Iqbal – Armaghane Hejaz

معزول شہنشاہ – علامه اقبال – ارمغان حجاز

معزول شہنشاہ – علامه اقبال – ارمغان حجاز

معزول شہنشاہ ہو مبارک اس شہنشاہ نکو فرجام کو جس کی قربانی سے اسرار ملوکیت ہیں فاش ‘شاہ’ ہے برطانوی مندر میں اک مٹی کا بت جس کو کر سکتے ہیں، جب چاہیں پجاری پاش پاش ہے یہ مشک آمیز افیوں ہم غلاموں کے لیے ساحر انگلیس! مارا خواجہ دیگر تراش

خرد کی تنگ دامانی سے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

خرد کی تنگ دامانی سے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

خرد کی تنگ دامانی سے فریاد خرد کی تنگ دامانی سے فریاد تجلی کی فراوانی سے فریاد گوارا ہے اسے نظارۂ غیر نگہ کی نا مسلمانی سے فریاد

بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا اس دشت سے بہتر ہے نہ دلی نہ بخارا جس سمت میں چاہے صفت سیل رواں چل وادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا غیرت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں پہناتی ہے درویش کو تاج سر دارا حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہنر کر کہتے ہیں کہ شیشے کو بنا سکتے ہیں خارا ...

خرد دیکھے اگر دل کی نگہ – علامه اقبال – ارمغان حجاز

خرد دیکھے اگر دل کی نگہ – علامه اقبال – ارمغان حجاز

خرد دیکھے اگر دل کی نگہ سے خرد دیکھے اگر دل کی نگہ سے جہاں روشن ہے نور ‘لا الہ’ سے فقط اک گردش شام و سحر ہے اگر دیکھیں فروغ مہر و مہ سے

موت ہے اک سخت تر جس کا – علامه اقبال – ارمغان حجاز

موت ہے اک سخت تر جس کا – علامه اقبال – ارمغان حجاز

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام مکر و فن خواجگی کاش سمجھتا غلام! شرع ملوکانہ میں جدت احکام دیکھ صور کا غوغا حلال، حشر کی لذت حرام! اے کہ غلامی سے ہے روح تری مضمحل سینہء بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام!

دگرگوں جہاں ان کے زور – علامه اقبال – ارمغان حجاز

دگرگوں جہاں ان کے زور – علامه اقبال – ارمغان حجاز

دگرگوں جہاں ان کے زور عمل سے دگرگوں جہاں ان کے زور عمل سے بڑے معرکے زندہ قوموں نے مارے منجم کی تقویم فردا ہے باطل گرے آسماں سے پرانے ستارے ضمیر جہاں اس قدر آتشیں ہے کہ دریا کی موجوں سے ٹوٹے ستارے زمیں کو فراغت نہیں زلزلوں سے نمایاں ہیں فطرت کے باریک اشارے ہمالہ کے چشمے ابلتے ہیں کب تک خضر سوچتا ہے و...

تمام عارف و عامی خودی سے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

تمام عارف و عامی خودی سے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

تمام عارف و عامی خودی سے بیگانہ تمام عارف و عامی خودی سے بیگانہ کوئی بتائے یہ مسجد ہے یا کہ میخانہ یہ راز ہم سے چھپایا ہے میر واعظ نے کہ خود حرم ہے چراغ حرم کا پروانہ طلسم بے خبری، کافری و دیں داری حدیث شیخ و برہمن فسون و افسانہ نصیب خطہ ہو یا رب وہ بندۂ درویش کہ جس کے فقر میں انداز ہوں کلیمانہ چھپے...

ضمیر مغرب ہے تاجرانہ، – علامه اقبال – ارمغان حجاز

ضمیر مغرب ہے تاجرانہ، – علامه اقبال – ارمغان حجاز

ضمیر مغرب ہے تاجرانہ، ضمیر مشرق ہے راہبانہ ضمیر مغرب ہے تاجرانہ، ضمیر مشرق ہے راہبانہ وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ کنار دریا خضر نے مجھ سے کہا بہ انداز محرمانہ سکندری ہو، قلندری ہو، یہ سب طریقے ہیں ساحرانہ حریف اپنا سمجھ رہے ہیں مجھے خدایان خانقاہی انھیں یہ ڈر ہے کہ میرے نالوں سے ...

مسعود مرحوم – علامه اقبال – ارمغان حجاز

مسعود مرحوم – علامه اقبال – ارمغان حجاز

مسعود مرحوم یہ مہر و مہ، یہ ستارے یہ آسمان کبود کسے خبر کہ یہ عالم عدم ہے یا کہ وجود خیال جادہ و منزل فسانہ و افسوں کہ زندگی ہے سراپا رحیل بے مقصود رہی نہ آہ ، زمانے کے ہاتھ سے باقی وہ یادگار کمالات احمد و محمود زوال علم و ہنر مرگ ناگہاں اس کی وہ کارواں کا متاع گراں بہا مسعود! مجھے رلاتی ہے اہل جہاں...

دگرگوں عالم شام و سحر کر – علامه اقبال – ارمغان حجاز

دگرگوں عالم شام و سحر کر – علامه اقبال – ارمغان حجاز

دگرگوں عالم شام و سحر کر دگرگوں عالم شام و سحر کر جہان خشک و تر زیر و زبر کر رہے تیری خدائی داغ سے پاک مرے بے ذوق سجدوں سے حذر کر

تمیز خار و گل سے آشکارا – علامه اقبال – ارمغان حجاز

تمیز خار و گل سے آشکارا – علامه اقبال – ارمغان حجاز

تمیز خار و گل سے آشکارا تمیز خار و گل سے آشکارا نسیم صبح کی روشن ضمیری حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے اگر کانٹے میں ہو خوئے حریری

فراغت دے اسے کار جہاں سے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

فراغت دے اسے کار جہاں سے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

فراغت دے اسے کار جہاں سے فراغت دے اسے کار جہاں سے کہ چھوٹے ہر نفس کے امتحاں سے ہوا پیری سے شیطاں کہنہ اندیش گناہ تازہ تر لائے کہاں سے!

نشاں یہی ہے زمانے میں – علامه اقبال – ارمغان حجاز

نشاں یہی ہے زمانے میں – علامه اقبال – ارمغان حجاز

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں کمال صدق و مروت ہے زندگی ان کی معاف کرتی ہے فطرت بھی ان کی تقصیریں قلندرانہ ادائیں، سکندرانہ جلال یہ امتیں ہیں جہاں میں برہنہ شمشیریں خودی سے مرد خود آگاہ کا جمال و جلال کہ یہ کتاب ہے، باقی ت...

دراج کی پرواز میں ہے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

دراج کی پرواز میں ہے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

دراج کی پرواز میں ہے شوکت شاہیں دراج کی پرواز میں ہے شوکت شاہیں حیرت میں ہے صیاد، یہ شاہیں ہے کہ دراج! ہر قوم کے افکار میں پیدا ہے تلاطم مشرق میں ہے فردائے قیامت کی نمود آج فطرت کے تقاضوں سے ہوا حشر پہ مجبور وہ مردہ کہ تھا بانگ سرافیل کا محتاج

نکل کر خانقاہوں سے ادا – علامه اقبال – ارمغان حجاز

نکل کر خانقاہوں سے ادا – علامه اقبال – ارمغان حجاز

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری ترے دین و ادب سے آ رہی ہے بوئے رہبانی یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالم پیری شیاطین ملوکیت کی آنکھوں میں ہے وہ جادو کہ خود نخچیر کے دل میں ہو پیدا ذوق نخچیری چہ بے پروا گذشتند از نواے صبحگاہ من ...

کھلا جب چمن میں کتب خانۂ – علامه اقبال – ارمغان حجاز

کھلا جب چمن میں کتب خانۂ – علامه اقبال – ارمغان حجاز

کھلا جب چمن میں کتب خانۂ گل کھلا جب چمن میں کتب خانۂ گل نہ کام آیا ملا کو علم کتابی متانت شکن تھی ہوائے بہاراں غزل خواں ہوا پیرک اندرابی کہا لالہ آتشیں پیرہن نے کہ اسرار جاں کی ہوں میں بے حجابی سمجھتا ہے جو موت خواب لحد کو نہاں اس کی تعمیر میں ہے خرابی نہیں زندگی سلسلہ روز و شب کا نہیں زندگی مستی و ...

آج وہ کشمیر ہے محکوم و – علامه اقبال – ارمغان حجاز

آج وہ کشمیر ہے محکوم و – علامه اقبال – ارمغان حجاز

آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر سینہء افلاک سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک مرد حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امیر کہہ رہا ہے داستاں بیدردی ایام کی کوہ کے دامن میں وہ غم خانہء دہقان پیر آہ! یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ ہے کہاں روز مک...

خود آگاہی نے سکھلا دی ہے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

خود آگاہی نے سکھلا دی ہے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

خود آگاہی نے سکھلا دی ہے جس کو تن فراموشی خود آگاہی نے سکھلا دی ہے جس کو تن فراموشی حرام آئی ہے اس مرد مجاہد پر زرہ پوشی

حاجت نہیں اے خطہ گل شرح – علامه اقبال – ارمغان حجاز

حاجت نہیں اے خطہ گل شرح – علامه اقبال – ارمغان حجاز

حاجت نہیں اے خطہ گل شرح و بیاں کی حاجت نہیں اے خطہ گل شرح و بیاں کی تصویر ہمارے دل پر خوں کی ہے لالہ تقدیر ہے اک نام مکافات عمل کا دیتے ہیں یہ پیغام خدایان ہمالہ سرما کی ہواؤں میں ہے عریاں بدن اس کا دیتا ہے ہنر جس کا امیروں کو دوشالہ امید نہ رکھ دولت دنیا سے وفا کی رم اس کی طبیعت میں ہے مانند غزالہ

غریبی میں ہوں محسود – علامه اقبال – ارمغان حجاز

غریبی میں ہوں محسود – علامه اقبال – ارمغان حجاز

غریبی میں ہوں محسود امیری غریبی میں ہوں محسود امیری کہ غیرت مند ہے میری فقیری حذر اس فقر و درویشی سے، جس نے مسلماں کو سکھا دی سر بزیری

آزاد کی رگ سخت ہے مانند – علامه اقبال – ارمغان حجاز

آزاد کی رگ سخت ہے مانند – علامه اقبال – ارمغان حجاز

آزاد کی رگ سخت ہے مانند رگ سنگ آزاد کی رگ سخت ہے مانند رگ سنگ محکوم کی رگ نرم ہے مانند رگ تاک محکوم کا دل مردہ و افسردہ و نومید آزاد کا دل زندہ و پرسوز و طرب ناک آزاد کی دولت دل روشن، نفس گرم محکوم کا سرمایہ فقط دیدۂ نم ناک محکوم ہے بیگانہء اخلاص و مروت ہر چند کہ منطق کی دلیلوں میں ہے چالاک ممکن نہی...

سر اکبر حیدری، صدر اعظم – علامه اقبال – ارمغان حجاز

سر اکبر حیدری، صدر اعظم – علامه اقبال – ارمغان حجاز

سر اکبر حیدری، صدر اعظم حیدر آباد دکن کے نام تھا یہ اللہ کا فرماں کہ شکوہ پرویز دو قلندر کو کہ ہیں اس میں ملوکانہ صفات مجھ سے فرمایا کہ لے، اور شہنشاہی کر حسن تدبیر سے دے آنی و فانی کو ثبات میں تو اس بار امانت کو اٹھاتا سر دوش کام درویش میں ہر تلخ ہے مانند نبات غیرت فقر مگر کر نہ سکی اس کو قبول جب ک...

حدیث بندۂ مومن دل آویز – علامه اقبال – ارمغان حجاز

حدیث بندۂ مومن دل آویز – علامه اقبال – ارمغان حجاز

حدیث بندۂ مومن دل آویز حدیث بندۂ مومن دل آویز جگر پر خوں، نفس روشن، نگہ تیز میسر ہو کسے دیدار اس کا کہ ہے وہ رونق محفل کم آمیز

کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد – علامه اقبال – ارمغان حجاز

کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد – علامه اقبال – ارمغان حجاز

کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد کہ ہے مرد مسلماں کا لہو سرد بتوں کو میری لادینی مبارک کہ ہے آج آتش ‘اللہ ھو، سرد

ابلیس کی مجلس شوری – علامه اقبال – ارمغان حجاز

ابلیس کی مجلس شوری – علامه اقبال – ارمغان حجاز

ابلیس کی مجلس شوری ابلیس یہ عناصر کا پرانا کھیل، یہ دنیائے دوں ساکنان عرش اعظم کی تمناؤں کا خوں! اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز جس نے اس کا نام رکھا تھا جہان کاف و نوں میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا میں نے م...

سمجھا لہو کی بوند اگر تو – علامه اقبال – ارمغان حجاز

سمجھا لہو کی بوند اگر تو – علامه اقبال – ارمغان حجاز

سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر دل آدمی کا ہے فقط اک جذبہء بلند گردش مہ و ستارہ کی ہے ناگوار اسے دل آپ اپنے شام و سحر کا ہے نقش بند جس خاک کے ضمیر میں ہے آتش چنار ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند

ترے دریا میں طوفاں کیوں – علامه اقبال – ارمغان حجاز

ترے دریا میں طوفاں کیوں – علامه اقبال – ارمغان حجاز

ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے؟

کبھی دریا سے مثل موج – علامه اقبال – ارمغان حجاز

کبھی دریا سے مثل موج – علامه اقبال – ارمغان حجاز

کبھی دریا سے مثل موج ابھر کر کبھی دریا سے مثل موج ابھر کر کبھی دریا کے سینے میں اتر کر کبھی دریا کے ساحل سے گزر کر مقام اپنی خودی کا فاش تر کر

آواز غیب – علامه اقبال – ارمغان حجاز

آواز غیب – علامه اقبال – ارمغان حجاز

آواز غیب آتی ہے دم صبح صدا عرش بریں سے کھویا گیا کس طرح ترا جوہر ادراک! کس طرح ہوا کند ترا نشتر تحقیق ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک تو ظاہر و باطن کی خلافت کا سزاوار کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلام خس و خاشاک مہر و مہ و انجم نہیں محکوم ترے کیوں کیوں تری نگاہوں سے لرزتے نہیں افلاک اب تک ہے رواں گ...

رندوں کو بھی معلوم ہیں – علامه اقبال – ارمغان حجاز

رندوں کو بھی معلوم ہیں – علامه اقبال – ارمغان حجاز

رندوں کو بھی معلوم ہیں صوفی کے کمالات رندوں کو بھی معلوم ہیں صوفی کے کمالات ہر چند کہ مشہور نہیں ان کے کرامات خود گیری و خودداری و گلبانگ ‘انا الحق’ آزاد ہو سالک تو ہیں یہ اس کے مقامات محکوم ہو سالک تو یہی اس کا ‘ہمہ اوست’ خود مردہ و خود مرقد و خود مرگ مفاجات!

حسین احمد – علامه اقبال – ارمغان حجاز

حسین احمد – علامه اقبال – ارمغان حجاز

حسین احمد عجم ہنوز نداند رموز دیں، ورنہ ز دیوبند حسین احمد! ایں چہ بوالعجبی است سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است چہ بے خبر ز مقام محمد عربی است بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست اگر بہ او نرسیدی ، تمام بولہبی است

کہا اقبال نے شیخ حرم سے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

کہا اقبال نے شیخ حرم سے – علامه اقبال – ارمغان حجاز

کہا اقبال نے شیخ حرم سے کہا اقبال نے شیخ حرم سے تہ محراب مسجد سو گیا کون ندا مسجد کی دیواروں سے آئی فرنگی بت کدے میں کھو گیا کون؟

نہ کر ذکر فراق و آشنائی – علامه اقبال – ارمغان حجاز

نہ کر ذکر فراق و آشنائی – علامه اقبال – ارمغان حجاز

نہ کر ذکر فراق و آشنائی نہ کر ذکر فراق و آشنائی کہ اصل زندگی ہے خود نمائی نہ دریا کا زیاں ہے، نے گہر کا دل دریا سے گوہر کی جدائی

عالم برزخ – علامه اقبال – ارمغان حجاز

عالم برزخ – علامه اقبال – ارمغان حجاز

عالم برزخ مردہ اپنی قبر سے کیا شے ہے، کس امروز کا فردا ہے قیامت اے میرے شبستاں کہن! کیا ہے قیامت؟ قبر اے مردۂ صد سالہ! تجھے کیا نہیں معلوم؟ ہر موت کا پوشیدہ تقاضا ہے قیامت! مردہ جس موت کا پوشیدہ تقاضا ہے قیامت اس موت کے پھندے میں گرفتار نہیں میں ہر چند کہ ہوں مردۂ صد سالہ ولیکن ظلمت کدہ خاک سے بیزار...

حضرت انسان – علامه اقبال – ارمغان حجاز

حضرت انسان – علامه اقبال – ارمغان حجاز

حضرت انسان جہاں میں دانش و بینش کی ہے کس درجہ ارزانی کوئی شے چھپ نہیں سکتی کہ یہ عالم ہے نورانی کوئی دیکھے تو ہے باریک فطرت کا حجاب اتنا نمایاں ہیں فرشتوں کے تبسم ہائے پنہانی یہ دنیا دعوت دیدار ہے فرزند آدم کو کہ ہر مستور کو بخشا گیا ہے ذوق عریانی یہی فرزند آدم ہے کہ جس کے اشک خونیں سے کیا ہے حضرت ی...

مری شاخ امل کا ہے ثمر – علامه اقبال – ارمغان حجاز

مری شاخ امل کا ہے ثمر – علامه اقبال – ارمغان حجاز

مری شاخ امل کا ہے ثمر کیا مری شاخ امل کا ہے ثمر کیا تری تقدیر کی مجھ کو خبر کیا کلی گل کی ہے محتاج کشود آج نسیم صبح فردا پر نظر کیا!

پانی ترے چشموں کا تڑپتا – علامه اقبال – ارمغان حجاز

پانی ترے چشموں کا تڑپتا – علامه اقبال – ارمغان حجاز

پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب مرغان سحر تیری فضاؤں میں ہیں بیتاب اے وادی لولاب گر صاحب ہنگامہ نہ ہو منبر و محراب دیں بندۂ مومن کے لیے موت ہے یا خواب اے وادی لولاب ہیں ساز پہ موقوف نوا ہائے جگر سوز ڈھیلے ہوں اگر تار تو بے کار ہے مضراب اے وادی لولاب ملا کی نظر نور...

دوزخی کی مناجات – علامه اقبال – ارمغان حجاز

دوزخی کی مناجات – علامه اقبال – ارمغان حجاز

دوزخی کی مناجات اس دیر کہن میں ہیں غرض مند پجاری رنجیدہ بتوں سے ہوں تو کرتے ہیں خدا یاد پوجا بھی ہے بے سود، نمازیں بھی ہیں بے سود قسمت ہے غریبوں کی وہی نالہ و فریاد ہیں گرچہ بلندی میں عمارات فلک بوس ہر شہر حقیقت میں ہے ویرانہء آباد تیشے کی کوئی گردش تقدیر تو دیکھے سیراب ہے پرویز، جگر تشنہ ہے فرہاد ی...

چہ کافرانہ قمار حیات می – علامه اقبال – ارمغان حجاز

چہ کافرانہ قمار حیات می – علامه اقبال – ارمغان حجاز

چہ کافرانہ قمار حیات می بازی چہ کافرانہ قمار حیات می بازی کہ با زمانہ بسازی بخود نمی سازی دگر بمدرسہ ہائے حرم نمی بینم دل جنید و نگاہ غزالی و رازی بحکم مفتی اعظم کہ فطرت ازلیست بدین صعوہ حرام است کار شہبازی ہماں فقیہ ازل گفت جرہ شاہیں را بآسماں گروی با زمیں نہ پروازی منم کہ توبہ نہ کردم ز فاش گوئی ہ...

گرم ہو جاتا ہے جب محکوم – علامه اقبال – ارمغان حجاز

گرم ہو جاتا ہے جب محکوم – علامه اقبال – ارمغان حجاز

گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو تھرتھراتا ہے جہان چار سوے و رنگ و بو پاک ہوتا ہے ظن و تخمیں سے انساں کا ضمیر کرتا ہے ہر راہ کو روشن چراغ آرزو وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیں عشق سیتا ہے انھیں بے سوزن و تار رفو ضربت پیہم سے ہو جاتا ہے آخر پاش پاش حاکمیت ک...

آں عزم بلند آور آں سوز – علامه اقبال – ارمغان حجاز

آں عزم بلند آور آں سوز – علامه اقبال – ارمغان حجاز

آں عزم بلند آور آں سوز جگر آور آں عزم بلند آور آں سوز جگر آور شمشیر پدر خواہی بازوے پدر آور

غریب شہر ہوں میں، سن تو – علامه اقبال – ارمغان حجاز

غریب شہر ہوں میں، سن تو – علامه اقبال – ارمغان حجاز

غریب شہر ہوں میں، سن تو لے مری فریاد غریب شہر ہوں میں، سن تو لے مری فریاد کہ تیرے سینے میں بھی ہوں قیامتیں آباد مری نوائے غم آلود ہے متاع عزیز جہاں میں عام نہیں دولت دل ناشاد گلہ ہے مجھ کو زمانے کی کور ذوقی سے سمجھتا ہے مری محنت کو محنت فرہاد ” صدائے تیشہ کہ بر سنگ میخورد دگر است خبر بگیر کہ آ...

تصویر و مصور – علامه اقبال – ارمغان حجاز

تصویر و مصور – علامه اقبال – ارمغان حجاز

تصویر و مصور تصویر کہا تصویر نے تصویر گر سے نمائش ہے مری تیرے ہنر سے ولیکن کس قدر نا منصفی ہے کہ تو پوشیدہ ہو میری نظر سے! مصور گراں ہے چشم بینا دیدہ ور پر جہاں بینی سے کیا گزری شرر پر! نظر ، درد و غم و سوز و تب و تاب تو اے ناداں، قناعت کر خبر پر تصویر خبر، عقل و خرد کی ناتوانی نظر، دل کی حیات جاودا...