Iqbal – Bange Dara

ایک خط کے جواب میں – علامه اقبال – بانگ درا

ایک خط کے جواب میں – علامه اقبال – بانگ درا

ایک خط کے جواب میں ہوس بھی ہو تو نہیں مجھ میں ہمت تگ و تاز حصول جاہ ہے وابستہ مذاق تلاش ہزار شکر، طبیعت ہے ریزہ کار مری ہزار شکر، نہیں ہے دماغ فتنہ تراش مرے سخن سے دلوں کی ہیں کھیتیاں سرسبز جہاں میں ہوں میں مثال سحاب دریا پاش یہ عقدہ ہائے سیاست تجھے مبارک ہوں کہ فیض عشق سے ناخن مرا ہے سینہ خراش ہوائ...

تنہائی – علامه اقبال – بانگ درا

تنہائی – علامه اقبال – بانگ درا

تنہائی تنہائی شب میں ہے حزیں کیا انجم نہیں تیرے ہم نشیں کیا! یہ رفعت آسمان خاموش خوابیدہ زمیں ، جہان خاموش یہ چاند ، یہ دشت و در ، یہ کہسار فطرت ہے تمام نسترن زار موتی خوش رنگ ، پیارے پیارے یعنی ترے آنسوؤں کے تارے کس شے کی تجھے ہوس ہے اے دل! قدرت تری ہم نفس ہے اے دل!

ساقی – علامه اقبال – بانگ درا

ساقی – علامه اقبال – بانگ درا

ساقی نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی جو بادہ کش تھے پرانے، وہ اٹھتے جاتے ہیں کہیں سے آب بقائے دوام لے ساقی! کٹی ہے رات تو ہنگامہ گستری میں تری سحر قریب ہے، اللہ کا نام لے ساقی!

طلوع اسلام – علامه اقبال – بانگ درا

طلوع اسلام – علامه اقبال – بانگ درا

طلوع اسلام دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی افق سے آفتاب ابھرا ،گیا دور گراں خوابی عروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑا سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی...

لاؤں وہ تنکے کہیں سے – علامه اقبال – بانگ درا

لاؤں وہ تنکے کہیں سے – علامه اقبال – بانگ درا

لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے بجلیاں بے تاب ہوں جن کو جلانے کے لیے وائے ناکامی ، فلک نے تاک کر توڑا اسے میں نے جس ڈالی کو تاڑا آشیانے کے لیے آنکھ مل جاتی ہے ہفتاد و دو ملت سے تری ایک پیمانہ ترا سارے زمانے کے لیے دل میں کوئی اس طرح کی آرزو پیدا کروں لوٹ جائے آس...

نصیحت – علامه اقبال – بانگ درا

نصیحت – علامه اقبال – بانگ درا

نصیحت میں نے اقبال سے از راہ نصیحت یہ کہا عامل روزہ ہے تو اور نہ پابند نماز تو بھی ہے شیوہ ارباب ریا میں کامل دل میں لندن کی ہوس ، لب پہ ترے ذکر حجاز جھوٹ بھی مصلحت آمیز ترا ہوتا ہے تیرا انداز تملق بھی سراپا اعجاز ختم تقریر تری مدحت سرکار پہ ہے فکر روشن ہے ترا موجد آئین نیاز در حکام بھی ہے تجھ کو مق...

ابر کوہسار – علامه اقبال – بانگ درا

ابر کوہسار – علامه اقبال – بانگ درا

ابر کوہسار ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن میرا کبھی صحرا ، کبھی گلزار ہے مسکن میرا شہر و ویرانہ مرا ، بحر مرا ، بن میرا کسی وادی میں جو منظور ہو سونا مجھ کو سبزہ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو مجھ کو قدرت نے سکھایا ہے درافشاں ہونا ناقہ شاہد رحمت کا حدی خواں ہونا غم زدائے د...

پر ندے کی فر یاد – بچو ں – علامه اقبال – بانگ درا

پر ندے کی فر یاد – بچو ں – علامه اقبال – بانگ درا

پر ندے کی فر یاد – بچو ں کے لیے آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا لگتی ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے یاد جس دم شبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا وہ پیاری پیاری صورت ، وہ کامنی سی مورت آباد جس کے دم ...

چمک تیری عیاں بجلی میں ، – علامه اقبال – بانگ درا

چمک تیری عیاں بجلی میں ، – علامه اقبال – بانگ درا

چمک تیری عیاں بجلی میں ، آتش میں ، شرارے میں چمک تیری عیاں بجلی میں ، آتش میں ، شرارے میں جھلک تیری ہویدا چاند میں ،سورج میں ، تارے میں بلندی آسمانوں میں ، زمینوں میں تری پستی روانی بحر میں ، افتادگی تیری کنارے میں شریعت کیوں گریباں گیر ہو ذوق تکلم کی چھپا جاتا ہوں اپنے دل کا مطلب استعارے میں جو ہے ...

سیدکی لوح تربت – علامه اقبال – بانگ درا

سیدکی لوح تربت – علامه اقبال – بانگ درا

سیدکی لوح تربت اے کہ تیرا مرغ جاں تار نفس میں ہے اسیر اے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیر اس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھ شہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھ فکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہی صبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہی سنگ تربت ہے مرا گرویدہ تقریر دیکھ چشم باطن سے ذرا ا...

غرہ شوال یا ہلال عید – علامه اقبال – بانگ درا

غرہ شوال یا ہلال عید – علامه اقبال – بانگ درا

غرہ شوال یا ہلال عید غرہء شوال! اے نور نگاہ روزہ دار آ کہ تھے تیرے لیے مسلم سراپا انتظار تیری پیشانی پہ تحریر پیام عید ہے شام تیری کیا ہے ، صبح عیش کی تمید ہے سرگزشت ملت بیضا کا تو آئینہ ہے اے مہ نو! ہم کو تجھ سے الفت دیرینہ ہے جس علم کے سائے میں تیغ آزما ہوتے تھے ہم دشمنوں کے خون سے رنگیں قبا ہوتے ...

مارچ 1907ء – علامه اقبال – بانگ درا

مارچ 1907ء – علامه اقبال – بانگ درا

مارچ 1907ء زمانہ آیا ہے بے حجابی کا ، عام دیدار یار ہو گا سکوت تھا پردہ دار جس کا ، وہ راز اب آشکار ہوگا گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے بنے گا سارا جہان مے خانہ ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا کبھی جو آوارہ جنوں تھے ، وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہو...

ہمد ر د ی – ماخوذ از – علامه اقبال – بانگ درا

ہمد ر د ی – ماخوذ از – علامه اقبال – بانگ درا

ہمد ر د ی – ماخوذ از ولیم کو پر – بچوں کے لیے ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی اڑنے چگنے میں دن گزارا پہنچوں کس طرح آشیاں تک ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا سن کر بلبل کی آہ و زاری جگنو کوئی پاس ہی سے بولا حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے کیڑا ہوں اگرچہ میں...

انتہا بھی اس کی ہے؟ آخر – علامه اقبال – بانگ درا

انتہا بھی اس کی ہے؟ آخر – علامه اقبال – بانگ درا

انتہا بھی اس کی ہے؟ آخر خریدیں کب تلک انتہا بھی اس کی ہے؟ آخر خریدیں کب تلک چھتریاں، رومال، مفلر، پیرہن جاپان سے اپنی غفلت کی یہی حالت اگر قائم رہی آئیں گے غسال کابل سے ،کفن جاپان سے

ترانۂ ہندی – علامه اقبال – بانگ درا

ترانۂ ہندی – علامه اقبال – بانگ درا

ترانۂ ہندی سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا غربت میں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن میں سمجھو وہیں ہمیں بھی، دل ہو جہاں ہمارا پربت وہ سب سے اونچا، ہمسایہ آسماں کا وہ سنتری ہمارا، وہ پاسباں ہمارا گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں گلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمار...

دل – علامه اقبال – بانگ درا

دل – علامه اقبال – بانگ درا

دل قصہ دار و رسن بازی طفلانہ دل التجائے ‘ارنی’ سرخی افسانہء دل یا رب اس ساغر لبریز کی مے کیا ہو گی جاوہ ملک بقا ہے خط پیمانہ دل ابر رحمت تھا کہ تھی عشق کی بجلی یا رب! جل گئی مزرع ہستی تو اگا دانہء دل حسن کا گنج گراں مایہ تجھے مل جاتا تو نے فرہاد! نہ کھودا کبھی ویرانہ دل! عرش کا ہے کبھی ک...

صبح کا ستارہ – علامه اقبال – بانگ درا

صبح کا ستارہ – علامه اقبال – بانگ درا

صبح کا ستارہ لطف ہمسایگی شمس و قمر کو چھوڑوں اور اس خدمت پیغام سحر کو چھوڑوں میرے حق میں تو نہیں تاروں کی بستی اچھی اس بلندی سے زمیں والوں کی پستی اچھی آسماں کیا ، عدم آباد وطن ہے میرا صبح کا دامن صد چاک کفن ہے میرا میری قسمت میں ہے ہر روز کا مرنا جینا ساقی موت کے ہاتھوں سے صبوحی پینا نہ یہ خدمت، نہ...

کبھی اے حقیقت منتظر نظر – علامه اقبال – بانگ درا

کبھی اے حقیقت منتظر نظر – علامه اقبال – بانگ درا

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں طرب آشنائے خروش ہو، تو نوا ہے محرم گوش ہو وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردۂ ساز میں تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہ کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز می...

موٹر – علامه اقبال – بانگ درا

موٹر – علامه اقبال – بانگ درا

موٹر کیسی پتے کی بات جگندر نے کل کہی موٹر ہے ذوالفقار علی خان کا کیا خموش ہنگامہ آفریں نہیں اس کا خرام ناز مانند برق تیز ، مثال ہوا خموش میں نے کہا ، نہیں ہے یہ موٹر پہ منحصر ہے جادہء حیات میں ہر تیزپا خموش ہے پا شکستہ شیوہء فریاد سے جرس نکہت کا کارواں ہے مثال صبا خموش مینا مدام شورش قلقل سے پا بہ گ...

ایک شام – دریائے نیکر – علامه اقبال – بانگ درا

ایک شام – دریائے نیکر – علامه اقبال – بانگ درا

ایک شام – دریائے نیکر ‘ہائیڈل برگ ‘ کے کنارے پر خاموش ہے چاندنی قمر کی شاخیں ہیں خموش ہر شجر کی وادی کے نوا فروش خاموش کہسار کے سبز پوش خاموش فطرت بے ہوش ہو گئی ہے آغوش میں شب کے سو گئی ہے کچھ ایسا سکوت کا فسوں ہے نیکر کا خرام بھی سکوں ہے تاروں کا خموش کارواں ہے یہ قافلہ بے درا روا...

تہذیب حاضر تضمین بر شعر – علامه اقبال – بانگ درا

تہذیب حاضر تضمین بر شعر – علامه اقبال – بانگ درا

تہذیب حاضر تضمین بر شعر فیضی حرارت ہے بلاکی بادۂ تہذیب حاضر میں بھڑک اٹھا بھبوکا بن کے مسلم کا تن خاکی کیا ذرے کو جگنو دے کے تاب مستعار اس نے کوئی دیکھے تو شوخی آفتاب جلوہ فرما کی نئے انداز پائے نوجوانوں کی طبیعت نے یہ رعنائی ، یہ بیداری ، یہ آزادی ، یہ بے باکی تغیر آگیا ایسا تدبر میں، تخیل میں ہنسی...

سختیاں کرتا ہوں دل پر – علامه اقبال – بانگ درا

سختیاں کرتا ہوں دل پر – علامه اقبال – بانگ درا

سختیاں کرتا ہوں دل پر ، غیر سے غافل ہوں میں سختیاں کرتا ہوں دل پر ، غیر سے غافل ہوں میں ہائے کیا اچھی کہی ظالم ہوں میں ، جاہل ہوں میں میں جبھی تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی نہ تھی جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے وہ باطل ہوں میں علم کے دریا سے نکلے غوطہ زن گوہر بدست وائے محرومی! خزف چین لب ساحل ہوں میں ہے مری ...

عشرت امروز – علامه اقبال – بانگ درا

عشرت امروز – علامه اقبال – بانگ درا

عشرت امروز نہ مجھ سے کہہ کہ اجل ہے پیام عیش و سرور نہ کھینچ نقشہ کیفیت شراب طہور فراق حور میں ہو غم سے ہمکنار نہ تو پری کو شیشہ الفاظ میں اتار نہ تو مجھے فریفتہ ساقی جمیل نہ کر بیان حور نہ کر ، ذکر سلسبیل نہ کر مقام امن ہے جنت ، مجھے کلام نہیں شباب کے لیے موزوں ترا پیام نہیں شباب ، آہ! کہاں تک امیدو...

گل رنگیں – علامه اقبال – بانگ درا

گل رنگیں – علامه اقبال – بانگ درا

گل رنگیں تو شناسائے خراش عقدۂ مشکل نہیں اے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں زیب محفل ہے ، شریک شورش محفل نہیں یہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیں اس چمن میں میں سراپا سوز و ساز آرزو اور تیری زندگانی بے گداز آرزو توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئیں نہیں یہ نظر غیر از نگاہ چشم صورت بیں نہیں آہ! یہ دست ...

ہم مشرق کے مسکینوں کا دل – علامه اقبال – بانگ درا

ہم مشرق کے مسکینوں کا دل – علامه اقبال – بانگ درا

ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے واں کنڑ سب بلوری ہیں یاں ایک پرانا مٹکا ہے اس دور میں سب مٹ جائیں گے، ہاں! باقی وہ رہ جائے گا جو قائم اپنی راہ پہ ہے اور پکا اپنی ہٹ کا ہے اے شیخ و برہمن، سنتے ہو! کیا اہل بصیرت کہتے ہیں گردوں نے کتنی بلندی سے ...

اٹھا کر پھینک دو باہر – علامه اقبال – بانگ درا

اٹھا کر پھینک دو باہر – علامه اقبال – بانگ درا

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے الکشن، ممبری، کونسل، صدارت بنائے خوب آزادی نے پھندے میاں نجار بھی چھیلے گئے ساتھ نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے

پردہ چہرے سے اٹھا ، – علامه اقبال – بانگ درا

پردہ چہرے سے اٹھا ، – علامه اقبال – بانگ درا

پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائی کر پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائی کر چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائی کر تو جو بجلی ہے تو یہ چشمک پنہاں کب تک بے حجابانہ مرے دل سے شناسائی کر نفس گرم کی تاثیر ہے اعجاز حیات تیرے سینے میں اگر ہے تو مسیحائی کر کب تلک طور پہ دریوزہ گرمی مثل کلیم اپنی ہستی سے عیاں شعلہ سین...

چاند اور تارے – علامه اقبال – بانگ درا

چاند اور تارے – علامه اقبال – بانگ درا

چاند اور تارے ڈرتے ڈرتے دم سحر سے تارے کہنے لگے قمر سے نظارے رہے وہی فلک پر ہم تھک بھی گئے چمک چمک کر کام اپنا ہے صبح و شام چلنا چلنا چلنا ، مدام چلنا بے تاب ہے اس جہاں کی ہر شے کہتے ہیں جسے سکوں، نہیں ہے رہتے ہیں ستم کش سفر سب تارے، انساں، شجر، حجر سب ہوگا کبھی ختم یہ سفر کیا منزل کبھی آئے گی نظر ک...

ستارہ – علامه اقبال – بانگ درا

ستارہ – علامه اقبال – بانگ درا

ستارہ قمر کا خوف کہ ہے خطرہء سحر تجھ کو مآل حسن کی کیا مل گئی خبر تجھ کو؟ متاع نور کے لٹ جانے کا ہے ڈر تجھ کو ہے کیا ہراس فنا صورت شرر تجھ کو؟ زمیں سے دور دیا آسماں نے گھر تجھ کو مثال ماہ اڑھائی قبائے زر تجھ کو غضب ہے پھر تری ننھی سی جان ڈرتی ہے! تمام رات تری کانپتے گزرتی ہے چمکنے والے مسافر! عجب یہ...

فردوس میں ایک مکالمہ – علامه اقبال – بانگ درا

فردوس میں ایک مکالمہ – علامه اقبال – بانگ درا

فردوس میں ایک مکالمہ ہاتف نے کہا مجھ سے کہ فردوس میں اک روز حالی سے مخاطب ہوئے یوں سعدی شیراز اے آنکہ ز نور گہر نظم فلک تاب دامن بہ چراغ مہ اختر زدہ ای باز! کچھ کیفیت مسلم ہندی تو بیاں کر واماندۂ منزل ہے کہ مصروف تگ و تاز مذہب کی حرارت بھی ہے کچھ اس کی رگوں میں؟ تھی جس کی فلک سوز کبھی گرمی آواز باتو...

محاصرہ ادرنہ – علامه اقبال – بانگ درا

محاصرہ ادرنہ – علامه اقبال – بانگ درا

محاصرہ ادرنہ یورپ میں جس گھڑی حق و باطل کی چھڑ گئی حق خنجر آزمائی پہ مجبور ہو گیا گرد صلیب گرد قمر حلقہ زن ہوئی شکری حصار درنہ میں محصور ہو گیا مسلم سپاہیوں کے ذخیرے ہوئے تمام روئے امید آنکھ سے مستور ہو گیا آخر امیر عسکر ترکی کے حکم سے ‘آئین جنگ’ شہر کا دستور ہوگیا ہر شے ہوئی ذخیرہ لشکر ...

یہ سرود قمری و بلبل فریب – علامه اقبال – بانگ درا

یہ سرود قمری و بلبل فریب – علامه اقبال – بانگ درا

یہ سرود قمری و بلبل فریب گوش ہے یہ سرود قمری و بلبل فریب گوش ہے باطن ہنگامہ آباد چمن خاموش ہے تیرے پیمانوں کا ہے یہ اے مےء مغرب اثر خندہ زن ساقی ہے، ساری انجمن بے ہوش ہے دہر کے غم خانے میں تیرا پتا ملتا نہیں جرم تھا کیا آفرینش بھی کہ تو روپوش ہے آہ! دنیا دل سمجھتی ہے جسے، وہ دل نہیں پہلوئے انساں میں...

انسان – اول – علامه اقبال – بانگ درا

انسان – اول – علامه اقبال – بانگ درا

انسان قدرت کا عجیب یہ ستم ہے! انسان کو راز جو بنایا راز اس کی نگاہ سے چھپایا بے تاب ہے ذوق آگہی کا کھلتا نہیں بھید زندگی کا حیرت آغاز و انتہا ہے آئینے کے گھر میں اور کیا ہے ہے گرم خرام موج دریا دریا سوئے سجر جادہ پیما بادل کو ہوا اڑا رہی ہے شانوں پہ اٹھائے لا رہی ہے تارے مست شراب تقدیر زندان فلک میں...

ترے عشق کی انتہا چاہتا – علامه اقبال – بانگ درا

ترے عشق کی انتہا چاہتا – علامه اقبال – بانگ درا

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں ستم ہو کہ ہو وعدہ بے حجابی کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں ذرا سا تو دل ہوں ، مگر شوخ اتنا وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل چراغ سحر ہوں ،...

دریوزہ خلافت – علامه اقبال – بانگ درا

دریوزہ خلافت – علامه اقبال – بانگ درا

دریوزہ خلافت اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے تو احکام حق سے نہ کر بے وفائی نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا خلافت کی کرنے لگا تو گدائی خریدیں نہ جس کو ہم اپنے لہو سے مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی ”مرا از شکستن چناں عار ناید کہ از دیگراں خواستن مومیائی”

شب معراج – علامه اقبال – بانگ درا

شب معراج – علامه اقبال – بانگ درا

شب معراج اختر شام کی آتی ہے فلک سے آواز سجدہ کرتی ہے سحر جس کو، وہ ہے آج کی رات رہ یک گام ہے ہمت کے لیے عرش بریں کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات

کہوں کیا آرزوئے بے دلی – علامه اقبال – بانگ درا

کہوں کیا آرزوئے بے دلی – علامه اقبال – بانگ درا

کہوں کیا آرزوئے بے دلی مجھ کو کہاں تک ہے کہوں کیا آرزوئے بے دلی مجھ کو کہاں تک ہے مرے بازار کی رونق ہی سودائے زیاں تک ہے وہ مے کش ہوں فروغ مے سے خود گلزار بن جاؤں ہوائے گل فراق ساقی نامہرباں تک ہے چمن افروز ہے صیاد میری خوشنوائی تک رہی بجلی کی بے تابی ، سو میرے آشیاں تک ہے وہ مشت خاک ہوں ، فیض پریشا...

نا لہ فراق – آرنلڈ کی – علامه اقبال – بانگ درا

نا لہ فراق – آرنلڈ کی – علامه اقبال – بانگ درا

نا لہ فراق – آرنلڈ کی یاد میں جا بسا مغرب میں آخر اے مکاں تیرا مکیں آہ! مشرق کی پسند آئی نہ اس کو سر زمیں آ گیا آج اس صداقت کا مرے دل کو یقیں ظلمت شب سے ضیائے روز فرقت کم نہیں ”تا ز آغوش وداعش داغ حیرت چیدہ است ہمچو شمع کشتہ در چشم نگہ خوابیدہ است” کشتہ عزلت ہوں، آبادی میں گھبراتا ...

ایک گائے اور بکری – – علامه اقبال – بانگ درا

ایک گائے اور بکری – – علامه اقبال – بانگ درا

ایک گائے اور بکری – ماخوذ – بچوں کے لیے اک چراگہ ہری بھری تھی کہیں تھی سراپا بہار جس کی زمیں کیا سماں اس بہار کا ہو بیاں ہر طرف صاف ندیاں تھیں رواں تھے اناروں کے بے شمار درخت اور پیپل کے سایہ دار درخت ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں طائروں کی صدائیں آتی تھیں کسی ندی کے پاس اک بکری چرتے چرتے ...

تہذیب کے مریض کو گولی سے – علامه اقبال – بانگ درا

تہذیب کے مریض کو گولی سے – علامه اقبال – بانگ درا

تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ! تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ! دفع مرض کے واسطے پل پیش کیجیے تھے وہ بھی دن کہ خدمت استاد کے عوض دل چاہتا تھا ہدیہء دل پیش کیجیے بدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق کہتا ہے ماسٹر سے کہ ”بل پیش کیجیے!”

رخصت اے بزم جہاں – ماخوذ – علامه اقبال – بانگ درا

رخصت اے بزم جہاں – ماخوذ – علامه اقبال – بانگ درا

رخصت اے بزم جہاں – ماخوذ از ایمرسن رخصت اے بزم جہاں! سوئے وطن جاتا ہوں میں آہ! اس آباد ویرانے میں گھبراتا ہوں میں بسکہ میں افسردہ دل ہوں ، درخور محفل نہیں تو مرے قابل نہیں ہے ، میں ترے قابل نہیں قید ہے ، دربار سلطان و شبستان وزیر توڑ کر نکلے گا زنجیر طلائی کا اسیر گو بڑی لذت تری ہنگامہ آرائی م...

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا – علامه اقبال – بانگ درا

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا – علامه اقبال – بانگ درا

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا تو دیدہء دل وا کرے کوئی منصور کو ہوا لب گویا پیام موت اب کیا کسی کے عشق کا دعوی کرے کوئی ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی میں انتہائے عشق ہوں ، تو انتہائے حسن دیکھے مجھے کہ تجھ کو تما...

گورستان شاہی – علامه اقبال – بانگ درا

گورستان شاہی – علامه اقبال – بانگ درا

گورستان شاہی آسماں ، بادل کا پہنے خرقہء دیرینہ ہے کچھ مکدر سا جبین ماہ کا آئینہ ہے چاندنی پھیکی ہے اس نظارہء خاموش میں صبح صادق سو رہی ہے رات کی آغوش میں کس قدر اشجار کی حیرت فزا ہے خامشی بربط قدرت کی دھیمی سی نوا ہے خامشی باطن ہر ذرہء عالم سراپا درد ہے اور خاموشی لب ہستی پہ آہ سرد ہے آہ! جولاں گاہ ...

نوید صبح – علامه اقبال – بانگ درا

نوید صبح – علامه اقبال – بانگ درا

نوید صبح آتی ہے مشرق سے جب ہنگامہ در دامن سحر منزل ہستی سے کر جاتی ہے خاموشی سفر محفل قدرت کا آخر ٹوٹ جاتا ہے سکوت دیتی ہے ہر چیز اپنی زندگانی کا ثبوت چہچاتے ہیں پرندے پا کے پیغام حیات باندھتے ہیں پھول بھی گلشن میں احرام حیات مسلم خوابیدہ اٹھ ، ہنگامہ آرا تو بھی ہو وہ چمک اٹھا افق ، گرم تقاضا تو بھی...

ابر – علامه اقبال – بانگ درا

ابر – علامه اقبال – بانگ درا

ابر اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا سیاہ پوش ہوا پھر پہاڑ سربن کا نہاں ہوا جو رخ مہر زیر دامن ابر ہوائے سرد بھی آئی سوار توسن ابر گرج کا شور نہیں ہے ، خموش ہے یہ گھٹا عجیب مے کدۂ بے خروش ہے یہ گھٹا چمن میں حکم نشاط مدام لائی ہے قبائے گل میں گہر ٹانکنے کو آئی ہے جو پھول مہر کی گرمی سے سو چلے تھ...

پھر باد بہار آئی ، اقبال – علامه اقبال – بانگ درا

پھر باد بہار آئی ، اقبال – علامه اقبال – بانگ درا

پھر باد بہار آئی ، اقبال غزل خواں ہو پھر باد بہار آئی ، اقبال غزل خواں ہو غنچہ ہے اگر گل ہو ، گل ہے تو گلستاں ہو تو خاک کی مٹھی ہے ، اجزا کی حرارت سے برہم ہو، پریشاں ہو ، وسعت میں بیاباں ہو تو جنس محبت ہے ، قیمت ہے گراں تیری کم مایہ ہیں سوداگر ، اس دیس میں ارزاں ہو کیوں ساز کے پردے میں مستور ہو لے ت...

حسن و عشق – علامه اقبال – بانگ درا

حسن و عشق – علامه اقبال – بانگ درا

حسن و عشق جس طرح ڈوبتی ہے کشتی سیمین قمر نور خورشید کے طوفان میں ہنگام سحر جسے ہو جاتا ہے گم نور کا لے کر آنچل چاندنی رات میں مہتاب کا ہم رنگ کنول جلوہ طور میں جیسے ید بیضائے کلیم موجہ نکہت گلزار میں غنچے کی شمیم ہے ترے سیل محبت میں یونہی دل میرا تو جو محفل ہے تو ہنگامہء محفل ہوں میں حسن کی برق ہے ت...

شام کی سرحد سے رخصت ہے – علامه اقبال – بانگ درا

شام کی سرحد سے رخصت ہے – علامه اقبال – بانگ درا

شام کی سرحد سے رخصت ہے وہ رند لم یزل شام کی سرحد سے رخصت ہے وہ رند لم یزل رکھ کے میخانے کے سارے قاعدے بالائے طاق یہ اگر سچ ہے تو ہے کس درجہ عبرت کا مقام رنگ اک پل میں بدل جاتا ہے یہ نیلی رواق حضرت کرزن کو اب فکر مداوا ہے ضرور حکم برداری کے معدے میں ہے درد لایطاق وفد ہندستاں سے کرتے ہیں سرآغا خاں طلب...

فرما رہے تھے شیخ طریق – علامه اقبال – بانگ درا

فرما رہے تھے شیخ طریق – علامه اقبال – بانگ درا

فرما رہے تھے شیخ طریق عمل پہ وعظ فرما رہے تھے شیخ طریق عمل پہ وعظ کفار ہند کے ہیں تجارت میں سخت کوش مشرک ہیں وہ جو رکھتے ہیں مشرک سے لین دین لیکن ہماری قوم ہے محروم عقل و ہوش ناپاک چیز ہوتی ہے کافر کے ہاتھ کی سن لے، اگر ہے گوش مسلماں کا حق نیوش اک بادہ کش بھی وعظ کی محفل میں تھا شریک جس کے لیے نصیحت...

مرزا غالب – علامه اقبال – بانگ درا

مرزا غالب – علامه اقبال – بانگ درا

مرزا غالب فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پیکر ترا زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا دید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے بن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہے محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار تی...

یہ آیہ نو جیل سے نازل – علامه اقبال – بانگ درا

یہ آیہ نو جیل سے نازل – علامه اقبال – بانگ درا

یہ آیہ نو ، جیل سے نازل ہوئی مجھ پر یہ آیہ نو ، جیل سے نازل ہوئی مجھ پر گیتا میں ہے قرآن تو قرآن میں گیتا کیا خوب ہوئی آشتی شیخ و برہمن اس جنگ میں آخر نہ یہ ہارا نہ وہ جیتا مندر سے تو بیزار تھا پہلے ہی سے ‘بدری’ مسجد سے نکلتا نہیں، ضدی ہے مسیتا’

انسان – دوم – علامه اقبال – بانگ درا

انسان – دوم – علامه اقبال – بانگ درا

انسان منظر چمنستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا محروم عمل نرگس مجبور تماشا ہے رفتار کی لذت کا احساس نہیں اس کو فطرت ہی صنوبر کی محروم تمنا ہے تسلیم کی خوگر ہے جو چیز ہے دنیا میں انسان کی ہر قوت سرگرم تقاضا ہے اس ذرے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم یہ ذرہ نہیں ، شاید سمٹا ہوا صحرا ہے چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنس...

تصویر درد – علامه اقبال – بانگ درا

تصویر درد – علامه اقبال – بانگ درا

تصویر درد نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میری خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری اٹھائے کچھ ورق لالے نے ، کچھ نرگس نے ، کچھ گل نے چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری اڑالی قمریوں نے ، طوطیوں نے ، عندلبوں نے چمن والو...

دو ستارے – علامه اقبال – بانگ درا

دو ستارے – علامه اقبال – بانگ درا

دو ستارے آئے جو قراں میں دو ستارے کہنے لگا ایک ، دوسرے سے یہ وصل مدام ہو تو کیا خوب انجام خرام ہو تو کیا خوب تھوڑا سا جو مہرباں فلک ہو ہم دونوں کی ایک ہی چمک ہو لیکن یہ وصال کی تمنا پیغام فراق تھی سراپا گردش تاروں کا ہے مقدر ہر ایک کی راہ ہے مقرر ہے خواب ثبات آشنائی آئین جہاں کا ہے جدائی

صقلیہ – جزیرہ سسلی – علامه اقبال – بانگ درا

صقلیہ – جزیرہ سسلی – علامه اقبال – بانگ درا

صقلیہ – جزیرہ سسلی رو لے اب دل کھول کر اے دیدہء خوننابہ بار وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار تھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشینوں کا کبھی بحر بازی گاہ تھا جن کے سفینوں کا کبھی زلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں میں تھے بجلیوں کے آشیانے جن کی تلواروں میں تھے اک جہان تازہ کا پیغام تھا جن کا ظہور کھا گئی...

کفر و اسلام تضمین بر شعر – علامه اقبال – بانگ درا

کفر و اسلام تضمین بر شعر – علامه اقبال – بانگ درا

کفر و اسلام تضمین بر شعر میررضی دانش ایک دن اقبال نے پوچھا کلیم طور سے اے کہ تیرے نقش پا سے وادی سینا چمن آتش نمرود ہے اب تک جہاں میں شعلہ ریز ہوگیا آنکھوں سے پنہاں کیوں ترا سوز کہن تھا جواب صاحب سینا کہ مسلم ہے اگر چھوڑ کر غائب کو تو حاضر کا شیدائی نہ بن ذوق حاضر ہے تو پھر لازم ہے ایمان خلیل ورنہ خ...

ناداں تھے اس قدر کہ نہ – علامه اقبال – بانگ درا

ناداں تھے اس قدر کہ نہ – علامه اقبال – بانگ درا

ناداں تھے اس قدر کہ نہ جانی عرب کی قدر ناداں تھے اس قدر کہ نہ جانی عرب کی قدر حاصل ہوا یہی، نہ بچے مار پیٹ سے مغرب میں ہے جہاز بیاباں شتر کا نام ترکوں نے کام کچھ نہ لیا اس فلیٹ سے

ایک مکالمہ – علامه اقبال – بانگ درا

ایک مکالمہ – علامه اقبال – بانگ درا

ایک مکالمہ اک مرغ سرا نے یہ کہا مرغ ہوا سے پردار اگر تو ہے تو کیا میں نہیں پردار! گر تو ہے ہوا گیر تو ہوں میں بھی ہوا گیر آزاد اگر تو ہے ، نہیں میں بھی گرفتار پرواز ، خصوصیت ہر صاحب پر ہے کیوں رہتے ہیں مرغان ہوا مائل پندار؟ مجروح حمیت جو ہوئی مرغ ہوا کی یوں کہنے لگا سن کے یہ گفتار دل آزار کچھ شک نہی...

جان جائے ہاتھ سے جائے نہ – علامه اقبال – بانگ درا

جان جائے ہاتھ سے جائے نہ – علامه اقبال – بانگ درا

جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست ہے یہی اک بات ہر مذہب کا تت چٹے بٹے ایک ہی تھیلی کے ہیں ساہو کاری، بسوہ داری، سلطنت

زندگی انساں کی اک دم کے – علامه اقبال – بانگ درا

زندگی انساں کی اک دم کے – علامه اقبال – بانگ درا

زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں دم ہوا کی موج ہے ، رم کے سوا کچھ بھی نہیں گل تبسم کہہ رہا تھا زندگانی کو مگر شمع بولی ، گریہء غم کے سوا کچھ بھی نہیں راز ہستی راز ہے جب تک کوئی محرم نہ ہو کھل گیا جس دم تو محرم کے سوا کچھ بھی نہیں زائران کعبہ سے اقبال ...