Mohammad Ali Khan

دَر دَر خود کو یوں نہ رولو – محمد علی خان

دَر دَر خود کو یوں نہ رولو – محمد علی خان

دَر دَر خود کو یوں نہ رولو کبھی تو چندا آنکھیں کھولو سب روئیں تو دم گھٹتا ہے سب سے تنہا ہو کے رو لو شب کے تارے ، گنتی اور تم دن نکلا ہے کچھ تو سو لو جانے کونسا پتھر نکلے بن سوچے تم لفظ نہ بولو ماں تو آخر ماں ہوتی ہے اس کے بارے۔۔۔۔سوچ کے بولو علی سمندر تو گُم صُم ہے ابھی ذرا سا تم ہی ڈولو محمد علی خا...

کوئی پوچھے تو بتا دوں گا – محمد علی خان

کوئی پوچھے تو بتا دوں گا – محمد علی خان

کوئی پوچھے تو بتا دوں گا حال کیسا ہے سب سنا دوں گا مدتوں میں لکھا ہوا جیون ایک ہی سانس میں مٹا دوں گا اتنا کم فہم تو نہیں پھر بھی آپ کو دیوتا بنا دوں گا لوگ پوچھیں گے ماجرا کیا ہے اس قدر خود کو میں گرا دوں گا اب کے سوچا ہے جو وہ آئے علی سامنے ہو بھی تو بھلا دوں گا محمد علی خان

میں سحرِ ناگہاں میں کھو گیا تھا – محمد علی خان

میں سحرِ ناگہاں میں کھو گیا تھا – محمد علی خان

میں سحرِ ناگہاں میں کھو گیا تھا ذرا سی دیر پاگل ہو گیا تھا کہانی میں نصیحت بھی تھی لیکن وہ بچہ سنتے سنتے سو گیا تھا سمندر جانتا ہے اس سے پوچھو ہوا میں کون آنسو بو گیا تھا سمندر آسماں کی پیروی میں افق تک جا کے اک خط ہو گیا تھا لب ساحل میں اکثر سوچتا ہوں علی وہ کس بھنور میں کھو گیا تھا محمد علی خان

زمین کی چھت پہ پڑا آسمان ہوں تنہا – محمد علی خان

زمین کی چھت پہ پڑا آسمان ہوں تنہا – محمد علی خان

زمین کی چھت پہ پڑا آسمان ہوں تنہا عمارتوں میں گھرا اک مکان ہوں تنہا ادھورے چاند کی صورت دریدہ عکس بھی ہوں تہہ کھنڈر بھی ، بکھرتا نشان ہوں تنہا کبھی ہوں بھیڑ کہ ۔۔۔۔۔تل دھرنے کو جگہ نہ ملے کبھی میں رات کی اُجڑی دکان ہوں تنہا میں منقسم ہوں اگرچہ گھڑی کی سوئیوں میں مگر زمین پہ ٹھہرا زمان ہوں تنہا اک ای...

مثلِ عمرِ خبرِ تو جب زندگی رہ جائیگی – محمد علی خان

مثلِ عمرِ خبرِ تو جب زندگی رہ جائیگی – محمد علی خان

مثلِ عمرِ خبرِ تو جب زندگی رہ جائیگی دیکھنا، مضمون میں پھر تشنگی رہ جائیگی باقی ساری شان سے رسمیں ادا ہونے کے بعد کیا خبر تھی بس یہی اک رخصتی رہ جائیگی پہلے پہلے فون ہونگے، خط بھی لکھے جائینگے پھر برائے نام سے بس دوستی رہ جائیگی ایک لمحے میں سبھی کچھ روند ڈالا جائیگا اور چشمِ وقت سب کچھ دیکھتی رہ جا...

دعا بھی دیتا ہے اور بددعا بھی دیتا ہے – محمد علی خان

دعا بھی دیتا ہے اور بددعا بھی دیتا ہے – محمد علی خان

دعا بھی دیتا ہے اور بددعا بھی دیتا ہے وہ کون ہے جو مجھے یوں سزا سی دیتا ہے میں اپنے آپ سے مخلص تو ہوں مگر کوئی درونِ ذات مجھے بددعا سی دیتا ہے بجا کے ابر نشانی ہے اُس کی رحمت کی مگر کبھی کبھی۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔یوں سزا بھی دیتا ہے یوں کہنا عام ہوا ہر گناہ کے بعد علی کہ سیدھا رستہ وہ آخر دکھا ہی دیتا ہے محمد ...

بکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوں – محمد علی خان

بکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوں – محمد علی خان

بکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوں میں کیا تھا، اور اب کیا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوں نہ جانے کس کا بدلہ لے گئی ہیں، ہوائیں مجھ سے کہ بس اک زرد پتا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوں خود اپنے آپ کو پیارا نہیں جب کبھی لگا میں تو کیسے تم کو پیارا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوں مرے سب جاننے والے تھے ، جو پیچھے ر...

پتہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے – محمد علی خان

پتہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے – محمد علی خان

پتہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے ہر انچ اک میل ہوتا جا رہا ہے غروبِ شمس کا منظر ہے۔۔۔۔۔۔۔جیسے سمندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھیل ہوتا جا رہا ہے جسے سمجھے تھے مہمل پہلے پہلے وہ خار اب۔۔۔۔۔۔۔۔کیل ہوتا جا رہا ہے کتابوں میں ”الف” سے ” ی ” تلک سب برابر سیل ہوتا جا رہا ہے یہ دل اب چھوٹے چھوٹے حادثوں سے مکمل۔۔۔۔۔۔۔۔نیل ہوتا جا ر...

اگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہے – محمد علی خان

اگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہے – محمد علی خان

اگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہے خلا اندر کا بھی تو اور بڑھتا جا رہا ہے نہ جانے کس جگہ جا کر رکے گا سلسلہ یہ بہت سے ‘آنگنوں’ میں صحن بٹتا جا رہا ہے ہمارے پاس گھر بھی ہے اور اسکے سب مکیں بھی مگر ۔۔۔جیون۔۔۔۔کہ راہوں پر ہی کٹتا جا رہا ہے اسی مٹی میں آخر ایک دن یہ دفن ہو گا اسی مٹی سے اس تن کو بچایا...

جو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کو – محمد علی خان

جو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کو – محمد علی خان

جو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کو بارہا میں نے بنایا ہے تماشا خود کو جو نامعلوم تھا پہلے اسے معلوم کیا پھر بہت دیر تلک غم میں جلایا خود کو کوئی بے مول سمجھتے ہوئے لے جائیگا اس دُھن میں پسِ بازار سجایا خود کو مجھے معلوم ہے ، مجھ میں بھی کئی خامیاں ہیں کبھی سمجھا بھی نہیں، میں نے خدا سا خود کو م...