہ تم سے ہی پیار کرتا ہے ارے وہ ہو گا منافق تمہارا یار نہیں ہر ایک بات پہ جو ہاں میں ہاں ملاتا ہے کہوں میں اچھا بُرا یا کروں کوئی بکواس مرا خدا ہی تو ہر بات میری سنتا ہے معاشرے کا بڑا ایک المیہ یہ ہے یہاں پہ جرم زیادہ فروغ پاتا ہے تمہیں زمیں کا حوالہ...

زیادہ سوچنے والے تجھے – ڈاکٹر وقار خان

زیادہ سوچنے والے تجھے – ڈاکٹر وقار خان

زیادہ سوچنے والے تجھے پتہ نہیں ہے جو تجھ کو سینے لگاتا ہے وہ ترا نہیں ہے وہاں پہ ہم بھی ہیں موجود‘ ڈھونڈنے والی سو تیرے دل میں اکیلا ترا خدا نہیں ہے تمہیں پتہ ہے کہ تم کس لئے ہوئے ہو ذلیل تمہارے پاس کوئی اپنا نظریہ نہیں ہے ہیں بددماغ مرے سارے دوست میری طرح کوئی بھی دنیا کے بارے میں سوچتا نہیں ہے اے ...

گرچہ لہو، لہو ہوئے‘ پھر – ڈاکٹر وقار خان

گرچہ لہو، لہو ہوئے‘ پھر – ڈاکٹر وقار خان

گرچہ لہو، لہو ہوئے‘ پھر بھی تو سرخرو ہوئے ہم مر کے پھر سے جی اُٹھے‘ مقتل کی آبرو ہوئے ہم دشتِ بے پناہ کی‘ ظلمت میں خود سے جل اُٹھے منزل کا راستہ بنے، جذبوں کی جستجو ہوئے ہم کو تو یاد بھی نہیں‘ یہ چشمِ تر سے پوچھئے آخر خیالِ یار میں‘ کتنی دفعہ وضو ہوئے وابستگانِ زیست ہیں‘ سب کو ہی آزما لیا مانا کہ...

جی جلاتے گزر جائیں گے – ڈاکٹر وقار خان

جی جلاتے گزر جائیں گے – ڈاکٹر وقار خان

جی جلاتے گزر جائیں گے روز و شب ایک دن خود بھی مر جائیں گے روز و شب روز و شب زندگی کی ہوس اور بس اس ہوس میں گزر جائیں گے روز و شب ہم مسائل سے تھک کے چلو مر چلے اِن سے بچ کر کدھر جائیں گے روز و شب؟ عشق سے جب لگاؤ رہا ہی نہیں پھر تو دل سے اُتر جائیں گے روز و شب حادثہ دیکھ کر میں بھی چپ ہی رہا چپ کیے کی...

ہم نے فراقِ یار میں اک – ڈاکٹر وقار خان

ہم نے فراقِ یار میں اک – ڈاکٹر وقار خان

ہم نے فراقِ یار میں اک عمر کاٹ دی یہ کیسی رہگزار میں اک عمر کاٹ دی اتنا تھا اختیار کہ ہم سانس لے سکیں اس ایک اختیار میں اک عمر کاٹ دی اک لمحہ وصل کا نہ میسر ہوا اُسے جس نے ترے خمار میں اک عمر کاٹ دی پہلے دیارِ عشق کو ڈھونڈا ہے ایک عمر اور پھر اُسی دیار میں اک عمر کاٹ دی

کوچۂ جانِ جاں میں جا – ڈاکٹر وقار خان

کوچۂ جانِ جاں میں جا – ڈاکٹر وقار خان

کوچۂ جانِ جاں میں جا پہنچے یعنی کہ امتحاں میں جا پہنچے جب زمیں سے ہمیں نکالا گیا گُنبدِ آسماں میں جا پہنچے جو مکاں کی تلاش میں نکلے قافلے‘ لا مکاں میں جا پہنچے جونہی پاؤں یقین سے پھسلے منزلِ صد گماں میں جا پہنچے جن پہ ظاہر ہوئے ہیں دَیر و حرم وہ ترے آستاں میں جا پہنچے آرزو حدِّ جاں سے باہر کی عا...

بددماغی مری کیا شے ہے‘ – ڈاکٹر وقار خان

بددماغی مری کیا شے ہے‘ – ڈاکٹر وقار خان

بددماغی مری کیا شے ہے‘ ابھی یہ جانو! مجھے اپنانے کی جلدی میں دغا کھا جاؤ گے میں جہنم میں ہوا اور بلایا جو تمہیں ساتھیا! ساتھ نبھانے کو وہاں آ جاؤ گے؟ تم مجھے یار بھی کہتے ہو، مجھے پیارے بھی ہو تم بھی یاروں کی طرح پیٹھ ہی دکھلا جاؤ گے؟ میرے پاس ایک یہی جان ہے، سو دے دوں گا! اور تمہارا ہے جہاں‘ جان س...

میں خاندان سے بس ایک ہی – ڈاکٹر وقار خان

میں خاندان سے بس ایک ہی – ڈاکٹر وقار خان

میں خاندان سے بس ایک ہی گلہ ہے مجھے یہ درد بانٹنا ورثے میں کیوں ملا ہے مجھے میں اُس کے پیار کو جھٹلا ہی کیوں نہیں دیتا یہ جانتا ہوں کہ دھوکے میں رکھ رہا ہے مجھے میں اپنے آپ سے بھی پیار کر نہیں سکتا میں جس کو چھوڑ دیا اُس کی بددعا ہے مجھے میں دوسروں کے بھلے کے لئے ہوں سرگرداں میں بے وقوف ہوں یا ایسا...

  • 1
  • 2