Qateel Shifai

چراغ دل کے جلائو کہ عید کا دن ہے – قتیل شفائی

چراغ دل کے جلائو کہ عید کا دن ہے – قتیل شفائی

چراغ دل کے جلائو کہ عید کا دن ہے ترانے جھوم کے گائو کہ عید کا دن ہے غموں کو دل سے بھلائو کہ عید کا دن ہے خوشی سے بزم سجائو کہ عید کا دن ہے حضور اس کی کرو اب سلامتی کی دُعا سرِ نماز جھکائو کہ عید کا دن ہے سبھی مراد ہو پوری ہر اک سوالی کی دعا کو ہاتھ اُٹھائو کہ عید کا دن ہے قتیل شفائی

درد سے میرا دامن بھر دے یا اللّہ – قتیل شفائی

درد سے میرا دامن بھر دے یا اللّہ – قتیل شفائی

درد سے میرا دامن بھر دے یا اللّہ پھر چاہے دیوانہ کر دے یا اللّہ میں نے تجھ سے چاند ستارے کب مانگے روشن دل بیدار نظر دے یا اللّہ سورج سی اک چیز تو ہم سب دیکھ چکے سچ مچ کی اب کوئی سحر کر دے یا اللّہ یا دھرتی کے زخموں پر مرہم رکھ دے یا میرا دل پتھر کر دے یا اللّہ قتیل شفائی

جو بھی غنچہ تیرے ہونٹوں پر کھلا کرتا ہے – قتیل شفائی

جو بھی غنچہ تیرے ہونٹوں پر کھلا کرتا ہے – قتیل شفائی

جو بھی غنچہ تیرے ہونٹوں پر کھلا کرتا ہے وہ میری تنگی داماں کا گلہ کرتا ہے دیر سے آج میرا سر ہے تیرے زانوں پر یہ وہ رتبہ ہے جو شاہوں کو ملا کرتا ہے میں تو بیٹھا ہوں دبائے ہوئے طوفاں کو تو میرے دل کے دھڑکنے کا گلہ کرتا ہے رات یوں چاند کو دیکھا ہے ندی میں رقصاں جیسے جھومر تیرے ماتھے پہ ہلا کرتا ہے کون ...

انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی – قتیل شفائی

انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی – قتیل شفائی

انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات میری تنہائی کی کون سیاہی گھول رہا تھا وقت کے بہتے دریا میں میں نے آنکھ جھکی دیکھی ہے آج کسی ہرجائی کی وصل کی رات نہ جانے کیوں اصرار تھا ان کو جانے پر وقت سے پہلے ڈوب گئے تاروں نے بڑی دانائی کی اڑتے اڑتے آس کا پنچھی دور افق میں ڈوب ...

بے چین بہاروں میں کیا کیا ہے جان کی خوشبو آتی ہے – قتیل شفائی

بے چین بہاروں میں کیا کیا ہے جان کی خوشبو آتی ہے – قتیل شفائی

بے چین بہاروں میں کیا کیا ہے جان کی خوشبو آتی ہے جو پھول مہکتا ہے اس سے طوفان کی خوشبو آتی ہے کل رات دکھا کے خواب قریب سو سیج کو سونا چھوڑ گیا ہر سلوٹ سے پھر آج اسی مہماں کی خوشبو آتی ہے تلقین عبادت کی ہے مجھے یوں تیری مقدس آنکھوں نے مندر کے دریچوں سے جیسے لبوں کی خوشبو آتی ہے کچھ اور بھی سانس لینے ...

دل کو غمِ حیات گوارہ ہے ان دنوں – قتیل شفائی

دل کو غمِ حیات گوارہ ہے ان دنوں – قتیل شفائی

دل کو غمِ حیات گوارہ ہے ان دنوں پہلے جو درد تھا وہی چارہ ہے ان دنوں یہ دل ذرا سا دل تیری یادوں میں کھو گیا ذرے کو آندھیوں کا سہارا ہے ان دنوں تم آ سکو تو شب کو بڑھا دوں کچھ اور بھی اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں قتیل شفائی

یوں چُپ رہنا ٹھیک نہیں کوئی میٹھی بات کرو – قتیل شفائی

یوں چُپ رہنا ٹھیک نہیں کوئی میٹھی بات کرو – قتیل شفائی

یوں چُپ رہنا ٹھیک نہیں کوئی میٹھی بات کرو مور چکور پیپہا کوئل سب کو مات کرو ساون تو من بگیا سے بن برسے بیت گیا رس میں ڈوبے نغمے کی اب تم برسات کرو ہجر کی اک لمبی منزل کو جانے والا ہوں اپنی یادوں کے کچھ سائے میرے ساتھ کرو میں کرنوں کی کلیاں چُن کا سیج بنا لوں گا تم مکھڑے کا چاند جلائو روشن رات کرو پی...

پہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیے – قتیل شفائی

پہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیے – قتیل شفائی

پہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیے پھر جو نگاہِ یار کہے مان جائیے پہلے مزاج راہ گزر جان جائیے پھر گردِ راہ جو بھی کہے مان جائیے کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں میری سنیں تو دل کا کہا مان جائیے اک دھوپ سی جمی ہے نگاہوں کے آس پاس یہ آپ ہیں تو آپ پہ قربان جائیے شاید حضور سے کوئی نسبت ہمیں بھی ہو آن...

مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم – قتیل شفائی

مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم – قتیل شفائی

مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم آنسو چھلک چھلک کے ستائیں گے رات بھر موتی پلک پلک میں پرویا کریں گے ہم جب دوریوں کی آگ دلوں کو جلائے گی جسموں کو چاندنی میں بھگویا کریں گے ہم گر دے گیا دغا ہمیں طوفان بھی قتیل ساحل پہ کشتیوں کو ڈبویا کریں گے ہم قتیل شفائی

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں بسا لے مجھ کو – قتیل شفائی

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں بسا لے مجھ کو – قتیل شفائی

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں بسا لے مجھ کو میں ہوں تیرا نصیب اپنا بنا لے مجھ کو مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی یہ تیری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو میں سمندر بھی ہوںموتی بھی ہوں غوطہ زن بھی کوئی بھی نام میرا لے کے بلا لے مجھ کو تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی خدا پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے ...

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں – قتیل شفائی

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں – قتیل شفائی

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تیرے دامن پر گر کر بوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں چھا رہا ہے ساری بستی میں اندھیرا روشنی ہو گھر جلانا چاہتا ہوں آخری ہچکی تیرے زانوں پہ آئے موت بھی شاعرانہ چاہتا ہوں قتیل شف...

کیا ہے جسے پیار ہم نے زندگی کی طرح – قتیل شفائی

کیا ہے جسے پیار ہم نے زندگی کی طرح – قتیل شفائی

کیا ہے جسے پیار ہم نے زندگی کی طرح وہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرح بڑھا کے پیاس میری اس نے ہاتھ چھوڑ دیا وہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح کسے خبر تھی بڑھے گی کچھ اور تاریکی چھپے گا وہ کسی بدلی میں چاندنی کی طرح کبھی نہ سوچا تھا ہم نے قتیل اس کے لیے کرے گا ہم پہ ستم وہ بھی ہر کسی کی طرح قتیل ش...