پوچھ اس سے کہ مقبول ہے – علامه اقبال – بالِ جبریل

پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی تو صاحب منزل ہے کہ بھٹکا ہوا…

Read More..

خودی کے زور سے دنیا پہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

خودی کے زور سے دنیا پہ چھا جا خودی کے زور سے دنیا پہ چھا جا مقام رنگ و بو کا راز پا جا برنگ…

Read More..

ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا – علامه اقبال – بالِ جبریل

ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز بچھائی ہے جو…

Read More..

کبھی آوارہ و بے خانماں – علامه اقبال – بالِ جبریل

کبھی آوارہ و بے خانماں عشق کبھی آوارہ و بے خانماں عشق کبھی شاہ شہاں نوشیرواں عشق کبھی میداں میں آتا ہے زرہ پوش کبھی…

Read More..

میر سپاہ ناسزا ، لشکریاں – علامه اقبال – بالِ جبریل

میر سپاہ ناسزا ، لشکریاں شکستہ صف میر سپاہ ناسزا ، لشکریاں شکستہ صف آہ! وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف…

Read More..

ابلیس کی عرضداشت – علامه اقبال – بالِ جبریل

ابلیس کی عرضداشت کہتا تھا عزازیل خداوند جہاں سے پرکالہء آتش ہوئی آدم کی کف خاک! جاں لاغر و تن فربہ و ملبوس بدن زیب…

Read More..

تازہ پھر دانش حاضر نے – علامه اقبال – بالِ جبریل

تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب کلیم…

Read More..

دل بیدار فاروقی ، دل – علامه اقبال – بالِ جبریل

دل بیدار فاروقی ، دل بیدار کراری دل بیدار فاروقی ، دل بیدار کراری مس آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری دل…

Read More..

عطا اسلاف کا جذب دروں کر – علامه اقبال – بالِ جبریل

عطا اسلاف کا جذب دروں کر عطا اسلاف کا جذب دروں کر شریک زمرۂ لا یحزنوں ، کر خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں مرے…

Read More..

محبت – علامه اقبال – بالِ جبریل

محبت شہید محبت نہ کافر نہ غازی محبت کی رسمیں نہ ترکی نہ تازی وہ کچھ اور شے ہے ، محبت نہیں ہے سکھاتی ہے…

Read More..

ہوا نہ زور سے اس کے کوئی – علامه اقبال – بالِ جبریل

ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک اگرچہ مغربیوں کا جنوں بھی تھا چالاک…

Read More..

الارض للہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

الارض للہ پالتا ہے بیج کو مٹی کو تاریکی میں کون کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب؟ کون لایا کھینچ کر پچھم سے…

Read More..

حکیمی ، نامسلمانی خودی – علامه اقبال – بالِ جبریل

حکیمی ، نامسلمانی خودی کی حکیمی ، نامسلمانی خودی کی کلیمی ، رمز پنہانی خودی کی تجھے گر فقر و شاہی کا بتا دوں غریبی…

Read More..

ستاروں سے آگے جہاں اور – علامه اقبال – بالِ جبریل

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی ، زندگی سے…

Read More..

فلسفی – علامه اقبال – بالِ جبریل

فلسفی بلند بال تھا ، لیکن نہ تھا جسور و غیور حکیم سر محبت سے بے نصیب رہا پھرا فضاؤں میں کرگس اگرچہ شاہیں وار…

Read More..

نپولین کے مزار پر – علامه اقبال – بالِ جبریل

نپولین کے مزار پر راز ہے ، راز ہے تقدیر جہان تگ و تاز جوش کردار سے کھل جاتے ہیں تقدیر کے راز جوش کردار…

Read More..

یہ کون غزل خواں ہے پرسوز – علامه اقبال – بالِ جبریل

یہ کون غزل خواں ہے پرسوز و نشاط انگیز یہ کون غزل خواں ہے پرسوز و نشاط انگیز اندیشہ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز…

Read More..

تاتاری کا خواب – علامه اقبال – بالِ جبریل

تاتاری کا خواب کہیں سجادہ و عمامہ رہزن کہیں ترسا بچوں کی چشم بے باک! ردائے دین و ملت پارہ پارہ قبائے ملک و دولت…

Read More..

خرد واقف نہیں ہے نیک و – علامه اقبال – بالِ جبریل

خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے بڑھی جاتی ہے ظالم اپنی حد سے خدا جانے…

Read More..

شعور و ہوش و خرد کا – علامه اقبال – بالِ جبریل

شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب مقام شوق میں ہیں سب دل و…

Read More..

گیسوئے تاب دار کو اور – علامه اقبال – بالِ جبریل

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر ہوش و خرد شکار کر ، قلب…

Read More..

نے مہرہ باقی ، نے مہرہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

نے مہرہ باقی ، نے مہرہ بازی نے مہرہ باقی ، نے مہرہ بازی جیتا ہے رومی ، ہارا ہے رازی روشن ہے جام جمشید…

Read More..

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں – علامه اقبال – بالِ جبریل

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا…

Read More..

تو ابھی رہ گزر میں ہے ، – علامه اقبال – بالِ جبریل

تو ابھی رہ گزر میں ہے ، قید مقام سے گزر تو ابھی رہ گزر میں ہے ، قید مقام سے گزر مصر و حجاز…

Read More..

دین و سیاست – علامه اقبال – بالِ جبریل

دین و سیاست کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی سماتی کہاں اس فقیری میں میری خصومت تھی سلطانی و راہبی میں کہ وہ سربلندی ہے یہ…

Read More..

شاہیں – علامه اقبال – بالِ جبریل

شاہیں کیا میں نے اس خاک داں سے کنارا جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو…

Read More..

مجھے آہ و فغان نیم شب کا – علامه اقبال – بالِ جبریل

مجھے آہ و فغان نیم شب کا پھر پیام آیا مجھے آہ و فغان نیم شب کا پھر پیام آیا تھم اے رہرو کہ شاید…

Read More..

وہ میرا رونق محفل کہاں – علامه اقبال – بالِ جبریل

وہ میرا رونق محفل کہاں ہے وہ میرا رونق محفل کہاں ہے مری بجلی ، مرا حاصل کہاں ہے مقام اس کا ہے دل کی…

Read More..

اقبال نے کل اہل خیاباں – علامه اقبال – بالِ جبریل

اقبال نے کل اہل خیاباں کو سنایا اقبال نے کل اہل خیاباں کو سنایا یہ شعر نشاط آور و پر سوز طرب ناک میں صورت…

Read More..

خانقاہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

خانقاہ رمز و ایما اس زمانے کے لیے موزوں نہیں اور آتا بھی نہیں مجھ کو سخن سازی کا فن ‘قم باذن اللہ’ کہہ سکتے…

Read More..

رہ و رسم حرم نا محرمانہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

رہ و رسم حرم نا محرمانہ رہ و رسم حرم نا محرمانہ کلیسا کی ادا سوداگرانہ تبرک ہے مرا پیراہن چاک نہیں اہل جنوں کا…

Read More..

کبھی تنہائی کوہ و دمن – علامه اقبال – بالِ جبریل

کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق کبھی سوز و سرور و انجمن عشق کبھی سرمایہ محراب و منبر کبھی…

Read More..

مسلماں کے لہو میں ہے – علامه اقبال – بالِ جبریل

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا مروت حسن عالم گیر ہے مردان غازی…

Read More..

یورپ سے ایک خط – علامه اقبال – بالِ جبریل

یورپ سے ایک خط ہم خوگر محسوس ہیں ساحل کے خریدار اک بحر پر آشوب و پر اسرار ہے رومی تو بھی ہے اسی قافلہء…

Read More..

پریشاں ہوکے میری خاک آخر – علامه اقبال – بالِ جبریل

پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن جائے پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن جائے جو مشکل اب ہے یارب پھر وہی…

Read More..

خودی کی شوخی و تندی میں – علامه اقبال – بالِ جبریل

خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں جو ناز ہو بھی تو…

Read More..

شیر اور خچر – علامه اقبال – بالِ جبریل

شیر اور خچر شیر ساکنان دشت و صحرا میں ہے تو سب سے الگ کون ہیں تیرے اب و جد ، کس قبیلے سے ہے…

Read More..

گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا قافلہ گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا قافلہ وائے وہ رہرو کہ ہے منتظر راحuلہ!…

Read More..

ہر اک ذرے میں ہے شاید – علامه اقبال – بالِ جبریل

ہر اک ذرے میں ہے شاید مکیں دل ہر اک ذرے میں ہے شاید مکیں دل اسی جلوت میں ہے خلوت نشیں دل اسیر دوش…

Read More..

اثر کرے نہ کرے ، سن تو – علامه اقبال – بالِ جبریل

اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریاد اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریاد نہیں ہے داد کا طالب…

Read More..

تری نگاہ فرومایہ ، ہاتھ – علامه اقبال – بالِ جبریل

تری نگاہ فرومایہ ، ہاتھ ہے کوتاہ تری نگاہ فرومایہ ، ہاتھ ہے کوتاہ ترا گنہ کہ نخیل بلند کا ہے گناہ گلا تو گھونٹ…

Read More..

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش – علامه اقبال – بالِ جبریل

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام! پیر حرم…

Read More..

فطرت کو خرد کے روبرو کر – علامه اقبال – بالِ جبریل

فطرت کو خرد کے روبرو کر فطرت کو خرد کے روبرو کر تسخیر مقام رنگ و بو کر تو اپنی خودی کو کھو چکا ہے…

Read More..

مری نوا سے ہوئے زندہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی دیا ہے میں نے انھیں ذوق آتش آشامی حرم…

Read More..

ہے یاد مجھے نکتہ سلمان – علامه اقبال – بالِ جبریل

ہے یاد مجھے نکتہ سلمان خوش آہنگ ہے یاد مجھے نکتہ سلمان خوش آہنگ دنیا نہیں مردان جفاکش کے لیے تنگ چیتے کا جگر چاہیے…

Read More..

پروانہ اور جگنو – علامه اقبال – بالِ جبریل

پروانہ اور جگنو پروانہ پروانے کی منزل سے بہت دور ہے جگنو کیوں آتش بے سوز پہ مغرور ہے جگنو جگنو اللہ کا سو شکر…

Read More..

حال و مقام – علامه اقبال – بالِ جبریل

حال و مقام دل زندہ و بیدار اگر ہو تو بتدریج بندے کو عطا کرتے ہیں چشم نگراں اور احوال و مقامات پہ موقوف ہے…

Read More..

ستارے کا پیغام – علامه اقبال – بالِ جبریل

ستارے کا پیغام مجھے ڈرا نہیں سکتی فضا کی تاریکی مری سرشت میں ہے پاکی و درخشانی تو اے مسافر شب! خود چراغ بن اپنا…

Read More..

کریں گے اہل نظر تازہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد یہ مدرسہ ، یہ…

Read More..

نگہ الجھی ہوئی ہے رنگ و – علامه اقبال – بالِ جبریل

نگہ الجھی ہوئی ہے رنگ و بو میں نگہ الجھی ہوئی ہے رنگ و بو میں خرد کھوئی گئی ہے چار سو میں نہ چھوڑ…

Read More..

یوں ہاتھ نہیں آتا وہ – علامه اقبال – بالِ جبریل

یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہر یک دانہ یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہر یک دانہ یک رنگی و آزادی اے ہمت مردانہ! یا سنجر…

Read More..

ترا جوہر ہے نوری ، پاک – علامه اقبال – بالِ جبریل

ترا جوہر ہے نوری ، پاک ہے تو ترا جوہر ہے نوری ، پاک ہے تو فروغ دیدۂ افلاک ہے تو ترے صید زبوں افرشتہ…

Read More..

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر – علامه اقبال – بالِ جبریل

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ سکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ نہ بادہ…

Read More..

ظلام بحر میں کھو کر – علامه اقبال – بالِ جبریل

ظلام بحر میں کھو کر سنبھل جا ظلام بحر میں کھو کر سنبھل جا تڑپ جا ، پیچ کھا کھا کر بدل جا نہیں ساحل…

Read More..

گدائی – علامه اقبال – بالِ جبریل

گدائی مے کدے میں ایک دن اک رند زیرک نے کہا ہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے حیا تاج پہنایا ہے کس کی بے…

Read More..

ہر اک مقام سے آگے گزر – علامه اقبال – بالِ جبریل

ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو کمال کس کو میسر ہوا ہے بے…

Read More..

ابوالعلا معری – علامه اقبال – بالِ جبریل

ابوالعلا معری کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معری پھل پھول پہ کرتا تھا ہمیشہ گزر اوقات اک دوست نے بھونا ہوا تیتر اسے…

Read More..

جبریل و ابلیس – علامه اقبال – بالِ جبریل

جبریل و ابلیس جبریل ہمدم دیرینہ! کیسا ہے جہان رنگ و بو؟ ابلیس سوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزو جبریل…

Read More..

رگوں میں وہ لہو باقی – علامه اقبال – بالِ جبریل

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے وہ دل ، وہ آرزو باقی نہیں ہے نماز و روزہ…

Read More..

فرشتے آدم کو جنت سے رخصت – علامه اقبال – بالِ جبریل

فرشتے آدم کو جنت سے رخصت کرتے ہیں عطا ہوئی ہے تجھے روزوشب کی بیتابی خبر نہیں کہ تو خاکی ہے یا کہ سیمابی سنا…

Read More..