اے عشق بے محابا تو نے تو جان مارے – میر تقی میر

اے عشق بے محابا تو نے تو جان مارے ٹک حسن کی طرف ہو کیا کیا جوان مارے

Read More..

آنکھ لگی ہے جب سے اس سے آنکھ لگی زنہار نہیں – میر تقی میر

آنکھ لگی ہے جب سے اس سے آنکھ لگی زنہار نہیں نیند آتی ہے دل جمعی میں سو تو دل کو قرار نہیں وصل میں…

Read More..

اک آدھ دن نکل مت اے ابر ادھر سے ہو کر – میر تقی میر

اک آدھ دن نکل مت اے ابر ادھر سے ہو کر بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر اب کل نہیں ہے تجھ…

Read More..

اس کا خیال آوے ہے عیار کی روش – میر تقی میر

اس کا خیال آوے ہے عیار کی روش کچھ اس کی ہم نے پائی نہ رفتار کی روش کیا چال ہے گی زہر بھری روزگار…

Read More..

ادھر آ کر شکار افگن ہمارا – میر تقی میر

ادھر آ کر شکار افگن ہمارا مشبک کر گیا ہے تن ہمارا گریباں سے رہا کوتہ تو پھر ہے ہمارے ہاتھ میں دامن ہمارا گئے…

Read More..

اپنے ہوتے تو با عتاب رہا – میر تقی میر

اپنے ہوتے تو با عتاب رہا بے دماغی سے با خطاب رہا ہو کے بے پردہ ملتفت بھی ہوا ناکسی سے ہمیں حجاب رہا نہ…

Read More..

اب رنج و درد و غم کا پہنچا ہے کام جاں تک – میر تقی میر

اب رنج و درد و غم کا پہنچا ہے کام جاں تک پر حوصلے سے شکوہ آیا نہیں زباں تک آواز کے ہماری تم حزن…

Read More..

آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے – میر تقی میر

آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے کرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سے پھرتے ہو کیا درختوں کے سائے میں دور دور کر…

Read More..

ان دلبروں کو دیکھ لیا بے وفا ہیں یے – میر تقی میر

ان دلبروں کو دیکھ لیا بے وفا ہیں یے بے دید و بے مروت و ناآشنا ہیں یے حالانکہ خصم جان ہیں پر دیکھیے جو…

Read More..

اسیر کر کے نہ لی تو نے تو خبر صیاد – میر تقی میر

اسیر کر کے نہ لی تو نے تو خبر صیاد اڑا کیے مرے پرکالۂ جگر صیاد پھریں گے لوٹتے صحن چمن میں باؤ کے ساتھ…

Read More..

اس تک کوشش سے بھی نہ پہنچے جان سے آخر سارے گئے – میر تقی میر

اس تک کوشش سے بھی نہ پہنچے جان سے آخر سارے گئے عاشق اس کی قامت کے بالا بالا مارے گئے اس کے روئے خوئے…

Read More..

آج ہمارا جی بے کل ہے تم بھی غفلت مت کریو – میر تقی میر

آج ہمارا جی بے کل ہے تم بھی غفلت مت کریو دل نہ رہے جو ہاتھ رکھے تو سماجت ات گت مت کریو ڈھیری رہے…

Read More..

اب وہ نہیں کہ آنکھیں تھیں پر آب روز و شب – میر تقی میر

اب وہ نہیں کہ آنکھیں تھیں پر آب روز و شب ٹپکا کرے ہے آنکھوں سے خونناب روز و شب اک وقت رونے کا تھا…

Read More..

اب تک تو نبھی اچھی اب دیکھیے پیری ہے – میر تقی میر

اب تک تو نبھی اچھی اب دیکھیے پیری ہے سب لوگوں میں ہیں لاگیں یاں محض فقیری ہے کیا دھیر بندھے اس کی جو عشق…

Read More..

اے گل نو دمیدہ کے مانند – میر تقی میر

اے گل نو دمیدہ کے مانند ہے تو کس آفریدہ کے مانند ہم امید وفا پہ تیری ہوئے غنچۂ دیر چیدہ کے مانند خاک کو…

Read More..

آنکھیں جو ہوں تو عین ہے مقصود ہر جگہ – میر تقی میر

آنکھیں جو ہوں تو عین ہے مقصود ہر جگہ بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہ واقف ہو شان بندگی سے قید قبلہ کیا…

Read More..

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا – میر تقی میر

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا قافلے میں صبح کے اک شور ہے یعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا سبز ہوتی ہی نہیں یہ…

Read More..

اس کے رنگ کھلا ہے شاید کوئی پھول بہار کے بیچ – میر تقی میر

اس کے رنگ کھلا ہے شاید کوئی پھول بہار کے بیچ شور پڑا ہے قیامت کا سا چار طرف گلزار کے بیچ رحم کرے وہ…

Read More..

آرسی آرسی وہ ہے وہ ہے – میر تقی میر

آرسی آرسی وہ ہے وہ ہے یہ نہ منھ دیکھے کی سی میں نے کہی

Read More..

آتی ہے خون کی بو دوستی یار کے بیچ – میر تقی میر

آتی ہے خون کی بو دوستی یار کے بیچ جی لیے ان نے ہزاروں کے یوں ہی پیار کے بیچ حیف وہ کشتہ کہ سو…

Read More..

اب کے جو گل کی فصل میں ہم کو جنوں ہوا – میر تقی میر

اب کے جو گل کی فصل میں ہم کو جنوں ہوا وہ دل کہ جس پہ اپنا بھروسا تھا خوں ہوا ٹھہرا گیا ہو ٹک…

Read More..

اے تازہ نہال عاشقی کے مالی – میر تقی میر

اے تازہ نہال عاشقی کے مالی یہ تونے طرح ناز کی کیسی ڈالی سب تجھ سے جہاں بھرا ہے تس کے اوپر دیکھیں ہیں کہ…

Read More..

آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر یار دیکھنا – میر تقی میر

آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر یار دیکھنا عاشق کا اپنے آخری دیدار دیکھنا کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے چاک قفس…

Read More..

الم سے یاں تئیں میں مشق ناتوانی کی – میر تقی میر

الم سے یاں تئیں میں مشق ناتوانی کی کہ میری جان نے تن پر مرے گرانی کی چمن کا نام سنا تھا ولے نہ دیکھا…

Read More..

اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا – میر تقی میر

اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا ہم کشتگان عشق ہیں ابرو و چشم…

Read More..

اچھی لگے ہے تجھ بن گل گشت باغ کس کو – میر تقی میر

اچھی لگے ہے تجھ بن گل گشت باغ کس کو صحبت رکھے گلوں سے اتنا دماغ کس کو بے سوز داغ دل پر گر جی…

Read More..

آتا ہے دل میں حال بد اپنا بھلا کہوں – میر تقی میر

آتا ہے دل میں حال بد اپنا بھلا کہوں پھر آپھی آپ سوچ کے کہتا ہوں کیا کہوں پروانہ پھر نہ شمع کی خاطر جلا…

Read More..

اب ظلم ہے اس خاطر تا غیر بھلا مانے – میر تقی میر

اب ظلم ہے اس خاطر تا غیر بھلا مانے پس ہم نہ برا مانیں تو کون برا مانے سرمایۂ صد آفت دیدار کی خواہش ہے…

Read More..

آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دعا یاد – میر تقی میر

آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دعا یاد آوے گی بہت ہم بھی فقیروں کی صدا یاد ہر آن وہ انداز ہے جس میں…

Read More..

ان بلاؤں سے کب رہائی ہے – میر تقی میر

ان بلاؤں سے کب رہائی ہے عشق ہے فقر ہے جدائی ہے دیکھیے رفتہ رفتہ کیا ہووے ہم بھی چلنے کو ہیں کہ آئی ہے…

Read More..

اسیر زلف کرے قیدی کمند کرے – میر تقی میر

اسیر زلف کرے قیدی کمند کرے پسند اس کی ہے وہ جس طرح پسند کرے ہمیشہ چشم ہے نمناک ہاتھ دل پر ہے خدا کسو…

Read More..

اس رفتہ پاس اس کو لائے تھے لوگ جا کر – میر تقی میر

اس رفتہ پاس اس کو لائے تھے لوگ جا کر پر حیف میں نہ دیکھا بالیں سے سر اٹھا کر سن سن کے درد دل…

Read More..

آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف – میر تقی میر

آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف راستی یہ ہے کہ وعدے ہیں تمھارے سب خلاف آہ برچھی سی لگی تھی تیر سی دل…

Read More..

اب وقت عزیز کو تو یوں کھوؤگے – میر تقی میر

اب وقت عزیز کو تو یوں کھوؤگے پر سوچ کے غفلت کے تئیں روؤگے کیا خواب گراں پہ میل روز و شب ہے جاگو ٹک…

Read More..

اب دیکھیں آہ کیا ہو ہم وے جدا ہوئے ہیں – میر تقی میر

اب دیکھیں آہ کیا ہو ہم وے جدا ہوئے ہیں بے یار و بے دیار و بے آشنا ہوئے ہیں غیرت سے نام اس کا…

Read More..

اے کاش مرے سر پر اک بار وہ آ جاتا – میر تقی میر

اے کاش مرے سر پر اک بار وہ آ جاتا ٹھہراؤ سا ہو جاتا یوں جی نہ چلا جاتا تب تک ہی تحمل ہے جب…

Read More..

آنے کے وقت تم تو کہیں کے کہیں رہے – میر تقی میر

آنے کے وقت تم تو کہیں کے کہیں رہے اب آئے تم تو فائدہ ہم ہی نہیں رہے

Read More..

اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ – میر تقی میر

اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ پہ تیرے دونوں لبوں کا بھی کیا ہی رنگ ہے شوخ کبھو تو نیو چلا کر ستم…

Read More..

اس کی سی جو چلے ہے راہ تو کیا – میر تقی میر

اس کی سی جو چلے ہے راہ تو کیا آسماں پر گیا ہے ماہ تو کیا لڑ کے ملنا ہے آپ سے بے لطف یار…

Read More..

اس آستان داغ سے میں زر لیا کیا – میر تقی میر

اس آستان داغ سے میں زر لیا کیا گل دستہ دستہ جس کو چراغی دیا کیا کیا بعد مرگ یاد کروں گا وفا تجھے سہتا…

Read More..

آتے ہی آتے تیرے یہ ناکام ہو چکا – میر تقی میر

آتے ہی آتے تیرے یہ ناکام ہو چکا واں کام ہی رہا تجھے یاں کام ہو چکا یا خط چلے ہی آتے تھے یا حرف…

Read More..

اب کچھ مزے پر آیا شاید وہ شوخ دیدہ – میر تقی میر

اب کچھ مزے پر آیا شاید وہ شوخ دیدہ آب اس کے پوست میں ہے جوں میوۂ رسیدہ آنکھیں ملا کبھو تو کب تک کیا…

Read More..

اے تجھ بغیر لالہ و باغ و بہار حیف – میر تقی میر

اے تجھ بغیر لالہ و باغ و بہار حیف گل سے چمن بھرے ہوں نہ ہو تو ہزار حیف

Read More..

آنسو مری آنکھوں میں ہر دم جو نہ آ جاتا – میر تقی میر

آنسو مری آنکھوں میں ہر دم جو نہ آ جاتا تو کام مرا اچھا پردے میں چلا جاتا اصلح ہے حجاب اس کا ہم شوق…

Read More..

آگ سا تو جو ہوا اے گل تر آن کے بیچ – میر تقی میر

آگ سا تو جو ہوا اے گل تر آن کے بیچ صبح کی باؤ نے کیا پھونک دیا کان کے بیچ ہم نہ کہتے تھے…

Read More..

اس شوخ سے سنا نہیں نام صبا ہنوز – میر تقی میر

اس شوخ سے سنا نہیں نام صبا ہنوز غنچہ ہے وہ لگی نہیں اس کو ہوا ہنوز عاشق کے اس کو گریۂ خونیں کا درد…

Read More..

احوال نہ پوچھو کچھ ہم ظلم رسیدوں کا – میر تقی میر

احوال نہ پوچھو کچھ ہم ظلم رسیدوں کا کیا حال محبت کے آزار کشیدوں کا دیوانگی عاشق کی سمجھو نہ لباسی ہے صد پارہ جگر…

Read More..

اپنا شعار پوچھو تو مہرباں وفا ہے – میر تقی میر

اپنا شعار پوچھو تو مہرباں وفا ہے پر اس کے جی میں ہم سے کیا جانیے کہ کیا ہے مت پوچھ میری اس کی شام…

Read More..

اب دل کو آہ کرنی ہی صبح و مسا لگی – میر تقی میر

اب دل کو آہ کرنی ہی صبح و مسا لگی پژمردہ اس کلی کے تئیں بھی ہوا لگی کیونکر بجھاؤں آتش سوزان عشق کو اب…

Read More..

آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا – میر تقی میر

آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا اس باؤ نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا سمجھی نہ باد صبح کہ آ کر اٹھا…

Read More..

انجام دل غم کش کوئی عشق میں کیا جانے – میر تقی میر

انجام دل غم کش کوئی عشق میں کیا جانے کیا جانیے کیا ہو گا آخر کو خدا جانے واں آرسی ہے وہ ہے یاں سنگ…

Read More..

اس موج خیز دہر میں تو ہے حباب سا – میر تقی میر

اس موج خیز دہر میں تو ہے حباب سا آنکھیں کھلیں تری تو یہ عالم ہے خواب سا برقع اٹھا کے دیکھے ہے منھ سے…

Read More..

اس بد زباں نے صرف سخن آہ کب کیا – میر تقی میر

اس بد زباں نے صرف سخن آہ کب کیا چپکے ہی چپکے ان نے ہمیں جاں بلب کیا طاقت سے میرے دل کی خبر تجھ…

Read More..

آج ہمارا سر پھرتا ہے باتیں جتنی سب موقوف – میر تقی میر

آج ہمارا سر پھرتا ہے باتیں جتنی سب موقوف حرف و سخن جو بایک دیگر رہتے تھے سو اب موقوف کس کو دماغ رہا ہے…

Read More..

اب نہیں ہوتی چشم تر افسوس – میر تقی میر

اب نہیں ہوتی چشم تر افسوس بہ گیا خون ہو جگر افسوس دیدنی ہے یہ خستہ حالی لیک ایدھر اس کی نہیں نظر افسوس عیب…

Read More..

اب اسیری سے بچیں تو دیکھیں گے گلشن کبھو – میر تقی میر

اب اسیری سے بچیں تو دیکھیں گے گلشن کبھو تھا ہمارا بھی چمن میں اے صبا مسکن کبھو ہم بھی ایک امید پر اس صید…

Read More..

اے عشق کیا جو مجھ سا ہوا ناتواں ہلاک – میر تقی میر

اے عشق کیا جو مجھ سا ہوا ناتواں ہلاک کر ہاتھ ٹک ملا کے کوئی پہلواں ہلاک میں چل بسا تو شہر ہی ویران سب…

Read More..

آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا – میر تقی میر

آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا آ کر کھڑا ہوا تھا بہ…

Read More..

اللہ کو زاہد جو طلب کرتے ہیں – میر تقی میر

اللہ کو زاہد جو طلب کرتے ہیں ظاہر تقویٰ کو کس سبب کرتے ہیں دکھلانے کو لوگوں کے دنوں کی ہے صلوٰۃ پیش انجم نماز…

Read More..

اسرار دل کے کہتے ہیں پیر و جوان میں – میر تقی میر

اسرار دل کے کہتے ہیں پیر و جوان میں مطلق نہیں ہے بند ہماری زبان میں رنگینی زمانہ سے خاطر نہ جمع رکھ سو رنگ…

Read More..