Foziya Rabab

محبت کی حسیں دیوی – فوزیہ ربابؔ

محبت کی حسیں دیوی – فوزیہ ربابؔ

محبت کی حسیں دیوی بہت مغرور ہوں ناں میں بہت ضدّی سی لڑکی ہوں مجھے یہ سب ہی کہتے ہیں بہت اکھّڑہو تم لڑکی ! انا کے خول کے اندر سدا میں قید رہتی ہوں سمجھتی بھی ہوں ،کہتی بھی ہوں خود کو ایک شہزادی (یہ دنیا مانتی بھی ہے) مجھے سب لوگ کہتے ہیں کہ اس دنیا میں تم جیسا نہیں ہے دوسرا کوئی مگر اک بات ہے دل میں ...

حمد باری تعالیٰ – فوزیہ ربابؔ

حمد باری تعالیٰ – فوزیہ ربابؔ

حمد باری تعالیٰ اپنی ہستی تِری چاہت میں مٹالی مولیٰ لب ہیں خاموش رہی چشم سوالی مولیٰ بھیجتی ہوں ترے محبوب کو صد بار درود تجھ سے ملنے کی یہ تدبیر نکالی مولیٰ کون ہے تیرے سوا جو مری جھولی بھر دے نیکیوں سے تو مرے ہاتھ ہیں خالی مولیٰ بادشاہا! مری تقدیر مدینہ کر دے ان کی چاہت کی میں ادنیٰ سی سوالی مولیٰ ...

وہ کہاں روز دل دکھاتے ہیں – فوزیہ ربابؔ

وہ کہاں روز دل دکھاتے ہیں – فوزیہ ربابؔ

وہ کہاں روز دل دکھاتے ہیں ہم بھی کب اتنا مسکراتے ہیں کیوں جراثیم بغض و نفرت کے ذہن میں اُن کے کلبلاتے ہیں اِس بناوٹ کے دَور میں لوگو ہم مروّت میں ٹوٹ جاتے ہیں جب بھی پاتے ہیں اک جھلک تیری غم زمانے کے بھول جاتے ہیں آپ ہوتے ہیں جب خفا مجھ سے خواب آنکھوں سے روٹھ جاتے ہیں سچ کا اظہار بھی گناہ ہے کیا؟ کس...

کس کو اپنا حال سنائیں آپ بتائیں – فوزیہ ربابؔ

کس کو اپنا حال سنائیں آپ بتائیں – فوزیہ ربابؔ

کس کو اپنا حال سنائیں آپ بتائیں کیسے دل کو ہم سمجھائیں آپ بتائیں آپ کہیں میں بعد میں ہی اپنی کہہ لوں گی آپ کہیٖں پھر بھول نہ جائیں آپ بتائیں آپ کی اس اکتاہٹ سے کیا سمجھا جائے کیا اب ہم ملنے نہیں آئیں آپ بتائیں آپ بنا اب کون ہمارے ناز اٹھائے کس سے روٹھیں کس کو ستائیں آپ بتائیں آنکھیں رستہ تکنے پر معم...

جگ سے نرالی پیٖت – فوزیہ ربابؔ

جگ سے نرالی پیٖت – فوزیہ ربابؔ

جگ سے نرالی پیٖت میرے سوہنے بالم کی ہے جگ سے نرالی پیٖت پیٖت کی دھن میں کوئل بن کر اس کو سناؤں گیت میرا مٹھرا سوہنا بالم میرے من کا شاہ جگ کی کیا پرواہ سوہنا بالم روٹھا جب سے پھیکے پڑ گئے رنگ سانسیں ہیں مدھم کیسے اس کو آج مناؤں دل نہ جانے ریٖت وقت گیا ہے بیت گھر آنگن میں آج خزاں ہے اور قسمت میں دھوپ...

نعت – فوزیہ ربابؔ

نعت – فوزیہ ربابؔ

نعت جو بے کسوں کا ہے اک سہارا درِ نبیؐ ہے نہیں ہے جس کے بنا گزارا درِ نبیؐ ہے ریاضتوں کا صلہ ملے بس اسی کی صورت مری محبت کا استعارہ درِ نبیؐ ہے ارے زمانے ہمیں یہاں کی دمک نہ دکھلا تجھے کہا ناں کہ بس ہمارا درِ نبیؐ ہے ہیں اِس جہاں میں غموں کی طغیانیاں مسلسل اور ایسے طوفاں میں بس کنارا درِ نبیؐ ہے اگر...

عجیب درد سا پھیلا ہوا ہے بستی میں – فوزیہ ربابؔ

عجیب درد سا پھیلا ہوا ہے بستی میں – فوزیہ ربابؔ

عجیب درد سا پھیلا ہوا ہے بستی میں سنا ہے وہ کہیں ٹھہرا ہوا ہے بستی میں مری گلی میں وہ اک عمر کاٹنے والا مرا مکان ہی بھولا ہوا ہے بستی میں فضا میں آج پرندوں کا بَین جاری ہے کسی غریب کا جھگڑا ہوا ہے بستی میں امیرِ شہر کو بستر پہ کیا خبر لوگو! کہ کون بھوک سے تڑپا ہوا ہے بستی میں کسی کی آنکھ مجھے معتبر ...

ان کے مسکرانے پر سانس ڈول جاتی ہے – فوزیہ ربابؔ

ان کے مسکرانے پر سانس ڈول جاتی ہے – فوزیہ ربابؔ

ان کے مسکرانے پر سانس ڈول جاتی ہے اور یاد آنے پر سانس ڈول جاتی ہے ان کی آنکھ سے نکلے تیر مار دیتے ہیں ان کے ہر نشانے پر سانس ڈول جاتی ہے چاند سا کوئی چہرہ بام پر اترتا ہے جس کے لوٹ جانے پر سانس ڈول جاتی ہے آرزو تو آ ٹھہری آبرو کے زنداں میں آرزو دکھانے پر سانس ڈول جاتی ہے شہر کو سنا کر تو کچھ اثر نہی...

مراخواب تھیں جو محبتیں – فوزیہ ربابؔ

مراخواب تھیں جو محبتیں – فوزیہ ربابؔ

مراخواب تھیں جو محبتیں مری آرزوؤں کے دیوتا ! میں عجیب تھی،میں عجب رہی مجھے دشت غم کو بھی چھاننے کی طلب رہی مری بات میںکوئی رات آکے ٹھہر گئی مری ذات میں کوئی ذ ات آکے ٹھہر گئی مجھے پھر بھی درد کو جانچنے کی طلب رہی کئی رنج بھی ہیں ندامتوں سے ملے ہوئے کئی شہر بھی ہیں عداوتیں سے بھرے ہوئے کسی غم کے زور ...

دل میں تصویر تری آنکھ میں آثار ترے – فوزیہ ربابؔ

دل میں تصویر تری آنکھ میں آثار ترے – فوزیہ ربابؔ

دل میں تصویر تری آنکھ میں آثار ترے زخم ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں بیمار ترے اے شبِ رنج و الم دیکھ ذرا رحم تو کر آہ کس کرب میں رہتے ہیں عزا دار ترے زعم ہے تجھ کو اگر اپنے قبیلے پہ تو سُن میرے قدموں میں گرے تھے کبھی سردار ترے آج بازار میں لائی گئی جب تیری شبیہ بھاگتے دوڑتے آ پہنچے خریدار ترے سامنے کیوں ...

ہے ہم میں عشق کا جوہر ہمیں تم سے محبت ہے – فوزیہ ربابؔ

ہے ہم میں عشق کا جوہر ہمیں تم سے محبت ہے – فوزیہ ربابؔ

ہے ہم میں عشق کا جوہر ہمیں تم سے محبت ہے ہمارا دل نہیں پتھّر ہمیں تم سے محبت ہے ہماری آنکھ کے رستے ہمارے دل تلک اترو یوں ہی شاید کھلے تم پر ہمیں تم سے محبت ہے زمانے کے کہے پر ہم تمھیں کیسے بھلا دیں گے یہ ہے پاؤں کی ٹھوکر پر ہمیں تم سے محبت ہے ہمیں خیرات مت دینا مگر اتنی گزارش ہے نظر بھر دیکھ لو در ...

قلم اٹھاؤ  ! – فوزیہ ربابؔ

قلم اٹھاؤ ! – فوزیہ ربابؔ

قلم اٹھاؤ ! قلم اٹھاؤ اداس لوگو ! اداسیوں کا لباس تن سے اتار پھینکو اے خواہشوں کے اسیر لوگو ! حقیقتوں سے نظر نہ پھیرو کئی سسکتی ہوئی سی بے سود خواہشوں کا جو آج نوحہ سنا رہے ہو اسی پہ رونا شعار تم نے بنالیاہے ذرا بتاؤ ! کہ خواب تکنا انہیں میں جینا انہیں میں شام وسحر بِتانا عجب نہیںہے قلم اٹھاؤ ! حقیق...

تمھیں میں یاد کروں اور بے حساب کروں – فوزیہ ربابؔ

تمھیں میں یاد کروں اور بے حساب کروں – فوزیہ ربابؔ

تمھیں میں یاد کروں اور بے حساب کروں تمھارے نام نیا پھر سے انتساب کروں یہ آئینہ بھی تری ہی جھلک دکھاتا ہے میں آئینے سے بڑی دیر تک حجاب کروں اب ایک ذکر پہ آنکھیں بھی نم نہ ہوں میری حضور! آپ کہیں کتنا اجتناب کروں وہ مجھ کو دیکھ کے دوڑا ہوا چلا آئے میں اپنے آپ کو کچھ اِس طرح سراب کروں عجیب مشغلہ اپنا لی...

میں کلی جیسی ہوں پر خار سمجھتے ہیں مجھے – فوزیہ ربابؔ

میں کلی جیسی ہوں پر خار سمجھتے ہیں مجھے – فوزیہ ربابؔ

میں کلی جیسی ہوں پر خار سمجھتے ہیں مجھے لوگ مجرم یہاں ہر بار سمجھتے ہیں مجھے صاف ظاہر ہے کہ وہ خوف زدہ ہیں مجھ سے اپنے فن کا بھی جو انکار سمجھتے ہیں مجھے خواب اس واسطے آنکھوں سے پلٹ جاتے ہیں سو بھی میں جاؤں تو بیدار سمجھتے ہیں مجھے میں تو بس ایک جھلک ہی کے لیے آئی ہوں آپ تو یوں ہی خطاوار سمجھتے ہیں...

زمیں کا کرب فلک پر کبھی عیاں نہ ہوا – فوزیہ ربابؔ

زمیں کا کرب فلک پر کبھی عیاں نہ ہوا – فوزیہ ربابؔ

زمیں کا کرب فلک پر کبھی عیاں نہ ہوا ہمارا درد کبھی زیبِ داستاں نہ ہوا کسی بھی دوست نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ’’ہمارے عشق کا چرچا کہاں کہاں نہ ہوا‘‘ یہ ہجر جان سے کم پر تو مانتا ہی نہیں خدا کا شکر کہ تم پر یہ امتحاں نہ ہوا عجب ہے درد کی وحشت اجاڑ دیتی ہے تمھاری عمر کا لمحہ بھی بیکراں نہ ہوا ربابؔ ہم ن...

آنٹی مجھ کو ڈر لگتا ہے – فوزیہ ربابؔ

آنٹی مجھ کو ڈر لگتا ہے – فوزیہ ربابؔ

آنٹی مجھ کو ڈر لگتا ہے کل شب تھی اک بے چینی سی نیند کی دیوی روٹھی سی تھی میں نے کمرے کی کھڑکی کے پٹ کھولے اور باہر دیکھا تازہ سانس لیاہی تھا کہ اک بچی کی نم سی سسکی میرے کانوںسے ٹکرائی میں نے اس کو پاس بلایا پوچھابیٹا کیوں روتی ہو اس کی سادہ سی آنکھوں میں غم سے بھری اک ساون رت تھی روتے روتے مجھ سے ب...

مجھ کو تو کچھ اور دِکھا ہے آنکھوں کے اُس پار – فوزیہ ربابؔ

مجھ کو تو کچھ اور دِکھا ہے آنکھوں کے اُس پار – فوزیہ ربابؔ

مجھ کو تو کچھ اور دِکھا ہے آنکھوں کے اُس پار تم بتلاؤ آخر کیا ہے آنکھوں کے اُس پار سپنا کوئی بکھر چکا ہے آنکھوں کے اُس پار دریا جیسے ٹوٹ پڑا ہے آنکھوں کے اُس پار لکھّوں تیرا نام، پڑھوں تو سانول تیرا نام تیرا ہی بس نام لکھا ہے آنکھوں کے اُس پار بینائی تیرے رستوں کو تھام کے بیٹھی ہے تیرے گھر کا دَر ب...

حاجیو!! – فوزیہ ربابؔ

حاجیو!! – فوزیہ ربابؔ

حاجیو!! اور کیا چاہئیے ساقیِ چاہِ کوثر وہاں منتظر ہیں تمھارے لیے حاجیو! کیا تمھیں علم ہے کہ تمھیں کیا ملا ہے سنو حاجیو سرورِ انبیؐ ا جامِ کوثر لیے ہیں کھڑے عرش پر منتظر ہیں تمھارے یہ دیکھو یہ کیسی سعادت ملی ہے کہ حج میں شہادت ملی ہے سنو حاجیو! خوش نصیبو! بروزِ جمعہ کی سبھی ساعتیں ہیں دعا گو تمھارے ل...

یوں ہی دکھ ہو جاویں گے کم شہزادے – فوزیہ ربابؔ

یوں ہی دکھ ہو جاویں گے کم شہزادے – فوزیہ ربابؔ

یوں ہی دکھ ہو جاویں گے کم شہزادے آ جا سکھ کے خواب بنین ہم شہزادے اپنے ہوش گنوا بیٹھی ہوں پھر سے آج سوچ رہی ہوں تجھ کو ہر دم شہزادے شہزادی کے خواب عذاب نہ کر جانا ہو جاویں گی آنکھیں پُر نم شہزادے میری روح میں تیری یاد اُترتی ہے ہولے ہولے مدھم مدھم شہزادے ایسا سخت تکلّم آخر کیوں بولو کیوں رہتے ہو برہم...

عشق کی چاہت – فوزیہ ربابؔ

عشق کی چاہت – فوزیہ ربابؔ

عشق کی چاہت ہاں میں اک بھولی لڑکی ہوں میں عشق کی چاہت کرتی ہوں میں خواب کی آڑ میں ہر اک شب بس رستہ دیکھا کرتی ہوں وہ اک رستہ جس رستے سے مرے راجکمار کو آنا ہے مرے ہاتھوں میں مہندی کے رنگ ماتھے پہ چاند کا ٹیکا ہے اک خواب ہے جو ان آنکھوں میں ہر دم ہلکورے لیتا ہے میں لڑکی ہوں ناں بھولی سی میں عشق کی چاہ...

تمھیں کیا فرق پڑتا ہے – فوزیہ ربابؔ

تمھیں کیا فرق پڑتا ہے – فوزیہ ربابؔ

تمھیں کیا فرق پڑتا ہے سنو اے میرے شہزادے! تمھیں کیا فرق پڑتا ہے؟ اگر میں یہ کہوں تم سے کہ کچھ انجان ساعت میں کئی گم نام جذبوں میں اب اکثر یوں بھی ہوتا ہے تخیّل میں تمھیں لا کر جو میں کچھ سوچنا چاہوں تو اک مسکان آ کر یوں لبوں پر ٹھہر جاتی ہے کہ میں انجان ہوں اس سے مگر پھر بھی یہ ہوتا ہے مجھے تم یاد آ...

نظر اداس جگر بے قرار چُپ خاموش – فوزیہ ربابؔ

نظر اداس جگر بے قرار چُپ خاموش – فوزیہ ربابؔ

نظر اداس جگر بے قرار چُپ خاموش تجھے کہا نہ ابھی صبر یار چُپ خاموش خدا کے واسطے کر دے دلِ تباہ معاف ترا مزید نہیں اعتبار چُپ خاموش یہ منزلوں کے سبھی واہمے مچائیں شور مگر ہے کس لیے ہر رہ گزار چُپ خاموش وہ عمر بھر کے لیے لے گیا زبان مری کہا تھا اس نے کبھی ایک بار چُپ خاموش نہ تو نہ تیری کوئی بات ہے نہ ...

سرخرو ہجر ترا جاں مری لے کر ہوگا – فوزیہ ربابؔ

سرخرو ہجر ترا جاں مری لے کر ہوگا – فوزیہ ربابؔ

سرخرو ہجر ترا جاں مری لے کر ہوگا کیا خبر تھی ترا جانا نہیں، محشر ہوگا مسئلہ میرا سبھی لوگ سمجھتے کب ہیں حل تو الجھن کا فقط آپ سے مل کر ہوگا ہجر کا فیصلہ یک دم ہی سنایا اس نے اس نے سمجھا تھا مرا دل کوئی پتھر ہوگا میرے ساحر کی یہ پہچان ہے اچھّے لوگو اس کی آنکھوں سے نکلتا ہوا منتر ہوگا شہر نے دیکھی ہوئ...

امّی میری پیاری امّی – فوزیہ ربابؔ

امّی میری پیاری امّی – فوزیہ ربابؔ

امّی میری پیاری امّی امّی میری پیاری امّی دیکھو میں کتنی تنہا ہوں دیکھو امّی میری آنکھیں آج سمندر بن بیٹھی ہیں امّی میری جان تھی تم میں اور تم کیسے چھوڑ گئی ہو کچھ بتلاؤ کچھ سمجھاؤ کیسے آخر اپنے دل کو میں سمجھاؤں پیاری امّی اچھی امّی اپنی ساری عمر میں، میں نے آپ کی کوئی بات نہ ٹالی میں نے تو سوچی...

مجھ کملی کا سنگھار پیا – فوزیہ ربابؔ

مجھ کملی کا سنگھار پیا – فوزیہ ربابؔ

مجھ کملی کا سنگھار پیا ان سانسوں کا سردار پیا تجھ بن در چھت دیوار ڈسے تجھ بن سونا گھر بار پیا ہر جذبے کی پہچان بھی توٗ توٗ سانول توٗ دلدار پیا ان سر آنکھوں پر حکم ترا میں مانوں ہر ہر بار پیا تو ہی میرا غم خوار سجن میں کرتی ہوں اقرار پیا اب سانسیں چور و چور ہوئیں اب آ مل تو اک بار پیا اک دکھ نے گھیرا...

چھولے من کے تار – فوزیہ ربابؔ

چھولے من کے تار – فوزیہ ربابؔ

چھولے من کے تار سن جھومر میرے پیارے جھومر جان پیا کی جائے تو جو یوں مسکائے جب اپنا سنگھار میں دیکھوں یاد پیا کی آئے پی بِن رہا نہ جائے سن اے گجرے مہکے مہکے پریم کی خوشبو دے بات تو میری مان لا کر میرے پی کی خوشبو کر دے مجھ کو دان بات تو میری مان سن چوڑی میری پیاری چوڑی نہیں ہے کوئی مول رنگ ترے انمول ...

وہ اگر بات ماننے لگ جائیں – فوزیہ ربابؔ

وہ اگر بات ماننے لگ جائیں – فوزیہ ربابؔ

وہ اگر بات ماننے لگ جائیں اُن کے بھی سارے غم مجھے لگ جائیں آپ آئیں تو یہ بھی ممکن ہے رنگ خوشبو بکھیرنے لگ جائیں کیا بنے گا پھر اس تعلق کا آپ گر جھوٹ بولنے لگ جائیں اپنے بارے میں سوچتے ہوئے ہم تیرے بارے میں سوچنے لگ جائیں ہم جسے دیکھ لیں فقط اک بار سب کے سب اُس کو دیکھنے لگ جائیں درمیاں کی ہوا مخالف ...

قریۂ خواب بے امان ہے کیا – فوزیہ ربابؔ

قریۂ خواب بے امان ہے کیا – فوزیہ ربابؔ

قریۂ خواب بے امان ہے کیا کوئی آنکھوں میں میہمان ہے کیا دھوپ چھٹتی نہیں کسی لمحہ سر پہ ہر آن آسمان ہے کیا میرے الفاظ کیوں لگیں میٹھے میرے منھ میں تری زبان ہے کیا کیا کہوں کچھ پتا نہی چلتا میرے اور اُس کے درمیان ہے کیا خود کو میں اُس کی ہی سمجھتی ہوں ہائے! اس کو بھی یہ گمان ہے کیا میری سانسیں وصول کر...

تم ہو میری زیست کا حاصل شہزادے – فوزیہ ربابؔ

تم ہو میری زیست کا حاصل شہزادے – فوزیہ ربابؔ

تم ہو میری زیست کا حاصل شہزادے توڑ نہ دینا تم میرا دل شہزادے اپنے اندر تم کو دیکھ رہی ہوں میں آئینہ ہے میرے مقابل شہزادے سیم و زر پر اِتراتے تھے دیکھو اب عشق نگر میں بن گئے سائل شہزادے شہزادی نے دل ہارا اور جیتی جنگ مالِ غنیمت میں تم شامل شہزادے وصل کی رُت کا اب تو استقبال کرو کوٗک رہی ہے باغ میں کو...

میں بولی تیرے لب پر ہے ہنسی میری – فوزیہ ربابؔ

میں بولی تیرے لب پر ہے ہنسی میری – فوزیہ ربابؔ

میں بولی تیرے لب پر ہے ہنسی میری وہ بولا مت بڑھاؤ بے کلی میری میں بولی شاہزادے مول کیا میرا وہ بولا شاہزادی زندگی میری میں بولی تیرگی ہر سو زیادہ ہے وہ بولا پھیلنے دو روشنی میری میں بولی ہجر میں کیسے جیوگے تم وہ بولا رک نہ جائے سانس ہی میری میں بولی خواب کس کا دیکھتے ہو تم وہ بولا آنکھ میں دیکھو کبھ...

رنج و حزن و ملال نا سائیں – فوزیہ ربابؔ

رنج و حزن و ملال نا سائیں – فوزیہ ربابؔ

رنج و حزن و ملال نا سائیں کوئی میرا کمال نا سائیں اک ترے بعد ہو مرے دل میں اور کوئی خیال نا سائیں بخت میں ہے تری نظر تو پھر بخت میں ہو زوال نا سائیں بادشاہا تری ہے سرداری میں کروں گی سوال نا سائیں ہے یقیں آپ لوٹ آئیں گے کب رہا احتمال نا سائیں عادت اب ہوگئی اذیت کی میں رہوں اور نڈھال نا سائیں فوزیہ ر...

اک بے ہنر کو داد میں ہر بار تالیاں – فوزیہ ربابؔ

اک بے ہنر کو داد میں ہر بار تالیاں – فوزیہ ربابؔ

اک بے ہنر کو داد میں ہر بار تالیاں مجھ کو تو لگ رہی ہیں سزاوار تالیاں پہلے تو اہلِ حق کو چڑھایا ہے دار پر اس پر لگائیں جھوٹ کا انبار ’’تالیاں‘‘ ایسے سراہتا ہے یہ شہرِ منافقت جیسے کسی کے فن کا ہوں انکار تالیاں اِس پار تھا غریب کا لاشہ پڑا ہوا بجنے لگی تھیں جھیل کے اُس پار تالیاں ہم نے سدا ہی جھوٹ سے ...

مانگتا ہے کوئی حساب ربابؔ – فوزیہ ربابؔ

مانگتا ہے کوئی حساب ربابؔ – فوزیہ ربابؔ

مانگتا ہے کوئی حساب ربابؔ کردے آج اُس کو لاجواب ربابؔ میں ہوں اک عشق کی کتاب ربابؔ اور تو میرا انتساب ربابؔ میری راہوں میں صرف خار ہی خار ان کی راہوں میں بس گلاب ربابؔ ہم نے مانا بہت حسین ہیں آپ پھر بھی کرنا ہے اجتناب ربابؔ کیا مری ذات کا قصور حضور عشق میں کیا گنہ ثواب ربابؔ ہر قدم پر ہے اک عجیب فری...

چشمِ الفت لڑ گئی ہے اِن دنوں – فوزیہ ربابؔ

چشمِ الفت لڑ گئی ہے اِن دنوں – فوزیہ ربابؔ

چشمِ الفت لڑ گئی ہے اِن دنوں اک عجب سی بے کلی ہے اِن دنوں عشق بھی کرنا ہے گھر کے کام بھی یہ مصیبت بھی نئی ہے اِن دنوں بغض و نفرت سے کنارا کر لیا پُر سکوں یہ زندگی ہے اِن دنوں درگزر کرتی ہوں میں سب کی خطا ’’دشمنوں سے دوستی ہے اِن دنوں‘‘ شوخ سی لڑکی کو دیکھو کیا ہوا کتنی گم صم ہو گئی ہے اِن دنوں اک سہ...

وہ مجھے بے وفا سمجھتا ہے – فوزیہ ربابؔ

وہ مجھے بے وفا سمجھتا ہے – فوزیہ ربابؔ

وہ مجھے بے وفا سمجھتا ہے خیر میرا خدا سمجھتا ہے باغ میں پھول دیکھنے والا میری اک اک ادا سمجھتا ہے جو سمجھتا ہے شعر گوئی کو مجھ پہ رب کی عطا سمجھتا ہے میں شکایت یوں ہی نہیں کرتی وہ مجھے بے نوا سمجھتا ہے وہ جلاتا ہے دیپ یادوں کے میری آب و ہَوا سمجھتا ہے ہاتھ اٹھاتی ہوں مانگتی نہیں ہوں رب تو میری دعا س...

عشق کا شہر ہوں میں جس کا اجارہ تو ہے – فوزیہ ربابؔ

عشق کا شہر ہوں میں جس کا اجارہ تو ہے – فوزیہ ربابؔ

عشق کا شہر ہوں میں جس کا اجارہ تو ہے چشم کا حسن ہے پلکوں کا اشارہ تو ہے خواب سارے ہی اسی طشت میں لا کر رکھ دے میری آنکھوں کے جزیروں کا کنارا تو ہے میں نے سمجھا تھا قفس میں ہیں بچے چار ہی دن زندگی مجھ کو ملی ہے جو دوبارہ تو ہے روح بے چین رہا کرتی تھی تجھ سے پہلے میری خاطر ہے جسے رب نے اتارا تو ہے ہجر...

تم جلدی لوٹ آؤگے ناں؟ – فوزیہ ربابؔ

تم جلدی لوٹ آؤگے ناں؟ – فوزیہ ربابؔ

تم جلدی لوٹ آؤگے ناں؟ پھرآج میں کتنی تنہا ہوں توٗ یاد مجھے پھر آیا ہے وہ کتنے پیارے پل تھے ناں جب ساتھ تو میرے ہوتا تھا میں تیری باتوں کو سن کر کتنی خوش خوش سی رہتی تھی یہ لب میرے مسکاتے تھے اور کلیاں مجھ سے جلتی تھیں جب میری ہنسی کو سن کے پیا ان پھولوں کو لاج آتی تھی جب دیکھ کے سنگ ترے مجھ کو یہ چا...

میرا مُٹھرا سوہنا بالم – فوزیہ ربابؔ

میرا مُٹھرا سوہنا بالم – فوزیہ ربابؔ

میرا مُٹھرا سوہنا بالم میرا مُٹھرا سوہنا بالم مجھ سے گیا ہے روٹھ پریٖت کی دھُن میں کوئل بن کر اُس کو سناؤں گیت سوہنا مٹھرا سوہنا بالم مجھ سے گیا ہے روٹھ کیسے اُس کو آج مناؤں دل نہ جانے ریٖت گھر آنگن میں آج خزاں ہے اور قسمت میں دھوپ سوہنا مُٹھرا سانول ہم سے آج گیا ہے روٹھ فوزیہ ربابؔ

زلفِ محبت برہم برہم می رقصم – فوزیہ ربابؔ

زلفِ محبت برہم برہم می رقصم – فوزیہ ربابؔ

زلفِ محبت برہم برہم می رقصم وجد میں ہے پھر چشمِ پرنم می رقصم عشق کی دھُن میں آنکھیں نغمہ گاتی ہیں گھول مرے جذبوں میں سرگم می رقصم سائیاں زخم تری ہی جانب تکتے ہیں آج لگا نینوں سے مرہم می رقصم میری مستی میں سرشاری تیری ہے میرے اندر تیرے موسم می رقصم وحدّت کا اک جام پلا دے آنکھوں سے ایک نظارا دیکھوں پی...

اُسی کا لمس ہر اک رات سے جڑا ہوا ہے – فوزیہ ربابؔ

اُسی کا لمس ہر اک رات سے جڑا ہوا ہے – فوزیہ ربابؔ

اُسی کا لمس ہر اک رات سے جڑا ہوا ہے وہ کون ہے جو مری ذات سے جڑا ہوا ہے اب اس سے ربط نہیں پھر بھی وہ نہ جانے کیوں ہماری آنکھوں کی برسات سے جڑا ہوا ہے اثر تو ہونا ہی تھا دوسرے علاقوں کا یہ شہر غم کے مضافات سے جڑا ہوا ہے میں اک اسی کے خساروں میں بس رہی لیکن مرے وہ اب بھی مفادات سے جڑا ہوا ہے اسی کا ذکر...

لَوٹ رہے ہو ہاتھ چھڑا کر شہزادے – فوزیہ ربابؔ

لَوٹ رہے ہو ہاتھ چھڑا کر شہزادے – فوزیہ ربابؔ

لَوٹ رہے ہو ہاتھ چھڑا کر شہزادے کیا ملتا ہے مجھ کو رُلا کر شہزادے بولو کیسے خود کو اب تم روکو گے دل کی بے تابی کو بڑھا کر شہزادے کب تک اک اک لمحہ یوں ہی کاٹیں گے دیواروں کو درد سنا کر شہزادے کتنا روئی کیا تجھ کو معلوم نہیں آج میں تیرا ہجر منا کر شہزادے دیر تلک کیوں روٹھے روٹھے رہتے ہو کیا ملتا ہے جا...

چاہت کے اظہار سے پہلے مر جانا ہی اچھا تھا – فوزیہ ربابؔ

چاہت کے اظہار سے پہلے مر جانا ہی اچھا تھا – فوزیہ ربابؔ

چاہت کے اظہار سے پہلے مر جانا ہی اچھا تھا گھُٹ گھُٹ کر یوں جینے سے تو مر جانا ہی اچھا تھا تیری خاطر جنگل جنگل بھٹکے ہیں تو جانا ہے نگری نگری پھرنے سے تو گھر جانا ہی اچھا تھا اب تو اکثر تنہا بیٹھے گھنٹوں سوچا کرتے ہیں ہم جو کرنے والے تھے نا کر جانا ہی اچھا تھا دربارِ الفت میں بھلا کوئی جاتا ہے خالی ہ...

ہمیں سدا یوں ہی صحرا نورد رہنا ہے – فوزیہ ربابؔ

ہمیں سدا یوں ہی صحرا نورد رہنا ہے – فوزیہ ربابؔ

ہمیں سدا یوں ہی صحرا نورد رہنا ہے کہ چھانتے تری راہوں کی گرد رہنا ہے وفائیں ڈھونڈتے پھرتے ہو گرم ہاتھوں میں تمھارا ہاتھ سدا پھر بھی سرد رہنا ہے اسے فریب کہوں یا عنایتِ الفت ہمارے حصّے میں بس ایک فرد رہنا ہے مجھے وہ چین کے لمحے نوازنے والا اسی کو بن کے مرے سر کا درد رہنا ہے عجیب حوصلہ رب نے دیا ہے ما...

عشق کا اک عذاب تھوڑی ہے – فوزیہ ربابؔ

عشق کا اک عذاب تھوڑی ہے – فوزیہ ربابؔ

عشق کا اک عذاب تھوڑی ہے زیست مثلِ گلاب تھوڑی ہے یوں ہی ہم جام کو اچھالتے ہیں اب میسّر شراب تھوڑی ہے یہ تو بس دل ہی تھا مرا پاگل توٗ مرا انتخاب تھوڑی ہے اُٹھ چکے ہیں نقاب چہرے سے درمیاں اب حجاب تھوڑی ہے یوں ہی آنکھیں دکھائیں دنیا کو سامنے تیرا خواب تھوڑی ہے اس لیے بھی سوال کر نہ سکی کوئی تیرا جواب تھ...

تم بھی اب شہر سے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو – فوزیہ ربابؔ

تم بھی اب شہر سے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو – فوزیہ ربابؔ

تم بھی اب شہر سے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو دیکھ کر مجھ کو گزر جاتے ہو حد کرتے ہو نین تو یوں ہی تمھارے ہیں بلا کے قاتل اُس پہ تم روز سنور جاتے ہو حد کرتے ہو میری آنکھوں سے بھی آنسو نہیں گرنے پاتے میری آنکھوں میں ٹھہر جاتے ہو حد کرتے ہو میرے جذبات میں تم بہہ تو لیا کرتے ہو کیسے دریا ہو اتر جاتے ہو حد کرتے...

من کا روپ سنہرا – فوزیہ ربابؔ

من کا روپ سنہرا – فوزیہ ربابؔ

من کا روپ سنہرا غم کا سونا جنگل اُس پر دُکھ کا پہرا من کا روپ سنہرا دیواروں سے تیری باتیں کرکر ہاری کر دے روحیں گھائل زخمِ محبت گہرا من کا روپ سنہرا تیری راجکماری رستہ تیرا دیکھے جب سے اے شہززادے من میں توٗ ہے ٹھہرا من کا روپ سنہرا فوزیہ ربابؔ

ذکر میرا کرتے ہیں دشنام سے – فوزیہ ربابؔ

ذکر میرا کرتے ہیں دشنام سے – فوزیہ ربابؔ

ذکر میرا کرتے ہیں دشنام سے کس قدر جلتے ہیں میرے نام سے پھر بہکنا اُس پہ لازم ہو گیا جس نے پی تیرے گلابی جام سے پھر حیا سے زرد ہی وہ پڑ گیا ذکر تیرا جب ہوا گلفام سے تیرا وعدہ تو وفا ہوتا نہیں دل مگر یہ منتظر ہے شام سے گردشِ ایّام میں بھی ساتھ ہیں دوست واقف ہیں مرے انجام سے ساقیا یہ جام و مینا دور رکھ...

اُسی کا ذکر کہانی سے اقتباس رہے – فوزیہ ربابؔ

اُسی کا ذکر کہانی سے اقتباس رہے – فوزیہ ربابؔ

اُسی کا ذکر کہانی سے اقتباس رہے وہ ہر گھڑی جو مرے واسطے اداس رہے یہ اُس کا قرب مجھے عشق کی عطا سے ملا وہ دوٗر جائے مگر میرے آس پاس رہے طرح طرح سے مجھے تو بچھڑ بچھڑ کے ملا طرح طرح کے میرے ذہن میں قیاس رہے تمھارے غم کے سوا اور کوئی غم بھی نہ تھا تمھارے درد مرے درد کی اساس رہے وہ کتنے ناز سے کہنے لگے ر...

لہو  انسانیت کا ہے – فوزیہ ربابؔ

لہو انسانیت کا ہے – فوزیہ ربابؔ

لہو انسانیت کا ہے میں اِک معصوم سی لڑکی یہ دنیا جس کی نظروں میں بہت ہی خوبصورت تھی فقط جو زندگی کے آٹھویں ہی سال میں ہر دن بڑے ہی شوق سے ابنِ صفیؔ، پروین شاکرؔ کی کتابیں پڑھتی رہتی تھی جسے سب لوگ کہتے تھے یہ ملکہ ہے خیالوں کی ہمیشہ کھوئی رہتی ہے نجانے سوچتی کیا ہے وہ اک معصوم سی لڑکی کہ جس کی گفتگو ...

چاندنی رات سے محبت ہے – فوزیہ ربابؔ

چاندنی رات سے محبت ہے – فوزیہ ربابؔ

چاندنی رات سے محبت ہے تیری ہر بات سے محبت ہے تم کسی رات بھی چلے آنا مجھ کو ہر رات سے محبت ہے وہ جو تم روز روز کرتے ہو اعتراضات سے محبت ہے تیری خاطر تمام دنیا کے اختلافات سے محبت ہے جو کبھی ہو نہ پائے تم سے ربابؔ انکشافات سے محبت ہے فوزیہ ربابؔ

ہما راہندوستان – فوزیہ ربابؔ

ہما راہندوستان – فوزیہ ربابؔ

ہما راہندوستان پیار محبت امن ترقی یہ ہے خواب ہمارا اللہ سوہنے پیاری دھرتی ہے احسان تمھارا اپنی اس دھرتی پر اپنی جاں بھی ہے قربان نہ تیرا نہ میرا دیکھ ہمارا ہندوستان اک دوجے کا دکھ سکھ بانٹیں بانٹیں ہر سو پیار نفرت دل سے دور کریں ہم بن جائیں دلدار ختم کریں دل کی دوری کو، مشکل ہو آسان نہ تیرا نہ میرا ...

شرارتوں پہ یقیں کوئی کر بھی سکتا ہے – فوزیہ ربابؔ

شرارتوں پہ یقیں کوئی کر بھی سکتا ہے – فوزیہ ربابؔ

شرارتوں پہ یقیں کوئی کر بھی سکتا ہے سمجھ کے عشق کوئی تجھ پہ مر بھی سکتا ہے یہ بات بات پہ قسمت کو دوش کیا دینا نصیب زلف نہیں ہے سنور بھی سکتا ہے یہ دل کی اجڑی ہوئی اک سراے ہے سو یہاں کوئی حسین مسافر ٹھہر بھی سکتا ہے یہ بادلوں کا بسیرا تو عام ہے لیکن ہماری آنکھ سے دریا اتر بھی سکتا ہے جو شہر بھر میں ک...

پیارے بھائی زینؔ شکیل کی سالگرہ کے موقع پر – فوزیہ ربابؔ

پیارے بھائی زینؔ شکیل کی سالگرہ کے موقع پر – فوزیہ ربابؔ

پیارے بھائی زینؔ شکیل کی سالگرہ کے موقع پر پھول دیتے رہنا تو رسم اک پرانی ہے میں نے اب یہ سوچا ہے اس برس کے تحفے میں جنم دن کے موقع پر حسرتوں کے صحرا سے پھول چن کے لاؤں گی تیرے ساتھ جو گزرے ان پرانی یادوں کو ڈھال کر محبت میں تجھ کو دان کر دوں گی اپنی ساری خوشیاں میں تیرے نام کر دوں گی تو جو ساتھ ہو...

مری نظمیں پڑھوگے ناں؟ – فوزیہ ربابؔ

مری نظمیں پڑھوگے ناں؟ – فوزیہ ربابؔ

مری نظمیں پڑھوگے ناں؟ سنو سائیں!! یہ ممکن ہے کہ تم کو زندگانی کے کسی کمزور لمحے میں کوئی لمحہ ستائے گا وہ میرے ساتھ کا لمحہ اداسی کو تم اُس پل میں نہ طاری خود پہ کر لینا تم اُس لمحہ مرے سائیں مری نظموں کو پڑھ لینا مرے لفظوں میں اپنی ذات کو محسوس کر لینا اداسی کے سبھی لمحے مری نظموں میں تم تحلیل کر د...

دل میں ٹھہرا درد نگوڑا کوزہ گر – فوزیہ ربابؔ

دل میں ٹھہرا درد نگوڑا کوزہ گر – فوزیہ ربابؔ

دل میں ٹھہرا درد نگوڑا کوزہ گر کیسے موڑ پہ تونے چھوڑا کوزہ گر میں بھی خود سے روٹھی روٹھی رہتی ہوں جب سے توٗ نے مُکھ ہے موڑا کوزہ گر اب تو بکھرے بکھرے ہیں اجزا میرے جوڑا تھا تو کیوں کر توڑا کوزہ گر میری ہستی میں بھی تیری ہستی ہے میرا مجھ میں کچھ بھی نہ چھوڑا کوزہ گر میں نے خود میں تیری یاد سجائی ہے ج...

آپ سے ہے مجھے کوئی شکوہ گلہ نا جی بالکل نہیں – فوزیہ ربابؔ

آپ سے ہے مجھے کوئی شکوہ گلہ نا جی بالکل نہیں – فوزیہ ربابؔ

آپ سے ہے مجھے کوئی شکوہ گلہ نا جی بالکل نہیں جی نہیں یہ ہے میری وفا کا صلہ نا جی بالکل نہیں آپ سے دور ہرگز نہ رہ پاؤں گی میں تو مر جاؤں گی غم کا ہے مجھ کو منظور یہ قافلہ نا جی بالکل نہیں آکے مجھ سے حوادث زمانے کے ٹکرا بھی جائیں اگر پست ہو جائے گا یہ مرا حوصلہ نا جی بالکل نہیں آپ آئیں مرے سامنے تو ...

گواہ کرنے لگے ہیں شہادتوں کا لہو – فوزیہ ربابؔ

گواہ کرنے لگے ہیں شہادتوں کا لہو – فوزیہ ربابؔ

گواہ کرنے لگے ہیں شہادتوں کا لہو تو منصفوں نے کیا ہے عدالتوں کا لہو خدا نے توبہ کی توفیق بخش دی مجھ کو کہ میری آنکھوں سے نکلا ندامتوں کا لہو یہ ایسی بوندیں ہیں جن پر کرم کا وعدہ ہے ندامتوں کا ہو آنسو شہادتوں کا لہو زمین بوس ہوئی ہیں عمارتیں وہ بھی جنھیں پلایا گیا تھا ریاضتوں کا لہو بغیر علم کے ملتی ...

جب سے تیری یاد پتھّر ہو گئی – فوزیہ ربابؔ

جب سے تیری یاد پتھّر ہو گئی – فوزیہ ربابؔ

جب سے تیری یاد پتھّر ہو گئی ہو گئی برباد پتھّر ہو گئی بے خبر میرے تجھے اِس بار میں کرتے کرتے یاد پتھّر ہو گئی عرش کی جانب چلی تھی اور پھر میری ہر فریاد پتھّر ہو گئی بہہ نہیں پائی تمھاری آنکھ کیوں کیوں مری روداد پتھّر ہو گئی ہائے دل نگری کی قسمت کیا کہوں ہو کے جو آباد پتھّر ہو گئی حوصلے اتنے مرے نازک...

ہزاروں مسئلے آئیں محبت کم نہیں ہوتی – فوزیہ ربابؔ

ہزاروں مسئلے آئیں محبت کم نہیں ہوتی – فوزیہ ربابؔ

ہزاروں مسئلے آئیں محبت کم نہیں ہوتی ہمیں دن رات تڑپائیں محبت کم نہیں ہوتی ارے اتنے پریشاں ہو رہے ہو کس لیے ہمدم تمھیں یہ کیسے سمجھائیں محبت کم نہیں ہوتی تمھارے بِن سبھی موسم اگَن دل میں لگاتے ہیں ہمیں یہ لاکھ سلگائیں محبت کم نہیں ہوتی تمھیں دل سے لگا کر اپنے اندر جذب کر لیں گے کبھی آؤ تو بتلائیں مح...

سنو برمی مسلمانو! – فوزیہ ربابؔ

سنو برمی مسلمانو! – فوزیہ ربابؔ

سنو برمی مسلمانو! سنو برمی مسلمانو ہمیں پروا نہیں کوئی تمھارے جلنے کٹنے سے تمھارے رونے دھونے سے کسی منّت سماجت سے کہ تم برمی مسلماں ہو تعلق تم سے کب کوئی یہاں کچھ لوگ ہندی ہیں تو کچھ ان کے پڑوسی ہیں کوئی عربی کوئی عجمی مگر انساں نہیں کوئی سنو برمی مسلمانو۔۔۔ مسلماں لفظ کیسا ہے یہ دنیا میں جہاں دیکھو...

  • 1
  • 2