Meer Taqi Meer

اے عشق بے محابا تو نے تو جان مارے – میر تقی میر

اے عشق بے محابا تو نے تو جان مارے – میر تقی میر

اے عشق بے محابا تو نے تو جان مارے ٹک حسن کی طرف ہو کیا کیا جوان مارے

آنکھ لگی ہے جب سے اس سے آنکھ لگی زنہار نہیں – میر تقی میر

آنکھ لگی ہے جب سے اس سے آنکھ لگی زنہار نہیں – میر تقی میر

آنکھ لگی ہے جب سے اس سے آنکھ لگی زنہار نہیں نیند آتی ہے دل جمعی میں سو تو دل کو قرار نہیں وصل میں اس کے روز و شب کیا خوب گذرتی تھی اپنی ہجراں کا کچھ اور سماں ہے اب وہ لیل و نہار نہیں خالی پڑے ہیں دام کہیں یا صید دشتی صید ہوئے یا جس صید افگن کے لیے تھے اس کو ذوق شکار نہیں سبزہ خط کا گرد گل رو بڑھ کان...

اک آدھ دن نکل مت  اے ابر ادھر سے ہو کر – میر تقی میر

اک آدھ دن نکل مت اے ابر ادھر سے ہو کر – میر تقی میر

اک آدھ دن نکل مت اے ابر ادھر سے ہو کر بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر اب کل نہیں ہے تجھ کو بے قتل غم کشوں کے کہتے تو تھے کہ ظالم خوں ریزی سے نہ خو کر کہتے ہیں راہ پائی زاہد نے اس گلی کی روتا کہیں نہ آوے ایمان و دیں کو کھو کر ہے نظم کا سلیقہ ہرچند سب کو لیکن جب جانیں کوئی لاوے یوں موتی سے پرو ...

اس کا خیال آوے ہے عیار کی روش – میر تقی میر

اس کا خیال آوے ہے عیار کی روش – میر تقی میر

اس کا خیال آوے ہے عیار کی روش کچھ اس کی ہم نے پائی نہ رفتار کی روش کیا چال ہے گی زہر بھری روزگار کی سب اس گزندے کی ہے سیہ مار کی روش وہ رفت و خیز گرم تو مدت سے ہو چکی رہتے ہیں اب گرے پڑے بیمار کی روش جاتے ہیں رنگ و بوئے گل و آب جو چلے آئی نہ خوش ہمیں تو یہ گلزار کی روش مائل ہوا ہے سرو گلستاں کا دل ب...

ادھر آ کر شکار افگن ہمارا – میر تقی میر

ادھر آ کر شکار افگن ہمارا – میر تقی میر

ادھر آ کر شکار افگن ہمارا مشبک کر گیا ہے تن ہمارا گریباں سے رہا کوتہ تو پھر ہے ہمارے ہاتھ میں دامن ہمارا گئے جوں شمع اس مجلس میں جتنے سبھوں پر حال ہے روشن ہمارا بلا جس چشم کو کہتے ہیں مردم وہ ہے عین بلا مسکن ہمارا ہوا رونے سے راز دوستی فاش ہمارا گریہ تھا دشمن ہمارا بہت چاہا تھا ابر تر نے لیکن نہ منت...

اپنے ہوتے تو با عتاب رہا – میر تقی میر

اپنے ہوتے تو با عتاب رہا – میر تقی میر

اپنے ہوتے تو با عتاب رہا بے دماغی سے با خطاب رہا ہو کے بے پردہ ملتفت بھی ہوا ناکسی سے ہمیں حجاب رہا نہ اٹھا لطف کچھ جوانی کا کم بہت موسم شباب رہا کارواں ہائے صبح ہوتے گیا میں ستم دیدہ محو خواب رہا ہجر میں جی ڈھہا گرے ہی رہے ضعف سے حال دل خراب رہا گھر سے آئے گلی میں سو باری یار بن دیر اضطراب رہا ہم س...

اب رنج و درد و غم کا پہنچا ہے کام جاں تک – میر تقی میر

اب رنج و درد و غم کا پہنچا ہے کام جاں تک – میر تقی میر

اب رنج و درد و غم کا پہنچا ہے کام جاں تک پر حوصلے سے شکوہ آیا نہیں زباں تک آواز کے ہماری تم حزن پر نہ جاؤ یہ نالۂ حزیں تو جاتے ہیں آسماں تک رونا جہاں جہاں تو عین آرزو ہے لیکن روتا ہوں رویا جاوے میرے کنے جہاں تک اکثر صداع مجھ کو رہتا ہے عاشقی میں تصدیع درد و غم سے کھینچے کوئی کہاں تک آوارہ ہی ہوئے ہم...

آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے – میر تقی میر

آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے – میر تقی میر

آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے کرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سے پھرتے ہو کیا درختوں کے سائے میں دور دور کر لو موافقت کسو بے برگ و ساز سے ہجراں میں اس کے زندگی کرنا بھلا نہ تھا کوتاہی جو نہ ہووے یہ عمر دراز سے مانند سبحہ عقدے نہ دل کے کبھو کھلے جی اپنا کیونکے اچٹے نہ روزے نماز سے کرتا ہے چھید چھید ہمارا...

ان دلبروں کو دیکھ لیا بے وفا ہیں یے – میر تقی میر

ان دلبروں کو دیکھ لیا بے وفا ہیں یے – میر تقی میر

ان دلبروں کو دیکھ لیا بے وفا ہیں یے بے دید و بے مروت و ناآشنا ہیں یے حالانکہ خصم جان ہیں پر دیکھیے جو خوب ہیں آرزو دلوں کی بھی یہ مدعا ہیں یے اب حوصلہ کرے ہے ہمارا بھی تنگیاں جانے بھی دو بتوں کے تئیں کیا خدا ہیں یے گل پھول اس چمن کے چلو صبح دیکھ لیں شبنم کے رنگ پھر کوئی دم میں ہوا ہیں یے کس دل میں خ...

اسیر کر کے نہ لی تو نے تو خبر صیاد – میر تقی میر

اسیر کر کے نہ لی تو نے تو خبر صیاد – میر تقی میر

اسیر کر کے نہ لی تو نے تو خبر صیاد اڑا کیے مرے پرکالۂ جگر صیاد پھریں گے لوٹتے صحن چمن میں باؤ کے ساتھ موئے گئے بھی مرے مشت بال و پر صیاد رہے گی ایسی ہی گر بے کلی ہمیں اس سال تو دیکھیو کہ رہے ہم قفس میں مر صیاد چمن کی باؤ کے آتے خبر نہ اتنی رہی کہ میں کدھر ہوں کدھر ہے قفس کدھر صیاد شکستہ بالی کو چاہے...

اس تک کوشش سے بھی نہ پہنچے جان سے آخر سارے گئے – میر تقی میر

اس تک کوشش سے بھی نہ پہنچے جان سے آخر سارے گئے – میر تقی میر

اس تک کوشش سے بھی نہ پہنچے جان سے آخر سارے گئے عاشق اس کی قامت کے بالا بالا مارے گئے اس کے روئے خوئے کردہ پہ نقاب لیے وہ صورت ہے جیسے یکایک سطح ہوا پر بدلی آئی تارے گئے ایسے قماری سے دل کو لگا کر جیتے رہنا ہو نہ سکا رفتۂ شاہد بازی اس کے جی بھی اپنا ہارے گئے چارہ گر اس شہر کے ہوں تو فکر کریں آبادی کا...

آج ہمارا جی بے کل ہے تم بھی غفلت مت کریو – میر تقی میر

آج ہمارا جی بے کل ہے تم بھی غفلت مت کریو – میر تقی میر

آج ہمارا جی بے کل ہے تم بھی غفلت مت کریو دل نہ رہے جو ہاتھ رکھے تو سماجت ات گت مت کریو ڈھیری رہے اک خاک کی تو کیا ایسے خاک برابر کی مجھ کو زمیں میں گاڑو گے تو نشان تربت مت کریو ایسی جان کہاں ہے ہم میں رنج نہ دینا ہاتھوں کو ایک ہی وار میں ہو چکیے گا دوسری ضربت مت کریو ہم کو تو مارا عشق نے آخر پر یہ و...

اب وہ نہیں کہ آنکھیں تھیں پر آب روز و شب – میر تقی میر

اب وہ نہیں کہ آنکھیں تھیں پر آب روز و شب – میر تقی میر

اب وہ نہیں کہ آنکھیں تھیں پر آب روز و شب ٹپکا کرے ہے آنکھوں سے خونناب روز و شب اک وقت رونے کا تھا ہمیں بھی خیال سا آئی تھی آنکھوں سے چلی سیلاب روز و شب اس کے لیے نہ پھرتے تھے ہم خاک چھانتے رہتا تھا پاس وہ در نایاب روز و شب قدرت تو دیکھ عشق کی مجھ سے ضعیف کو رکھتا ہے شاد بے خور و بے خواب روز و شب سجد...

اب تک تو نبھی اچھی اب دیکھیے پیری ہے – میر تقی میر

اب تک تو نبھی اچھی اب دیکھیے پیری ہے – میر تقی میر

اب تک تو نبھی اچھی اب دیکھیے پیری ہے سب لوگوں میں ہیں لاگیں یاں محض فقیری ہے کیا دھیر بندھے اس کی جو عشق کا رسوا ہو نکلے تو کہیں لڑکے دھیری ہے بے دھیری ہے خوں عشق کی گرمی سے سوکھا جگر و دل میں اک بوند تھی لوہو کی اب چھاتی جو چیری ہے ہم طائر نوپر ہیں وے جن کو بہاراں میں گل گشت گلستاں کا ہے شوق و اسیر...

اے گل نو دمیدہ کے مانند – میر تقی میر

اے گل نو دمیدہ کے مانند – میر تقی میر

اے گل نو دمیدہ کے مانند ہے تو کس آفریدہ کے مانند ہم امید وفا پہ تیری ہوئے غنچۂ دیر چیدہ کے مانند خاک کو میری سیر کر کے پھرا وہ غزال رمیدہ کے مانند سر اٹھاتے ہی ہو گئے پامال سبزۂ نو دمیدہ کے مانند نہ کٹے رات ہجر کی جو نہ ہو نالہ تیغ کشیدہ کے مانند ہم گرفتار حال ہیں اپنے طائر پر بریدہ کے مانند دل تڑپت...

آنکھیں جو ہوں تو عین ہے مقصود ہر جگہ – میر تقی میر

آنکھیں جو ہوں تو عین ہے مقصود ہر جگہ – میر تقی میر

آنکھیں جو ہوں تو عین ہے مقصود ہر جگہ بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہ واقف ہو شان بندگی سے قید قبلہ کیا سر ہر کہیں جھکا کہ ہے مسجود ہر جگہ مو تن پہ ہم نہ سوختہ جانوں کے ہیں نمود ہے سوزش دروں سے بروں دود ہر جگہ دلی کے لکھنؤ کے خوش اندام خوب لیک راہ وفا و مہر ہے مسدود ہر جگہ پھرتی ہے اپنے ساتھ لگی م...

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا – میر تقی میر

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا – میر تقی میر

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا قافلے میں صبح کے اک شور ہے یعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا سبز ہوتی ہی نہیں یہ سرزمیں تخم خواہش دل میں تو بوتا ہے کیا یہ نشان عشق ہیں جاتے نہیں داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا غیرت یوسف ہے یہ وقت عزیز میرؔ اس کو رائیگاں کھوتا ہے کیا

اس کے رنگ کھلا ہے شاید کوئی پھول بہار کے بیچ – میر تقی میر

اس کے رنگ کھلا ہے شاید کوئی پھول بہار کے بیچ – میر تقی میر

اس کے رنگ کھلا ہے شاید کوئی پھول بہار کے بیچ شور پڑا ہے قیامت کا سا چار طرف گلزار کے بیچ رحم کرے وہ ذرا ذرا تو دیکھنے آوے دم بھر یاں اب تو دم بھی باقی نہیں ہے اس کے کسو بیمار کے بیچ چین نہ دے گا خاک کے نیچے ہرگز عشق کے ماروں کو دل تو ساتھ اے کاش نہ گاڑیں ان لوگوں کے مزار کے بیچ چشم شوخ سے اس کی یارو...

آرسی آرسی وہ ہے وہ ہے – میر تقی میر

آرسی آرسی وہ ہے وہ ہے – میر تقی میر

آرسی آرسی وہ ہے وہ ہے یہ نہ منھ دیکھے کی سی میں نے کہی

آتی ہے خون کی بو دوستی یار کے بیچ – میر تقی میر

آتی ہے خون کی بو دوستی یار کے بیچ – میر تقی میر

آتی ہے خون کی بو دوستی یار کے بیچ جی لیے ان نے ہزاروں کے یوں ہی پیار کے بیچ حیف وہ کشتہ کہ سو رنج سے آوے تجھ تک اور رہ جائے تری ایک ہی تلوار کے بیچ گرچہ چھپتی نہیں ہے چاہ پہ رہ منکر پاک جی ہی دینا پڑے ہے عشق کے اقرار کے بیچ نالہ شب آوے قفس سے تو گل اب اس پہ نہ جا یہی ہنکار سی ہے مرغ گرفتار کے بیچ ان...

اب کے جو گل کی فصل میں ہم کو جنوں ہوا – میر تقی میر

اب کے جو گل کی فصل میں ہم کو جنوں ہوا – میر تقی میر

اب کے جو گل کی فصل میں ہم کو جنوں ہوا وہ دل کہ جس پہ اپنا بھروسا تھا خوں ہوا ٹھہرا گیا ہو ٹک بھی تو تم سے بیاں کروں آتے ہی اس کے رفتن صبر و سکوں ہوا تھا شوق طوف تربت مجنوں مجھے بہت اک گردباد دشت مرا رہنموں ہوا سیلاب آگے آیا چلا جاتے دشت میں بے اختیار رونے کا میرے شگوں ہوا جان اس کی تیغ تیز سے رکھ کر...

اے تازہ نہال عاشقی کے مالی – میر تقی میر

اے تازہ نہال عاشقی کے مالی – میر تقی میر

اے تازہ نہال عاشقی کے مالی یہ تونے طرح ناز کی کیسی ڈالی سب تجھ سے جہاں بھرا ہے تس کے اوپر دیکھیں ہیں کہ جاے ہے گی تیری خالی

آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر یار دیکھنا – میر تقی میر

آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر یار دیکھنا – میر تقی میر

آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر یار دیکھنا عاشق کا اپنے آخری دیدار دیکھنا کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے چاک قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا آنکھیں چرائیو نہ ٹک ابر بہار سے میری طرف بھی دیدۂ خونبار دیکھنا اے ہم سفر نہ آبلے کو پہنچے چشم تر لاگا ہے میرے پاؤں میں آ خار دیکھنا ہونا نہ چار چشم دل اس ظلم پیشہ سے...

الم سے یاں تئیں میں مشق ناتوانی کی – میر تقی میر

الم سے یاں تئیں میں مشق ناتوانی کی – میر تقی میر

الم سے یاں تئیں میں مشق ناتوانی کی کہ میری جان نے تن پر مرے گرانی کی چمن کا نام سنا تھا ولے نہ دیکھا ہائے جہاں میں ہم نے قفس ہی میں زندگانی کی ملائی خوب مری خوں میں خاک بسمل گاہ یہ تھوڑی منتیں ہیں مجھ پہ سخت جانی کی بتنگ ہوں میں ترے اختلاط سے پیری قسم ہے اپنی مجھے اس گئی جوانی کی چلا ہے کھینچنے تصوی...

اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا – میر تقی میر

اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا – میر تقی میر

اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا ہم کشتگان عشق ہیں ابرو و چشم یار سر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا ہم رہرو ان راہ فنا ہیں برنگ عمر جاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا اپنے شہید ناز سے بس ...

اچھی لگے ہے تجھ بن گل گشت باغ کس کو – میر تقی میر

اچھی لگے ہے تجھ بن گل گشت باغ کس کو – میر تقی میر

اچھی لگے ہے تجھ بن گل گشت باغ کس کو صحبت رکھے گلوں سے اتنا دماغ کس کو بے سوز داغ دل پر گر جی جلے بجا ہے اچھا لگے ہے اپنا گھر بے چراغ کس کو صد چشم داغ وا ہیں دل پر مرے میں وہ ہوں دکھلا رہا ہے لالہ تو اپنا داغ کس کو گل چین عیش ہوتے ہم بھی چمن میں جا کر آہ و فغاں سے اپنی لیکن فراغ کس کو کر شکر چشم پر خ...

آتا ہے دل میں حال بد اپنا بھلا کہوں – میر تقی میر

آتا ہے دل میں حال بد اپنا بھلا کہوں – میر تقی میر

آتا ہے دل میں حال بد اپنا بھلا کہوں پھر آپھی آپ سوچ کے کہتا ہوں کیا کہوں پروانہ پھر نہ شمع کی خاطر جلا کرے گر بزم میں یہ اپنا ترا ماجرا کہوں مت کر خرام سر پہ اٹھا لے گا خلق کو بیٹھا اگر گلی میں ترا نقش پا کہوں دل اور دیدہ باعث ایذا و نور عین کس کے تئیں برا کہوں کس کو بھلا کہوں آوے سموم جائے صبا باغ ...

اب ظلم ہے اس خاطر تا غیر بھلا مانے – میر تقی میر

اب ظلم ہے اس خاطر تا غیر بھلا مانے – میر تقی میر

اب ظلم ہے اس خاطر تا غیر بھلا مانے پس ہم نہ برا مانیں تو کون برا مانے سرمایۂ صد آفت دیدار کی خواہش ہے دل کی تو سمجھ لیجے گر چشم کہا مانے مسدود ہی اے قاصد بہتر ہے رہ نامہ کیا کیا نہ لکھیں ہم تو جو یار لکھا مانے ٹک حال شکستہ کی سننے ہی میں سب کچھ ہے پر وہ تو سخن رس ہے اس بات کو کیا مانے بے طاقتی دل نے...

آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دعا یاد – میر تقی میر

آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دعا یاد – میر تقی میر

آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دعا یاد آوے گی بہت ہم بھی فقیروں کی صدا یاد ہر آن وہ انداز ہے جس میں کہ کھپے جی اس مخترع جور کو کیا کیا ہے ادا یاد کیا صحبتیں اگلی گئیں خاطر سے ہماری اپنی بھی وفا یاد ہے اس کی بھی جفا یاد کیفیتیں عطار کے لونڈے میں بہت تھیں اس نسخے کی کوئی نہ رہی حیف دوا یاد کیا جائے کہی بو...

ان بلاؤں سے کب رہائی ہے – میر تقی میر

ان بلاؤں سے کب رہائی ہے – میر تقی میر

ان بلاؤں سے کب رہائی ہے عشق ہے فقر ہے جدائی ہے دیکھیے رفتہ رفتہ کیا ہووے ہم بھی چلنے کو ہیں کہ آئی ہے استخواں کانپ کانپ جلتے ہیں عشق نے آگ یہ لگائی ہے دل کو کھینچے ہے چشمک انجم آنکھ ہم نے کہاں لڑائی ہے اس صنائع کا اس بدائع کا کچھ تعجب نہیں خدائی ہے نہ تو جذب رسا نہ بخت رسا کیونکے کہیے کہ واں رسائی ہ...

اسیر زلف کرے قیدی کمند کرے – میر تقی میر

اسیر زلف کرے قیدی کمند کرے – میر تقی میر

اسیر زلف کرے قیدی کمند کرے پسند اس کی ہے وہ جس طرح پسند کرے ہمیشہ چشم ہے نمناک ہاتھ دل پر ہے خدا کسو کو نہ ہم سا بھی دردمند کرے بڑوں بڑوں کو جھکاتے ہی سر بنے اس دم پکڑ کے تیغ وہ اپنی اگر بلند کرے بیان دل کے بھی جلنے کو کریے مجلس میں اچھلنے کودنے کو ترک اگر سپند کرے نہ مجھ کو راہ سے لے جائے مکر دنیا ...

اس رفتہ پاس اس کو لائے تھے لوگ جا کر – میر تقی میر

اس رفتہ پاس اس کو لائے تھے لوگ جا کر – میر تقی میر

اس رفتہ پاس اس کو لائے تھے لوگ جا کر پر حیف میں نہ دیکھا بالیں سے سر اٹھا کر سن سن کے درد دل کو بولا کہ جاتے ہیں ہم تو اپنی یہ کہانی بیٹھا ہوا کہا کر آگے زمیں کی تہ میں ہم سے بہت تھے تو بھی سر پر زمین اٹھالی ہم بے تہوں نے آ کر میرے ہی خوں میں ان نے تیغہ نہیں سلایا سویا ہے اژدہا یہ بہتیرے مجھ سے کھا ...

آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف – میر تقی میر

آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف – میر تقی میر

آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف راستی یہ ہے کہ وعدے ہیں تمھارے سب خلاف آہ برچھی سی لگی تھی تیر سی دل کی طپش ہجر کی شب مجھ پہ گذری غیرت روز مصاف ایک دن میں نے لکھا تھا اس کو اپنا درد دل آج تک جاتا نہیں سینے سے خامے کے شگاف پاؤں پر سے اپنے میرا سر اٹھانے مت جھکو تیغ باندھی ہے میاں تم نے کمر میں خو...

اب وقت عزیز کو تو یوں کھوؤگے – میر تقی میر

اب وقت عزیز کو تو یوں کھوؤگے – میر تقی میر

اب وقت عزیز کو تو یوں کھوؤگے پر سوچ کے غفلت کے تئیں روؤگے کیا خواب گراں پہ میل روز و شب ہے جاگو ٹک میرؔ پھر بہت سوؤگے

اب دیکھیں آہ کیا ہو ہم وے جدا ہوئے ہیں – میر تقی میر

اب دیکھیں آہ کیا ہو ہم وے جدا ہوئے ہیں – میر تقی میر

اب دیکھیں آہ کیا ہو ہم وے جدا ہوئے ہیں بے یار و بے دیار و بے آشنا ہوئے ہیں غیرت سے نام اس کا آیا نہیں زباں پر آگے خدا کے جب ہم محو دعا ہوئے ہیں اہل چمن سے کیونکر اپنی ہو روشناسی برسوں اسیر رہ کر اب ہم رہا ہوئے ہیں بے عشق خوب رویاں اپنی نہیں گذرتی اے وائے کس بلا میں ہم مبتلا ہوئے ہیں جانا کہ تن میں ہ...

اے کاش مرے سر پر اک بار وہ آ جاتا – میر تقی میر

اے کاش مرے سر پر اک بار وہ آ جاتا – میر تقی میر

اے کاش مرے سر پر اک بار وہ آ جاتا ٹھہراؤ سا ہو جاتا یوں جی نہ چلا جاتا تب تک ہی تحمل ہے جب تک نہیں آتا وہ اس رستے نکلتا تو ہم سے نہ رہا جاتا اک آگ لگا دی ہے چھاتی میں جدائی نے وہ مہ گلے لگتا تو یوں دل نہ جلا جاتا یا لاگ کی وے باتیں یا ایسی ہے بیزاری وہ جو نہ لگا لیتا تو میں نہ لگا جاتا کیا نور کا بک...

آنے کے وقت تم تو کہیں کے کہیں رہے – میر تقی میر

آنے کے وقت تم تو کہیں کے کہیں رہے – میر تقی میر

آنے کے وقت تم تو کہیں کے کہیں رہے اب آئے تم تو فائدہ ہم ہی نہیں رہے

اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ – میر تقی میر

اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ – میر تقی میر

اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ پہ تیرے دونوں لبوں کا بھی کیا ہی رنگ ہے شوخ کبھو تو نیو چلا کر ستم کھنچیں کب تک کماں کے طور سے تو سخت خانہ جنگ ہے شوخ سکھائیں کن نے تجھے آہ ایسی اچپلیاں کہ برق پر تری شوخی سے کام تنگ ہے شوخ بغیر بادہ تو یوں گرم آ کے کب ملتا نشہ ہے زور تجھے اس کی یہ ترنگ ہے شوخ جگ...

اس کی سی جو چلے ہے راہ تو کیا – میر تقی میر

اس کی سی جو چلے ہے راہ تو کیا – میر تقی میر

اس کی سی جو چلے ہے راہ تو کیا آسماں پر گیا ہے ماہ تو کیا لڑ کے ملنا ہے آپ سے بے لطف یار ہووے نہ عذر خواہ تو کیا کب رخ بدر روشن ایسا ہے ایک شب کا ہے اشتباہ تو کیا بے خرد خانقہ میں ہیں گو مست وہ کرے مست یک نگاہ تو کیا اس کے پرپیچ گیسو کے آگے ہووے کالا کوئی سیاہ تو کیا حسن والے ہیں کج روش سارے ہوئے دو ...

اس آستان داغ سے میں زر لیا کیا – میر تقی میر

اس آستان داغ سے میں زر لیا کیا – میر تقی میر

اس آستان داغ سے میں زر لیا کیا گل دستہ دستہ جس کو چراغی دیا کیا کیا بعد مرگ یاد کروں گا وفا تجھے سہتا رہا جفائیں میں جب تک جیا کیا ہو تار تار سیتے ہی سیتے جو اڑ گیا اب تک عبث میں اپنا گریباں سیا کیا سن سن کے تیری بات کو کیا کیا نہ کہہ سنا کیا کیا کہوں میں تجھ سے کہ کیا کچھ کیا کیا اب وہ جگر طپش سے ت...

آتے ہی آتے تیرے یہ ناکام ہو چکا – میر تقی میر

آتے ہی آتے تیرے یہ ناکام ہو چکا – میر تقی میر

آتے ہی آتے تیرے یہ ناکام ہو چکا واں کام ہی رہا تجھے یاں کام ہو چکا یا خط چلے ہی آتے تھے یا حرف ہی نہیں شاید کہ سادگی کا وہ ہنگام ہو چکا موسم گیا وہ ترک محبت کا ناصحا میں اب تو خاص و عام میں بدنام ہو چکا ناآشنائے حرف تھا وہ شوخ جب تبھی ہم سے تو ترک نامہ و پیغام ہو چکا تڑپے ہے جب کہ سینے میں اچھلے ہے ...

اب کچھ مزے پر آیا شاید وہ شوخ دیدہ – میر تقی میر

اب کچھ مزے پر آیا شاید وہ شوخ دیدہ – میر تقی میر

اب کچھ مزے پر آیا شاید وہ شوخ دیدہ آب اس کے پوست میں ہے جوں میوۂ رسیدہ آنکھیں ملا کبھو تو کب تک کیا کروں میں دنبالہ گردی تیری اے آہوئے رمیدہ پانی بھر آیا منھ میں دیکھے جنھوں کے یارب وے کس مزے کے ہوں گے لب ہائے نامکیدہ سائے کو اس پری کے لگتا نہ تھا چمن میں مغرور کاہے پر ہے شمشاد قد کشیدہ آنکھیں ہی بچ...

اے تجھ بغیر لالہ و باغ و بہار حیف – میر تقی میر

اے تجھ بغیر لالہ و باغ و بہار حیف – میر تقی میر

اے تجھ بغیر لالہ و باغ و بہار حیف گل سے چمن بھرے ہوں نہ ہو تو ہزار حیف

آنسو مری آنکھوں میں ہر دم جو نہ آ جاتا – میر تقی میر

آنسو مری آنکھوں میں ہر دم جو نہ آ جاتا – میر تقی میر

آنسو مری آنکھوں میں ہر دم جو نہ آ جاتا تو کام مرا اچھا پردے میں چلا جاتا اصلح ہے حجاب اس کا ہم شوق کے ماروں سے بے پردہ جو وہ ہوتا تو کس سے رہا جاتا طفلی کی ادا تیری جاتی نہیں یہ جی سے ہم دیکھتے تجھ کو تو تو منھ کو چھپا جاتا صد شکر کہ داغ دل افسردہ ہوا ورنہ یہ شعلہ بھڑکتا تو گھر بار جلا جاتا کہتے تو ...

آگ سا تو جو ہوا  اے گل تر آن کے بیچ – میر تقی میر

آگ سا تو جو ہوا اے گل تر آن کے بیچ – میر تقی میر

آگ سا تو جو ہوا اے گل تر آن کے بیچ صبح کی باؤ نے کیا پھونک دیا کان کے بیچ ہم نہ کہتے تھے کہیں زلف کہیں رخ نہ دکھا اک خلاف آیا نہ ہندو و مسلمان کے بیچ باوجود ملکیت نہ ملک میں پایا وہ تقدس کہ جو ہے حضرت انسان کے بیچ پاسباں سے ترے کیا دور جو ہو ساز رقیب ہے نہ اک طرح کی نسبت سگ و دربان کے بیچ جیسی عزت م...

اس شوخ سے سنا نہیں نام صبا ہنوز – میر تقی میر

اس شوخ سے سنا نہیں نام صبا ہنوز – میر تقی میر

اس شوخ سے سنا نہیں نام صبا ہنوز غنچہ ہے وہ لگی نہیں اس کو ہوا ہنوز عاشق کے اس کو گریۂ خونیں کا درد کیا آنسو نہیں ہے آنکھ سے جس کی گرا ہنوز کیا جانے وہ کہ گذرے ہے یاروں کے جی پہ کیا مطلق کسو سے اس کا نہیں دل لگا ہنوز برسوں میں نامہ بر سے مرا نام جو سنا کہنے لگا کہ زندہ ہے وہ ننگ کیا ہنوز گھگھیاتے رات...

احوال نہ پوچھو کچھ ہم ظلم رسیدوں کا – میر تقی میر

احوال نہ پوچھو کچھ ہم ظلم رسیدوں کا – میر تقی میر

احوال نہ پوچھو کچھ ہم ظلم رسیدوں کا کیا حال محبت کے آزار کشیدوں کا دیوانگی عاشق کی سمجھو نہ لباسی ہے صد پارہ جگر بھی ہے ہم جامہ دریدوں کا عاشق ہے دل اپنا تو گل گشت گلستاں میں جدول کے کنارے کے نو بادہ دمیدوں کا ناچار گئے مارے میدان محبت میں پایا نہ گیا چارہ کچھ اس کے شہیدوں کا پتے کے کھڑکنے سے ہوتی ہ...

اپنا شعار پوچھو تو مہرباں وفا ہے – میر تقی میر

اپنا شعار پوچھو تو مہرباں وفا ہے – میر تقی میر

اپنا شعار پوچھو تو مہرباں وفا ہے پر اس کے جی میں ہم سے کیا جانیے کہ کیا ہے مت پوچھ میری اس کی شام و سحر کی صحبت اس طرف سے ہے گالی اس طرف سے دعا ہے بالیں پہ میری آ کر ٹک دیکھ شوق دیدار سارے بدن کا جی اب آنکھوں میں آ رہا ہے بے اس کے رک کے مرتے گرمی عشق میں تو کرتے ہیں آہ جب تک تب تک ہی کچھ ہوا ہے شکوہ...

اب دل کو آہ کرنی ہی صبح و مسا لگی – میر تقی میر

اب دل کو آہ کرنی ہی صبح و مسا لگی – میر تقی میر

اب دل کو آہ کرنی ہی صبح و مسا لگی پژمردہ اس کلی کے تئیں بھی ہوا لگی کیونکر بجھاؤں آتش سوزان عشق کو اب تو یہ آگ دل سے جگر کو بھی جا لگی دل کو گئے ہی یاں سے بنے اب کہ ہر سحر کوچے میں تیری زلف کے آنے صبا لگی زلف سیاہ یار کی رہتی ہے چت چڑھی یہ تازہ میرے جی کو کہاں کی بلا لگی بیتابی و شکیب و سفر حاصل کلا...

آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا – میر تقی میر

آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا – میر تقی میر

آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا اس باؤ نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا سمجھی نہ باد صبح کہ آ کر اٹھا دیا اس فتنۂ زمانہ کو ناحق جگا دیا پوشیدہ راز عشق چلا جائے تھا سو آج بے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا اس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہ پانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا تھی لاگ اس کی تیغ کو ہم سے سو عشق نے ...

انجام دل غم کش کوئی عشق میں کیا جانے – میر تقی میر

انجام دل غم کش کوئی عشق میں کیا جانے – میر تقی میر

انجام دل غم کش کوئی عشق میں کیا جانے کیا جانیے کیا ہو گا آخر کو خدا جانے واں آرسی ہے وہ ہے یاں سنگ ہے چھاتی ہے گذرے ہے جو کچھ ہم پر سو اس کی بلا جانے ناصح کو خبر کیا ہے لذت سے غم دل کی ہے حق بہ طرف اس کے چکھے تو مزہ جانے میں خط جبیں اپنا یارو کسے دکھلاؤں قسمت کے لکھے کے تیں یاں کون مٹا جانے بے طاقتی...

اس موج خیز دہر میں تو ہے حباب سا – میر تقی میر

اس موج خیز دہر میں تو ہے حباب سا – میر تقی میر

اس موج خیز دہر میں تو ہے حباب سا آنکھیں کھلیں تری تو یہ عالم ہے خواب سا برقع اٹھا کے دیکھے ہے منھ سے کبھو ادھر بارے ہوا ہے ان دنوں رفع حجاب سا وہ دل کہ تیرے ہوتے رہے تھا بھرا بھرا اب اس کو دیکھیے تو ہے اک گھر خراب سا دس روز آگے دیکھا تھا جیسا سو اب نہیں دل رہ گیا ہے سینے میں جل کر کباب سا اس عمر میں...

اس بد زباں نے صرف سخن آہ کب کیا – میر تقی میر

اس بد زباں نے صرف سخن آہ کب کیا – میر تقی میر

اس بد زباں نے صرف سخن آہ کب کیا چپکے ہی چپکے ان نے ہمیں جاں بلب کیا طاقت سے میرے دل کی خبر تجھ کو کیا نہ تھی ظالم نگاہ خشم ادھر کی غضب کیا یکساں کیا نہیں ہے ہمیں خاک رہ سے آج ایسا ہی کچھ سلوک کیا ان نے جب کیا عمامہ لے کے شیخ کہیں میکدے سے جا بس مغبچوں نے حد سے زیادہ ادب کیا اس رخ سے دل اٹھایا تو زلف...

آج ہمارا سر پھرتا ہے باتیں جتنی سب موقوف – میر تقی میر

آج ہمارا سر پھرتا ہے باتیں جتنی سب موقوف – میر تقی میر

آج ہمارا سر پھرتا ہے باتیں جتنی سب موقوف حرف و سخن جو بایک دیگر رہتے تھے سو اب موقوف کس کو دماغ رہا ہے یاں آٹھ پہر کی منت کا ربط اخلاص سے دن گذرے ہے خلطہ اس سے سب موقوف اس کی گلی میں آمد و شد کی گھات ہی میں ہم رہتے تھے اب جو شکستہ پا ہو بیٹھے ڈھب کرنے کے ڈھب موقوف وہ جو مانع ہو تو کیا ہے شوق کمال کو...

اب نہیں ہوتی چشم تر افسوس – میر تقی میر

اب نہیں ہوتی چشم تر افسوس – میر تقی میر

اب نہیں ہوتی چشم تر افسوس بہ گیا خون ہو جگر افسوس دیدنی ہے یہ خستہ حالی لیک ایدھر اس کی نہیں نظر افسوس عیب ہی عیب میرے ظاہر ہیں مجھ کو آیا نہ کچھ ہنر افسوس میرؔ ابتر بہت ہے دل کا حال یعنی ویراں پڑا ہے گھر افسوس

اب اسیری سے بچیں تو دیکھیں گے گلشن کبھو – میر تقی میر

اب اسیری سے بچیں تو دیکھیں گے گلشن کبھو – میر تقی میر

اب اسیری سے بچیں تو دیکھیں گے گلشن کبھو تھا ہمارا بھی چمن میں اے صبا مسکن کبھو ہم بھی ایک امید پر اس صید گہ میں ہیں پڑے کہتے ہیں آتا ہے ایدھر وہ شکار افگن کبھو بند پایا جیب میں یا سر سے مارا تنگ ہو دست کوتہ میں نہ آیا اپنے وہ دامن کبھو یار کی برگشتہ مژگاں سے نہ دل کو جمع رکھ بد بلا ہے پھر کھڑی ہووے ...

اے عشق کیا جو مجھ سا ہوا ناتواں ہلاک – میر تقی میر

اے عشق کیا جو مجھ سا ہوا ناتواں ہلاک – میر تقی میر

اے عشق کیا جو مجھ سا ہوا ناتواں ہلاک کر ہاتھ ٹک ملا کے کوئی پہلواں ہلاک میں چل بسا تو شہر ہی ویران سب ہوا اس نیم جاں کے بدلے ہوا یک جہاں ہلاک مقصود گم ہے پھرتا جو رہتا ہے رات دن ہلکان ہو کے ہو گا کبھو آسماں ہلاک اس ظلم کیش کی ہے طرب گاہ ہر کہیں عاشق خدا ہی جانے ہوا ہے کہاں ہلاک جی میرؔ نے دیا نہ ہوا...

آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا – میر تقی میر

آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا – میر تقی میر

آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا آ کر کھڑا ہوا تھا بہ صدحسن جلوہ ناک اپنی نظر میں وہ در نایاب تھا سو تھا ساون ہرے نہ بھادوں میں ہم سوکھے اہل درد سبزہ ہماری پلکوں کا سیراب تھا سو تھا درویش کچھ گھٹا نہ بڑھا ملک شاہ سے خرقہ کلاہ پاس جو اسباب تھا سو تھا کیا بھ...

اللہ کو زاہد جو طلب کرتے ہیں – میر تقی میر

اللہ کو زاہد جو طلب کرتے ہیں – میر تقی میر

اللہ کو زاہد جو طلب کرتے ہیں ظاہر تقویٰ کو کس سبب کرتے ہیں دکھلانے کو لوگوں کے دنوں کی ہے صلوٰۃ پیش انجم نماز شب کرتے ہیں

اسرار دل کے کہتے ہیں پیر و جوان میں – میر تقی میر

اسرار دل کے کہتے ہیں پیر و جوان میں – میر تقی میر

اسرار دل کے کہتے ہیں پیر و جوان میں مطلق نہیں ہے بند ہماری زبان میں رنگینی زمانہ سے خاطر نہ جمع رکھ سو رنگ بدلے جاتے ہیں یاں ایک آن میں شاید بہار آئی ہے دیوانہ ہے جوان زنجیر کی سی آتی ہے جھنکار کان میں بے وقفہ اس ضعیف پہ جور و ستم نہ کر طاقت تعب کی کم ہے بہت میری جان میں اس کے لبوں کے آگے کنھوں نے ن...