Iqbal – Zarb Kalim

اہرام مصر – علامه اقبال – ضرب کلیم

اہرام مصر – علامه اقبال – ضرب کلیم

اہرام مصر اس دشت جگر تاب کی خاموش فضا میں فطرت نے فقط ریت کے ٹیلے کیے تعمیر اہرام کی عظمت سے نگوں سار ہیں افلاک کس ہاتھ نے کھینچی ابدےت کی یہ تصویر! فطرت کی غلامی سے کر آزاد ہنر کو صیاد ہیں مردان ہنر مند کہ نخچیر

جمعیت اقوام مشرق – علامه اقبال – ضرب کلیم

جمعیت اقوام مشرق – علامه اقبال – ضرب کلیم

جمعیت اقوام مشرق پانی بھی مسخر ہے ، ہوا بھی ہے مسخر کیا ہو جو نگاہ فلک پیر بدل جائے دیکھا ہے ملوکیت افرنگ نے جو خواب ممکن ہے کہ اس خواب کی تعبیر بدل جائے طہران ہو گر عالم مشرق کا جینوا شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے بھوپال(شیش محل) میں لکھے گئے

سلطانی جاوید – علامه اقبال – ضرب کلیم

سلطانی جاوید – علامه اقبال – ضرب کلیم

سلطانی جاوید غواص تو فطرت نے بنایا ہے مجھے بھی لیکن مجھے اعماق سیاست سے ہے پرہیز فطرت کو گوارا نہیں سلطانی جاوید ہر چند کہ یہ شعبدہ بازی ہے دل آویز فرہاد کی خارا شکنی زندہ ہے اب تک باقی نہیں دنیا میں ملوکیت پرویز

غلاموں کی نماز – ترکی – علامه اقبال – ضرب کلیم

غلاموں کی نماز – ترکی – علامه اقبال – ضرب کلیم

غلاموں کی نماز – ترکی وفد ہلال احمر لاہور میں کہا مجاہد ترکی نے مجھ سے بعد نماز طویل سجدہ ہیں کیوں اس قدر تمھارے امام وہ سادہ مرد مجاہد ، وہ مومن آزاد خبر نہ تھی اسے کیا چیز ہے نماز غلام ہزار کام ہیں مردان حر کو دنیا میں انھی کے ذوق عمل سے ہیں امتوں کے نظام بدن غلام کا سوز عمل سے ہے محروم کہ ہ...

مرگ خودی – علامه اقبال – ضرب کلیم

مرگ خودی – علامه اقبال – ضرب کلیم

مرگ خودی خودی کی موت سے مغرب کا اندروں بے نور خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جذام خودی کی موت سے روح عرب ہے بے تب و تاب بدن عراق و عجم کا ہے بے عروق و عظام خودی کی موت سے ہندی شکستہ بالوں پر قفس ہوا ہے حلال اور آشیانہ حرام! خودی کی موت سے پیر حرم ہوا مجبور کہ بیچ کھائے مسلماں کا جام ہ احرام!

نفسیات غلامی – دوم – علامه اقبال – ضرب کلیم

نفسیات غلامی – دوم – علامه اقبال – ضرب کلیم

نفسیات غلامی شاعر بھی ہیں پیدا ، علما بھی ، حکما بھی خالی نہیں قوموں کی غلامی کا زمانہ مقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک ہر ایک ہے گو شرح معانی میں یگانہ بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رم آہو باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ، کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند تاویل مسائل کو بناتے ہیں بہانہ

آزادی – علامه اقبال – ضرب کلیم

آزادی – علامه اقبال – ضرب کلیم

آزادی ہے کس کی یہ جرات کہ مسلمان کو ٹوکے حریت افکار کی نعمت ہے خدا داد چاہے تو کرے کعبے کو آتش کدہ پارس چاہے تو کرے اس میں فرنگی صنم آباد قرآن کو بازیچہ تاویل بنا کر چاہے تو خود اک تازہ شریعت کرے ایجاد ہے مملکت ہند میں اک طرفہ تماشا اسلام ہے محبوس ، مسلمان ہے آزاد

بیداری – دوم – علامه اقبال – ضرب کلیم

بیداری – دوم – علامه اقبال – ضرب کلیم

1 نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی بیداری کہ خاوراں میں ہے قوموں کی روح تریاکی اگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے ہنگامے بری ہے مستی اندیشہ ہائے افلاکی تری نجات غم مرگ سے نہیں ممکن کہ تو خودی کو سمجھتا ہے پیکر خاکی زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا ترا حجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی عطا ہوا خس و خاشاک ایشیا مجھ ...

جو عالم ایجاد میں ہے – علامه اقبال – ضرب کلیم

جو عالم ایجاد میں ہے – علامه اقبال – ضرب کلیم

جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ اس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک! ہے جس کے تصور میں فقط بزم شبانہ لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازہ تجدید مشرق میں ہے تقلید فرنگی کا بہانہ

شکست – علامه اقبال – ضرب کلیم

شکست – علامه اقبال – ضرب کلیم

شکست مجاہدانہ حرارت رہی نہ صوفی میں بہانہ بے عملی کا بنی شراب الست فقیہ شہر بھی رہبانیت پہ ہے مجبور کہ معرکے ہیں شریعت کے جنگ دست بدست گریز کشمکش زندگی سے، مردوں کی اگر شکست نہیں ہے تو اور کیا ہے شکست! ریاض منزل (دولت کدہ سرراس مسعود) بھوپال میں لکھے گئے

قوموں کے لیے موت ہے مرکز – علامه اقبال – ضرب کلیم

قوموں کے لیے موت ہے مرکز – علامه اقبال – ضرب کلیم

قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے ، خدائی! جو فقر ہوا تلخی دوراں کا گلہ مند اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی اس دور میں بھی مرد خدا کو ہے میسر جو معجزہ پربت کو بنا سکتا ہے رائی در معرکہ بے سوز تو ذوقے نتواں یافت اے بندۂ مومن تو کجائی ، ...

معراج – علامه اقبال – ضرب کلیم

معراج – علامه اقبال – ضرب کلیم

معراج دے ولولہ شوق جسے لذت پرواز کر سکتا ہے وہ ذرہ مہ و مہر کو تاراج مشکل نہیں یاران چمن ! معرکہ باز پر سوز اگر ہو نفس سینہ دراج ناوک ہے مسلماں ، ہدف اس کا ہے ثریا ہے سر سرا پردہ جاں نکتہ معراج تو معنی و النجم ، نہ سمجھا تو عجب کیا ہے تیرا مد و جزر ابھی چاند کا محتاج

یورپ اور سوریا – علامه اقبال – ضرب کلیم

یورپ اور سوریا – علامه اقبال – ضرب کلیم

یورپ اور سوریا فرنگیوں کو عطا خاک سوریا نے کیا نبی عفت و غم خواری و کم آزاری صلہ فرنگ سے آیا ہے سوریا کے لیے مے و قمار و ہجوم زنان بازاری

اقوام مشرق – علامه اقبال – ضرب کلیم

اقوام مشرق – علامه اقبال – ضرب کلیم

اقوام مشرق نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق ان کو آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور زندہ کر سکتی ہے ایران و عرب کو کیونکر یہ فرنگی مدنےت کہ جو ہے خود لب گور!

تصوف – علامه اقبال – ضرب کلیم

تصوف – علامه اقبال – ضرب کلیم

تصوف یہ حکمت ملکوتی، یہ علم لاہوتی حرم کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی نہیں یہ ذکر نیم شبی ، یہ مراقبے ، یہ سرور تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں یہ عقل، جو مہ و پرویں کا کھیلتی ہے شکار شریک شورش پنہاں نہیں تو کچھ بھی نہیں خرد نے کہہ بھی دیا ‘لاالہ’ تو کیا حاصل دل و نگاہ مسلماں نہ...

دنیا – علامه اقبال – ضرب کلیم

دنیا – علامه اقبال – ضرب کلیم

دنیا مجھ کو بھی نظر آتی ہے یہ بوقلمونی وہ چاند، یہ تارا ہے، وہ پتھر، یہ نگیں ہے دیتی ہے مری چشم بصیرت بھی یہ فتوی وہ کوہ ، یہ دریا ہے ، وہ گردوں ، یہ زمیں ہے حق بات کو لیکن میں چھپا کر نہیں رکھتا تو ہے، تجھے جو کچھ نظر آتا ہے، نہیں ہے!

عورت – دوم – علامه اقبال – ضرب کلیم

عورت – دوم – علامه اقبال – ضرب کلیم

عورت وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی ، لیکن اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

مخلوقات ہنر – علامه اقبال – ضرب کلیم

مخلوقات ہنر – علامه اقبال – ضرب کلیم

مخلوقات ہنر ہے یہ فردوس نظر اہل ہنر کی تعمیر فاش ہے چشم تماشا پہ نہاں خانہ ذات نہ خودی ہے ، نہ جہان سحر و شام کے دور زندگانی کی حریفانہ کشاکش سے نجات آہ ، وہ کافر بیچارہ کہ ہیں اس کے صنم عصر رفتہ کے وہی ٹوٹے ہوئے لات و منات! تو ہے میت ، یہ ہنر تیرے جنازے کا امام نظر آئی جسے مرقد کے شبستاں میں حیات!

مصور – علامه اقبال – ضرب کلیم

مصور – علامه اقبال – ضرب کلیم

مصور کس درجہ یہاں عام ہوئی مرگ تخیل ہندی بھی فرنگی کا مقلد ، عجمی بھی ! مجھ کو تو یہی غم ہے کہ اس دور کے بہزاد کھو بیٹھے ہیں مشرق کا سرور ازلی بھی معلوم ہیں اے مرد ہنر تیرے کمالات صنعت تجھے آتی ہے پرانی بھی ، نئی بھی فطرت کو دکھایا بھی ہے ، دیکھا بھی ہے تو نے آئینہ فطرت میں دکھا اپنی خودی بھی!

مناصب – علامه اقبال – ضرب کلیم

مناصب – علامه اقبال – ضرب کلیم

مناصب ہوا ہے بندۂ مومن فسونی افرنگ اسی سبب سے قلندر کی آنکھ ہے نم ناک ترے بلند مناصب کی خیر ہو یارب کہ ان کے واسطے تو نے کیا خودی کو ہلاک مگر یہ بات چھپائے سے چھپ نہیں سکتی سمجھ گئی ہے اسے ہر طبیعت چالاک شریک حکم غلاموں کو کر نہیں سکتے خریدتے ہیں فقط ان کا جوہر ادراک!

انقلاب – علامه اقبال – ضرب کلیم

انقلاب – علامه اقبال – ضرب کلیم

انقلاب نہ ایشیا میں نہ یورپ میں سوز و ساز حیات خودی کی موت ہے یہ ، اور وہ ضمیر کی موت دلوں میں ولولہ انقلاب ہے پیدا قریب آگئی شاید جہان پیر کی موت!

جس کے پرتو سے منور رہی – علامه اقبال – ضرب کلیم

جس کے پرتو سے منور رہی – علامه اقبال – ضرب کلیم

جس کے پرتو سے منور رہی تیری شب دوش جس کے پرتو سے منور رہی تیری شب دوش پھر بھی ہو سکتا ہے روشن وہ چراغ خاموش مرد بے حوصلہ کرتا ہے زمانے کا گلہ بندۂ حر کے لیے نشتر تقدیر ہے نوش نہیں ہنگامہ پیکار کے لائق وہ جواں جو ہوا نالہ مرغان سحر سے مدہوش مجھ کو ڈر ہے کہ ہے طفلانہ طبیعت تیری اور عیار ہیں یورپ کے شک...

سرود حرام – علامه اقبال – ضرب کلیم

سرود حرام – علامه اقبال – ضرب کلیم

سرود حرام نہ میرے ذکر میں ہے صوفیوں کا سوز و سرور نہ میرا فکر ہے پیمانہ ثواب و عذاب خدا کرے کہ اسے اتفاق ہو مجھ سے فقیہ شہر کہ ہے محرم حدیث و کتاب اگر نوا میں ہے پوشیدہ موت کا پیغام حرام میری نگاہوں میں ناے و چنگ و رباب!

فقر و ملوکیت – علامه اقبال – ضرب کلیم

فقر و ملوکیت – علامه اقبال – ضرب کلیم

فقر و ملوکیت فقر جنگاہ میں بے ساز و یراق آتا ہے ضرب کاری ہے، اگر سینے میں ہے قلب سلیم اس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی سے تازہ ہر عہد میں ہے قصہ فرعون و کلیم اب ترا دور بھی آنے کو ہے اے فقر غیور کھا گئی روح فرنگی کو ہوائے زروسیم عشق و مستی نے کیا ضبط نفس مجھ پہ حرام کہ گرہ غنچے کی کھلتی نہیں بے مو...

مرد مسلمان – علامه اقبال – ضرب کلیم

مرد مسلمان – علامه اقبال – ضرب کلیم

مرد مسلمان ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن گفتار میں، کردار میں، اللہ کی برہان! قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان ہمسایہء جبریل امیں بندۂ خاکی ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشان یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن قاری نظر آتا ہے ، حقیقت میں ہے قرآن! قدرت کے مقاصد کا عیا...

نکتہ توحید – علامه اقبال – ضرب کلیم

نکتہ توحید – علامه اقبال – ضرب کلیم

نکتہ توحید بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیے وہ رمز شوق کہ پوشیدہ لاالہ میں ہے طریق شیخ فقیہانہ ہو تو کیا کہیے سرور جو حق و باطل کی کارزار میں ہے تو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے جہاں میں بندہ حر کے مشاہدات ہیں کیا تری نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہیے مقام فقر ہے ک...

آزادی شمشیر کے اعلان پر – علامه اقبال – ضرب کلیم

آزادی شمشیر کے اعلان پر – علامه اقبال – ضرب کلیم

آزادی شمشیر کے اعلان پر سوچا بھی ہے اے مرد مسلماں کبھی تو نے کیا چیز ہے فولاد کی شمشیر جگردار اس بیت کا یہ مصرع اول ہے کہ جس میں پوشیدہ چلے آتے ہیں توحید کے اسرار ہے فکر مجھے مصرع ثانی کی زیادہ اللہ کرے تجھ کو عطا فقر کی تلوار قبضے میں یہ تلوار بھی آجائے تو مومن یا خالد جانباز ہے یا حیدر کرار

ایک بحری قزاق اور سکندر – علامه اقبال – ضرب کلیم

ایک بحری قزاق اور سکندر – علامه اقبال – ضرب کلیم

ایک بحری قزاق اور سکندر سکندر صلہ تیرا تری زنجیر یا شمشیر ہے میری کہ تیری رہزنی سے تنگ ہے دریا کی پہنائی قزاق سکندر ! حیف ، تو اس کو جواں مردی سمجھتا ہے گوارا اس طرح کرتے ہیں ہم چشموں کی رسوائی؟ ترا پیشہ ہے سفاکی ، مرا پیشہ ہے سفاکی کہ ہم قزاق ہیں دونوں ، تو میدانی ، میں دریائی

خاقانی – علامه اقبال – ضرب کلیم

خاقانی – علامه اقبال – ضرب کلیم

خاقانی وہ صاحب ‘تحفہ العراقین، ارباب نظر کا قرہ العین ہے پردہ شگاف اس کا ادراک پردے ہیں تمام چاک در چاک خاموش ہے عالم معانی کہتا نہیں حرف ‘لن ترانی’! پوچھ اس سے یہ خاک داں ہے کیا چیز ہنگامہ این و آں ہے کیا چیز وہ محرم عالم مکافات اک بات میں کہہ گیا ہے سو بات ”خود بوے چنیں جہا...

شعاع امید – علامه اقبال – ضرب کلیم

شعاع امید – علامه اقبال – ضرب کلیم

شعاع امید 1 سورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام دنیا ہے عجب چیز ، کبھی صبح کبھی شام مدت سے تم آوارہ ہو پہنائے فضا میں بڑھتی ہی چلی جاتی ہے بے مہری ایام نے ریت کے ذروں پہ چمکنے میں ہے راحت نے مثل صبا طوف گل و لالہ میں آرام پھر میرے تجلی کدہ دل میں سما جاؤ چھوڑو چمنستان و بیابان و در و بام 2 آفاق کے ہ...

کافر و مومن – علامه اقبال – ضرب کلیم

کافر و مومن – علامه اقبال – ضرب کلیم

کافر و مومن کل ساحل دریا پہ کہا مجھ سے خضر نے تو ڈھونڈ رہا ہے سم افرنگ کا تریاق؟ اک نکتہ مرے پاس ہے شمشیر کی مانند برندہ و صیقل زدہ و روشن و براق کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق!

ملائے حرم – علامه اقبال – ضرب کلیم

ملائے حرم – علامه اقبال – ضرب کلیم

ملائے حرم عجب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام تری نماز میں باقی جلال ہے، نہ جمال تری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام

یہ مدرسہ یہ کھیل یہ – علامه اقبال – ضرب کلیم

یہ مدرسہ یہ کھیل یہ – علامه اقبال – ضرب کلیم

یہ مدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارو یہ مدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارو اس عیش فراواں میں ہے ہر لحظہ غم نو وہ علم نہیں ، زہر ہے احرار کے حق میں جس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کف جو ناداں ! ادب و فلسفہ کچھ چیز نہیں ہے اسباب ہنر کے لیے لازم ہے تگ و دو فطرت کے نوامیس پہ غالب ہے ہنر مند شام اس کی ہے مانند سحر ...

اشتراکیت – علامه اقبال – ضرب کلیم

اشتراکیت – علامه اقبال – ضرب کلیم

اشتراکیت قوموں کی روش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلوم بے سود نہیں روس کی یہ گرمی رفتار اندیشہ ہوا شوخی افکار پہ مجبور فرسودہ طریقوں سے زمانہ ہوا بیزار انساں کی ہوس نے جنھیں رکھا تھا چھپا کر کھلتے نظر آتے ہیں بتدریج وہ اسرار قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار جو حرف ‘قل ال...

تقدیر – دوم – علامه اقبال – ضرب کلیم

تقدیر – دوم – علامه اقبال – ضرب کلیم

تقدیر نااہل کو حاصل ہے کبھی قوت و جبروت ہے خوار زمانے میں کبھی جوہر ذاتی شاید کوئی منطق ہو نہاں اس کے عمل میں تقدیر نہیں تابع منطق نظر آتی ہاں، ایک حقیقت ہے کہ معلوم ہے سب کو تاریخ امم جس کو نہیں ہم سے چھپاتی ‘ہر لحظہ ہے قوموں کے عمل پر نظر اس کی براں صفت تیغ دو پیکر نظر اس کی!’

ذوق نظر – علامه اقبال – ضرب کلیم

ذوق نظر – علامه اقبال – ضرب کلیم

ذوق نظر خودی بلند تھی اس خوں گرفتہ چینی کی کہا غریب نے جلاد سے دم تعزیر ٹھہر ٹھہر کہ بہت دل کشا ہے یہ منظر ذرا میں دیکھ تو لوں تاب ناکی شمشیر!

عشق طینت میں فرومایہ – علامه اقبال – ضرب کلیم

عشق طینت میں فرومایہ – علامه اقبال – ضرب کلیم

عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثل ہوس عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثل ہوس پر شہباز سے ممکن نہیں پرواز مگس یوں بھی دستور گلستاں کو بدل سکتے ہیں کہ نشیمن ہو عنادل پہ گراں مثل قفس سفر آمادہ نہیں منتظر بانگ رحیل ہے کہاں قافلہ موج کو پروائے جرس! گرچہ مکتب کا جواں زندہ نظر آتا ہے مردہ ہے ، مانگ کے لایا ہے فرنگی...

محمد علی باب – علامه اقبال – ضرب کلیم

محمد علی باب – علامه اقبال – ضرب کلیم

محمد علی باب تھی خوب حضور علما باب کی تقریر بیچارہ غلط پڑھتا تھا اعراب سموات اس کی غلطی پر علما تھے متبسم بولا ، تمہیں معلوم نہیں میرے مقامات اب میری امامت کے تصدق میں ہیں آزاد محبوس تھے اعراب میں قرآن کے آیات!

نبوت – علامه اقبال – ضرب کلیم

نبوت – علامه اقبال – ضرب کلیم

نبوت میں نہ عارف ، نہ مجدد، نہ محدث ،نہ فقیہ مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوت کا مقام ہاں، مگر عالم اسلام پہ رکھتا ہوں نظر فاش ہے مجھ پہ ضمیر فلک نیلی فام عصر حاضر کی شب تار میں دیکھی میں نے یہ حقیقت کہ ہے روشن صفت ماہ تمام ”وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگ حشیش جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام...

اے روح محمد – علامه اقبال – ضرب کلیم

اے روح محمد – علامه اقبال – ضرب کلیم

اے روح محمد شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر اب تو ہی بتا، تیرا مسلمان کدھر جائے! وہ لذت آشوب نہیں بحر عرب میں پوشیدہ جو ہے مجھ میں، وہ طوفان کدھر جائے ہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد اس کوہ و بیاباں سے حدی خوان کدھر جائے اس راز کو اب فاش کر اے روح محمد آیات الہی کا نگہبان کدھر جائے!

جمہوریت – علامه اقبال – ضرب کلیم

جمہوریت – علامه اقبال – ضرب کلیم

جمہوریت اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاش ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں ، تولا نہیں کرتے استاں دال

سلطانی – علامه اقبال – ضرب کلیم

سلطانی – علامه اقبال – ضرب کلیم

سلطانی کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے وہ فقر جس میں ہے بے پردہ روح قرآنی خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی یہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو سلطانی یہی مقام ہے مومن کی قوتوں کا عیار اسی مقام سے آدم ہے ظل سبحانی یہ جبر و قہر نہیں ہے ، یہ عشق و مستی ہے کہ جبر و قہر سے ممکن نہیں جہاں بانی کیا گیا ہے غلامی میں...

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے – علامه اقبال – ضرب کلیم

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے – علامه اقبال – ضرب کلیم

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی دنیا میں محاسب ہے تہذیب فسوں گر کا ہے اس کی فقیری میں سرمایہ سلطانی یہ حسن و لطافت کیوں ؟ وہ قوت و شوکت کیوں بلبل چمنستانی ، شہباز بیابانی! اے شیخ ! بہت اچھی مکتب کی فضا ، لیکن بنتی ہے بیاباں میں فاروقی و...

مرزا بیدل – علامه اقبال – ضرب کلیم

مرزا بیدل – علامه اقبال – ضرب کلیم

مرزا بیدل ہے حقیقت یا مری چشم غلط بیں کا فساد یہ زمیں، یہ دشت ، یہ کہسار ، یہ چرخ کبود کوئی کہتا ہے نہیں ہے ، کوئی کہتاہے کہ ہے کیا خبر ، ہے یا نہیں ہے تیری دنیا کا وجود! میرزا بیدل نے کس خوبی سے کھولی یہ گرہ اہل حکمت پر بہت مشکل رہی جس کی کشود! ”دل اگر میداشت وسعت بے نشاں بود ایں چمن رنگ مے ب...

ہندی مسلمان – علامه اقبال – ضرب کلیم

ہندی مسلمان – علامه اقبال – ضرب کلیم

ہندی مسلمان غدار وطن اس کو بتاتے ہیں برہمن انگریز سمجھتا ہے مسلماں کو گداگر پنجاب کے ارباب نبوت کی شریعت کہتی ہے کہ یہ مومن پارینہ ہے کافر آوازہ حق اٹھتا ہے کب اور کدھر سے ‘مسکیں ولکم ماندہ دریں کشمکش اندر’!

اساتذہ – علامه اقبال – ضرب کلیم

اساتذہ – علامه اقبال – ضرب کلیم

اساتذہ مقصد ہو اگر تربیت لعل بدخشاں بے سود ہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پر تو دنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار کیا مدرسہ ، کیا مدرسے والوں کی تگ و دو! کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو

پردہ – علامه اقبال – ضرب کلیم

پردہ – علامه اقبال – ضرب کلیم

پردہ بہت رنگ بدلے سپہر بریں نے خدایا یہ دنیا جہاں تھی ، وہیں ہے تفاوت نہ دیکھا زن و شو میں میں نے وہ خلوت نشیں ہے ، یہ خلوت نشیں ہے ابھی تک ہے پردے میں اولاد آدم کسی کی خودی آشکارا نہیں ہے

خوب و زشت – علامه اقبال – ضرب کلیم

خوب و زشت – علامه اقبال – ضرب کلیم

خوب و زشت ستارگان فضاہائے نیلگوں کی طرح تخیلات بھی ہیں تابع طلوع و غروب جہاں خودی کا بھی ہے صاحب فراز و نشیب یہاں بھی معرکہ آرا ہے خوب سے ناخوب نمود جس کی فراز خودی سے ہو ، وہ جمیل جو ہو نشیب میں پیدا ، قبیح و نامحبوب!

شام و فلسطین – علامه اقبال – ضرب کلیم

شام و فلسطین – علامه اقبال – ضرب کلیم

شام و فلسطین رندان فرانسیس کا میخانہ سلامت پر ہے م ے گلرنگ سے ہر شیشہ حلب کا ہے خاک فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا مقصد ہے ملوکیت انگلیس کا کچھ اور قصہ نہیں نارنج کا یا شہد و رطب کا

کارل مارکس کی آواز – علامه اقبال – ضرب کلیم

کارل مارکس کی آواز – علامه اقبال – ضرب کلیم

کارل مارکس کی آواز یہ علم و حکمت کی مہرہ بازی ، یہ بحث و تکرار کی نمائش نہیں ہے دنیا کو اب گوارا پرانے افکار کی نمائش تری کتابوں میں اے حکیم معاش رکھا ہی کیا ہے آخر خطوط خم دار کی نمائش ، مریز و کج دار کی نمائش جہان مغرب کے بت کدوں میں ، کلیسیاؤں میں ، مدرسوں میں ہوس کی خون ریزیاں چھپاتی ہے عقل عیار...

مہدی برحق – علامه اقبال – ضرب کلیم

مہدی برحق – علامه اقبال – ضرب کلیم

مہدی برحق سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں نے جدت گفتار ہے، نے جدت کردار ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت ہو جس کی نگہ زلزلہ عالم افکار

ابی سینیا – 18 اگست – علامه اقبال – ضرب کلیم

ابی سینیا – 18 اگست – علامه اقبال – ضرب کلیم

ابی سینیا – 18 اگست 1935ء یورپ کے کرگسوں کو نہیں ہے ابھی خبر ہے کتنی زہر ناک ابی سینیا کی لاش ہونے کو ہے یہ مردہ دیرینہ قاش قاش! تہذیب کا کمال شرافت کا ہے زوال غارت گری جہاں میں ہے اقوام کی معاش ہر گرگ کو ہے برہ معصوم کی تلاش! اے وائے آبروئے کلیسا کا آءنہ روما نے کر دیا سر بازار پاش پاش پیر کل...

آگاہی – علامه اقبال – ضرب کلیم

آگاہی – علامه اقبال – ضرب کلیم

آگاہی نظر سپہر پہ رکھتا ہے جو ستارہ شناس نہیں ہے اپنی خودی کے مقام سے آگاہ خودی کو جس نے فلک سے بلند تر دیکھا وہی ہے مملکت صبح و شام سے آگاہ وہی نگاہ کے ناخوب و خوب سے محرم وہی ہے دل کے حلال و حرام سے آگاہ

توحید – علامه اقبال – ضرب کلیم

توحید – علامه اقبال – ضرب کلیم

توحید زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی آج کیا ہے، فقط اک مسئلہء علم کلام روشن اس ضو سے اگر ظلمت کردار نہ ہو خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام میں نے اے میر سپہ! تیری سپہ دیکھی ہے ‘قل ھو اللہ، کی شمشیر سے خالی ہیں نیام آہ! اس راز سے واقف ہے نہ ملا، نہ فقیہ وحدت افکار کی بے وحدت کردار ہ...

رومی بدلے ، شامی بدلے، – علامه اقبال – ضرب کلیم

رومی بدلے ، شامی بدلے، – علامه اقبال – ضرب کلیم

رومی بدلے ، شامی بدلے، بدلا ہندستان رومی بدلے ، شامی بدلے، بدلا ہندستان تو بھی اے فرزند کہستاں! اپنی خودی پہچان اپنی خودی پہچان او غافل افغان! موسم اچھا ، پانی وافر ، مٹی بھی زرخیز جس نے اپنا کھیت نہ سینچا ، وہ کیسا دہقان اپنی خودی پہچان او غافل افغان! اونچی جس کی لہر نہیں ہے ، وہ کیسا دریاے جس کی ہ...

عورت کی حفاظت – علامه اقبال – ضرب کلیم

عورت کی حفاظت – علامه اقبال – ضرب کلیم

عورت کی حفاظت اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد نے پردہ ، نہ تعلیم ، نئی ہو کہ پرانی نسوانیت زن کا نگہباں ہے فقط مرد جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد

مدنیت اسلام – علامه اقبال – ضرب کلیم

مدنیت اسلام – علامه اقبال – ضرب کلیم

مدنیت اسلام بتاؤں تجھ کو مسلماں کی زندگی کیا ہے یہ ہے نہایت اندیشہ و کمال جنوں طلوع ہے صفت آفتاب اس کا غروب یگانہ اور مثال زمانہ گونا گوں! نہ اس میں عصر رواں کی حیا سے بیزاری نہ اس میں عہد کہن کے فسانہ و افسوں حقائق ابدی پر اساس ہے اس کی یہ زندگی ہے، نہیں ہے طلسم افلاطوں! عناصر اس کے ہیں روح القدس ک...

نفسیات حاکمی – اصلاحات – علامه اقبال – ضرب کلیم

نفسیات حاکمی – اصلاحات – علامه اقبال – ضرب کلیم

نفسیات حاکمی – اصلاحات یہ مہر ہے بے مہری صیاد کا پردہ آئی نہ مرے کام مری تازہ صفیری رکھنے لگا مرجھائے ہوئے پھول قفس میں شاید کہ اسیروں کو گوارا ہو اسیری

اہل ہنر سے – علامه اقبال – ضرب کلیم

اہل ہنر سے – علامه اقبال – ضرب کلیم

اہل ہنر سے مہر و مہ و مشتری ، چند نفس کا فروغ عشق سے ہے پائدار تیری خودی کا وجود تیرے حرم کا ضمیر اسود و احمر سے پاک ننگ ہے تیرے لیے سرخ و سپید و کبود تیری خودی کا غیاب معرکہ ذکر و فکر تیری خودی کا حضور عالم شعر و سرود روح اگر ہے تری رنج غلامی سے زار تیرے ہنر کا جہاں دیر و طواف و سجود اور اگر باخبر ...

تن بہ تقدیر – علامه اقبال – ضرب کلیم

تن بہ تقدیر – علامه اقبال – ضرب کلیم

تن بہ تقدیر اسی قرآں میں ہے اب ترک جہاں کی تعلیم جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر ‘تن بہ تقدیر’ ہے آج ان کے عمل کا انداز تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر تھا جو ‘ناخوب، بتدریج وہی ‘ خوب’ ہوا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر