Iftikhar Raghib

نفرت کے تاجروں کو – افتخار راغب

نفرت کے تاجروں کو – افتخار راغب

غزل نفرت کے تاجروں کو محبت کی آرزو دوزخ کے باسیوں کو ہے جنت کی آرزو حکمت کی آرزو ہے نہ حیرت کی آرزو اہلِ جنوں کو شدّتِ وحشت کی آرزو رگ رگ میں جس کی جذب ہو مہر و وفا کا نوٗر دیوارِ عشق کو ہے اُسی چھت کی آرزو آئیں ہر اِک شجر پہ محبت کے برگ و بار پوری نہ ہو کسی کی شرارت کی آرزو دل کی تڑپ ہلاک ہ...

آگ سینے میں حسد – افتخار راغب

آگ سینے میں حسد – افتخار راغب

غزل آگ سینے میں حسد کی پل رہی ہے یا نہیں آپ کو شہرت ہماری کھل رہی ہے یا نہیں آپسی رنجش ہی دِل کو دَل رہی ہے یا نہیں دشمنوں کی دال ہر سو گل رہی ہے یا نہیں نفرتوں کی آندھیاں چلتی رہیں ہر دور میں چاہتوں کی شمع پھر بھی جل رہی ہے یا نہیں کارگاہِ زیست میں دکھلا کے ہم کو سبز باغ اے حسیں دنیا ہمیں تو چھ...

تجھے کیا پتا تجھے – افتخار راغب

تجھے کیا پتا تجھے – افتخار راغب

غزل تجھے کیا پتا تجھے کیا خبر مِرے بے خبر تجھے چاہتا ہوں میں کس قدر مِرے بے خبر مِرے دل کی دیکھنا تشنگی مِری زندگی کبھی آ ملو کسی موڑ پر مِرے بے خبر مِرے دل کو ہے تِری جستجو مِرے خوب رو تجھے ڈھونڈتی ہے مِری نظر مِرے بے خبر تجھے چاہنا مِری بھول ہے یہ قبول ہے نہیں مانتا دلِ فتنہ گر مِرے بے خبر تجھے ک...

چشمِ حیرت کی تڑپ – افتخار راغب

چشمِ حیرت کی تڑپ – افتخار راغب

غزل چشمِ حیرت کی تڑپ دُور کریں خود کو اب اور نہ مستور کریں فرطِ جذبات میں کیا کہہ بیٹھوں لب کشائی پہ نہ مجبور کریں اپنے ہونٹوں پہ سجا کر کسی دن میرا اِک شعر تو مشہور کریں بول کر یوں ہی ہمارے بھی خلاف دوستوں کو کبھی مسرور کریں سنگِ رہ ہوں تو لگائیں ٹھوکر آئنہ ہوں تو مجھے چور کریں اِتنی چاہت سے کرم ف...

روٹھ جائے گی نظر – افتخار راغب

روٹھ جائے گی نظر – افتخار راغب

غزل روٹھ جائے گی نظر آنکھوں سے مت بہا خونِ جگر آنکھوں سے مول آنکھوں کا کوئی کیا دے گا ہیچ ہیں لعل و گہر آنکھوں سے ہم کہ بس دیکھ رہے ہیں اور وہ کام لیتے ہیں دِگر آنکھوں سے کون سمجھائے اب اس قاتل کو کُند ہیں تیر و تبر آنکھوں سے ہم کو مَے خوار ہی سمجھو لوگو ہم بھی پیتے ہیں مگر آنکھوں سے کیسے چین...

کہاں تک صبر کی – افتخار راغب

کہاں تک صبر کی – افتخار راغب

غزل کہاں تک صبر کی تلقین بادل دعائے آب پر آمین بادل جھلس جائیں گے پر ہونے نہ دیں گے ہم اپنی پیاس کی توہین بادل کہاں برسے کبھی صحراے جاں میں گرجتے رہ گئے غمگین بادل ہم اپنی پیاس پی کر جی رہے ہیں ہمارے دل کو ہے تسکین بادل نہیں قائل کسی تفریق کے ہم محبت ہے ہمارا دین بادل بلا کا جذبۂ اخلاص بھی ہے نما...

مست مگن ہیں خود – افتخار راغب

مست مگن ہیں خود – افتخار راغب

غزل مست مگن ہیں خود کو بے پروا کر کے خود جلتے ہیں دھوپ میں ہم سایہ کر کے صحرائے جاں لالہ زار نہ ہو پایا خواب گزیدہ آنکھوں کو دریا کر کے گھر والے مصروفِ دعا ہو جاتے ہیں گھر سے نکلتے ہیں ہم بھی صدقہ کرکے عقل کی ایک نہ چل پائی ہم کیا کرتے کتنا خوش تھے درد سے ہم رشتہ کر کے تیرے ملنے والوں سے مل لیتا ہو...

وفا کے پتلے بھی – افتخار راغب

وفا کے پتلے بھی – افتخار راغب

غزل وفا کے پتلے بھی چاہت کی مورتیں بھی ہیں دلِ حزیں میں کئی اور صورتیں بھی ہیں ستم تو ڈھایا ہے مہنگائی نے بھی خوب مگر قصوروار ہماری ضرورتیں بھی ہیں قدم قدم پہ بچھا ہے عدو کا دامِ فریب کرو تلاش تو بچنے کی صورتیں بھی ہیں وہ ہم سے ملتے ہیں راغبؔ بڑے خلوص کے ساتھ یہ اور بات کہ دل میں کدورتیں بھی ہیں شاع...

آ محبت سے آ سکون – افتخار راغب

آ محبت سے آ سکون – افتخار راغب

غزل آ محبت سے آ سکون سے رہ دل ہے مسکن ترا سکون سے رہ تجھ کو ملتا ہے گر سکونِ دل دل ہمارا دُکھا سکون سے رہ گر بجھی شمع تو ہیں ہم تیّار اے موافق ہوا! سکون سے رہ رہ کے واقف ہماری حالت سے عمر بھر مسکرا سکون سے رہ میں نہ پوچھوں گا اب سوال کوئی مجھ کو کچھ مت بتا سکون سے رہ تجھ میں ہمّت نہیں تو رہنے دے ا...

بیان کرنے کی طاقت – افتخار راغب

بیان کرنے کی طاقت – افتخار راغب

غزل بیان کرنے کی طاقت نہیں ہنر بھی نہیں نہیں طویل یہ قصّہ تو مختصر بھی نہیں ہمارے ہاتھوں وہ ہم کو تباہ کرتے ہیں یہ اور بات کہ اس کی ہمیں خبر بھی نہیں ہر اِک یقین کی بنیاد شک پہ رکھتا ہے سو اعتماد اُسے اپنے آپ پر بھی نہیں نہ جانے اب بھی وہ برسا رہے ہیں پتھّر کیوں ہماری شاخ پہ اب تو کوئی ثمر بھی نہیں ...

توڑ کے دل کو کیا – افتخار راغب

توڑ کے دل کو کیا – افتخار راغب

غزل توڑ کے دل کو کیا ملتا ہے سچ بولو دل کو تم نے سمجھا کیا ہے سچ بولو تم کیا جانو وصل کی لذّت ہجر کا غم تم نے کسی سے پیار کیا ہے سچ بولو کس کے خواب سے آنکھیں روشن روشن ہیں کون تصوّر میں رہتا ہے سچ بولو کس کی غزلیں ذہن پہ چھائی رہتی ہیں کس کے شعر کا دل شیدا ہے سچ بولو تم کو کسی سے عشق نہیں یہ سچ ہے ...

دِکھا کر ہمارا ہی – افتخار راغب

دِکھا کر ہمارا ہی – افتخار راغب

غزل دِکھا کر ہمارا ہی سایا ہمیں ہماری نظر نے ڈرایا ہمیں نہ آنکھوں میں تم نے بسایا ہمیں نہ اشکوں کی صورت بہایا ہمیں نہ اچھّی طرح سے جلایا ہمیں نہ جلنے سے تم نے بچایا ہمیں خرد کی نہ چلنے دی اِس نے کبھی ’’جنوں نے تماشا بنایا ہمیں‘‘ اُسی نے تو بھیجا تھا ہم کو یہاں سو جب چاہا اُس نے بلایا ہمیں دھواں ہے ...

سچ کبھی ہوگا – افتخار راغب

سچ کبھی ہوگا – افتخار راغب

غزل سچ کبھی ہوگا تمھارا خواب کیا مان جائے گا دلِ بے تاب کیا کیا بتاؤں کر کے میری غیبتیں نوش فرماتے ہیں کچھ احباب کیا زہر اِس درجہ ہَوا میں گھول کر چاہتے ہو بارشِ تیزاب کیا آپ بھی بے چین رہتے ہیں بہت چبھ گیا آنکھوں میں کوئی خواب کیا پانی اُترے تب نہ یہ دیکھے کوئی ساتھ اپنے لے گیا سیلاب کیا لے گئے شا...

کیا عشق ہے جب ہو – افتخار راغب

کیا عشق ہے جب ہو – افتخار راغب

غزل کیا عشق ہے جب ہو جائے گا، تب بات سمجھ میں آئے گی جب ذہن کو دل سمجھائے گا، تب بات سمجھ میں آئے گی پل میں خوش پل میں رنجیدہ، آئے نہ سمجھ میں بات ہے کیا دل کھِل کھِل کر مرجھائے گا، تب بات سمجھ میں آئے گی گُم صُم رہنے کا کیا ہے سبب، ہنستا ہے اکیلے میں کوئی کب جب کوئی دل کو چُرائے گا، تب بات سمجھ...

میرے دل کو بھی – افتخار راغب

میرے دل کو بھی – افتخار راغب

غزل میرے دل کو بھی تیرے جی کو بھی چین اِک پل نہیں کسی کو بھی جی رہا ہوں تِرے بغیر بھی میں اور ترستا ہوں زندگی کو بھی خون آلود کر کے چھوڑیں گے لوگ اکّیسویں صدی کو بھی مہربانی کا نام دیتے ہو تم تو اپنی ستم گری کو بھی ایک تیرے سوا مِرے ساقی میں نہیں جانتا کسی کو بھی مصلحت میں شمار کرتے ہیں لوگ اب اپنی...

یاد دلاؤ مت ان کو – افتخار راغب

یاد دلاؤ مت ان کو – افتخار راغب

غزل یاد دلاؤ مت ان کو وہ رات اور دن چین انھیں اب آجاتا ہے میرے بِن مچھلی کیسے رہتی ہے پانی کے بِن حال سے میرے خوب ہیں وہ واقف لیکن لرزیدہ لب پر تھا بھُلا تو نہ دوگے ہمیں نم دیدہ آنکھوں نے کہا تھا ناممکن دِل کے دو حرفوں جیسے ہی ایک ہیں ہم اِک متحرّک ہر لمحہ اور اِک ساکن چہرے سے ظاہر ہے دل کی کیفیّت...

اچھّے دنوں کی آس – افتخار راغب

اچھّے دنوں کی آس – افتخار راغب

غزل اچھّے دنوں کی آس لگا کر میں نے خود کو روکا ہے کیسے کیسے خواب دِکھا کر میں نے خود کو روکا ہے میں نے خود کو روکا ہے جذبات کی رو میں بہنے سے دل میں سو ارمان دبا کر میں نے خود کو روکا ہے فرقت کے موسم میں کیسے زندہ ہوں تم کیا جانو کیسے اِس دل کو سمجھا کر میں نے خود کو روکا ہے چھوڑ کے سب کچھ تم سے مل...

بہ صد خلوص، بہ صد – افتخار راغب

بہ صد خلوص، بہ صد – افتخار راغب

غزل بہ صد خلوص، بہ صد احترام یاد آئے یہ کون ہے جو مجھے صبح و شام یاد آئے وہی ہیں ہم جنھیں سجدہ کیا فرشتوں نے کبھی تو ہم کو ہمارا مقام یاد آئے جو لوحِ دل پہ ہیں محفوظ ایک مدّت سے وہ گفتگو، وہ سلام و پیام یاد آئے قفس نصیبی میں جب بھی چمن کی یاد آئی ’’مجھے گلوں کے لیے کچھ پیام یاد آئے‘‘ ضیا پسند ...

جسم سے جاں کی ہے – افتخار راغب

جسم سے جاں کی ہے – افتخار راغب

غزل جسم سے جاں کی ہے منظور جدائی مجھ کو گردشِ وقت نہ دے اور صفائی مجھ کو ایک تو شیریں دہن اُس پہ یہ اُردو کی مِٹھاس اچھّی لگتی ہے تری تلخ نوائی مجھ کو ایسا لگتا ہے کہ اب خود میں نہیں میں شاید توٗ مِرے عکس میں دیتا ہے دکھائی مجھ کو ہاتھ ہرگز نہ ہلانا دمِ رخصت مری جاں ہلنے دے گا نہ ترا دستِ حنائی مجھ ...

دنیا ہے ہم سے بر – افتخار راغب

دنیا ہے ہم سے بر – افتخار راغب

غزل دنیا ہے ہم سے بر سرِ پیکار اِک طرف ہم اپنے حال سے بھی ہیں بیزار اِک طرف قصرِ انا میں وہ کہیں محصور ہو نہ جائیں ہر دن اُٹھا رہے ہیں جو دیوار اِک طرف جو اُن کا کام ہے وہ مبارک اُنھیں مگر کرتا رہوں میں راستہ ہموار اِک طرف ہنگامہ اِک طرف ہے کہ آنکھیں ہی پھوڑ دو عریانیت کا گرم ہے بازار اِک طرف اِک سم...

کس جگہ کس وقت اور – افتخار راغب

کس جگہ کس وقت اور – افتخار راغب

غزل کس جگہ کس وقت اور کس بات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے میری شرحِ خواہش و جذبات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے حالِ دنیا، حالِ دل کہتے رہو اور تغاقل کا الم سہتے رہو ڈال کر غائر نظر حالات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے جیت پر مِلتے ہیں سب پرسانِ حال اور رکھتے ہیں بہت میرا خیال مات کھا جاؤں...

لڑتے لڑتے غموں کے – افتخار راغب

لڑتے لڑتے غموں کے – افتخار راغب

غزل لڑتے لڑتے غموں کے لشکر سے سخت جاں ہو گیا ہوں اندر سے ہجر کی سرد رُت سے واقف تھے ڈھک لیا دل کو غم کی چادر سے اِک ٹھکانہ نصیب ہو یارب یوں ہی کب تک رہیں گے بے گھر سے بے وطن ہو تو پھر پڑے گا ہی واسطہ روز روزِ محشر سے راہِ الفت کا سنگِ میل ہوں میں کیا ہٹائے گا کوئی ٹھوکر سے چار سر پر سوار ہیں راغبؔ ا...

نہ  دل کشی  کی  – افتخار راغب

نہ دل کشی کی – افتخار راغب

غزل نہ دل کشی کی تمنّا نہ دل بری درکار غزل درخت کو ہر دم ہے تازگی درکار دِکھائے اُن کا وہ چہرہ جو ہے پسِ چہرہ نگاہِ وقت کو ایسی ہے روشنی درکار دل و دماغ کو بخشی تھی جس نے یکسوئی وہی خمارِ محبت ہے آج بھی درکار کہیں بھی ظلم و ستم کو نہ سر اُٹھانے دو زمین پر ہے اگر امن و آشتی درکار فروغِ امن و اماں پر ...

اگرچہ میری طبیعت – افتخار راغب

اگرچہ میری طبیعت – افتخار راغب

غزل اگرچہ میری طبیعت بھی کوئی سخت نہیں ذرا سی چوٹ سے دل میرا لخت لخت نہیں ملو گے تم کبھی اب اتّفاق سے بھی کہیں مجھے پتہ ہے میں ایسا بلند بخت نہیں متاعِ زیست سمجھتا ہوں میں محبّت کو بجز خلوص مِرے پاس کوئی رخت نہیں ابھی تلاش جہانِ دِگر میں دوب کی ہے درونِ شہرِ تمنّا کوئی درخت نہیں قلندری ہے ہمارے مزاج...

اِک بڑی جنگ لڑ رہا – افتخار راغب

اِک بڑی جنگ لڑ رہا – افتخار راغب

غزل اِک بڑی جنگ لڑ رہا ہوں میں ہنس کے تجھ سے بچھڑ رہا ہوں میں جیسے تم نے تو کچھ کیا ہی نہیں سارے فتنے کی جڑ رہا ہوں میں ایک تیرے لیے رفیقِ دل اِک جہاں سے جھگڑ رہا ہوں میں زندگانی مِری سنْور جاتی گر سمجھتا بگڑ رہا ہوں میں کس کی خاطر غزل کی چادر پر گوہرِ فکر جڑ رہا ہوں میں کوئی چشمہ کبھی تو پھوٹے گا ا...

تحمّل کوچ کر جائے – افتخار راغب

تحمّل کوچ کر جائے – افتخار راغب

غزل تحمّل کوچ کر جائے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے تڑپ کر کوئی مر جائے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے کہ ماضی سے برا ہے حال یہ دل فردا سے ڈر جائے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے جسے سیلابِ الفت نے امڈنے کی ادا بخشی وہ دریا پھر اتر جائے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے مرے اجزائے ہستی میں ہے کس کے دم سے جزبندی یہ ش...

حال کہنا تھا دل کا – افتخار راغب

حال کہنا تھا دل کا – افتخار راغب

غزل حال کہنا تھا دل کا بر موقع وقت نے کب دیا مگر موقع تم بہت سوچنے کے عادی ہو تم گنْواتے رہو گے ہر موقع حالِ دل تجھ سے کہہ نہ پائوں گا مل بھی جائے کبھی اگر موقع جانے کب ہاتھ سے نکل جائے زندگی کا یہ مختصر موقع موسمِ ہجر میں برسنا ہے کم نہیں تم کو چشمِ تر موقع تیرے آنے میں ہو گئی تاخیر اب کہاں میرے چ...

روٹھنا مت کہ منانا – افتخار راغب

روٹھنا مت کہ منانا – افتخار راغب

غزل روٹھنا مت کہ منانا نہیں آتا مجھ کو پیار آتا ہے جتانا نہیں آتا مجھ کو آسماں سر پر اُٹھانا نہیں آتا مجھ کو بات بے وجہ بڑھانا نہیں آتا مجھ کو مجھ کو ڈر ہے کہ مِرا جھوٹ نہ پکڑا جائے غیر کی طرح بہانہ نہیں آتا مجھ کو کس طرح خود کو خسارے سے بچاؤں آخر کوئی اندازِ زمانہ نہیں آتا مجھ کو موت کے وقت بھی آئ...

کہاں ہوں ، کون ہوں – افتخار راغب

کہاں ہوں ، کون ہوں – افتخار راغب

غزل کہاں ہوں ، کون ہوں ، کیسا ہوں ، کس شمار میں ہوں غبارِ وقت ہوں ، الفت کی رہ گزار میں ہوں عجیب حبس کے عالم میں جی رہا ہوں میں دیارِ ہجر میں تنہائیوں کے غار میں ہوں میں خود پرست نہیں ہوں نہ خود فریب ہوں میں مجھے پتہ ہے کہ میں کس کے اختیار میں ہوں اگرچہ ہجر زدہ ہوں ، وطن سے دور ہوں میں خدا کا شکر ہے...

مِری تقدیر ہی – افتخار راغب

مِری تقدیر ہی – افتخار راغب

غزل مِری تقدیر ہی اچھّی نہیں تھی تِری شمشیر ہی اچھّی نہیں تھی میں ہر دم قید رہنا چاہتا تھا تِری زنجیر ہی اچھّی نہیں تھی میں خط لکھتا اُسے تو کیسے لکھتا مِری تحریر ہی اچھّی نہیں تھی تمھارا وار دانستہ تھا ہلکا کہ نوکِ تیر ہی اچھّی نہیں تھی ہمارے خواب تو دل کش تھے راغبؔ مگر تعبیر ہی اچھّی نہیں تھی شاعر...

وہ حد سے زیادہ – افتخار راغب

وہ حد سے زیادہ – افتخار راغب

غزل وہ حد سے زیادہ گریزاں ہے مجھ سے جسے چاہتا ہوں میں حد سے زیادہ وہیں پر ہے جمہوریت کار آمد جہاں نیک رہتے ہوں بد سے زیادہ نکلنے نہ دو پانْو چادر کے باہر نہ اُونچا نظر آؤ قد سے زیادہ یہ پتھّر کا گھر چار دن کے لیے ہے ہے خاکی کو نسبت لحد سے زیادہ شاعر: افتخار راغبؔ کتاب: خیال چہرہ

ابتدا مجھ سے انتہا – افتخار راغب

ابتدا مجھ سے انتہا – افتخار راغب

غزل ابتدا مجھ سے انتہا مجھ پر ختم ہو تیری ہر جفا مجھ پر کام آتی ہے تجربہ کاری ظلم کرتا ہے تجربہ مجھ پر شام سے پہلے شب بخیر نہ کہہ مت ستم ساری رات ڈھا مجھ پر ٹوٹا پتّا ہوں مجھ کو کیا مطلب میں ہوا پر ہوں یا ہوا مجھ پر اب بھی وہ شوخ اختلاف سے قبل چھوڑ دیتا ہے فیصلہ مجھ پر مجھ پر الزامِ عشق ہے راغبؔ اچ...

اے مرے دل تجھے – افتخار راغب

اے مرے دل تجھے – افتخار راغب

غزل اے مرے دل تجھے پتا کیا ہے عشق سے بڑھ کے سانحہ کیا ہے جانتا ہوں کہ حل نہیں کوئی کیا بتاؤں کہ مسئلہ کیا ہے تیری چاہت کی ہے چمک ورنہ عکسِ جذبات میں نیا کیا ہے جسم و جاں میں ہے یہ تپش کیسی دل میں یہ حشر سا بپا کیا ہے اہلِ دل کو کہاں ہے فکر کوئی اہلِ دانش کا تبصرہ کیا ہے سرخیاں چبھ رہی ہیں آنکھوں می...

جلاؤ شوق سے تم – افتخار راغب

جلاؤ شوق سے تم – افتخار راغب

غزل جلاؤ شوق سے تم علم و آگہی کے چراغ نہ بجھنے پائیں مگر امن و آشتی کے چراغ تمام قوّتِ باطل کی متّحد پھونکیں بجھا سکی ہیں کہاں حقّ و راستی کے چراغ شعاعِ شمس کی ممکن نہیں رسائی جہاں بکھیرتے ہیں وہاں روشنی خودی کے چراغ شکم میں جل نہیں پاتے کسی کے نان و نمک کسی کی بزم میں جلتے ہیں روز گھی کے چراغ گئ...

دلِ بیتاب کی نقلِ – افتخار راغب

دلِ بیتاب کی نقلِ – افتخار راغب

غزل دلِ بیتاب کی نقلِ مکانی یاد آتی ہے مِری معصوم چاہت کی کہانی یاد آتی ہے جہانِ جسم و جاں کی شادمانی یاد آتی ہے مِرے دل پر تِری وہ حکمرانی یاد آتی ہے جوانی کے حسیں موسم میں بچپن یاد آتا ہے جوانی جب نہیں رہتی جوانی یاد آتی ہے یوں لگتا ہے کہ سینے سے کلیجہ آ گیا باہر دلِ خوش فہم کی جب خوش گمانی...

سنا تھا میں نے – افتخار راغب

سنا تھا میں نے – افتخار راغب

غزل سنا تھا میں نے پیسہ بولتا ہے تِری محفل میں دیکھا بولتا ہے عبث واعظ تِری شعلہ بیانی کہ بولیں لوگ اچھّا بولتا ہے خرد کی بات سنتے ہی کہاں ہیں وہ جن کے سر میں سودا بولتا ہے کہاں رہتی ہے خاموشی سفر میں مسافر چپ تو رستہ بولتا ہے زباں کچھ اور کہتی ہے تمھاری مگر کچھ اور چہرہ بولتا ہے بہت مغموم ہے مہجور ...

کیا سمجھتی ہے رات – افتخار راغب

کیا سمجھتی ہے رات – افتخار راغب

غزل کیا سمجھتی ہے رات سورج کو کیا بتائیں یہ بات سورج کو اتنی گرمی ہے دیکھیے کس میں کون دیتا ہے مات سورج کو جانے کس روز ملنے والی ہے شعلگی سے نجات سورج کو آخری سانس تک لٹانی ہے روشنی شش جہات سورج کو ہم کو حاصل حواس کی دنیا دھوپ کی کائنات سورج کو کیسے حاصل ہو دو گھڑی آرام کب میسر ہے رات سورج کو فائدہ ...

میں سب کچھ بھول – افتخار راغب

میں سب کچھ بھول – افتخار راغب

غزل میں سب کچھ بھول جانا چاہتا ہوں میں پھر اسکول جانا چاہتا ہوں ترے شہرِ محبّت کی گلی میں میں بن کر دھول جانا چاہتا ہوں میں اِس دنیا سے تیری چاہتوں کے لیے کچھ پھول جانا چاہتا ہوں اُسی کی یاد تڑپاتی ہے راغبؔ میں جس کو بھول جانا چاہتا ہوں شاعر: افتخار راغبؔ کتاب: خیال چہرہ

یاسمن یا گلاب سا – افتخار راغب

یاسمن یا گلاب سا – افتخار راغب

غزل یاسمن یا گلاب سا کچھ ہے میری آنکھوں میں خواب سا کچھ ہے ہر گھڑی اضطراب سا کچھ ہے ہجر ہے یا عذاب سا کچھ ہے ذہن و دل ہو رہے ہیں تابندہ طاق میں آفتاب سا کچھ ہے بالیقیں دوستوں کے سینے میں دل نہیں ہے کباب سا کچھ ہے تجھ سے ملنے کی آس میں ہردم ذہن و دل میں حساب سا کچھ ہے زندگی ہی بدل گئی راغبؔ عشق بھ...

ازل سے زیست پہ – افتخار راغب

ازل سے زیست پہ – افتخار راغب

غزل ازل سے زیست پہ میری قضا کا پہرا ہے میں وہ چراغ ہوں جس پر ہوا کا پہرا ہے تمام پہروں پہ پہرا خدا کا پہرا ہے خدا کا پہرا بھی کیسا بلا کا پہرا ہے تمھاری روح کو تسکین مل نہیں سکتی تمھارے دل پہ فریب و دغا کا پہرا ہے کہاں ہے خوف اُنھیں گردشِ زمانہ کا وہ جن کے واسطے ماں کی دعا کا پہرا ہے وہ حق سے خوب ہی...

بہت ہے نور ذکرِ – افتخار راغب

بہت ہے نور ذکرِ – افتخار راغب

غزل بہت ہے نور ذکرِ رفتگاں میں کہاں وہ روشنی ہم سے جہاں میں کسی کا ذکر کر دیتا ہے اکثر چراغاں قریۂ دردِ نہاں میں دکھانا ہے انھیں عکسِ تخیّل چھپا کر آئنہ لفظ و بیاں میں تِرا رنگِ حنائی بھی ہے شامل ہماری داستانِ خوں چکاں میں تمھاری مسکراہٹ کھینچتی ہے تبسّم کی لکیریں جسم و جاں میں تلاشِ عافیت اہلِ زم...

چشمِ غیرت کا ہے – افتخار راغب

چشمِ غیرت کا ہے – افتخار راغب

غزل چشمِ غیرت کا ہے اثاثہ کیا ابر سے چاہتا ہے دریا کیا ہر ملاقات آخری سمجھو سانس کی ڈور کا بھروسا کیا کیوں گریزاں ہو اِس قدر مجھ سے سرد پڑجائے گا یہ شعلہ کیا دل نے سمجھا ہے کیا محبت کو اور سمجھا رہی ہے دنیا کیا ضبط کیا چاہتا ہے دل سے مرے بے قراری کا ہے تقاضا کیا سبز پتّو! ڈرو ہواؤں سے میں تو ٹوٹا ہ...

دلوںسے بغض و کدورت – افتخار راغب

دلوںسے بغض و کدورت – افتخار راغب

غزل دلوںسے بغض و کدورت کی گرد چھٹ جائے فضا میں بکھری عداوت کی گرد چھٹ جائے خلوص و انس و محبّت کے نرم جھونکے چلیں فضاے قلب سے نفرت کی گرد چھٹ جائے ہٹے جو چہرئہ عیّار سے نقابِ وفا فریبِ ربط و رفاقت کی گرد چھٹ جائے ضروری کیا ہے کہ کچھ ڈگریوں کی برکت سے دماغ و دل سے جہالت کی گرد چھٹ جائے تھمے یہ ظلم کا ...

کس درجہ ہے باکمال – افتخار راغب

کس درجہ ہے باکمال – افتخار راغب

غزل کس درجہ ہے باکمال چہرہ کہہ دیتا ہے دل کا حال چہرہ ہے مشکل بہت ہی مسکرانا ہو غم سے اگر نڈھال چہرہ بے گرد و غبار فکر صورت اور روشن رہے خیال چہرہ بس چہرہ دکھا گیا ہے کوئی اور ہونے لگا بحال چہرہ اک انداز پر بنا ہے لیکن ہر چہرہ ہے بے مثال چہرہ چہرے میں چھپے ہیں کتنے چہرے ہے گنتی تری محال چہرہ جب لگتی...

لَے ملاؤ نہ اُن کی – افتخار راغب

لَے ملاؤ نہ اُن کی – افتخار راغب

غزل لَے ملاؤ نہ اُن کی لَے کے ساتھ سُر بدلتے ہیں جو سَمے کے ساتھ ہم مسائل میں ڈوب جاتے ہیں روز سورج تِرے اُدَے کے ساتھ پوچھتا ہوں کہ عشق ہے مجھ سے بولتے ہیں ’نہیں‘ بھی ’ہے‘ کے ساتھ میرے دل کی دعائیں رہتی ہیں کار آمد ہر ایک شے کے ساتھ تم سمجھ لو نہ کچھ کا کچھ راغبؔ لکھ دیا بانسری بھی نَے کے ساتھ شاع...

ہر گھڑی ہنسنا – افتخار راغب

ہر گھڑی ہنسنا – افتخار راغب

غزل ہر گھڑی ہنسنا ہنسانا یاد ہے وہ حسیں دلکش زمانا یاد ہے جانے کب بجلی گری کچھ یاد نیٔں بن چکا تھا آشیانا یاد ہے آتشِ فرقت میں جلنا روز و شب اشک کا دریا بہانا یاد ہے ہجر کی اُس چلچلاتی دھوپ میں یاد کا وہ شامیانا یاد ہے کوچۂ دلدار میں دیوانہ وار رات دن چکّر لگانا یاد ہے تیری دل جوئی کی خاطر بارہا ...

نمی سے آنکھوں کی – افتخار راغب

نمی سے آنکھوں کی – افتخار راغب

غزل نمی سے آنکھوں کی سرسبز اپنا حال تو کر شکستہ حال اُمیدوں کی دیکھ بھال تو کر تڑپ رہے ہوں کہیں تجھ سے بھی زیادہ وہ نکال راہ کوئی، رابطہ بحال تو کر کسے ہے خواہشِ آسودگی محبت میں نواز کر مجھے جینا مِرا محال تو کر چلا ہے جس سے پرکھنے صداقتِ احباب تُو اپنے آپ سے پہلے وہی سوال تو کر تڑپ تڑپ کے نہ مر جاؤ...

اِک چہرہ نایاب – افتخار راغب

اِک چہرہ نایاب – افتخار راغب

غزل اِک چہرہ نایاب دِکھائی دیتا ہے خوابوں میں بھی خواب دِکھائی دیتا ہے کون ہے وہ جس کی خاطر یہ پاگل دِل ہر لمحہ بے تاب دِکھائی دیتا ہے تیرے ہی جلووں سے مِرے افسانے کا روشن اِک اِک باب دِکھائی دیتا ہے پہلی چاہت کا ننھّا سا پودا بھی جیون بھر شاداب دِکھائی دیتا ہے بستی کوئی بستی ہے جب سپنوں کی بے موسم ...

تِرا مشورہ ہے بجا – افتخار راغب

تِرا مشورہ ہے بجا – افتخار راغب

غزل تِرا مشورہ ہے بجا مگر میں رکھوں گا اپنا خیال کیا مِرا دل کسی پہ ہے آگیا مِرا حال ہوگا بحال کیا کوئی تیٖر دل میں اتار دو کسی روز جان سے مار دو کوئی مجھ پہ اتنا ستم کرے کسی اور کی ہے مجال کیا تِرے دل میں کون سی بات ہے مجھے کیا خبر مِرے کم سخن مِرے کج ادا مجھے کیا پتا تِرے ذہن میں ہے سوال کیا کہاں ...

چھانو کی دل کو – افتخار راغب

چھانو کی دل کو – افتخار راغب

غزل چھانو کی دل کو حسرت کہاں سب کی دیوار پر چھت کہاں حسن کی ہو نوازش نصیب عشق کی ایسی قسمت کہاں سیلِ جذبات ہے قہر خیز لب کشائی کی ہمّت کہاں پیٹ کی آگ کیسے بجھے لے کے نکلی ضرورت کہاں اب کہاں حیرت انگیز کچھ کھو گئی جانے حیرت کہاں بے تکے شعر کہنے لگوں میرے بس میں وہ جدّت کہاں دیکھ راغبؔ مِرے دل کا حال...

زمیں ہے نوحہ کناں – افتخار راغب

زمیں ہے نوحہ کناں – افتخار راغب

غزل زمیں ہے نوحہ کناں امن و آشتی کے لیے پہ مشتِ خاک بضد اور کج روی کے لیے دل و دماغ بھی، آب و ہَوا بھی آلودہ دعاے خیر ہو اکّیسویں صدی کے لیے کچھ اور امن پرستوں کا آج شیوہ ہے کچھ اور چاہیے دل کی شگفتگی کے لیے مرے خدا مجھے اپنی امان میں رکھنا پھر اُس نے ہاتھ بڑھایا ہے دوستی کے لیے ہر اک نگاہ پڑی م...

کہاں تھا اتنا محبت – افتخار راغب

کہاں تھا اتنا محبت – افتخار راغب

غزل کہاں تھا اتنا محبت کا نور آنکھوں میں کسی نے دیکھ لیا ہے حضور آنکھوں میں یقیں نہیں تو ذرا جھانک کر کبھی دیکھو کسی کا عکس ہے پنہاں ضرور آنکھوں میں نہ دیکھ اتنی محبت سے میری آنکھوں کو بکھر نہ جائے غبارِ غرور آنکھوں میں امیدِ عدل ہے تجھ کو اگر عدالت سے تو کیوں ہے خوف تری بے قصور آنکھوں میں نشا...

مِری وفاؤں پہ جس – افتخار راغب

مِری وفاؤں پہ جس – افتخار راغب

غزل مِری وفاؤں پہ جس کی وفا کا پہرا ہے دیارِ دل پہ اُسی خوش ادا کا پہرا ہے یہ اُس نے زُلف بکھیری ہے اپنے چہرے پر کہ ماہتاب پہ کالی گھٹا کا پہرا ہے درونِ گلشنِ ماضی پُکارتا ہے کوئی سماعتوں پہ اُسی کی صدا کا پہرا ہے ہمارا دل ہے اسیرِ جمالِ ہوش رُبا خیال و فکر پہ حسنِ ادا کا پہرا ہے ہے یاسمین کی خوشبو...

ہو جائے اس کا ایک – افتخار راغب

ہو جائے اس کا ایک – افتخار راغب

غزل ہو جائے اس کا ایک اشارا زمین پر جنّت کا رو نما ہو نظارا زمین پر آلودگیِ ذہن و خیالات کے سبب دشوار ہو رہا ہے گزارا زمین پر مظلوم کی صدا سے نہ ہل جائے آسماں اتنا کرو نہ ظلم خدارا زمین پر دل کو یقین ہے کہ ملیں گے بروزِ حشر ممکن نہیں جو ملنا ہمارا زمین پر وہ لوگ خوش نصیب ہیں تیری رضا پہ جو ہنس کر ...

اب ہے مشکل سنبھال – افتخار راغب

اب ہے مشکل سنبھال – افتخار راغب

غزل اب ہے مشکل سنبھال کر رکھنا مت کہو دل سنبھال کر رکھنا مجھ کو آنکھوں سے قتل ہونا ہے چشمِ قاتل سنبھال کر رکھنا دور رہنا سدا تکبّر سے حرمتِ گِل سنبھال کر رکھنا مشکلیں لاکھ راہِ شوق میں ہوں شوقِ منزل سنبھال کر رکھنا کوئی نقطہ لگے نہ حرف آئے شیشۂ دل سنبھال کر رکھنا اِس پہ لکھّا ہے بھول جا راغبؔ دل ...

بچھڑکے تجھ سے ہو – افتخار راغب

بچھڑکے تجھ سے ہو – افتخار راغب

غزل بچھڑکے تجھ سے ہو محسوس کیسے تنہائی قدم قدم پہ تِری یاد کی ہے رعنائی جہاں کہیں بھی رہوں تجھ کو دیکھ لیتا ہوں مِرے خیال نے پائی ہے ایسی بینائی کبھی تو نکھرے گا چہرہ ہماری چاہت کا کبھی تو لے گا مقدّر ہمارا انگڑائی تمھاری یاد میں اشعار گنگناتے گئے اور اہلِ درد میں ہوتی گئی پذیرائی چمن کی سیر میسّر ہ...

توجّہ میں تری – افتخار راغب

توجّہ میں تری – افتخار راغب

غزل توجّہ میں تری تبدیلیاں معلوم ہوتی ہیں مجھے گھٹتی ہوئی اب دوریاں معلوم ہوتی ہیں درختوں پر کچھ ایسا آندھیوں نے قہر ڈھایا ہے ہواؤں سے خفا سب پتّیاں معلوم ہوتی ہیں عجب یلغار ہے چاروں ہی جانب سے اُجالوں کی فنا ہوتی ہوئی پرچھائیاں معلوم ہوتی ہیں تکبّر کرنے والو کھول کر آنکھیں ذرا دیکھو خمیدہ کب شجر کی...

درمیاں غیر کی – افتخار راغب

درمیاں غیر کی – افتخار راغب

غزل درمیاں غیر کی شرارت ہے چین آئے تو کس طرح آئے مجھ کو شکوہ انھیں شکایت ہے چین آئے تو کس طرح آئے اپنی قسمت سے کیا کروں شکوہ تجھ کو قسمت سمجھ رہا ہوں میں مجھ سے ناراض میری قسمت ہے چین آئے تو کس طرح آئے ایسی کیا ہو گئی خطا مجھ سے، توٗ کئی دن سے ہے خفا مجھ سے تجھ سے منسوب دل کی راحت ہے چین آئے ...

سکونِ قلب کا اب – افتخار راغب

سکونِ قلب کا اب – افتخار راغب

غزل سکونِ قلب کا اب اختتام ہے شاید کسی کی چشمِ عنایت کا کام ہے شاید حیات بخش ہے تیری نگاہِ لطف و کرم قضا بھی تیرے تغافل کا نام ہے شاید یہ قصرِ خواب بنایا ہوا بھی تیرا تھا تِرا ہی ہاتھ پسِ انہدام ہے شاید کوئی کمال نہیں پھر بھی با کمال ہیں وہ کمالِ نقد علیہ السّلام ہے شاید سراجِ علم بجھانے چلی ہوائے ج...

کیسی تپش اب دل میں – افتخار راغب

کیسی تپش اب دل میں – افتخار راغب

غزل کیسی تپش اب دل میں ہے مت پوچھیے کیوں دل مرا مشکل میں ہے مت پوچھیے مت پوچھیے اُس شوخ کے لطف و کرم تفریق کیا حاصل میں ہے مت پوچھیے کیوں قتل ہونے کو میں یوں بے چین ہوں کیا خاص اُس قاتل میں ہے مت پوچھیے کتنی فصاحت ہے لب و رخسار میں کیا نکتہ اُس کے تِل میں ہے مت پوچھیے خوشبو ہے اُس خوش پوش کی راغبؔ ج...