Iqbal – Bale Jibrael

پوچھ اس سے کہ مقبول ہے – علامه اقبال – بالِ جبریل

پوچھ اس سے کہ مقبول ہے – علامه اقبال – بالِ جبریل

پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی تو صاحب منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی کافر ہے مسلماں تو نہ شاہی نہ فقیری مومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی کافر ہے تو ہے تابع تقدیر مسلماں مومن ہے تو وہ آپ...

خودی کے زور سے دنیا پہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

خودی کے زور سے دنیا پہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

خودی کے زور سے دنیا پہ چھا جا خودی کے زور سے دنیا پہ چھا جا مقام رنگ و بو کا راز پا جا برنگ بحر ساحل آشنا رہ کف ساحل سے دامن کھینچتا جا

ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا – علامه اقبال – بالِ جبریل

ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا – علامه اقبال – بالِ جبریل

ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز بچھائی ہے جو کہیں عشق نے بساط اپنی کیا ہے اس نے فقیروں کو وارث پرویز پرانے ہیں یہ ستارے ، فلک بھی فرسودہ جہاں وہ چاہیے مجھ کو کہ ہو ابھی نوخیز کسے خبر ہے کہ ہنگامہ نشور ہے کیا تری نگاہ کی گردش ہے میری رستا...

کبھی آوارہ و بے خانماں – علامه اقبال – بالِ جبریل

کبھی آوارہ و بے خانماں – علامه اقبال – بالِ جبریل

کبھی آوارہ و بے خانماں عشق کبھی آوارہ و بے خانماں عشق کبھی شاہ شہاں نوشیرواں عشق کبھی میداں میں آتا ہے زرہ پوش کبھی عریان و بے تیغ و سناں عشق!

میر سپاہ ناسزا ، لشکریاں – علامه اقبال – بالِ جبریل

میر سپاہ ناسزا ، لشکریاں – علامه اقبال – بالِ جبریل

میر سپاہ ناسزا ، لشکریاں شکستہ صف میر سپاہ ناسزا ، لشکریاں شکستہ صف آہ! وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں ڈھونڈ چکا میں موج موج ، دیکھ چکا صدف صدف عشق بتاں سے ہاتھ اٹھا ، اپنی خودی میں ڈوب جا نقش و نگار دیر میں خون جگر نہ کر تلف کھول کے کیا بیاں کروں سر مقام مرگ و...

ابلیس کی عرضداشت – علامه اقبال – بالِ جبریل

ابلیس کی عرضداشت – علامه اقبال – بالِ جبریل

ابلیس کی عرضداشت کہتا تھا عزازیل خداوند جہاں سے پرکالہء آتش ہوئی آدم کی کف خاک! جاں لاغر و تن فربہ و ملبوس بدن زیب دل نزع کی حالت میں ، خرد پختہ و چالاک! ناپاک جسے کہتی تھی مشرق کی شریعت مغرب کے فقیہوں کا یہ فتوی ہے کہ ہے پاک! تجھ کو نہیں معلوم کہ حوران بہشتی ویرانی جنت کے تصور سے ہیں غم ناک؟ جمہور ...

تازہ پھر دانش حاضر نے – علامه اقبال – بالِ جبریل

تازہ پھر دانش حاضر نے – علامه اقبال – بالِ جبریل

تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب کلیم عقل عیار ہے ، سو بھیس بنا لیتی ہے عشق بے چارہ نہ ملا ہے نہ زاہد نہ حکیم! عیش منزل ہے غریبان محبت پہ حرام سب مسافر ہیں ، بظاہر نظر آتے ہیں مقیم ہے گراں سیر غم راحلہ و زاد سے تو کوہ و دریا سے گزر...

دل بیدار فاروقی ، دل – علامه اقبال – بالِ جبریل

دل بیدار فاروقی ، دل – علامه اقبال – بالِ جبریل

دل بیدار فاروقی ، دل بیدار کراری دل بیدار فاروقی ، دل بیدار کراری مس آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری دل بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک نہ تیری ضرب ہے کاری ، نہ میری ضرب ہے کاری مشام تیز سے ملتا ہے صحرا میں نشاں اس کا ظن و تخمیں سے ہاتھ آتا نہیں آہوئے تاتاری اس اندیشے سے ضبط آہ میں کرتا رہو...

عطا اسلاف کا جذب دروں کر – علامه اقبال – بالِ جبریل

عطا اسلاف کا جذب دروں کر – علامه اقبال – بالِ جبریل

عطا اسلاف کا جذب دروں کر عطا اسلاف کا جذب دروں کر شریک زمرۂ لا یحزنوں ، کر خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر!

محبت – علامه اقبال – بالِ جبریل

محبت – علامه اقبال – بالِ جبریل

محبت شہید محبت نہ کافر نہ غازی محبت کی رسمیں نہ ترکی نہ تازی وہ کچھ اور شے ہے ، محبت نہیں ہے سکھاتی ہے جو غزنوی کو ایازی یہ جوہر اگر کار فرما نہیں ہے تو ہیں علم و حکمت فقط شیشہ بازی نہ محتاج سلطاں ، نہ مرعوب سلطاں محبت ہے آزادی و بے نیازی مرا فقر بہتر ہے اسکندری سے یہ آدم گری ہے ، وہ آئینہ سازی

ہوا نہ زور سے اس کے کوئی – علامه اقبال – بالِ جبریل

ہوا نہ زور سے اس کے کوئی – علامه اقبال – بالِ جبریل

ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک اگرچہ مغربیوں کا جنوں بھی تھا چالاک م ے یقیں سے ضمیر حیات ہے پرسوز نصیب مدرسہ یا رب یہ آب آتش ناک عروج آدم خاکی کے منتظر ہیں تمام یہ کہکشاں ، یہ ستارے ، یہ نیلگوں افلاک یہی زمانہ حاضر کی کائنات ہے کیا دماغ روشن و دل تیرہ و نگہ ب...

الارض للہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

الارض للہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

الارض للہ پالتا ہے بیج کو مٹی کو تاریکی میں کون کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب؟ کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار خاک یہ کس کی ہے ، کس کا ہے یہ نور آفتاب؟ کس نے بھردی موتیوں سے خوشہء گندم کی جیب موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئے انقلاب؟ دہ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں ، تیری نہیں تیرے آبا کی نہی...

حکیمی ، نامسلمانی خودی – علامه اقبال – بالِ جبریل

حکیمی ، نامسلمانی خودی – علامه اقبال – بالِ جبریل

حکیمی ، نامسلمانی خودی کی حکیمی ، نامسلمانی خودی کی کلیمی ، رمز پنہانی خودی کی تجھے گر فقر و شاہی کا بتا دوں غریبی میں نگہبانی خودی کی!

ستاروں سے آگے جہاں اور – علامه اقبال – بالِ جبریل

ستاروں سے آگے جہاں اور – علامه اقبال – بالِ جبریل

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی ، زندگی سے نہیں یہ فضائیں یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں تو شاہیں ہے ، پرواز ہے کام...

فلسفی – علامه اقبال – بالِ جبریل

فلسفی – علامه اقبال – بالِ جبریل

فلسفی بلند بال تھا ، لیکن نہ تھا جسور و غیور حکیم سر محبت سے بے نصیب رہا پھرا فضاؤں میں کرگس اگرچہ شاہیں وار شکار زندہ کی لذت سے بے نصیب رہا

نپولین کے مزار پر – علامه اقبال – بالِ جبریل

نپولین کے مزار پر – علامه اقبال – بالِ جبریل

نپولین کے مزار پر راز ہے ، راز ہے تقدیر جہان تگ و تاز جوش کردار سے کھل جاتے ہیں تقدیر کے راز جوش کردار سے شمشیر سکندر کا طلوع کوہ الوند ہوا جس کی حرارت سے گداز جوش کردار سے تیمور کا سیل ہمہ گیر سیل کے سامنے کیا شے ہے نشیب اور فراز صف جنگاہ میں مردان خدا کی تکبیر جوش کردار سے بنتی ہے خدا کی آواز ہے م...

یہ کون غزل خواں ہے پرسوز – علامه اقبال – بالِ جبریل

یہ کون غزل خواں ہے پرسوز – علامه اقبال – بالِ جبریل

یہ کون غزل خواں ہے پرسوز و نشاط انگیز یہ کون غزل خواں ہے پرسوز و نشاط انگیز اندیشہ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز گو فقر بھی رکھتا ہے انداز ملوکانہ نا پختہ ہے پرویزی بے سلطنت پرویز اب حجرہ صوفی میں وہ فقر نہیں باقی خون دل شیراں ہو جس فقر کی دستاویز اے حلقہ درویشاں! وہ مرد خدا کیسا ہو جس کے گریباں میں ہنگ...

تاتاری کا خواب – علامه اقبال – بالِ جبریل

تاتاری کا خواب – علامه اقبال – بالِ جبریل

تاتاری کا خواب کہیں سجادہ و عمامہ رہزن کہیں ترسا بچوں کی چشم بے باک! ردائے دین و ملت پارہ پارہ قبائے ملک و دولت چاک در چاک! مرا ایماں تو ہے باقی ولیکن نہ کھا جائے کہیں شعلے کو خاشاک! ہوائے تند کی موجوں میں محصور سمرقند و بخارا کی کف خاک! ‘بگرداگرد خود چندانکہ بینم بلا انگشتری و من نگینم ‘...

خرد واقف نہیں ہے نیک و – علامه اقبال – بالِ جبریل

خرد واقف نہیں ہے نیک و – علامه اقبال – بالِ جبریل

خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے بڑھی جاتی ہے ظالم اپنی حد سے خدا جانے مجھے کیا ہو گیا ہے خرد بیزار دل سے ، دل خرد سے!

شعور و ہوش و خرد کا – علامه اقبال – بالِ جبریل

شعور و ہوش و خرد کا – علامه اقبال – بالِ جبریل

شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب مقام شوق میں ہیں سب دل و نظر کے رقیب میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہو گا مسائل نظری میں الجھ گیا ہے خطیب اگرچہ میرے نشیمن کا کر رہا ہے طواف مری نوا میں نہیں طائر چمن کا نصیب سنا ہے میں نے سخن رس ہے ترک عثمانی سنائے کون اسے اقبال ...

گیسوئے تاب دار کو اور – علامه اقبال – بالِ جبریل

گیسوئے تاب دار کو اور – علامه اقبال – بالِ جبریل

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر ہوش و خرد شکار کر ، قلب و نظر شکار کر عشق بھی ہو حجاب میں ، حسن بھی ہو حجاب میں یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر تو ہے محیط بے کراں ، میں ہوں ذرا سی آبجو یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہ...

نے مہرہ باقی ، نے مہرہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

نے مہرہ باقی ، نے مہرہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

نے مہرہ باقی ، نے مہرہ بازی نے مہرہ باقی ، نے مہرہ بازی جیتا ہے رومی ، ہارا ہے رازی روشن ہے جام جمشید اب تک شاہی نہیں ہے بے شیشہ بازی دل ہے مسلماں میرا نہ تیرا تو بھی نمازی ، میں بھی نمازی! میں جانتا ہوں انجام اس کا جس معرکے میں ملا ہوں غازی ترکی بھی شیریں ، تازی بھی شیریں حرف محبت ترکی نہ تازی آزر ...

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں – علامه اقبال – بالِ جبریل

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں – علامه اقبال – بالِ جبریل

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں کا طلسم اک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا مہروماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں عشق کی اک جست نے طے کر...

تو ابھی رہ گزر میں ہے ، – علامه اقبال – بالِ جبریل

تو ابھی رہ گزر میں ہے ، – علامه اقبال – بالِ جبریل

تو ابھی رہ گزر میں ہے ، قید مقام سے گزر تو ابھی رہ گزر میں ہے ، قید مقام سے گزر مصر و حجاز سے گزر ، پارس و شام سے گزر جس کا عمل ہے بے غرض ، اس کی جزا کچھ اور ہے حور و خیام سے گزر ، بادہ و جام سے گزر گرچہ ہے دلکشا بہت حسن فرنگ کی بہار طائرک بلند بال ، دانہ و دام سے گزر کوہ شگاف تیری ضرب ، تجھ سے کشاد...

دین و سیاست – علامه اقبال – بالِ جبریل

دین و سیاست – علامه اقبال – بالِ جبریل

دین و سیاست کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی سماتی کہاں اس فقیری میں میری خصومت تھی سلطانی و راہبی میں کہ وہ سربلندی ہے یہ سربزیری سیاست نے مذہب سے پیچھا چھٹرایا چلی کچھ نہ پیر کلیسا کی پیری ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی ہوس کی امیری ، ہوس کی وزیری دوئی ملک و دیں کے لیے نامرادی دوئی چشم تہذیب کی نابصیری...

شاہیں – علامه اقبال – بالِ جبریل

شاہیں – علامه اقبال – بالِ جبریل

شاہیں کیا میں نے اس خاک داں سے کنارا جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ نہ باد بہاری ، نہ گلچیں ، نہ بلبل نہ بیماری نغمہ عاشقانہ خیابانیوں سے ہے پرہیز لازم ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ ہوائے بیاباں سے ہوتی ہے کاری جواں مرد کی ضربت غازیانہ حمام و ...

مجھے آہ و فغان نیم شب کا – علامه اقبال – بالِ جبریل

مجھے آہ و فغان نیم شب کا – علامه اقبال – بالِ جبریل

مجھے آہ و فغان نیم شب کا پھر پیام آیا مجھے آہ و فغان نیم شب کا پھر پیام آیا تھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا ذرا تقدیر کی گہرائیوں میں ڈوب جا تو بھی کہ اس جنگاہ سے میں بن کے تیغ بے نیام آیا یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا چل ، اے میری غریبی...

وہ میرا رونق محفل کہاں – علامه اقبال – بالِ جبریل

وہ میرا رونق محفل کہاں – علامه اقبال – بالِ جبریل

وہ میرا رونق محفل کہاں ہے وہ میرا رونق محفل کہاں ہے مری بجلی ، مرا حاصل کہاں ہے مقام اس کا ہے دل کی خلوتوں میں خدا جانے مقام دل کہاں ہے!

اقبال نے کل اہل خیاباں – علامه اقبال – بالِ جبریل

اقبال نے کل اہل خیاباں – علامه اقبال – بالِ جبریل

اقبال نے کل اہل خیاباں کو سنایا اقبال نے کل اہل خیاباں کو سنایا یہ شعر نشاط آور و پر سوز طرب ناک میں صورت گل دست صبا کا نہیں محتاج کرتا ہے مرا جوش جنوں میری قبا چاک

خانقاہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

خانقاہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

خانقاہ رمز و ایما اس زمانے کے لیے موزوں نہیں اور آتا بھی نہیں مجھ کو سخن سازی کا فن ‘قم باذن اللہ’ کہہ سکتے تھے جو ، رخصت ہوئے خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن!

رہ و رسم حرم نا محرمانہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

رہ و رسم حرم نا محرمانہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

رہ و رسم حرم نا محرمانہ رہ و رسم حرم نا محرمانہ کلیسا کی ادا سوداگرانہ تبرک ہے مرا پیراہن چاک نہیں اہل جنوں کا یہ زمانہ

کبھی تنہائی کوہ و دمن – علامه اقبال – بالِ جبریل

کبھی تنہائی کوہ و دمن – علامه اقبال – بالِ جبریل

کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق کبھی سوز و سرور و انجمن عشق کبھی سرمایہ محراب و منبر کبھی مولا علی خیبر شکن عشق!

مسلماں کے لہو میں ہے – علامه اقبال – بالِ جبریل

مسلماں کے لہو میں ہے – علامه اقبال – بالِ جبریل

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا مروت حسن عالم گیر ہے مردان غازی کا شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندان مکتب سے سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا بہت مدت کے نخچیروں کا انداز نگہ بدلا کہ میں نے فاش کر ڈالا طریقہ شاہبازی کا قلندر جز دو حرف لاالہ کچھ بھی نہی...

یورپ سے ایک خط – علامه اقبال – بالِ جبریل

یورپ سے ایک خط – علامه اقبال – بالِ جبریل

یورپ سے ایک خط ہم خوگر محسوس ہیں ساحل کے خریدار اک بحر پر آشوب و پر اسرار ہے رومی تو بھی ہے اسی قافلہء شوق میں اقبال جس قافلہء شوق کا سالار ہے رومی اس عصر کو بھی اس نے دیا ہے کوئی پیغام؟ کہتے ہیں چراغ رہ احرار ہے رومی جواب کہ نباید خورد و جو ہمچوں خراں آہوانہ در ختن چر ارغواں ہر کہ کاہ و جو خورد قرب...

پریشاں ہوکے میری خاک آخر – علامه اقبال – بالِ جبریل

پریشاں ہوکے میری خاک آخر – علامه اقبال – بالِ جبریل

پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن جائے پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن جائے جو مشکل اب ہے یارب پھر وہی مشکل نہ بن جائے نہ کر دیں مجھ کو مجبور نوا فردوس میں حوریں مرا سوز دروں پھر گرمی محفل نہ بن جائے کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو کھٹک سی ہے ، جو سینے میں ، غم منزل نہ بن جائے بنایا عش...

خودی کی شوخی و تندی میں – علامه اقبال – بالِ جبریل

خودی کی شوخی و تندی میں – علامه اقبال – بالِ جبریل

خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں جو ناز ہو بھی تو بے لذت نیاز نہیں نگاہ عشق دل زندہ کی تلاش میں ہے شکار مردہ سزاوار شاہباز نہیں مری نوا میں نہیں ہے ادائے محبوبی کہ بانگ صور سرافیل دل نواز نہیں سوال مے نہ کروں ساقی فرنگ سے میں کہ یہ طریقہ رندان پاک باز نہی...

شیر اور خچر – علامه اقبال – بالِ جبریل

شیر اور خچر – علامه اقبال – بالِ جبریل

شیر اور خچر شیر ساکنان دشت و صحرا میں ہے تو سب سے الگ کون ہیں تیرے اب و جد ، کس قبیلے سے ہے تو؟ خچر میرے ماموں کو نہیں پہچانتے شاید حضور وہ صبا رفتار ، شاہی اصطبل کی آبرو! ماخوذ ازجرمن

گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا قافلہ گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا قافلہ وائے وہ رہرو کہ ہے منتظر راحuلہ! تیری طبیعت ہے اور ، تیرا زمانہ ہے اور تیرے موافق نہیں خانقہی سلسلہ دل ہو غلام خرد یا کہ امام خرد سالک رہ ، ہوشیار! سخت ہے یہ مرحلہ اس کی خودی ہے ابھی شام و سحر میں اسیر گردش دوراں کا ہے جس کی زباں ...

ہر اک ذرے میں ہے شاید – علامه اقبال – بالِ جبریل

ہر اک ذرے میں ہے شاید – علامه اقبال – بالِ جبریل

ہر اک ذرے میں ہے شاید مکیں دل ہر اک ذرے میں ہے شاید مکیں دل اسی جلوت میں ہے خلوت نشیں دل اسیر دوش و فردا ہے و لیکن غلام گردش دوراں نہیں دل

اثر کرے نہ کرے ، سن تو – علامه اقبال – بالِ جبریل

اثر کرے نہ کرے ، سن تو – علامه اقبال – بالِ جبریل

اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریاد اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریاد نہیں ہے داد کا طالب یہ بندہء آزاد یہ مشت خاک ، یہ صرصر ، یہ وسعت افلاک کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد! ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمہء گل یہی ہے فصل بہاری ، یہی ہے باد مراد؟ قصور وار ، غریب الدیار ہوں لیکن ترا خرابہ فرشتے نہ کر...

تری نگاہ فرومایہ ، ہاتھ – علامه اقبال – بالِ جبریل

تری نگاہ فرومایہ ، ہاتھ – علامه اقبال – بالِ جبریل

تری نگاہ فرومایہ ، ہاتھ ہے کوتاہ تری نگاہ فرومایہ ، ہاتھ ہے کوتاہ ترا گنہ کہ نخیل بلند کا ہے گناہ گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا کہاں سے آئے صدا ‘لا الہ الا اللہ’ خودی میں گم ہے خدائی ، تلاش کر غافل! یہی ہے تیرے لیے اب صلاح کار کی راہ حدیث دل کسی درویش بے گلیم سے پوچھ خدا کرے تجھے تیر...

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش – علامه اقبال – بالِ جبریل

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش – علامه اقبال – بالِ جبریل

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام! پیر حرم نے کہا سن کے مری روئداد پختہ ہے تیری فغاں ، اب نہ اسے دل میں تھام تھا ارنی گو کلیم ، میں ارنی گو نہیں اس کو تقاضا روا ، مجھ پہ تقاضا حرام گرچہ ہے افشائے راز ، اہل نظر کی فغاں ہو نہیں سکتا...

فطرت کو خرد کے روبرو کر – علامه اقبال – بالِ جبریل

فطرت کو خرد کے روبرو کر – علامه اقبال – بالِ جبریل

فطرت کو خرد کے روبرو کر فطرت کو خرد کے روبرو کر تسخیر مقام رنگ و بو کر تو اپنی خودی کو کھو چکا ہے کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر تاروں کی فضا ہے بیکرانہ تو بھی یہ مقام آرزو کر عریاں ہیں ترے چمن کی حوریں چاک گل و لالہ کو رفو کر بے ذوق نہیں اگرچہ فطرت جو اس سے نہ ہو سکا ، وہ تو کر!

مری نوا سے ہوئے زندہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

مری نوا سے ہوئے زندہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی دیا ہے میں نے انھیں ذوق آتش آشامی حرم کے پاس کوئی اعجمی ہے زمزمہ سنج کہ تار تار ہوئے جامہ ہائے احرامی حقیقت ابدی ہے مقام شبیری بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی مجھے یہ ڈر ہے مقامر ہیں پختہ کار بہت نہ رنگ لائے کہیں تیرے ہاتھ کی خامی عج...

ہے یاد مجھے نکتہ سلمان – علامه اقبال – بالِ جبریل

ہے یاد مجھے نکتہ سلمان – علامه اقبال – بالِ جبریل

ہے یاد مجھے نکتہ سلمان خوش آہنگ ہے یاد مجھے نکتہ سلمان خوش آہنگ دنیا نہیں مردان جفاکش کے لیے تنگ چیتے کا جگر چاہیے ، شاہیں کا تجسس جی سکتے ہیں بے روشنی دانش و فرہنگ کر بلبل و طاؤس کی تقلید سے توبہ بلبل فقط آواز ہے ، طاؤس فقط رنگ! سلمان: مسعود سور سلیمان – غزنوی دور کانامور ایرانی شاعر جو غالبا...

پروانہ اور جگنو – علامه اقبال – بالِ جبریل

پروانہ اور جگنو – علامه اقبال – بالِ جبریل

پروانہ اور جگنو پروانہ پروانے کی منزل سے بہت دور ہے جگنو کیوں آتش بے سوز پہ مغرور ہے جگنو جگنو اللہ کا سو شکر کہ پروانہ نہیں میں دریوزہ گر آتش بیگانہ نہیں میں

حال و مقام – علامه اقبال – بالِ جبریل

حال و مقام – علامه اقبال – بالِ جبریل

حال و مقام دل زندہ و بیدار اگر ہو تو بتدریج بندے کو عطا کرتے ہیں چشم نگراں اور احوال و مقامات پہ موقوف ہے سب کچھ ہر لحظہ ہے سالک کا زماں اور مکاں اور الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں کرگس کا جہاں اور ہے ، شاہیں کا جہاں اور

ستارے کا پیغام – علامه اقبال – بالِ جبریل

ستارے کا پیغام – علامه اقبال – بالِ جبریل

ستارے کا پیغام مجھے ڈرا نہیں سکتی فضا کی تاریکی مری سرشت میں ہے پاکی و درخشانی تو اے مسافر شب! خود چراغ بن اپنا کر اپنی رات کو داغ جگر سے نورانی

کریں گے اہل نظر تازہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

کریں گے اہل نظر تازہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد یہ مدرسہ ، یہ جواں ، یہ سرور و رعنائی انھی کے دم سے ہے میخانہ فرنگ آباد نہ فلسفی سے ، نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو یہ دل کی موت ، وہ اندیشہ و نظر کا فساد فقیہ شہر کی تحقیر! کیا مجال مری مگر یہ بات کہ میں ڈھو...

نگہ الجھی ہوئی ہے رنگ و – علامه اقبال – بالِ جبریل

نگہ الجھی ہوئی ہے رنگ و – علامه اقبال – بالِ جبریل

نگہ الجھی ہوئی ہے رنگ و بو میں نگہ الجھی ہوئی ہے رنگ و بو میں خرد کھوئی گئی ہے چار سو میں نہ چھوڑ اے دل فغان صبح گاہی اماں شاید ملے ، اللہ ھو میں!

یوں ہاتھ نہیں آتا وہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

یوں ہاتھ نہیں آتا وہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہر یک دانہ یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہر یک دانہ یک رنگی و آزادی اے ہمت مردانہ! یا سنجر و طغرل کا آئین جہاں گیری یا مرد قلندر کے انداز ملوکانہ! یا حیرت فارابی یا تاب و تب رومی یا فکر حکیمانہ یا جذب کلیمانہ! یا عقل کی روباہی یا عشق ید اللہی یا حیلہ افرنگی یا حملہ ترکانہ! یا شرع مسل...

ترا جوہر ہے نوری ، پاک – علامه اقبال – بالِ جبریل

ترا جوہر ہے نوری ، پاک – علامه اقبال – بالِ جبریل

ترا جوہر ہے نوری ، پاک ہے تو ترا جوہر ہے نوری ، پاک ہے تو فروغ دیدۂ افلاک ہے تو ترے صید زبوں افرشتہ و حور کہ شاہین شہ لولاک ہے تو!

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر – علامه اقبال – بالِ جبریل

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر – علامه اقبال – بالِ جبریل

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ سکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ نہ بادہ ہے ، نہ صراحی ، نہ دور پیمانہ فقط نگاہ سے رنگیں ہے بزم جانانہ مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ کہ میں ہوں محرم راز درون میخانہ کلی کو دیکھ کہ ہے تشنہ نسیم سحر اسی میں ہے مرے دل کا تمام افسانہ ...

ظلام بحر میں کھو کر – علامه اقبال – بالِ جبریل

ظلام بحر میں کھو کر – علامه اقبال – بالِ جبریل

ظلام بحر میں کھو کر سنبھل جا ظلام بحر میں کھو کر سنبھل جا تڑپ جا ، پیچ کھا کھا کر بدل جا نہیں ساحل تری قسمت میں اے موج ابھر کر جس طرف چاہے نکل جا!

گدائی – علامه اقبال – بالِ جبریل

گدائی – علامه اقبال – بالِ جبریل

گدائی مے کدے میں ایک دن اک رند زیرک نے کہا ہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے حیا تاج پہنایا ہے کس کی بے کلاہی نے اسے کس کی عریانی نے بخشی ہے اسے زریں قبا اس کے آب لالہ گوں کی خون دہقاں سے کشید تیرے میرے کھیت کی مٹی ہے اس کی کیمیا اس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہوئی دینے والا کون ہے ، مرد غریب و بے ن...

ہر اک مقام سے آگے گزر – علامه اقبال – بالِ جبریل

ہر اک مقام سے آگے گزر – علامه اقبال – بالِ جبریل

ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو کمال کس کو میسر ہوا ہے بے تگ و دو نفس کے زور سے وہ غنچہ وا ہوا بھی تو کیا جسے نصیب نہیں آفتاب کا پرتو نگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل بھی کہ دل کو حق نے کیا ہے نگاہ کا پیرو پنپ سکا نہ خیاباں میں لالہ دل سوز کہ ساز گار نہیں یہ جہان گندم و ...

ابوالعلا معری – علامه اقبال – بالِ جبریل

ابوالعلا معری – علامه اقبال – بالِ جبریل

ابوالعلا معری کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معری پھل پھول پہ کرتا تھا ہمیشہ گزر اوقات اک دوست نے بھونا ہوا تیتر اسے بھیجا شاید کہ وہ شاطر اسی ترکیب سے ہو مات یہ خوان تر و تازہ معری نے جو دیکھا کہنے لگا وہ صاحب غفران و لزومات اے مرغک بیچارہ! ذرا یہ تو بتا تو تیرا وہ گنہ کیا تھا یہ ہے جس کی مکافات؟ ...

جبریل و ابلیس – علامه اقبال – بالِ جبریل

جبریل و ابلیس – علامه اقبال – بالِ جبریل

جبریل و ابلیس جبریل ہمدم دیرینہ! کیسا ہے جہان رنگ و بو؟ ابلیس سوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزو جبریل ہر گھڑی افلاک پر رہتی ہے تیری گفتگو کیا نہیں ممکن کہ تیرا چاک دامن ہو رفو؟ ابلیس آہ اے جبریل! تو واقف نہیں اس راز سے کر گیا سرمست مجھ کو ٹوٹ کر میرا سبو اب یہاں میری گزر ممکن نہیں ، ممکن نہیں کس ...

رگوں میں وہ لہو باقی – علامه اقبال – بالِ جبریل

رگوں میں وہ لہو باقی – علامه اقبال – بالِ جبریل

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے وہ دل ، وہ آرزو باقی نہیں ہے نماز و روزہ و قربانی و حج یہ سب باقی ہیں ، تو باقی نہیں ہے

فرشتے آدم کو جنت سے رخصت – علامه اقبال – بالِ جبریل

فرشتے آدم کو جنت سے رخصت – علامه اقبال – بالِ جبریل

فرشتے آدم کو جنت سے رخصت کرتے ہیں عطا ہوئی ہے تجھے روزوشب کی بیتابی خبر نہیں کہ تو خاکی ہے یا کہ سیمابی سنا ہے ، خاک سے تیری نمود ہے ، لیکن تری سرشت میں ہے کوکبی و مہ تابی جمال اپنا اگر خواب میں بھی تو دیکھے ہزار ہوش سے خوشتر تری شکر خوابی گراں بہا ہے ترا گریہء سحر گاہی اسی سے ہے ترے نخل کہن کی شادا...