اُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر – محسن نقوی

اُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم…

Read More..

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے – محسن نقوی

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری!…

Read More..

شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں – محسن نقوی

شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں مجھے وعدوں کی خالی سیپیاں اچھی نہیں لگتیں گزشتہ رُت کے رنگوں کا اثر دیکھو کہ اب مجھ…

Read More..

اتنی مدت بعد ملے ہو! – محسن نقوی

اتنی مدت بعد ملے ہو! کن سوچوں میں گم پھرتے ہو؟ اتنے خائف کیوں رہتے ہو؟ ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو تیز ہوا نے…

Read More..

میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا – محسن نقوی

میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا یہ تیرگی مرے گھر کا…

Read More..

فلک پر اک ستارہ رہ گیا ہے – محسن نقوی

فلک پر اک ستارہ رہ گیا ہے مرا ساتھی اکیلا رہ گیا ہے یہ کہہ کر پھر پلٹ آئیں ہوائیں! شجر پر ایک پتا رہ…

Read More..

ہر نفس رنج کا اشارہ ہے۔۔۔۔۔۔۔! – محسن نقوی

ہر نفس رنج کا اشارہ ہے۔۔۔۔۔۔۔! آدمی دُکھ کا استعارہ ہے ۔۔۔۔۔۔! مجھ کو اپنی حدوں میں رہنے دے میں سمندر ہوں تو کنارا ہے…

Read More..

کاش ہم کھل کے زندگی کرتے! – محسن نقوی

کاش ہم کھل کے زندگی کرتے! عمر گزری ہے خودکشی کرتے!! بجلیاں اس طرف نہیں آئیں ورنہ ہم گھر میں روشنی کرتے کون دشمن تری…

Read More..

وہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہے – محسن نقوی

وہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہے ہنس کے بولے بھی تو دنیا سے جدا لگتا ہے اور کچھ دیر نہ بجھنے دے اسے…

Read More..

شامل مرا دشمن صفِ یاراں میں رہے گا – محسن نقوی

شامل مرا دشمن صفِ یاراں میں رہے گا یہ تیر بھی پیوست رگِ جاں میں رہے گا اک رسمِ جنوں اپنے مقدر میں رہے گی…

Read More..

وہ لڑکی بھی ایک عجیب پہیلی تھی – محسن نقوی

وہ لڑکی بھی ایک عجیب پہیلی تھی پیاسے ہونٹ تھے آنکھ سمندر جیسی تھی سورج اس کو دیکھ کے پیلا پڑتا تھا وہ سرما کی…

Read More..

خلوت میں کھلا ہم پہ کہ بیباک تھی وہ بھی – محسن نقوی

خلوت میں کھلا ہم پہ کہ بیباک تھی وہ بھی محتاط تھے ہم لوگ بھی، چالاک تھی وہ بھی افکار میں ہم لوگ بھی ٹھہرے…

Read More..

ہر ایک زخم کا چہرہ گلاب جیسا ہے – محسن نقوی

ہر ایک زخم کا چہرہ گلاب جیسا ہے مگر یہ جاگتا منظر بھی خواب جیسا ہے یہ تلخ تلخ سا لہجہ، یہ تیز تیز سی…

Read More..

چہرے پڑھتا، آنکھیں لکھتا رہتا ہوں – محسن نقوی

چہرے پڑھتا، آنکھیں لکھتا رہتا ہوں میں بھی کیسی باتیں لکھتا رہتا ہوں؟ سارے جسم درختوں جیسے لگتے ہیں اور بانہوں کو شاخیں لکھتا رہتا…

Read More..

متاع شامِ سفر بستیوں میں چھوڑ آئے – محسن نقوی

متاع شامِ سفر بستیوں میں چھوڑ آئے بجھے چراغ ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے بچھڑ کے تجھ سے چلے ہم تو اب کے یوں…

Read More..

چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی – محسن نقوی

چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی قاتل کے ہاتھ میں تو حنا کی لکیر تھی خوش ہوں کہ وقتِ قتل مرا رنگ…

Read More..

کڑے سفر میں اگر راستہ بدلنا تھا – محسن نقوی

کڑے سفر میں اگر راستہ بدلنا تھا تو ابتدا میں مرے ساتھ ہی نہ چلنا تھا کچھ اس لیے بھی تو سورج زمیں پر اترا…

Read More..

چمن میں جب بھی صبا کو گلاب پوچھتے ہیں – محسن نقوی

چمن میں جب بھی صبا کو گلاب پوچھتے ہیں تمہاری آنکھ کا احوال، خواب پوچھتے ہیں کہاں کہاں ہوئے روشن ہمارے بعد چراغ؟ ستارے دیدئہ…

Read More..

گُم صُم ہوا، آواز کا دریا تھا جو اک شخص – محسن نقوی

گُم صُم ہوا، آواز کا دریا تھا جو اک شخص پتھر بھی نہیں اب وہ، ستارا تھا جو اک شخص شاید وہ کوئی حرفِ دعا…

Read More..

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے – محسن نقوی

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے یہ ختمِ وصل کا لمحہ ہے، رائیگاں…

Read More..

کھنڈر آنکھوں میں غم آباد کرنا – محسن نقوی

کھنڈر آنکھوں میں غم آباد کرنا کبھی فُرصت ملے تو یاد کرنا اذیت کی ہوس بجھنے لگی ہے کوئی تازہ ستم ایجاد کرنا کئی صدیاں…

Read More..

آندھی چلی تو دھوپ کی سانسیں الٹ گئیں – محسن نقوی

آندھی چلی تو دھوپ کی سانسیں الٹ گئیں عریاں شجر کے جسم سے شاخیں لپٹ گئیں دیکھا جو چاندنی میں گریبانِ شب کا رنگ کرنیں…

Read More..

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہو گا – محسن نقوی

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہو گا تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہو گا اس کی آنکھیں تیرے چہرے پہ…

Read More..