Jaun Elia

میرے مطلوب و مدعا، تو جا – جون ایلیا

میرے مطلوب و مدعا، تو جا – جون ایلیا

میرے مطلوب و مدعا، تو جا تجھ سے مطلب نہیں ہے جا، تو جا اب شہادت ہوس ہے یاروں کو ہوش معزول ہو رہا ، تو جا تو کسی حال میں بھی ہو اس پل اگلی پل کا ہے اقتضا تو جا ہو گیا ہوں میں تیری ذات میں گم اب میں تیرا نہیں رہا، تو جا اب تری بات تیری حد میں نہیں شوق بڑھنے لگا ترا، تو جا جانے میں کب کا آ چکا خود میں...

لَوحِ آمد – جون ایلیا

لَوحِ آمد – جون ایلیا

لَوحِ آمد میں آگیا ہوں، خدا کا بھیدی، تمہاری بستی میں آگیا ہے میں آدمی اور خدا کے بیچ اک بچولیا ہوں کہا گیا ہے، نہ ہونے والے کو ہونے والوں کے دکھ نہ سونپو نہ ہونے والوں کو ہونے والوں سے شرم آتی ہے کہا گیا ہے کہ مَیں جو اب تک کہیں نہیں ہوں اگر ہوا بھی تو میں کسی کا خدا نہ ہوں گا جون ایلیا (راموز...

سیر و سفر کریں ذرا، سلسلہِ گماں چلے – جون ایلیا

سیر و سفر کریں ذرا، سلسلہِ گماں چلے – جون ایلیا

سیر و سفر کریں ذرا، سلسلہِ گماں چلے ہم تو چلے، کہاں چلے، بات یہ ہے کہاں چلے ہم ہیں یہاں سے جا رہے، جانے کہاں ہیں جا رہے خیر جہاں ہیں جا رہے، بس یہ سمجھ وہاں چلے ان مہ و سال درمیاں، عہد ہوئے تھے کچھ یہاں گریہ کناں یہاں سے آج، ہم سوئے شہر جاں چلے ہے وہ چلا چلی کہ ہے، تھم نہ سکے جو تھم رہے دائرہ ہائے ...

دل نے وحشت گلی گلی کر لی – جون ایلیا

دل نے وحشت گلی گلی کر لی – جون ایلیا

دل نے وحشت گلی گلی کر لی اب گلہ کیا، بہت خوشی کر لی یار! دل تو بلا کا تھا عیاش اس نے کس طرح خود کشی کر لی نہیں آئیں گے اپنے بس میں ہم ہم نے کوشش رہی سہی کر لی اب تو مجھ کو پسند آ جاؤ میں نے خود میں بہت کمی کر لی یہ جو حالت ہے اپنی، حالتِ زار ہم نے خود اپنے آپ ہی کر لی اب کریں کس کی بات ہم آخر ہ...

تمہارے اور میرے درمیاں – جون ایلیا

تمہارے اور میرے درمیاں – جون ایلیا

تمہارے اور میرے درمیاں تمہارے اور میرے درمیاں اک بات ہونا تھی بِلا کا دن نکلنا تھا بَلا کی رات ہونا تھی بلا کا دن بھی نکلا اور بَلا کی رات بھی گزری عذابِ ذات بھی گزرا فنائے ذات بھی گزری مگر معلوم نامعلوم میں جانے نہ جانے کیوں تمہارے اور میرے درمیاں وہ بات جانم جاں کسی صورت نہ ہو پائی کسی صورت نہ ہو ...

استفسار – جون ایلیا

استفسار – جون ایلیا

استفسار (16 دسمبر 1971، سقوط مشرقی پاکستان پر) کیا اسقدر حقیر تھا اس قوم کا وقار ہر شہر تم سے پوچھ رہا ہے جواب دو یہ بات کیا ہوئی کہ بیابان وقت میں احساس تشنگی کو بڑھا کر سراب دو ہم کو تھپک تھپک کے دکھائے گئے تھے خواب خاموش کیوں ہو؟ اب ہمیں تعبیر خواب دو جو صرف گلستاں نہ ہوا رائگاں گیا اس خونِ شاہدا...

یاد اُسے انتہائی کرتے ہیں – جون ایلیا

یاد اُسے انتہائی کرتے ہیں – جون ایلیا

یاد اُسے انتہائی کرتے ہیں سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں پسند آتا ہے دل سے یوسف کو وہ جو یوسف کے بھائی کرتے ہیں ہے بدن خوابِ وصل کا دنگل آؤ زور آزمائی کرتے ہیں اس کو اور غیر کو خبر ہی نہیں ہم لگائی بجھائی کرتے ہیں ہم عجب ہیں کہ اس کو بانہوں میں شکوۂ نارسائی کرتے ہیں حالتِ وصل میں بھی ہم دونوں لمحہ ...

مجھ میں، مجھ دل میں تو ڈھلا، تو جا – جون ایلیا

مجھ میں، مجھ دل میں تو ڈھلا، تو جا – جون ایلیا

مجھ میں، مجھ دل میں تو ڈھلا، تو جا ہو میاں جی ترا بھلا، تو جا آپ اپنے سے کر کے اپنا سخن چھل گیا ہے مرا گلا، تو جا مجھ کو تیری تلاش کرنا ہے لے میاں! خود سے میں چلا، تو جا اب سجن! دونوں وقت ملتے ہیں آرزو کا دیا جلا، تو جا ہے مرے کو ترے خیال کی دھن نہیں میں تیرا مبتلا ، تو جا تیرے ہونے کی اور نہ ہونے...

کوئی گماں بھی نہیں درمیاں گماں ہے یہی – جون ایلیا

کوئی گماں بھی نہیں درمیاں گماں ہے یہی – جون ایلیا

کوئی گماں بھی نہیں درمیاں گماں ہے یہی اسی گماں کو بچا لوں کہ درمیاں ہے یہی یہ آدمی کے ہیں انفاس جس کے زہر فروش اسے بٹھاؤ کہ میرا مزاج داں ہے یہی کبھی کبھی جو نہ آؤ نظر تو سہہ لیں گے نظر سے دُور نہ ہونا کہ امتحاں ہے یہی میں آسماں کا عجب کچھ لحاظ رکھتا ہوں جو اس زمین کو سہہ لے وہ آسماں ہے یہی یہ...

سرِ صحرا حباب بیچے ہیں – جون ایلیا

سرِ صحرا حباب بیچے ہیں – جون ایلیا

سرِ صحرا حباب بیچے ہیں لبِ دریا سراب بیچے ہیں اور تو کیا تھا بیچنے کے لئے اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں خود سوال ان لبوں سے کر کےمیں خود ہی ان کے جواب بیچے ہیں زلف کوچوں میں شانہ کش نے تیرے کتنے ہی پیچ و تاب بیچے ہیں شہر میں ہم خراب حالوں نے حال اپنے خراب بیچے ہیں جانِ من تیری بے نقابی نے آج کتنے ن...

دل کی ہر بات دھیان میں گزری – جون ایلیا

دل کی ہر بات دھیان میں گزری – جون ایلیا

دل کی ہر بات دھیان میں گزری ساری ہستی گمان میں گزری ازل داستاں سے اس دم تک جو بھی گزری اک آن میں گزری جسم مدت تری عقوبت کی ایک اک لمحہ جان میں گزری زندگی کا تھا اپنا عیش مگر سب کی سب امتحان میں گزری ہائے وہ ناوکِ گزارشِ رنگ جس کی جنبش کمان میں گزری وہ گدائی گلی عجب تھی کہ واں اپنی اک آن بان میں گز...

بخشش نرگس صنم، دَور بہ دَور، دم بہ دم – جون ایلیا

بخشش نرگس صنم، دَور بہ دَور، دم بہ دم – جون ایلیا

بخشش نرگس صنم، دَور بہ دَور، دم بہ دم مینا بہ مینا، مے بہ مے، جام بہ جام، جم بہ جم حالے بے علاتگی قاتلہ ہے سو چاہیے ایک غزل، غزل غزال اور غزال رم بہ رم زندہ کرو دیار کو حالت خوار خوار کو شور بہ شور، شب بہ شب نالہ بہ نالہ، نم بہ نم ایک وصال ہے کہ ہے ایک فراق ہے کہ ہے حال بہ حال ہم بہ ہم کیف بہ کیف کم...

اب تو یہاں یونہی سی گزر چاہتا ہے دل – جون ایلیا

اب تو یہاں یونہی سی گزر چاہتا ہے دل – جون ایلیا

اب تو یہاں یونہی سی گزر چاہتا ہے دل کچھ دن کے بعد خود سے سفر چاہتا ہے دل دریائے خواب ہے کہ رواں ہے ہمیشہ میں اور اب کسی بھی موج میں گھر چاہتا ہے دل فتنہ تھیں سر کا دانش و دیوانگی بہم اب تو حساب فہمی سر چاہتا ہے دل جانے یہ حرص عقل ہے یا خواہش جنوں دیوار میں نگاہ کی در چاہتا ہے دل اس کہنہ شہر گاہ وصال...

نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی – جون ایلیا

نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی – جون ایلیا

نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی گماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی عجب طرح رُخِ آیندگی کا رنگ اُڑا دیار ذات میں ازخود گزشتگی ہی رہی حریمِ شوق کا عالم بتائیں کیا تم کو حریمِ شوق میں بس شوق کی کمی ہی رہی پسِ نگاہِ تغافل تھی اک نگاہ کہ تھی جو دل کے چہرہ حسرت کی تازگی ہی رہی عجیب آئینہ پَر ...

لَوحِ طمع – جون ایلیا

لَوحِ طمع – جون ایلیا

لَوحِ طمع ملامتوں اور نفرتوں کے سوا مرے پاس اور کیا ہے اور اِن دیاروں میں جو بھی رمز آگہی کے ایما پہ اپنا سینہ جلا رہے ہیں جو اپنے غصوں کو آپ سہتے ہیں اُن کا سرمایہ اور کیا ہے یہ وہ تبرک ہے جس کو لینے کے واسطے کوئی کیوں بڑھے گا جو خون کے گھونٹ پی رہا ہے وہ جانتا ہے کہ نسلِ آدم کی سزا کیا ہے میں چ...

عیشِ اُمید ہی سے خطرہ ہے – جون ایلیا

عیشِ اُمید ہی سے خطرہ ہے – جون ایلیا

عیشِ اُمید ہی سے خطرہ ہے دل کو اب دل دہی سے خطرہ ہے ہے کچھ ایسا کہ اس کی جلوت میں ہمیں اپنی کمی سے خطرہ ہے جس کے آغوش کا ہوں دیوانہ اس کے آغوش ہی سے خطرہ ہے یاد کی دھوپ تو ہے روز کی بات ہاں مجھے چاندنی سے خطرہ ہے ہے عجب کچھ معاملہ درپیش عقل کو آگہی سے خطرہ ہے شہر غدار جان لے کہ تجھے ایک امروہوی س...

رنج ہے حالت سفر حال قیام رنج ہے – جون ایلیا

رنج ہے حالت سفر حال قیام رنج ہے – جون ایلیا

رنج ہے حالت سفر حال قیام رنج ہے صبح بہ صبح رنج ہے شام بہ شام رنج ہے اس کی شمیم زلف کا کیسے ہو شکریہ ادا جب کہ شمیم رنج ہے جب کہ مشام رنج ہے صید تو کیا کہ صید کار خود بھی نہیں یہ جانتا دانہ بھی رنج ہے یہاں یعنی کہ دام رنج ہے معنئ جاودان جاں کچھ بھی نہیں مگر زیاں سارے کلیم ہیں زبوں سارا کلام رنج ہے با...

جازم پہ پڑے ہوئے ہیں جنگل – جون ایلیا

جازم پہ پڑے ہوئے ہیں جنگل – جون ایلیا

جازم پہ پڑے ہوئے ہیں جنگل میزوں میں جڑے ہوئے ہیں جنگل خشکی کا لکھا ہے خاک اڑنا بیکار اڑے ہوئے ہیں جنگل دیوار پہ تھالیاں بجی ہیں پیتل میں گڑے ہوئے ہیں جنگل آنے کو ادھر ہے شہر کوئی لینے کو کھڑے ہوئے ہیں جنگل لوں سانس میں کس ہوا میں جا کر اندر سے سڑے ہوئے ہیں جنگل پانی پہ چڑھا ہوا ہے شیشہ شیشے میں کھو...

انقلاب ایک خواب ہے ، سو ہے – جون ایلیا

انقلاب ایک خواب ہے ، سو ہے – جون ایلیا

انقلاب ایک خواب ہے ، سو ہے دل کی دنیا خراب ہے ، سو ہے رہیو تو یونہی محو آرائش باہر اک اضطراب ہے، سو ہے تر ہے دشت اس کے عکس منظر سے اور خود وہ سراب ہے، سو ہے جو بھی دشت طلب کا ہے پس رو وہی زریں رکاب ہے، سو ہے شیخ صاحب لیے پھریں تیغہ برہمن فتح یاب ہے، سو ہے دہر آشوب ہے سوالوں کا اور خدا لا جواب ہے، ...

مکاشفہ – جون ایلیا

مکاشفہ – جون ایلیا

مکاشفہ پناہ مانگو، پناہ مانگو! فاصلے بدرنگ فتنوں سے نام زد کر دیئے گئے زمین کے حاشیے زمینی بلاؤں سے بھر دیئے گئے تمام صدیوں کے جرم اپنی سزا کو پہنچیں گے داد خواہوں کے داعیے انتہا کو پہنچیں گے سفید روحوں نے اور میں نے تمہاری راتوں کے فیصلوں پر نگاہ ڈالی ہراس، تاریکیوں کے گنبد میں قہقہوں کے مہیب کوند...

لائی تھی شام دل کی عجب لہر میں ہمیں – جون ایلیا

لائی تھی شام دل کی عجب لہر میں ہمیں – جون ایلیا

لائی تھی شام دل کی عجب لہر میں ہمیں اس چشم نے پلائی مگر زہر میں ہمیں فتنے اٹھے ہیں ہم سے بہت تیرے شہر میں آنا نہ چاہیے تھا ترے شہر میں ہمیں نہلا رہا ہے پرتوِ رنگِ بدن ترا صبح بہار کی شفقیں نہر میں ہمیں اب آ کہ بے گلہ ہی ملیں گے ہم اب تجھے کوئی بھی غم رہا نہ غم دہر میں ہمیں ہر سانس اس کا شعلہِ خواہ...

شام تک میری بے کلی ہے شراب – جون ایلیا

شام تک میری بے کلی ہے شراب – جون ایلیا

شام تک میری بے کلی ہے شراب شام کو میری سر خوشی ہے شراب جہل واعظ کا اُس کو راس آئے صاحبو! میری آگہی ہے شراب رَنگ رَس ہے میری رگوں میں رواں بخدا میری زندگی ہے شراب ناز ہے اپنی دلبری پہ مجھے میرا دل ، میری دلبری ہے شراب ہے غنیمت جو ہوش میں نہیں میں شیخ! میری بے حسی ہے شراب حِس جو ہوتی تو جانے کیا کرت...

ذات اپنی گواہ کی جائے – جون ایلیا

ذات اپنی گواہ کی جائے – جون ایلیا

ذات اپنی گواہ کی جائے بند آنکھوں نگاہ کی جائے ہم تو بس اپنی چاہ میں ہیں مگن کچھ تو اس کی بھی چاہ کی جائے ایک ناٹک ہے زندگی جس میں آہ کی جائے، واہ کی جائے دل! ہے اس میں ترا بَھلا کہ تری مملکت بے سپاہ کی جائے ملکہ جو بھی اپنے دل کی نہ ہو جونؔ ! وہ بے کلاہ کی جائے جون ایلیا

تُند لمحوں سے ٹوٹ پھوٹ کے میں – جون ایلیا

تُند لمحوں سے ٹوٹ پھوٹ کے میں – جون ایلیا

تُند لمحوں سے ٹوٹ پھوٹ کے میں تیری بانہوں میں آن پڑتا ہوں کن صفوں میں شریک ہو کے لڑوں ا ب تو میںبس تجھی سےلڑتا ہوں جون ایلیا

اپنا وہم، اپنا گماں چاہا گیا – جون ایلیا

اپنا وہم، اپنا گماں چاہا گیا – جون ایلیا

اپنا وہم، اپنا گماں چاہا گیا تجھ کو اے جاناں! کہاں چاہا گیا اپنے یاروں کے بس اِک نوکر تھے ہم روز اک طرزِ بیاں ، چاہا گیا میں تو پلٹا آگ لے کر اور یہاں میری جیبوں میں دھواں چاہا گیا زندگی تھی اپنے ہونے کا گماں اپنے ہونے کا سماں چاہا گیا تیرہ و تاری ، خلا کے درمیاں روشنی کو بے اماں چاہا گیا پھر کہاں ...

وہ جو کیا کچھ نہ کرنے والے تھے – جون ایلیا

وہ جو کیا کچھ نہ کرنے والے تھے – جون ایلیا

وہ جو کیا کچھ نہ کرنے والے تھے بس کوئی دم نہ بھرنے واے تھے تھے گلے اور گرد باد کی شام اور ہم سب بکھرنے والے تھے وہ جو آتا تو اس کی خوشبو میں آج ہم رنگ بھرنے والے تھے صرف افسوس ہے یہ طنز نہیں تم نہ سنوارے ، سنوارنے والے تھے یوں تو مرنا ہے اک بار مگر ہم کئی بار مرنے والے تھے جون ایلیا

مجھ کو شبِ وجود میں تابشِ خواب چاہیے – جون ایلیا

مجھ کو شبِ وجود میں تابشِ خواب چاہیے – جون ایلیا

مجھ کو شبِ وجود میں تابشِ خواب چاہیے شوقِ خیال تازہ ہے یعنی عذاب چاہیے آج شکستِ ذات کی شام ہے مجھ کو آج شام صرف شراب چاہیے ، صرف شراب چاہیے کچھ بھی نہیں ہے ذہن میں کچھ بھی نہیں سو اب مجھے کوئی سوال چاہیے کوئی جواب چاہیے اس سے نبھے گا رشتۂ سود و زیاں بھی کیا بھلا میں ہوں بَلا کا بدحساب اس کو حساب ...

کوئی بھی کیوں مجھ سے شرمندہ ہوا – جون ایلیا

کوئی بھی کیوں مجھ سے شرمندہ ہوا – جون ایلیا

کوئی بھی کیوں مجھ سے شرمندہ ہوا میں ہوں اپنے طور کا ہارا ہوا دل میں ہے میرے کئی چہروں کی یاد جانیے میں کِس سے ہوں رُوٹھا ہوا شہر میں آیا ہوں اپنے آج شام اک سرائے میں ہوں میں ٹھیرا ہوا بے تعلق ہوں اب اپنے دل سے بھی میں عجب عالم میں بے دنیا ہوا ہے عجب اک تیرگی در تیرگی کہکشانوں میں ہوں میں لپٹا ہوا ...

سچائیوں کے ساتھ – جون ایلیا

سچائیوں کے ساتھ – جون ایلیا

سچائیوں کے ساتھ ذہن کا غم،ذات کا غم ،ذات کے رشتوں کا غم کتنے غم ہیں جو شعورِ زندگی کے ساتھ ہی اک مصیبت ہے ،بلا ہے آگہی کی روشنی کس قدر تاریکیاں اس روشنی کے ساتھ ہیں &٭ میں ہوں اک فن کار و شاعر اور میری زندگی زندگی کے غم میں جلنے کے سوا کچھ بھی نہیں ایک صحرا ہے مرا عہد جوانی اور مجھے کام اس صحر...

دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش – جون ایلیا

دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش – جون ایلیا

دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش اور چاروں طرف ہے گھر درپیش ہے یہ عالم عجیب اور یہاں ماجرا ہے عجیب تر درپیش دو جہاں سے گزر گیا پھر بھی میں رہا خود کو عمر بھر درپیش اب میں کوئے عبث شتاب چلوں کئی اک کام ہیں ادھر درپیش اس کے دیدار کی امید کہاں جبکہ ہے دید کو نظر درپیش اب مری جاں بچ گئی یعنی ایک قاتل کی ہے سپ...

بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی – جون ایلیا

بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی – جون ایلیا

بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی سو میرے خواب بھی گئے سو میری نیند بھی گئی دل کا تھا ایک مدعا جس نے تباہ کر دیا دل میں تھی ایک ہی تو بات، وہ جو فقط سہی گئی جانئے کیا تلاش تھی جون میرے وجود میں جس کو میں ڈھونڈتا گیا جو مجھے ڈھونڈتی گئی ایک خوشی کا حال ہے خوش سخن کے درمیاں عزت شائقین غم تھی جو رہی...

دل برباد کو آباد کیا ہے میں نے – جون ایلیا

دل برباد کو آباد کیا ہے میں نے – جون ایلیا

دل برباد کو آباد کیا ہے میں نے آج مدت میں تمہیں یاد کیا ہے میں نے ذوق پرواز تب و تاب عطا فرما کر صید کو لائق صیاد کیا ہے میں نے تلخی دور گزشتہ کا تصور کر کے دل کو پھر مائل فریاد کیا ہے میں نے آج اس سوز تصور کی خوشی میں اے دوست طائر صبر کو آزاد کیا ہے میں نے ہوکے اسرار غم تازہ سے مجبور فغاں چشم ک...

میں نہ ٹھیروں نہ جان تُو ٹھیرے – جون ایلیا

میں نہ ٹھیروں نہ جان تُو ٹھیرے – جون ایلیا

میں نہ ٹھیروں نہ جان تُو ٹھیرے کون لمحوں کے رُو برو ٹھیرے نہ گزرنے پہ زندگی گزری نہ ٹھہرنے پہ چار سُو ٹھیرے ہے مری بزمِ بے دلی بھی عجیب دلِ پُر خوں جہاں سبو ٹھیرے میں یہاں مدتوں میں آیا ہوں ایک ہنگامہ کُو بہ کُو ٹھیرے محفلِ رخصتِ ہمیشہ ہے آؤ اک حشر ہا و ہو ٹھیرے اک توجہ عجب ہے سمتوں میں کہ نہ بول...

مت پوچھو جو رقص کے مستوں کی تھی حالت، رات گئے – جون ایلیا

مت پوچھو جو رقص کے مستوں کی تھی حالت، رات گئے – جون ایلیا

مت پوچھو جو رقص کے مستوں کی تھی حالت، رات گئے رقصِ تمنا میں برپا تھا، شورِ قیامت رات گئے وہ حلقہ پر احوالوں کا، یار عجب کچھ حلقہ تھا سب کو تھی پر احوالی میں، سب سے محبت، رات گئے زندہ دلوں کی فریادوں سے، جھوم رہی تھی دل محفل سحر تھا اک حسرت مندوں کا، حرف شکایت، رات گئے سب ہم محفل دھیان سے اپنے، دھیان...

عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو – جون ایلیا

عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو – جون ایلیا

عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو اک اور زخم کھا لوںاگراجازت ہو تمہارے عارض و لب کی جدائی کے دن ہیں میں جام منہ سے لگا لوں اگر اجازت ہو تمہارا حسن تمہارے خیال کا چہرہ شباہتوں میں چھپا لوں اگر اجازت ہو تمہیں سے ہے مرے ہر خوابِ شوق کا رشتہ اک اور خواب کما لوں اگر اجازت ہو تھکا دیا ہے تمہارے فراق نے مجھ ...

راتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں – جون ایلیا

راتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں – جون ایلیا

راتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو پھر بھی میں اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا اِن کی لذت اور اذیت سے میں اپنا کوئی عہد نہیں توڑوں گا تیز نظر نابیناؤں کی آبادی میں ، کیا میں اپنے دھیان کی یہ پونجی بھی گنوا دوں ہاں میرے خوابوں کو تمہاری صبحوں کی سرد اور سایہ گوں تعبیر وں سے نفرت ہے ...

جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے – جون ایلیا

جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے – جون ایلیا

جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے پہنچے گی جو نہ اُس تک، ہم اُس خبر میںہوںگے تھک کر گریں گے جس دَم، بانہوں میں تیری آ کر اُس دَم بھی کون جانے، ہم کس سفر میں ہوں گے اے جانِ! عہد و پیماں، ہم گھر بسائیں گے، ہاں تُو اپنے گھر میں ہو گا، ہم اپنے گھر میں ہوں گے میں لے کے دل کے رِشتے، گھر سے نکل ...

انجمن کی اداس آنکھوں میں – جون ایلیا

انجمن کی اداس آنکھوں میں – جون ایلیا

انجمن کی اداس آنکھوں میں آنسوؤں کا پیام کہہ دینا مجھ کو پہنچا کے لوٹنے والو سب کو میرا سلام کہہ دینا جون ایلیا

مسکنِ ماہ و سال چھوڑ گیا – جون ایلیا

مسکنِ ماہ و سال چھوڑ گیا – جون ایلیا

مسکنِ ماہ و سال چھوڑ گیا دِل کو اُس کا خیال چھوڑگیا تازہ دم جسم و جاں تھے فرقت میں وصل، اُس کا نِڈھال چھوڑ گیا عہدِ ماضی جو تھا عجب پُرحال ! ایک وِیران حال چھوڑ گیا ژالہ باری کے مرحَلوں کا سفر قافلے، پائمال چھوڑ گیا دِل کو اب یہ بھی یاد ہو، کہ نہ ہو ! کون تھا، کیا ملال چھوڑ گیا میں بھی اب خود سے ہُو...

لَوحِ خطاب – جون ایلیا

لَوحِ خطاب – جون ایلیا

لَوحِ خطاب کانون اول کی اس سرما زدہ اور ویران شام کو شبیب چرواہا جب چراگاہ سے اپنی بھیڑیں لے کر پلٹا اور مغربی دروازے سے اماردہ بستی میں داخل ہوا تو اس کی زبان فساد اگلنے لگی اور گورستان ترازو برداراں کے نزدیک پہنچ کر اس نے چلّانا شروع کر دیا “لوگو بستیوں کا ملامت گر آرہا ہے گھروں کے دروازے ب...

شاخِ اُمید جل گئی ہو گی – جون ایلیا

شاخِ اُمید جل گئی ہو گی – جون ایلیا

شاخِ اُمید جل گئی ہو گی دل کی حالت سنبھل گئی ہو گی جونؔ! اس آن تک بخیر ہوں میں ہوں میں زندگی داؤ چَل گئی ہو گی اک جہنم ہے میرا سینہ بھی آرزو کب کی گل گئی ہو گی سوزش پرتو نگاہ نہ پوچھ مردمک تو پگھل گئی ہو گی ہم نے دیکھے تھے خواب شعلوں کے نیند آنکھوں میں جَل گئی ہو گی اس نے مایوس کر دیا ہوگا پھانس...

دل نے جاناں کو جو شب نامہِ ہجراں لکھا – جون ایلیا

دل نے جاناں کو جو شب نامہِ ہجراں لکھا – جون ایلیا

دل نے جاناں کو جو شب نامہِ ہجراں لکھا اشکِ خونیں کا چراغاں، سرِ مژگاں لکھا اے ہوس! میں نے تری بے سروسامانی میں اک عجب دُکھ سے اُسے ، بے سروساماں لکھا ہم عجب شعبدہ گر ہیں ، بندھے ہاتھوں ہم نے اس کی بانہوں سے مُلاقات کا ارماں لکھا میں جنوں میں بھی زباں سے کبھی غافل نہ رہا ہاتھ کو ہاتھ ، گریباں گو گریب...

ٹھیروں نہ گلی میں تری وحشت نے کہا تھا – جون ایلیا

ٹھیروں نہ گلی میں تری وحشت نے کہا تھا – جون ایلیا

ٹھیروں نہ گلی میں تری وحشت نے کہا تھا میں حد سے گزر جاؤں محبت نے کہا تھا دَر تک تیرے لائی تھی نسیمِ نفس انگیز دَم بھر نہ رُکوں یہ تیری نکہت نے کہا تھا احسان کسی سرو کے سائے کا نہ لوں میں مجھ سے یہ ترے فتنۂ قامت نے کہا تھا مارا ہوں مشیت کا نہیں کچھ مری مرضی یہ بھی ترے قامت کی قیامت نے کہا تھا دل شہ...

اپنا خاکہ لگتا ہوں – جون ایلیا

اپنا خاکہ لگتا ہوں – جون ایلیا

اپنا خاکہ لگتا ہوں ایک تماشا لگتاہوں آئینوں کو زنگ لگا اب میں کیسا لگتا ہوں اب میں کوئی شخص نہیں اس کا سایا لگتا ہوں سارے رشتے تشنہ ہیں کیا میں دریا لگتا ہوں اس سے گلے مل کر خود کو تنہا تنہا لگتا ہوں خود کو میں سب آنکھوں میں دھندلا دھندلا لگتا ہوں میں ہر لمحہ اس گھر سے جانے والا لگتا ہوں کیا ہوئے ...

وہ خیالِ مُحال کِس کا تھا – جون ایلیا

وہ خیالِ مُحال کِس کا تھا – جون ایلیا

وہ خیالِ مُحال کِس کا تھا آئینہ بے مثال کِس کا تھا سفری اپنے آپ سے تھا میں ہجر کس کا، وصال کس کا تھا میں تو خود میں کہیں نہ تھا موجود میرے لب پر سوال کِس کا تھا تھی مری ذات اک خیال آشوب جانے میں ہم خیال کِس کا تھا جب کہ میں ہر نفس تھا بے احوال وہ جو تھا میرا حال کِس کا تھا دوپہر! بادِ تُند! کوچۂ...

محبت ہوتے ہوتے، اک ندامت ہو گئی آخر – جون ایلیا

محبت ہوتے ہوتے، اک ندامت ہو گئی آخر – جون ایلیا

محبت ہوتے ہوتے، اک ندامت ہو گئی آخر ندامت ہوتے ہوتے، اک اذیت ہو گئی آخر عجب انداز سے طے مرحلے دل کے کیے ہم نے جو دل کی نازبرداری تھی، نفرت ہو گئی آخر بھلا معلوم کیا ہوگا اسے، اس کی جدائی میں ہمیں خود اپنے شکووں سے، شکایت ہو گئی آخر کمینے ہو گئے جذبے، ہوئے بدنام خواب اپنے کبھی اس سے، کبھی اس سے، ...

گزراں ہے گزرتے رہتے ہیں – جون ایلیا

گزراں ہے گزرتے رہتے ہیں – جون ایلیا

گزراں ہے گزرتے رہتے ہیں ہم میاں جان مرتے رہتےہیں ہائے جاناں وہ ناف پیالہ ترا دل میں بس گھونٹ اترتے رہتے ہیں دل کا جلسہ بکھر گیا تو کیا سارے جلسے بکھرتے رہتے ہیں یعنی کیا کچھ بھُلا دیا ہم نے اب تو ہم خود سے ڈرتے رہتے ہیں ہم سے کیا کیا خدا مکرتا ہے ہم خدا سے مکرتے رہتے ہیں ہے عجب اس کا حالِ ہجر کہ ہم ...

سارے رشتے تباہ کر آیا – جون ایلیا

سارے رشتے تباہ کر آیا – جون ایلیا

سارے رشتے تباہ کر آیا دل برباد اپنے گھر آیا آخرش خون تھوکنے سے میاں بات میں تیری کیا اثر آیا تھا خبر میں زیاں دل و جاں کا ہر طرف سے میں بے خبر آیا اب یہاں ہوش میں کبھی اپنے نہیں آؤں گا میں اگر آیا میں رہا عمر بھر جدا خود سے یاد میں خود کو عمر بھر آیا وہ جو دل نام کا تھا ایک نفر آج میں اس س...

دل پریشاں ہے کیا کیا جائے – جون ایلیا

دل پریشاں ہے کیا کیا جائے – جون ایلیا

دل پریشاں ہے کیا کیا جائے عقل حیراں ہے کیا کیا جائے شوقِ مشکل پسند اُن کا حصول سخت آساں ہے کیا کیا جائے عشقِ خوباں کے ساتھ ہی ہم میں نازِ خوباں ہے کیا کیا جائے بے سبب ہی مری طبیعتِ غم سب سے نالاں ہے کیا کیا جائے باوجود ان کی دلنوازی کے دل گریزاں ہے کیا کیا جائے میں تو نقدِ حیات لایا تھا جنس ارزاں ہ...

بجا ارشاد فرمایا گیا ہے – جون ایلیا

بجا ارشاد فرمایا گیا ہے – جون ایلیا

بجا ارشاد فرمایا گیا ہے کہ مُجھ کو یاد فرمایا گیا ہے عنایت کی ہیں نہ مُمکن اُمیدیں کرم ایجاد فرمایا گیا ہے ہیں ہم اور زَد ہے حادثوں کی ہمیں آزاد فرمایا گیا ہے ذرا اُس کی پُر احوالی تو دیکھیں جسے برباد فرمایا گیا ہے نسیمِ سبزگی تھے ہم سو ہم کو غُبارِ افتاد فرمایا گیا ہے مبارک فالِ نیک اے خُسرو شہر !...

خون تھوکے گی زندگی کب تک – جون ایلیا

خون تھوکے گی زندگی کب تک – جون ایلیا

خون تھوکے گی زندگی کب تک یاد آئے گی اب تری کب تک جانے والوں سے پوچھنا یہ صبا رہے آباد دل گلی کب تک ہو کبھی تو شرابِ وصل نصیب پیے جاؤں میں خون ہی کب تک دل نے جو عمر بھر کمائی ہے وہ دُکھن دل سے جائے گی کب تک جس میں تھا سوزِ آرزو اس کا شبِ غم وہ ہوا چلی کب تک بنی آدم کی زندگی ہے عذاب یہ خدا کو رُل...

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے – جون ایلیا

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے – جون ایلیا

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے تیری فُرقت منائی جا رہی ہے نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے کہ اب سب سے نبھائی جا رہی ہے ہمارے دل محلے کی گلی سے ہماری لاش لائی جا رہی ہے کہاں لذت وہ سوزِ جستجو کی یہاں ہر چیز پائی جا رہی ہے خوشا اِحوال اپنی زندگی کا سلیقے سے گنوائی جا رہی ہے دریچوں سے تھا اپنے بیر ہم کو سو خ...

لَوحِ کتاب – جون ایلیا

لَوحِ کتاب – جون ایلیا

لَوحِ کتاب مجھے قلم دو کہ میں تمہیں اک کتاب لکھ دوں تمہاری راتوں کے واسطے اپنے خواب لکھ دوں کتاب جس میں ہدایتیں ہیں کتاب جس میں تمہارے امراض کی شفا ہے مجھے قلم دو مجھے قلم دو یہ کون گستاخ میرے نزدیک بیٹھ کر بِلبِلا رہا ہے یہ کون بےہودہ مدّعی ہیں جو مجھ پہ ایزاد کر رہے ہیں انہیں اُٹھا دو انہیں اُٹھا ...

عجب حالت ہماری ہو گئی ہے – جون ایلیا

عجب حالت ہماری ہو گئی ہے – جون ایلیا

عجب حالت ہماری ہو گئی ہے یہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہے سخن میرا اداسی ہے سرِ شام جو خاموشی پہ طاری ہو گئی ہے بہت ہی خوش ہے دل اپنے کیے پر زمانے بھر میں خواری ہو گئی ہے وہ نازک لب ہے اب جانے ہی والا مری آواز بھاری ہو گئی ہے دل اب دنیا پہ لعنت کر کہ اس کی بہت خدمت گزاری ہو گئی ہے یقیں معذور ہے اب اور گ...

رشتہِ دل ترے زمانے میں – جون ایلیا

رشتہِ دل ترے زمانے میں – جون ایلیا

رشتہِ دل ترے زمانے میں رسم ہی کیا نباہنی ہوتی مسکرائے ہم اس سے ملتے وقت رو نہ پڑتے اگر خوشی ہوتی جون ایلیا

جب وہ ناز آفریں نظر آیا – جون ایلیا

جب وہ ناز آفریں نظر آیا – جون ایلیا

جب وہ ناز آفریں نظر آیا سارا گھر احمریں نظر آیا میں نے جب بھی نگاہ کی تو مجھے اپنا گل شبنمیں نظر آیا حسبِ خواہش میں اس سے ملتے وقت سخت اندوہ گیں نظر آیا گرم گفتار هے وہ کم گفتار کیا اسے میں نہیں نظر آیا وقت رخصت، دم سکوت اور صحن آج چرخ بریں نظر آیا شہر ہا شہر گھومنے والو! تم کو وہ بھی کہیں ن...

اگر چاہو تو آنا کچھ نہیں دشوار ، آ نکلو – جون ایلیا

اگر چاہو تو آنا کچھ نہیں دشوار ، آ نکلو – جون ایلیا

اگر چاہو تو آنا کچھ نہیں دشوار ، آ نکلو شروعِ شب کی محفل ہے مری سرکار ! آ نکلو تمہیں معلوم ہے ہم تو نہ آنے کے ، نہ جانے کے تڑپتا ہے تمہیں جی دیکھنے کو یار ، آ نکلو بھروسہ ہی نہیں تم کو کسی پر اور یہاں سب ہیں تمہارے ساتھ آنے کے لئے تیار ، آ نکلو خرابے میں ، سرِ شامِ تمنا ، اے شہِ خوباں ! لگا خ...

مظلوم حسرتوں کے سہاروں کا ساتھ دو – جون ایلیا

مظلوم حسرتوں کے سہاروں کا ساتھ دو – جون ایلیا

مظلوم حسرتوں کے سہاروں کا ساتھ دو باہر نکل کے سینہ فگاروں کا ساتھ دو اک معرکہ بہار و خزاں میں ہے ان دنوں سب کچھ نثار کر کے بہاروں کا ساتھ دو تم کو حریمِ دیدہ و دل ہے اگر عزیز شہروں کے ساتھ آؤ، دیاروں کا ساتھ دو آبادیوں سے عرض ہے، شہروں سے التماس اس وقت اپنے کارگزاروں کا ساتھ دو زخموں سے جن کے پھو...

لَوحِ جہت – جون ایلیا

لَوحِ جہت – جون ایلیا

لَوحِ جہت ایک دو اور پھر تین اور پھر چار، پھر پانچ اور چھے یہ روزینہ ساری نگاہوں کا روزینہ ہے اس کو تم میرے کشکول میں ڈال دو میرے کشکول میں ہر جہت ہاتھ پھیلائے رفتار کی گرد سے بھیک مانگا کرے گی ہر جہت میری پلکوں کے کشکول میں ہے اور ہر وہ جہت میرا کشکول جس سے تہی ہے اسے میں خدا کو ہبہ کر چکا ہوں ہر ج...

سراغ – جون ایلیا

سراغ – جون ایلیا

سراغ خزاں نے شام گزاری ہے میرے منظر میں میرے تمام پرندے ،تمام ہر کارے میرے گماں کے سمتوں سے لوٹ آئیں ہیں میرے خیال میرے خواب کے دیاروں کا ہوائے سبز کے نم ناک مُرغزاروں کا سراغ آج کے سمتوں میں بھی کہیں نہ ملا خزاں نے شام گزاری ہے میرے منظر میں شبِ سیاہ اترتی ہے میرے پیکر میں جون ایلیا