لَوحِ آمد – جون ایلیا

لَوحِ آمد میں آگیا ہوں، خدا کا بھیدی، تمہاری بستی میں آگیا ہے میں آدمی اور خدا کے بیچ اک بچولیا ہوں …

استفسار – جون ایلیا

استفسار (16 دسمبر 1971، سقوط مشرقی پاکستان پر) کیا اسقدر حقیر تھا اس قوم کا وقار ہر شہر تم سے پوچھ رہا …

لَوحِ طمع – جون ایلیا

لَوحِ طمع ملامتوں اور نفرتوں کے سوا مرے پاس اور کیا ہے اور اِن دیاروں میں جو بھی رمز آگہی کے ایما …

مکاشفہ – جون ایلیا

مکاشفہ پناہ مانگو، پناہ مانگو! فاصلے بدرنگ فتنوں سے نام زد کر دیئے گئے زمین کے حاشیے زمینی بلاؤں سے بھر دیئے …

لَوحِ خطاب – جون ایلیا

لَوحِ خطاب کانون اول کی اس سرما زدہ اور ویران شام کو شبیب چرواہا جب چراگاہ سے اپنی بھیڑیں لے کر پلٹا …

لَوحِ کتاب – جون ایلیا

لَوحِ کتاب مجھے قلم دو کہ میں تمہیں اک کتاب لکھ دوں تمہاری راتوں کے واسطے اپنے خواب لکھ دوں کتاب جس …

لَوحِ جہت – جون ایلیا

لَوحِ جہت ایک دو اور پھر تین اور پھر چار، پھر پانچ اور چھے یہ روزینہ ساری نگاہوں کا روزینہ ہے اس …

سراغ – جون ایلیا

سراغ خزاں نے شام گزاری ہے میرے منظر میں میرے تمام پرندے ،تمام ہر کارے میرے گماں کے سمتوں سے لوٹ آئیں …