استفسار – جون ایلیا

استفسار (16 دسمبر 1971، سقوط مشرقی پاکستان پر) کیا اسقدر حقیر تھا اس قوم کا وقار ہر شہر تم سے پوچھ رہا ہے جواب دو…

Read More..

میرے مطلوب و مدعا، تو جا – جون ایلیا

میرے مطلوب و مدعا، تو جا تجھ سے مطلب نہیں ہے جا، تو جا اب شہادت ہوس ہے یاروں کو ہوش معزول ہو رہا ،…

Read More..

لَوحِ آمد – جون ایلیا

لَوحِ آمد میں آگیا ہوں، خدا کا بھیدی، تمہاری بستی میں آگیا ہے میں آدمی اور خدا کے بیچ اک بچولیا ہوں کہا گیا ہے،…

Read More..

سیر و سفر کریں ذرا، سلسلہِ گماں چلے – جون ایلیا

سیر و سفر کریں ذرا، سلسلہِ گماں چلے ہم تو چلے، کہاں چلے، بات یہ ہے کہاں چلے ہم ہیں یہاں سے جا رہے، جانے…

Read More..

دل نے وحشت گلی گلی کر لی – جون ایلیا

دل نے وحشت گلی گلی کر لی اب گلہ کیا، بہت خوشی کر لی یار! دل تو بلا کا تھا عیاش اس نے کس طرح…

Read More..

تمہارے اور میرے درمیاں – جون ایلیا

تمہارے اور میرے درمیاں تمہارے اور میرے درمیاں اک بات ہونا تھی بِلا کا دن نکلنا تھا بَلا کی رات ہونا تھی بلا کا دن…

Read More..

اب تو یہاں یونہی سی گزر چاہتا ہے دل – جون ایلیا

اب تو یہاں یونہی سی گزر چاہتا ہے دل کچھ دن کے بعد خود سے سفر چاہتا ہے دل دریائے خواب ہے کہ رواں ہے…

Read More..

یاد اُسے انتہائی کرتے ہیں – جون ایلیا

یاد اُسے انتہائی کرتے ہیں سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں پسند آتا ہے دل سے یوسف کو وہ جو یوسف کے بھائی کرتے…

Read More..

مجھ میں، مجھ دل میں تو ڈھلا، تو جا – جون ایلیا

مجھ میں، مجھ دل میں تو ڈھلا، تو جا ہو میاں جی ترا بھلا، تو جا آپ اپنے سے کر کے اپنا سخن چھل گیا…

Read More..

کوئی گماں بھی نہیں درمیاں گماں ہے یہی – جون ایلیا

کوئی گماں بھی نہیں درمیاں گماں ہے یہی اسی گماں کو بچا لوں کہ درمیاں ہے یہی یہ آدمی کے ہیں انفاس جس کے زہر…

Read More..

سرِ صحرا حباب بیچے ہیں – جون ایلیا

سرِ صحرا حباب بیچے ہیں لبِ دریا سراب بیچے ہیں اور تو کیا تھا بیچنے کے لئے اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں خود سوال…

Read More..

دل کی ہر بات دھیان میں گزری – جون ایلیا

دل کی ہر بات دھیان میں گزری ساری ہستی گمان میں گزری ازل داستاں سے اس دم تک جو بھی گزری اک آن میں گزری…

Read More..

بخشش نرگس صنم، دَور بہ دَور، دم بہ دم – جون ایلیا

بخشش نرگس صنم، دَور بہ دَور، دم بہ دم مینا بہ مینا، مے بہ مے، جام بہ جام، جم بہ جم حالے بے علاتگی قاتلہ…

Read More..

انقلاب ایک خواب ہے ، سو ہے – جون ایلیا

انقلاب ایک خواب ہے ، سو ہے دل کی دنیا خراب ہے ، سو ہے رہیو تو یونہی محو آرائش باہر اک اضطراب ہے، سو…

Read More..

نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی – جون ایلیا

نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی گماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی عجب طرح رُخِ آیندگی کا رنگ…

Read More..

لَوحِ طمع – جون ایلیا

لَوحِ طمع ملامتوں اور نفرتوں کے سوا مرے پاس اور کیا ہے اور اِن دیاروں میں جو بھی رمز آگہی کے ایما پہ اپنا سینہ…

Read More..

عیشِ اُمید ہی سے خطرہ ہے – جون ایلیا

عیشِ اُمید ہی سے خطرہ ہے دل کو اب دل دہی سے خطرہ ہے ہے کچھ ایسا کہ اس کی جلوت میں ہمیں اپنی کمی…

Read More..

رنج ہے حالت سفر حال قیام رنج ہے – جون ایلیا

رنج ہے حالت سفر حال قیام رنج ہے صبح بہ صبح رنج ہے شام بہ شام رنج ہے اس کی شمیم زلف کا کیسے ہو…

Read More..

جازم پہ پڑے ہوئے ہیں جنگل – جون ایلیا

جازم پہ پڑے ہوئے ہیں جنگل میزوں میں جڑے ہوئے ہیں جنگل خشکی کا لکھا ہے خاک اڑنا بیکار اڑے ہوئے ہیں جنگل دیوار پہ…

Read More..

اپنا وہم، اپنا گماں چاہا گیا – جون ایلیا

اپنا وہم، اپنا گماں چاہا گیا تجھ کو اے جاناں! کہاں چاہا گیا اپنے یاروں کے بس اِک نوکر تھے ہم روز اک طرزِ بیاں…

Read More..

مکاشفہ – جون ایلیا

مکاشفہ پناہ مانگو، پناہ مانگو! فاصلے بدرنگ فتنوں سے نام زد کر دیئے گئے زمین کے حاشیے زمینی بلاؤں سے بھر دیئے گئے تمام صدیوں…

Read More..

لائی تھی شام دل کی عجب لہر میں ہمیں – جون ایلیا

لائی تھی شام دل کی عجب لہر میں ہمیں اس چشم نے پلائی مگر زہر میں ہمیں فتنے اٹھے ہیں ہم سے بہت تیرے شہر…

Read More..

شام تک میری بے کلی ہے شراب – جون ایلیا

شام تک میری بے کلی ہے شراب شام کو میری سر خوشی ہے شراب جہل واعظ کا اُس کو راس آئے صاحبو! میری آگہی ہے…

Read More..

ذات اپنی گواہ کی جائے – جون ایلیا

ذات اپنی گواہ کی جائے بند آنکھوں نگاہ کی جائے ہم تو بس اپنی چاہ میں ہیں مگن کچھ تو اس کی بھی چاہ کی…

Read More..

تُند لمحوں سے ٹوٹ پھوٹ کے میں – جون ایلیا

تُند لمحوں سے ٹوٹ پھوٹ کے میں تیری بانہوں میں آن پڑتا ہوں کن صفوں میں شریک ہو کے لڑوں ا ب تو میںبس تجھی…

Read More..

دل برباد کو آباد کیا ہے میں نے – جون ایلیا

دل برباد کو آباد کیا ہے میں نے آج مدت میں تمہیں یاد کیا ہے میں نے ذوق پرواز تب و تاب عطا فرما کر…

Read More..

وہ جو کیا کچھ نہ کرنے والے تھے – جون ایلیا

وہ جو کیا کچھ نہ کرنے والے تھے بس کوئی دم نہ بھرنے واے تھے تھے گلے اور گرد باد کی شام اور ہم سب…

Read More..

مجھ کو شبِ وجود میں تابشِ خواب چاہیے – جون ایلیا

مجھ کو شبِ وجود میں تابشِ خواب چاہیے شوقِ خیال تازہ ہے یعنی عذاب چاہیے آج شکستِ ذات کی شام ہے مجھ کو آج شام…

Read More..

کوئی بھی کیوں مجھ سے شرمندہ ہوا – جون ایلیا

کوئی بھی کیوں مجھ سے شرمندہ ہوا میں ہوں اپنے طور کا ہارا ہوا دل میں ہے میرے کئی چہروں کی یاد جانیے میں کِس…

Read More..

سچائیوں کے ساتھ – جون ایلیا

سچائیوں کے ساتھ ذہن کا غم،ذات کا غم ،ذات کے رشتوں کا غم کتنے غم ہیں جو شعورِ زندگی کے ساتھ ہی اک مصیبت ہے…

Read More..

دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش – جون ایلیا

دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش اور چاروں طرف ہے گھر درپیش ہے یہ عالم عجیب اور یہاں ماجرا ہے عجیب تر درپیش دو…

Read More..

بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی – جون ایلیا

بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی سو میرے خواب بھی گئے سو میری نیند بھی گئی دل کا تھا ایک مدعا جس…

Read More..

انجمن کی اداس آنکھوں میں – جون ایلیا

انجمن کی اداس آنکھوں میں آنسوؤں کا پیام کہہ دینا مجھ کو پہنچا کے لوٹنے والو سب کو میرا سلام کہہ دینا جون ایلیا Hits:…

Read More..

میں نہ ٹھیروں نہ جان تُو ٹھیرے – جون ایلیا

میں نہ ٹھیروں نہ جان تُو ٹھیرے کون لمحوں کے رُو برو ٹھیرے نہ گزرنے پہ زندگی گزری نہ ٹھہرنے پہ چار سُو ٹھیرے ہے…

Read More..

مت پوچھو جو رقص کے مستوں کی تھی حالت، رات گئے – جون ایلیا

مت پوچھو جو رقص کے مستوں کی تھی حالت، رات گئے رقصِ تمنا میں برپا تھا، شورِ قیامت رات گئے وہ حلقہ پر احوالوں کا،…

Read More..

عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو – جون ایلیا

عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو اک اور زخم کھا لوںاگراجازت ہو تمہارے عارض و لب کی جدائی کے دن ہیں میں جام منہ…

Read More..

راتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں – جون ایلیا

راتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو پھر بھی میں اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا اِن کی لذت اور اذیت…

Read More..

جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے – جون ایلیا

جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے پہنچے گی جو نہ اُس تک، ہم اُس خبر میںہوںگے تھک کر گریں…

Read More..

اپنا خاکہ لگتا ہوں – جون ایلیا

اپنا خاکہ لگتا ہوں ایک تماشا لگتاہوں آئینوں کو زنگ لگا اب میں کیسا لگتا ہوں اب میں کوئی شخص نہیں اس کا سایا لگتا…

Read More..

مسکنِ ماہ و سال چھوڑ گیا – جون ایلیا

مسکنِ ماہ و سال چھوڑ گیا دِل کو اُس کا خیال چھوڑگیا تازہ دم جسم و جاں تھے فرقت میں وصل، اُس کا نِڈھال چھوڑ…

Read More..

لَوحِ خطاب – جون ایلیا

لَوحِ خطاب کانون اول کی اس سرما زدہ اور ویران شام کو شبیب چرواہا جب چراگاہ سے اپنی بھیڑیں لے کر پلٹا اور مغربی دروازے…

Read More..

شاخِ اُمید جل گئی ہو گی – جون ایلیا

شاخِ اُمید جل گئی ہو گی دل کی حالت سنبھل گئی ہو گی جونؔ! اس آن تک بخیر ہوں میں ہوں میں زندگی داؤ چَل…

Read More..

دل نے جاناں کو جو شب نامہِ ہجراں لکھا – جون ایلیا

دل نے جاناں کو جو شب نامہِ ہجراں لکھا اشکِ خونیں کا چراغاں، سرِ مژگاں لکھا اے ہوس! میں نے تری بے سروسامانی میں اک…

Read More..

ٹھیروں نہ گلی میں تری وحشت نے کہا تھا – جون ایلیا

ٹھیروں نہ گلی میں تری وحشت نے کہا تھا میں حد سے گزر جاؤں محبت نے کہا تھا دَر تک تیرے لائی تھی نسیمِ نفس…

Read More..

خون تھوکے گی زندگی کب تک – جون ایلیا

خون تھوکے گی زندگی کب تک یاد آئے گی اب تری کب تک جانے والوں سے پوچھنا یہ صبا رہے آباد دل گلی کب تک…

Read More..

وہ خیالِ مُحال کِس کا تھا – جون ایلیا

وہ خیالِ مُحال کِس کا تھا آئینہ بے مثال کِس کا تھا سفری اپنے آپ سے تھا میں ہجر کس کا، وصال کس کا تھا…

Read More..

محبت ہوتے ہوتے، اک ندامت ہو گئی آخر – جون ایلیا

محبت ہوتے ہوتے، اک ندامت ہو گئی آخر ندامت ہوتے ہوتے، اک اذیت ہو گئی آخر عجب انداز سے طے مرحلے دل کے کیے ہم…

Read More..

گزراں ہے گزرتے رہتے ہیں – جون ایلیا

گزراں ہے گزرتے رہتے ہیں ہم میاں جان مرتے رہتےہیں ہائے جاناں وہ ناف پیالہ ترا دل میں بس گھونٹ اترتے رہتے ہیں دل کا…

Read More..

سارے رشتے تباہ کر آیا – جون ایلیا

سارے رشتے تباہ کر آیا دل برباد اپنے گھر آیا آخرش خون تھوکنے سے میاں بات میں تیری کیا اثر آیا تھا خبر میں زیاں…

Read More..

دل پریشاں ہے کیا کیا جائے – جون ایلیا

دل پریشاں ہے کیا کیا جائے عقل حیراں ہے کیا کیا جائے شوقِ مشکل پسند اُن کا حصول سخت آساں ہے کیا کیا جائے عشقِ…

Read More..

بجا ارشاد فرمایا گیا ہے – جون ایلیا

بجا ارشاد فرمایا گیا ہے کہ مُجھ کو یاد فرمایا گیا ہے عنایت کی ہیں نہ مُمکن اُمیدیں کرم ایجاد فرمایا گیا ہے ہیں ہم…

Read More..

اگر چاہو تو آنا کچھ نہیں دشوار ، آ نکلو – جون ایلیا

اگر چاہو تو آنا کچھ نہیں دشوار ، آ نکلو شروعِ شب کی محفل ہے مری سرکار ! آ نکلو تمہیں معلوم ہے ہم تو…

Read More..

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے – جون ایلیا

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے تیری فُرقت منائی جا رہی ہے نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے کہ اب سب سے نبھائی…

Read More..

لَوحِ کتاب – جون ایلیا

لَوحِ کتاب مجھے قلم دو کہ میں تمہیں اک کتاب لکھ دوں تمہاری راتوں کے واسطے اپنے خواب لکھ دوں کتاب جس میں ہدایتیں ہیں…

Read More..

عجب حالت ہماری ہو گئی ہے – جون ایلیا

عجب حالت ہماری ہو گئی ہے یہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہے سخن میرا اداسی ہے سرِ شام جو خاموشی پہ طاری ہو گئی…

Read More..

رشتہِ دل ترے زمانے میں – جون ایلیا

رشتہِ دل ترے زمانے میں رسم ہی کیا نباہنی ہوتی مسکرائے ہم اس سے ملتے وقت رو نہ پڑتے اگر خوشی ہوتی جون ایلیا Hits:…

Read More..

جب وہ ناز آفریں نظر آیا – جون ایلیا

جب وہ ناز آفریں نظر آیا سارا گھر احمریں نظر آیا میں نے جب بھی نگاہ کی تو مجھے اپنا گل شبنمیں نظر آیا حسبِ…

Read More..

اپنی انگڑائیوں پہ جبر نہ کر – جون ایلیا

اپنی انگڑائیوں پہ جبر نہ کر مجھ پہ یہ قہر ٹوٹ جانے دے ہوش میری خوشی کا دشمن ہے تو مجھے ہوش میں نہ آنے…

Read More..

مظلوم حسرتوں کے سہاروں کا ساتھ دو – جون ایلیا

مظلوم حسرتوں کے سہاروں کا ساتھ دو باہر نکل کے سینہ فگاروں کا ساتھ دو اک معرکہ بہار و خزاں میں ہے ان دنوں سب…

Read More..

لَوحِ جہت – جون ایلیا

لَوحِ جہت ایک دو اور پھر تین اور پھر چار، پھر پانچ اور چھے یہ روزینہ ساری نگاہوں کا روزینہ ہے اس کو تم میرے…

Read More..