سلا رہا تھا نہ بیدار کر سکا تھا مجھے – پروین شاکر

سلا رہا تھا نہ بیدار کر سکا تھا مجھے وہ جیسے خواب میں محسوس کر رہا تھا مجھے یہی تھا چاند اور اس کو گواہ…

Read More..

آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو – پروین شاکر

آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو رات بھر جاگی ہوئی جیسے دُلہن کی خوشبو پیرہن میرا مگر اُس کے بدن کی خوشبو اُس…

Read More..

وقت رخصت آگیا ، دل پھر بھی گھبرایا نہیں – پروین شاکر

وقت رخصت آگیا ، دل پھر بھی گھبرایا نہیں اس کو ہم کیا کھویئں گے جس کو کبھی پایا نہیں زندگی جتنی بھی ہے اب…

Read More..

توقع – پروین شاکر

توقع جب ہوا دھیمے لہجوں میں کچھ گنگناتی ہوئی خواب آسا ، سماعت کو چھو جائے ، تو کیا تمھیں کوئی گزری ہوئی بات یاد…

Read More..

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھی – پروین شاکر

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھی دل میں‌ خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات…

Read More..

پکنک – پروین شاکر

پکنک سکھیاں میری کُھلے سمندر بیچ کھڑی ہنستی ہیں اور میں سب سے دور ، الگ ساحل پر بیٹھی آتی جاتی لہروں کو گنتی ہوں…

Read More..

خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں – پروین شاکر

خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں تیری آواز کا چہرہ میں چھو کر دیکھ سکتی ہوں ابھی تیرے لبوں پہ…

Read More..

اپنی رسوائی، تیرے نام کا چرچا دیکھوں – پروین شاکر

اپنی رسوائی، تیرے نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں آنکھ…

Read More..

میرے ویران دریچوں میں بھی خوشبو جاگے – پروین شاکر

میرے ویران دریچوں میں بھی خوشبو جاگے وہ مرے گھر کے در و بام سجانے آئے اسی کُوچے میں کئی اس کے شناسا بھی تو…

Read More..

جیسے مشام جاں میں سمائی ہوئی ہے رات – پروین شاکر

جیسے مشام جاں میں سمائی ہوئی ہے رات خوشبو میں آج کس کی نہائی ہوئی ہے رات سرگوشیوں میں بات کریں ابر و باد و…

Read More..

کفِ آئینہ سے انتخاب – پروین شاکر

کفِ آئینہ سے انتخاب پت جھڑ سے گلہ ہے نہ شکایت ہوا سے ہے پھولوں کو کچھ عجیب محبت ہوا سے ہے سرشارئ شگفتگی گل…

Read More..

پیار – پروین شاکر

پیار ابرِ بہار نے پھول کا چہرا اپنے بنفشی ہاتھ میں لے کر ایسے چوما پھول کے سارے دکھ خوشبو بن کر بہہ نکلے ہیں

Read More..

دوست – پروین شاکر

دوست اس اکیلی چٹان نے سمندر کے ہمراہ تنہائی کا زہر اتنا پیا ہے کہ اس کا سنہری بدن نیلا پڑنے لگا ہے !

Read More..

اپنی تنہائی میرے نام پہ آباد کرے – پروین شاکر

اپنی تنہائی میرے نام پہ آباد کرے کون ہو گا جو مجھے اس طرح یاد کرے دل عجب شہرکہ جس پہ بھی کھلا در اس…

Read More..

واہمہ – پروین شاکر

واہمہ تمھارا کہنا ہے تم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہو تمھاری چاہت وصال کی آخری حدوں تک مرے فقط میرے نام ہوگی مجھے…

Read More..

جب ساز کی لے بدل گئی تھی – پروین شاکر

جب ساز کی لے بدل گئی تھی وہ رقص کی کون سی گھڑی تھی اب یاد نہیں کہ زندگی میں میں آخری بار کب ہنسی…

Read More..

فاصلے – پروین شاکر

فاصلے پہلے خط روز لکھا کرتے تھے دوسرے تیسرے ، تم فون بھی کر لیتے تھے اور اب یہ ، کہ تمھاری خبریں صرف اخبار…

Read More..

پسِ جاں – پروین شاکر

پسِ جاں چاند کیا چھپ گیا ہے گھنے بادلوں کے کنارے روپہلے ہوئے جا رہے ہیں !

Read More..

خوشبو بتا رہی ہے کہ وہ راستے میں ہے – پروین شاکر

خوشبو بتا رہی ہے کہ وہ راستے میں ہے موجِ ہوا کے ہاتھ میں اس کا سراغ ہے

Read More..

اعتراف – پروین شاکر

اعتراف جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہی ہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتے میں نے پھر تیرے تصور کے کسی لمحے…

Read More..

میں اس سے کہاں ملی تھی – پروین شاکر

میں اس سے کہاں ملی تھی بس خواب ہی خواب دیکھتی تھی سایہ تھا کوئی کنار دریا اور شام کی ڈوبتی گھڑی تھی کہرے میں…

Read More..

تیری ہم رقص کے نام – پروین شاکر

تیری ہم رقص کے نام رقص کرتے ہوئے جس کے شانوں پہ تُو نے ابھی سَر رکھا ہے کبھی میں بھی اُس کی پناہوں میں…

Read More..

کتھا رس – پروین شاکر

کتھا رس میرے شانوں پہ سر رکھ کے آج کسی کی یاد میں وہ جی بھر کے رویا !

Read More..

بھولا نہیں دل عتاب اس کے – پروین شاکر

بھولا نہیں دل عتاب اس کے احسان ہیں بے حساب اس کے آنکھوں کی ہے ایک ہی تمنا دیکھا کریں روز خواب اس کے ایسا…

Read More..

حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے – پروین شاکر

حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی اور…

Read More..

نوید – پروین شاکر

نوید سماعتوں کو نوید ہو ۔۔۔ کہ ہوائیں خوشبو کے گیت لے کر دریچہٴ گل سے آ رہی ہیں !

Read More..

جز طلب اس سے کیا نہیں ملتا – پروین شاکر

جز طلب اس سے کیا نہیں ملتا وہ جو مجھ سے ذرا نہیں ملتا جان لینا تھا اس سے مل کے ہمیں بخت سے تو…

Read More..

قریہء جاں میں کوئی پُھول کِھلانے آئے – پروین شاکر

قریہء جاں میں کوئی پُھول کِھلانے آئے وہ مرے دل پہ نیا زخم لگانے آئے میرے ویران دریچوں میں بھی خوشبو جاگے وہ مرے گھر…

Read More..

ایک ہی ہاتھ میں سب کچھ سمٹ آیا شاید – پروین شاکر

ایک ہی ہاتھ میں سب کچھ سمٹ آیا شاید بادشاہٹ کا زمانہ پلٹ آیا شاید دل کو دنیا کی ضرورت ہی نہیں پڑنے دی تیرے…

Read More..

دل میں آئی رات – پروین شاکر

دل میں آئی رات چھوٹی سی اک بات اب کے پروائی لائی کیا سوغات پھولوں بھرا رستہ اور کسی کا ساتھ اس نے تھام لیا…

Read More..

میں ہجر کے عذاب سے انجان بھی نہ تھی – پروین شاکر

میں ہجر کے عذاب سے انجان بھی نہ تھی پر کیا ہوا صبح تلک جان بھی نہ تھی آنے میں گھر مرے تجھے جتنی جھجک…

Read More..

تمھاری سالگرہ پر – پروین شاکر

تمھاری سالگرہ پر یہ چاند اور یہ ابر رواں گزرتا رہے جمال شام تہہ آسماں گزرتا رہے بھرا رہے تیری خوشبو سے تیرا صحن چمن…

Read More..

ظلم کی طرح اذیت میں ہے جس طرح حیات – پروین شاکر

ظلم کی طرح اذیت میں ہے جس طرح حیات ایسا لگتا ہے کہ اب حشر ہے کچھ دیر کی بات روز اک دوست کے مرنے…

Read More..

بس اتنا یاد ہے – پروین شاکر

بس اتنا یاد ہے دعا تو جانے کون سی تھی ذہن میں نہیں بس اتنا یاد ہے کہ دو ہتھیلیاں ملی ہوئی تھیں جن میں…

Read More..

حال پوچھا تھا اُس نےابھی – پروین شاکر

حال پوچھا تھا اُس نےابھی اور آنسو رواں ہو گئے !

Read More..

لو چراغوں کی کل شب اضافی رہی – پروین شاکر

لو چراغوں کی کل شب اضافی رہی روشنی تیرے چہرے کی کافی رہی اپنے انجام تک آ گئی زندگی یہ کہانی مگر اختلافی رہی ہے…

Read More..

تھک گیا ہے دل وحشی میرا فریاد سے بھی – پروین شاکر

تھک گیا ہے دل وحشی میرا فریاد سے بھی جی بہلتا نہیں اے دوست تیری یاد سے بھی اے ہوا کیا ہے جو اب نظم…

Read More..

صحرا کی طرح تپی ہوئی برف – پروین شاکر

صحرا کی طرح تپی ہوئی برف کیا آگ سے ہے بنی ہوئی برف پتھر کی سیاہ رو سڑک پر شیشے کی طرح بچھی ہوئی برف…

Read More..

ایک شعر – پروین شاکر

ایک شعر ہمیں خبر ہے ، ہوا کا مزاج رکھتے ہو مگر یہ کیا ، کہ ذرا دیر کو رُکے بھی نہیں

Read More..

چلنے کا حوصلہ نہیں ، رکنا محال کر دیا – پروین شاکر

چلنے کا حوصلہ نہیں ، رکنا محال کر دیا عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا اے میری گل زمیں تجھے…

Read More..

مقدّر – پروین شاکر

مقدّر میں وہ لڑکی ہوں جس کو پہلی رات کوئی گھونگھٹ اُٹھا کے یہ کہہ دے ۔۔ میرا سب کچھ ترا ہے ، دل کے…

Read More..

تشکر – پروین شاکر

تشکر دشتِ غربت میں جس پیڑ نے میرے تنہا مسافر کی خاطر گھنی چھاؤں پھیلائی ہے اُس کی شادابیوں کے لیے میری سب انگلیاں ۔۔۔…

Read More..

سلگ رہا ہے میرا شہر ، جل رہی ہے ہوا – پروین شاکر

سلگ رہا ہے میرا شہر ، جل رہی ہے ہوا یہ کیسی آگ ہے جس میں پگھل رہی ہے ہوا یہ کون باغ میں خنجر…

Read More..

آنکھوں نے کیسے خواب تراشے ہیں ان دنوں – پروین شاکر

آنکھوں نے کیسے خواب تراشے ہیں ان دنوں دل پر عجیب رنگ اترتے ہیں ان دنوں رکھ اپنے پاس اپنے مہ و مہر اے فلک…

Read More..

چپ رہتا ہے وہ اور آنکھیں بولتی رہتی ہیں – پروین شاکر

چپ رہتا ہے وہ اور آنکھیں بولتی رہتی ہیں اور کیا کیا بھید نظر کے کھولتی رہتی ہیں وہ ہاتھ میرے اندر کیا موسم ڈھونڈتا…

Read More..

گمان – پروین شاکر

گمان میں کچی نیند میں ہوں اور اپنے نیم خوابیدہ تنفس میں اترتی چاندنی کی چاپ سنتی ہوں گماں ہے آج بھی شاید میرے ماتھے…

Read More..

پیش کش – پروین شاکر

پیش کش اتنے اچھے موسم میں روٹھنا نہیں اچھا ہار جیت کی باتیں کل پہ ہم اٹھا رکھیں آج دوستی کر لیں !

Read More..

رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں – پروین شاکر

رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں شبِ وصال کا جیسے خمار آنکھوں میں منا سکے گی اسے گرد ماہ و سال کہاں کھینچی…

Read More..

بہت رویا وہ ہم کو یاد کرکے – پروین شاکر

بہت رویا وہ ہم کو یاد کرکے ہماری زندگی برباد کرکے پلٹ کر پھر یہیں آجایئں گے ہم وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کرکے رہائی…

Read More..

چاند – پروین شاکر

چاند ایک سے مسافر ہیں ایک سا مقدر ہے میں زمین پر تنہا اور وہ آسمانوں میں !

Read More..

لو ! میں آنکھیں بند کیے لیتی ہوں ، اب تم رخصت ہو – پروین شاکر

لو ! میں آنکھیں بند کیے لیتی ہوں ، اب تم رخصت ہو دل تو جانے کیا کہتا ہے ، لیکن دل کا کہنا کیا…

Read More..

تاروں کے لیے بہت کڑی تھی – پروین شاکر

تاروں کے لیے بہت کڑی تھی یہ رخصت ماہ کی گھڑی تھی ہر دل پہ ہزار نیل نکلے دنیا کسے پھول کی چھڑی تھی واں…

Read More..

رخصت کی کسک رہی ہے اب تک – پروین شاکر

رخصت کی کسک رہی ہے اب تک اک شام سلگ رہی ہے اب تک شب کس نے یہاں قدم رکھا تھا دہلیز چمک رہی ہے…

Read More..

اک عجب رو تھی خیال میں‌میرے آگئی – پروین شاکر

اک عجب رو تھی خیال میں‌میرے آگئی کسی اور قرن سے حال میں‌میرے آگئی یہ تیری نگاہ ستارہ ساز کا ہے اثر یہ جو روشنی…

Read More..

جان پہچان – پروین شاکر

جان پہچان شور مچاتی موجِ آب ساحل سے ٹکرا کے جب واپس لوٹی تو پاؤں کے نیچے جمی ہوئی چمکیلی سنہری ریت اچانک سرک گئی…

Read More..

موسم کی دُعا – پروین شاکر

موسم کی دُعا پھر ڈسنے لگی ہیں سانپ راتیں برساتی ہیں آگ پھر ہوائیں پھیلا دے کسی شکستہ تن پر بادل کی طرح سے اپنی…

Read More..

تخت ہے اور کہانی ہے وہی – پروین شاکر

تخت ہے اور کہانی ہے وہی اور سازش بھی پرانی ہے وہی قاضی شہر نے قبلہ بدلہ لیکن خطبے میں روانی ہے وہی خیمہ کش…

Read More..