محبت کی حسیں دیوی – فوزیہ ربابؔ

محبت کی حسیں دیوی بہت مغرور ہوں ناں میں بہت ضدّی سی لڑکی ہوں مجھے یہ سب ہی کہتے ہیں بہت اکھّڑہو تم لڑکی !…

Read More..

حمد باری تعالیٰ – فوزیہ ربابؔ

حمد باری تعالیٰ اپنی ہستی تِری چاہت میں مٹالی مولیٰ لب ہیں خاموش رہی چشم سوالی مولیٰ بھیجتی ہوں ترے محبوب کو صد بار درود…

Read More..

وہ کہاں روز دل دکھاتے ہیں – فوزیہ ربابؔ

وہ کہاں روز دل دکھاتے ہیں ہم بھی کب اتنا مسکراتے ہیں کیوں جراثیم بغض و نفرت کے ذہن میں اُن کے کلبلاتے ہیں اِس…

Read More..

کس کو اپنا حال سنائیں آپ بتائیں – فوزیہ ربابؔ

کس کو اپنا حال سنائیں آپ بتائیں کیسے دل کو ہم سمجھائیں آپ بتائیں آپ کہیں میں بعد میں ہی اپنی کہہ لوں گی آپ…

Read More..

جگ سے نرالی پیٖت – فوزیہ ربابؔ

جگ سے نرالی پیٖت میرے سوہنے بالم کی ہے جگ سے نرالی پیٖت پیٖت کی دھن میں کوئل بن کر اس کو سناؤں گیت میرا…

Read More..

نعت – فوزیہ ربابؔ

نعت جو بے کسوں کا ہے اک سہارا درِ نبیؐ ہے نہیں ہے جس کے بنا گزارا درِ نبیؐ ہے ریاضتوں کا صلہ ملے بس…

Read More..

عجیب درد سا پھیلا ہوا ہے بستی میں – فوزیہ ربابؔ

عجیب درد سا پھیلا ہوا ہے بستی میں سنا ہے وہ کہیں ٹھہرا ہوا ہے بستی میں مری گلی میں وہ اک عمر کاٹنے والا…

Read More..

ان کے مسکرانے پر سانس ڈول جاتی ہے – فوزیہ ربابؔ

ان کے مسکرانے پر سانس ڈول جاتی ہے اور یاد آنے پر سانس ڈول جاتی ہے ان کی آنکھ سے نکلے تیر مار دیتے ہیں…

Read More..

مراخواب تھیں جو محبتیں – فوزیہ ربابؔ

مراخواب تھیں جو محبتیں مری آرزوؤں کے دیوتا ! میں عجیب تھی،میں عجب رہی مجھے دشت غم کو بھی چھاننے کی طلب رہی مری بات…

Read More..

دل میں تصویر تری آنکھ میں آثار ترے – فوزیہ ربابؔ

دل میں تصویر تری آنکھ میں آثار ترے زخم ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں بیمار ترے اے شبِ رنج و الم دیکھ ذرا رحم تو…

Read More..

ہے ہم میں عشق کا جوہر ہمیں تم سے محبت ہے – فوزیہ ربابؔ

ہے ہم میں عشق کا جوہر ہمیں تم سے محبت ہے ہمارا دل نہیں پتھّر ہمیں تم سے محبت ہے ہماری آنکھ کے رستے ہمارے…

Read More..

قلم اٹھاؤ ! – فوزیہ ربابؔ

قلم اٹھاؤ ! قلم اٹھاؤ اداس لوگو ! اداسیوں کا لباس تن سے اتار پھینکو اے خواہشوں کے اسیر لوگو ! حقیقتوں سے نظر نہ…

Read More..

تمھیں میں یاد کروں اور بے حساب کروں – فوزیہ ربابؔ

تمھیں میں یاد کروں اور بے حساب کروں تمھارے نام نیا پھر سے انتساب کروں یہ آئینہ بھی تری ہی جھلک دکھاتا ہے میں آئینے…

Read More..

میں کلی جیسی ہوں پر خار سمجھتے ہیں مجھے – فوزیہ ربابؔ

میں کلی جیسی ہوں پر خار سمجھتے ہیں مجھے لوگ مجرم یہاں ہر بار سمجھتے ہیں مجھے صاف ظاہر ہے کہ وہ خوف زدہ ہیں…

Read More..

زمیں کا کرب فلک پر کبھی عیاں نہ ہوا – فوزیہ ربابؔ

زمیں کا کرب فلک پر کبھی عیاں نہ ہوا ہمارا درد کبھی زیبِ داستاں نہ ہوا کسی بھی دوست نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی…

Read More..

آنٹی مجھ کو ڈر لگتا ہے – فوزیہ ربابؔ

آنٹی مجھ کو ڈر لگتا ہے کل شب تھی اک بے چینی سی نیند کی دیوی روٹھی سی تھی میں نے کمرے کی کھڑکی کے…

Read More..

مجھ کو تو کچھ اور دِکھا ہے آنکھوں کے اُس پار – فوزیہ ربابؔ

مجھ کو تو کچھ اور دِکھا ہے آنکھوں کے اُس پار تم بتلاؤ آخر کیا ہے آنکھوں کے اُس پار سپنا کوئی بکھر چکا ہے…

Read More..

حاجیو!! – فوزیہ ربابؔ

حاجیو!! اور کیا چاہئیے ساقیِ چاہِ کوثر وہاں منتظر ہیں تمھارے لیے حاجیو! کیا تمھیں علم ہے کہ تمھیں کیا ملا ہے سنو حاجیو سرورِ…

Read More..

یوں ہی دکھ ہو جاویں گے کم شہزادے – فوزیہ ربابؔ

یوں ہی دکھ ہو جاویں گے کم شہزادے آ جا سکھ کے خواب بنین ہم شہزادے اپنے ہوش گنوا بیٹھی ہوں پھر سے آج سوچ…

Read More..

عشق کی چاہت – فوزیہ ربابؔ

عشق کی چاہت ہاں میں اک بھولی لڑکی ہوں میں عشق کی چاہت کرتی ہوں میں خواب کی آڑ میں ہر اک شب بس رستہ…

Read More..

تمھیں کیا فرق پڑتا ہے – فوزیہ ربابؔ

تمھیں کیا فرق پڑتا ہے سنو اے میرے شہزادے! تمھیں کیا فرق پڑتا ہے؟ اگر میں یہ کہوں تم سے کہ کچھ انجان ساعت میں…

Read More..

نظر اداس جگر بے قرار چُپ خاموش – فوزیہ ربابؔ

نظر اداس جگر بے قرار چُپ خاموش تجھے کہا نہ ابھی صبر یار چُپ خاموش خدا کے واسطے کر دے دلِ تباہ معاف ترا مزید…

Read More..

سرخرو ہجر ترا جاں مری لے کر ہوگا – فوزیہ ربابؔ

سرخرو ہجر ترا جاں مری لے کر ہوگا کیا خبر تھی ترا جانا نہیں، محشر ہوگا مسئلہ میرا سبھی لوگ سمجھتے کب ہیں حل تو…

Read More..

امّی میری پیاری امّی – فوزیہ ربابؔ

امّی میری پیاری امّی امّی میری پیاری امّی دیکھو میں کتنی تنہا ہوں دیکھو امّی میری آنکھیں آج سمندر بن بیٹھی ہیں امّی میری جان…

Read More..

مجھ کملی کا سنگھار پیا – فوزیہ ربابؔ

مجھ کملی کا سنگھار پیا ان سانسوں کا سردار پیا تجھ بن در چھت دیوار ڈسے تجھ بن سونا گھر بار پیا ہر جذبے کی…

Read More..

چھولے من کے تار – فوزیہ ربابؔ

چھولے من کے تار سن جھومر میرے پیارے جھومر جان پیا کی جائے تو جو یوں مسکائے جب اپنا سنگھار میں دیکھوں یاد پیا کی…

Read More..

وہ اگر بات ماننے لگ جائیں – فوزیہ ربابؔ

وہ اگر بات ماننے لگ جائیں اُن کے بھی سارے غم مجھے لگ جائیں آپ آئیں تو یہ بھی ممکن ہے رنگ خوشبو بکھیرنے لگ…

Read More..

قریۂ خواب بے امان ہے کیا – فوزیہ ربابؔ

قریۂ خواب بے امان ہے کیا کوئی آنکھوں میں میہمان ہے کیا دھوپ چھٹتی نہیں کسی لمحہ سر پہ ہر آن آسمان ہے کیا میرے…

Read More..

تم ہو میری زیست کا حاصل شہزادے – فوزیہ ربابؔ

تم ہو میری زیست کا حاصل شہزادے توڑ نہ دینا تم میرا دل شہزادے اپنے اندر تم کو دیکھ رہی ہوں میں آئینہ ہے میرے…

Read More..

میں بولی تیرے لب پر ہے ہنسی میری – فوزیہ ربابؔ

میں بولی تیرے لب پر ہے ہنسی میری وہ بولا مت بڑھاؤ بے کلی میری میں بولی شاہزادے مول کیا میرا وہ بولا شاہزادی زندگی…

Read More..

رنج و حزن و ملال نا سائیں – فوزیہ ربابؔ

رنج و حزن و ملال نا سائیں کوئی میرا کمال نا سائیں اک ترے بعد ہو مرے دل میں اور کوئی خیال نا سائیں بخت…

Read More..

اک بے ہنر کو داد میں ہر بار تالیاں – فوزیہ ربابؔ

اک بے ہنر کو داد میں ہر بار تالیاں مجھ کو تو لگ رہی ہیں سزاوار تالیاں پہلے تو اہلِ حق کو چڑھایا ہے دار…

Read More..

مانگتا ہے کوئی حساب ربابؔ – فوزیہ ربابؔ

مانگتا ہے کوئی حساب ربابؔ کردے آج اُس کو لاجواب ربابؔ میں ہوں اک عشق کی کتاب ربابؔ اور تو میرا انتساب ربابؔ میری راہوں…

Read More..

چشمِ الفت لڑ گئی ہے اِن دنوں – فوزیہ ربابؔ

چشمِ الفت لڑ گئی ہے اِن دنوں اک عجب سی بے کلی ہے اِن دنوں عشق بھی کرنا ہے گھر کے کام بھی یہ مصیبت…

Read More..

وہ مجھے بے وفا سمجھتا ہے – فوزیہ ربابؔ

وہ مجھے بے وفا سمجھتا ہے خیر میرا خدا سمجھتا ہے باغ میں پھول دیکھنے والا میری اک اک ادا سمجھتا ہے جو سمجھتا ہے…

Read More..

عشق کا شہر ہوں میں جس کا اجارہ تو ہے – فوزیہ ربابؔ

عشق کا شہر ہوں میں جس کا اجارہ تو ہے چشم کا حسن ہے پلکوں کا اشارہ تو ہے خواب سارے ہی اسی طشت میں…

Read More..

تم جلدی لوٹ آؤگے ناں؟ – فوزیہ ربابؔ

تم جلدی لوٹ آؤگے ناں؟ پھرآج میں کتنی تنہا ہوں توٗ یاد مجھے پھر آیا ہے وہ کتنے پیارے پل تھے ناں جب ساتھ تو…

Read More..

میرا مُٹھرا سوہنا بالم – فوزیہ ربابؔ

میرا مُٹھرا سوہنا بالم میرا مُٹھرا سوہنا بالم مجھ سے گیا ہے روٹھ پریٖت کی دھُن میں کوئل بن کر اُس کو سناؤں گیت سوہنا…

Read More..

زلفِ محبت برہم برہم می رقصم – فوزیہ ربابؔ

زلفِ محبت برہم برہم می رقصم وجد میں ہے پھر چشمِ پرنم می رقصم عشق کی دھُن میں آنکھیں نغمہ گاتی ہیں گھول مرے جذبوں…

Read More..

اُسی کا لمس ہر اک رات سے جڑا ہوا ہے – فوزیہ ربابؔ

اُسی کا لمس ہر اک رات سے جڑا ہوا ہے وہ کون ہے جو مری ذات سے جڑا ہوا ہے اب اس سے ربط نہیں…

Read More..

لَوٹ رہے ہو ہاتھ چھڑا کر شہزادے – فوزیہ ربابؔ

لَوٹ رہے ہو ہاتھ چھڑا کر شہزادے کیا ملتا ہے مجھ کو رُلا کر شہزادے بولو کیسے خود کو اب تم روکو گے دل کی…

Read More..

چاہت کے اظہار سے پہلے مر جانا ہی اچھا تھا – فوزیہ ربابؔ

چاہت کے اظہار سے پہلے مر جانا ہی اچھا تھا گھُٹ گھُٹ کر یوں جینے سے تو مر جانا ہی اچھا تھا تیری خاطر جنگل…

Read More..

ہمیں سدا یوں ہی صحرا نورد رہنا ہے – فوزیہ ربابؔ

ہمیں سدا یوں ہی صحرا نورد رہنا ہے کہ چھانتے تری راہوں کی گرد رہنا ہے وفائیں ڈھونڈتے پھرتے ہو گرم ہاتھوں میں تمھارا ہاتھ…

Read More..

عشق کا اک عذاب تھوڑی ہے – فوزیہ ربابؔ

عشق کا اک عذاب تھوڑی ہے زیست مثلِ گلاب تھوڑی ہے یوں ہی ہم جام کو اچھالتے ہیں اب میسّر شراب تھوڑی ہے یہ تو…

Read More..

تم بھی اب شہر سے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو – فوزیہ ربابؔ

تم بھی اب شہر سے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو دیکھ کر مجھ کو گزر جاتے ہو حد کرتے ہو نین تو یوں ہی…

Read More..

من کا روپ سنہرا – فوزیہ ربابؔ

من کا روپ سنہرا غم کا سونا جنگل اُس پر دُکھ کا پہرا من کا روپ سنہرا دیواروں سے تیری باتیں کرکر ہاری کر دے…

Read More..

ذکر میرا کرتے ہیں دشنام سے – فوزیہ ربابؔ

ذکر میرا کرتے ہیں دشنام سے کس قدر جلتے ہیں میرے نام سے پھر بہکنا اُس پہ لازم ہو گیا جس نے پی تیرے گلابی…

Read More..

اُسی کا ذکر کہانی سے اقتباس رہے – فوزیہ ربابؔ

اُسی کا ذکر کہانی سے اقتباس رہے وہ ہر گھڑی جو مرے واسطے اداس رہے یہ اُس کا قرب مجھے عشق کی عطا سے ملا…

Read More..

لہو انسانیت کا ہے – فوزیہ ربابؔ

لہو انسانیت کا ہے میں اِک معصوم سی لڑکی یہ دنیا جس کی نظروں میں بہت ہی خوبصورت تھی فقط جو زندگی کے آٹھویں ہی…

Read More..

چاندنی رات سے محبت ہے – فوزیہ ربابؔ

چاندنی رات سے محبت ہے تیری ہر بات سے محبت ہے تم کسی رات بھی چلے آنا مجھ کو ہر رات سے محبت ہے وہ…

Read More..

ہما راہندوستان – فوزیہ ربابؔ

ہما راہندوستان پیار محبت امن ترقی یہ ہے خواب ہمارا اللہ سوہنے پیاری دھرتی ہے احسان تمھارا اپنی اس دھرتی پر اپنی جاں بھی ہے…

Read More..

شرارتوں پہ یقیں کوئی کر بھی سکتا ہے – فوزیہ ربابؔ

شرارتوں پہ یقیں کوئی کر بھی سکتا ہے سمجھ کے عشق کوئی تجھ پہ مر بھی سکتا ہے یہ بات بات پہ قسمت کو دوش…

Read More..

پیارے بھائی زینؔ شکیل کی سالگرہ کے موقع پر – فوزیہ ربابؔ

پیارے بھائی زینؔ شکیل کی سالگرہ کے موقع پر پھول دیتے رہنا تو رسم اک پرانی ہے میں نے اب یہ سوچا ہے اس برس…

Read More..

مری نظمیں پڑھوگے ناں؟ – فوزیہ ربابؔ

مری نظمیں پڑھوگے ناں؟ سنو سائیں!! یہ ممکن ہے کہ تم کو زندگانی کے کسی کمزور لمحے میں کوئی لمحہ ستائے گا وہ میرے ساتھ…

Read More..

دل میں ٹھہرا درد نگوڑا کوزہ گر – فوزیہ ربابؔ

دل میں ٹھہرا درد نگوڑا کوزہ گر کیسے موڑ پہ تونے چھوڑا کوزہ گر میں بھی خود سے روٹھی روٹھی رہتی ہوں جب سے توٗ…

Read More..

آپ سے ہے مجھے کوئی شکوہ گلہ نا جی بالکل نہیں – فوزیہ ربابؔ

آپ سے ہے مجھے کوئی شکوہ گلہ نا جی بالکل نہیں جی نہیں یہ ہے میری وفا کا صلہ نا جی بالکل نہیں آپ سے…

Read More..

گواہ کرنے لگے ہیں شہادتوں کا لہو – فوزیہ ربابؔ

گواہ کرنے لگے ہیں شہادتوں کا لہو تو منصفوں نے کیا ہے عدالتوں کا لہو خدا نے توبہ کی توفیق بخش دی مجھ کو کہ…

Read More..

جب سے تیری یاد پتھّر ہو گئی – فوزیہ ربابؔ

جب سے تیری یاد پتھّر ہو گئی ہو گئی برباد پتھّر ہو گئی بے خبر میرے تجھے اِس بار میں کرتے کرتے یاد پتھّر ہو…

Read More..

ہزاروں مسئلے آئیں محبت کم نہیں ہوتی – فوزیہ ربابؔ

ہزاروں مسئلے آئیں محبت کم نہیں ہوتی ہمیں دن رات تڑپائیں محبت کم نہیں ہوتی ارے اتنے پریشاں ہو رہے ہو کس لیے ہمدم تمھیں…

Read More..

سنو برمی مسلمانو! – فوزیہ ربابؔ

سنو برمی مسلمانو! سنو برمی مسلمانو ہمیں پروا نہیں کوئی تمھارے جلنے کٹنے سے تمھارے رونے دھونے سے کسی منّت سماجت سے کہ تم برمی…

Read More..