Mohsin Naqwi

اُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر – محسن نقوی

اُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر – محسن نقوی

اُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے؟ خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اُڑا کر اس شخص کے تم سے بھی مراسم تو ہوں گے وہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آکر اب دستکیں دے گا تو کہاں اے غمِ احباب میں نے تو کہا تھا کہ مرے دل میں رہا کر ہر وقت...

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے – محسن نقوی

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے – محسن نقوی

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری! میرے دشمن میرے لفظوں کے بھکاری نکلے اک جنازہ اٹھا مقتل سے عجب شان کے ساتھ جیسے سج کر کسی فاتح کی سواری نکلے بہتے اشکوں سے شعاعوں کی سبیلیں پھوٹیں چبھتے زخموں سے فنِ نقش نگاری نکلے ہم کو ہر د...

شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں – محسن نقوی

شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں – محسن نقوی

شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں مجھے وعدوں کی خالی سیپیاں اچھی نہیں لگتیں گزشتہ رُت کے رنگوں کا اثر دیکھو کہ اب مجھ کو کھلے آنگن میں اڑتی تتلیاں اچھی نہیں لگتیں وہ کیا اجڑا نگر تھا جسکی چاہت کے سبب ابتک ہری بیلوں سے الجھی ٹہنیاں اچھی نہیں لگتیں دبے پائوں ہوا جس کے چراغوں سے بہلتی ہو! مجھے ایس...

اتنی مدت بعد ملے ہو! – محسن نقوی

اتنی مدت بعد ملے ہو! – محسن نقوی

اتنی مدت بعد ملے ہو! کن سوچوں میں گم پھرتے ہو؟ اتنے خائف کیوں رہتے ہو؟ ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو؟ کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو؟ میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو! کون سی بات ہے تم میں ایسی اتنے اچھے کیوں لگتے ہو؟ پیچھے مُڑ...

میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا – محسن نقوی

میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا – محسن نقوی

میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو؟ میں تیرے شہر کے سارے دیے بجھا دوں گا ہوا کا ہاتھ بٹائوں گاہر تباہی میں! ہرے شجر سے پرندے میں خود اُڑا دوں گا وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے! پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا اسی خیال ...

فلک پر اک ستارہ رہ گیا ہے – محسن نقوی

فلک پر اک ستارہ رہ گیا ہے – محسن نقوی

فلک پر اک ستارہ رہ گیا ہے مرا ساتھی اکیلا رہ گیا ہے یہ کہہ کر پھر پلٹ آئیں ہوائیں! شجر پر ایک پتا رہ گیا ہے ہر اک رُت میں ترا غم ہے سلامت یہ موسم ایک جیسا رہ گیا ہے ہمارے بعد کیا گزری عزیزو! سنائو شہر کیسا رہ گیا ہے ؟ برس کچھ اور اے آوارہ بادل کہ دل کا شہر پیاسا رہ گیا ہے خداوندا سنبھال اپنی امانت ب...

ہر نفس رنج کا اشارہ ہے۔۔۔۔۔۔۔! – محسن نقوی

ہر نفس رنج کا اشارہ ہے۔۔۔۔۔۔۔! – محسن نقوی

ہر نفس رنج کا اشارہ ہے۔۔۔۔۔۔۔! آدمی دُکھ کا استعارہ ہے ۔۔۔۔۔۔! مجھ کو اپنی حدوں میں رہنے دے میں سمندر ہوں تو کنارا ہے اجنبی! شب کو راستہ نہ بدل تو میری صبح کا ستارا ہے یا سماعت کی خود فریبی تھی یا تری یاد نے پکارا ہے شامِ شب خوں نے دشت سے پوچھا کس نے رختِ سفر اتارا ہے جانے کیوں سوگوار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...

کاش ہم کھل کے زندگی کرتے! – محسن نقوی

کاش ہم کھل کے زندگی کرتے! – محسن نقوی

کاش ہم کھل کے زندگی کرتے! عمر گزری ہے خودکشی کرتے!! بجلیاں اس طرف نہیں آئیں ورنہ ہم گھر میں روشنی کرتے کون دشمن تری طرح کا تھا؟ اور ہم کس سے دوستی کرتے؟ بجھ گئے کتنے چاند سے چہرے دل کے صحرا میں چاندنی کرتے عشق اُجرت طلب نہ تھا ورنہ ہم ترے در پہ نوکری کرتے اس تمنا میں ہو گئے رسوا ہم بھی جی بھر کے عاش...

وہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہے – محسن نقوی

وہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہے – محسن نقوی

وہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہے ہنس کے بولے بھی تو دنیا سے جدا لگتا ہے اور کچھ دیر نہ بجھنے دے اسے ربِ سحر! ڈوبتا چاند مرا دستِ دعا لگتا ہے جس سے منہ پھیر کے رستے کی ہوا گزری ہے کسی اُجڑے ہوئے آنگن کا دیا لگتا ہے اب کے ساون میںبھی زردی نہ گئی چہروں کی ایسے موسم میں تو جنگل بھی ہرا لگتا ہے !! شہر کی...

شامل مرا دشمن صفِ یاراں میں رہے گا – محسن نقوی

شامل مرا دشمن صفِ یاراں میں رہے گا – محسن نقوی

شامل مرا دشمن صفِ یاراں میں رہے گا یہ تیر بھی پیوست رگِ جاں میں رہے گا اک رسمِ جنوں اپنے مقدر میں رہے گی اک چاک سدا اپنے گریباں میں رہے گا اک اشک ہےآنکھوںمیںسوچمکے گا کہاں تک؟ یہ چاند زد شامِ غریباں میں رہے گا میں تجھ سے بچھڑ کر بھی کہاںتجھ سےجُداہوں تو خواب صف دیدئہ گریاں میں رہے گا رگوں کی کوئی رُ...

وہ لڑکی بھی ایک عجیب پہیلی تھی – محسن نقوی

وہ لڑکی بھی ایک عجیب پہیلی تھی – محسن نقوی

وہ لڑکی بھی ایک عجیب پہیلی تھی پیاسے ہونٹ تھے آنکھ سمندر جیسی تھی سورج اس کو دیکھ کے پیلا پڑتا تھا وہ سرما کی دھوپ میں دھل کر نکلی تھی اس کو اپنے سائے سے ڈر لگتا تھا سوچ کے صحرا میں وہ تنہا ہرنی تھی آتے جاتے موسم اس کو ڈستے تھے ہنستے ہنستے پلکوں سے رو پڑتی تھی آدھی رات گنوا دیتی تھی چپ رہ کر آدھی را...

خلوت میں کھلا ہم پہ کہ بیباک تھی وہ بھی – محسن نقوی

خلوت میں کھلا ہم پہ کہ بیباک تھی وہ بھی – محسن نقوی

خلوت میں کھلا ہم پہ کہ بیباک تھی وہ بھی محتاط تھے ہم لوگ بھی، چالاک تھی وہ بھی افکار میں ہم لوگ بھی ٹھہرے تھے قد آور! پندار میں ” ہم قامتِ افلاک ” تھی وہ بھی اسے پاسِ ادب، سنگ صفت عزم تھا اس کا اسے سیل طلب، صورت خاشاک تھی وہ بھی جس شب کا گریباں ترے ہاتھوں سے ہوا چاک اے صبح کے سورج، مری پوشاک تھی وہ ...

ہر ایک زخم کا چہرہ گلاب جیسا ہے – محسن نقوی

ہر ایک زخم کا چہرہ گلاب جیسا ہے – محسن نقوی

ہر ایک زخم کا چہرہ گلاب جیسا ہے مگر یہ جاگتا منظر بھی خواب جیسا ہے یہ تلخ تلخ سا لہجہ، یہ تیز تیز سی بات مزاجِ یار کا عالم شراب جیسا ہے مرا سخن بھی چمن در چمن شفق کی پھوار ترا بدن بھی مہکتے گلاب جیسا ہے بڑا طویل ، نہایت حسین، بہت مبہم مرا سوال تمہارے جواب جیسا ہے تو زندگی کے حقائق کی تہہ میں یوں نہ ...

چہرے پڑھتا، آنکھیں لکھتا رہتا ہوں – محسن نقوی

چہرے پڑھتا، آنکھیں لکھتا رہتا ہوں – محسن نقوی

چہرے پڑھتا، آنکھیں لکھتا رہتا ہوں میں بھی کیسی باتیں لکھتا رہتا ہوں؟ سارے جسم درختوں جیسے لگتے ہیں اور بانہوں کو شاخیں لکھتا رہتا ہوں تجھ کو خط لکھنے کے تیور بھی بھول گئے آڑی ترچھی سطریں لکھتا رہتا ہوں تیرے ہجر میں اور مجھے کیا کرنا ہے ؟ تیرے نام کتابیں لکھتا رہتا ہوں تیری زلف کے سائے دھیان میں رہتے...

متاع شامِ سفر بستیوں میں چھوڑ آئے – محسن نقوی

متاع شامِ سفر بستیوں میں چھوڑ آئے – محسن نقوی

متاع شامِ سفر بستیوں میں چھوڑ آئے بجھے چراغ ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے بچھڑ کے تجھ سے چلے ہم تو اب کے یوں بھی ہوا کہ تیری یاد کہیں راستوں میں چھوڑ آئے ہم اپنی دربدری کے مشاہدے اکثر نصیحتوں کی طرح کم سنوں میں چھوڑ آئے خراجِ سیل بھلا اس سے بڑھ کے کیا ہو کہ لوگ کھلے مکان بھری بارشوں میں چھوڑ آئے گھر ہی...

چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی – محسن نقوی

چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی – محسن نقوی

چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی قاتل کے ہاتھ میں تو حنا کی لکیر تھی خوش ہوں کہ وقتِ قتل مرا رنگ سرخ تھا میرے لبوں پہ حرفِ دعا کی لکیر تھی میں کارواں کی راہ سمجھتا رہا جسے صحرا کی ریت پر وہ ہوا کی لکیر تھی سورج کو جس نے شب کے اندھیروں میں گم کیا موجِ شفق نہ تھی تو قضا کی لکیر تھی گزرا ہے شب کو دشت...

کڑے سفر میں اگر راستہ بدلنا تھا – محسن نقوی

کڑے سفر میں اگر راستہ بدلنا تھا – محسن نقوی

کڑے سفر میں اگر راستہ بدلنا تھا تو ابتدا میں مرے ساتھ ہی نہ چلنا تھا کچھ اس لیے بھی تو سورج زمیں پر اترا ہے پہاڑیوں پہ جمی برف کو پگھلنا تھا اتر کے دل میں لہو زہر کر گیا آخر وہ سانپ جس کو مری آستیں میں پلنا تھا یہ کیا کہ تہمتیں آتش فشاں کے سر آئیں؟ زمیں کو یوں بھی خزانہ کبھی اُگلنا تھا میں لغزشوں سے...

چمن میں جب بھی صبا کو گلاب پوچھتے ہیں – محسن نقوی

چمن میں جب بھی صبا کو گلاب پوچھتے ہیں – محسن نقوی

چمن میں جب بھی صبا کو گلاب پوچھتے ہیں تمہاری آنکھ کا احوال، خواب پوچھتے ہیں کہاں کہاں ہوئے روشن ہمارے بعد چراغ؟ ستارے دیدئہ تر سے حساب پوچھتے ہیں وہ تشنہ لب بھی عجب ہیں جو موجِ صحرا سے سراغِ حبس، مزاجِ سراب پوچھتے ہیں کہاں بسی ہیں وہ یادیں، اجاڑنا ہے جنہیں؟ دلوں کی بانجھ زمیں سے عذاب پوچھتے ہیں برس ...

گُم صُم ہوا، آواز کا دریا تھا جو اک شخص – محسن نقوی

گُم صُم ہوا، آواز کا دریا تھا جو اک شخص – محسن نقوی

گُم صُم ہوا، آواز کا دریا تھا جو اک شخص پتھر بھی نہیں اب وہ، ستارا تھا جو اک شخص شاید وہ کوئی حرفِ دعا ڈھونڈ رہا تھا چہروں کو بڑے غور سے پڑھتا تھا جو اک شخص صحرا کی طرح دیر سے پیاسا تھا وہ شاید بادل کی طرح ٹوٹ کے برسا تھا جو اک شخص اے تیز ہوا کوئی خبر اس کے جنوں کی ! تنہا سفرِ شوق پہ نکلا تھا جو اک ...

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے – محسن نقوی

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے – محسن نقوی

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے یہ ختمِ وصل کا لمحہ ہے، رائیگاں نہ سمجھ کہ اس کے بعد وہی دوریوں کا صحرا ہے کچھ اور دیر نہ جھڑنا اداسیوں کے شجر کسے خبر ترے سائے میں کون بیٹھا ہے ؟ یہ رکھ رکھائو محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے میں کس ...

کھنڈر آنکھوں میں غم آباد کرنا – محسن نقوی

کھنڈر آنکھوں میں غم آباد کرنا – محسن نقوی

کھنڈر آنکھوں میں غم آباد کرنا کبھی فُرصت ملے تو یاد کرنا اذیت کی ہوس بجھنے لگی ہے کوئی تازہ ستم ایجاد کرنا کئی صدیاں پگھلنے کا عمل ہے بدن سے روح کو آزاد کرنا ابھی کیسی پرستش بجلیوں کی؟ ابھی گھر کس لیے برباد کرنا تمہارا جھوٹ، سچ سے معتبر ہے مرے حق میں بھی کچھ ارشاد کرنا عجب ہے دھوپ چھائوں ہجرتوں کی ک...

آندھی چلی تو دھوپ کی سانسیں الٹ گئیں – محسن نقوی

آندھی چلی تو دھوپ کی سانسیں الٹ گئیں – محسن نقوی

آندھی چلی تو دھوپ کی سانسیں الٹ گئیں عریاں شجر کے جسم سے شاخیں لپٹ گئیں دیکھا جو چاندنی میں گریبانِ شب کا رنگ کرنیں پھر آسمان کی جانب پلٹ گئیں میں یاد کر رہا تھا مقدر کے حادثے! میری ہتھیلیوں پہ لکیریں سمٹ گئیں مٹی کے معجزے رہے مرہونِ کارواں پانی کی خواہشیں تھیں کہ لہروں میں بٹ گئیں آسانیوں کی بات نہ...

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہو گا – محسن نقوی

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہو گا – محسن نقوی

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہو گا تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہو گا اس کی آنکھیں تیرے چہرے پہ بہت بولتی ہیں اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہو گا کتنے جگنو اسی خواہش میں مرے ساتھ چلے کوئی رستہ ترے گھر کو بھی تو جاتا ہو گا میں بھی اپنے کو بھلائے ہوئے پھرتا ہوں بہت آئینہ اس نے بھی کچھ روز نہ دیکھا ...