Farhat Abbas Shah

شکایت اور خوف کی ملی جُلی نظم – فرحت عباس شاه

شکایت اور خوف کی ملی جُلی نظم – فرحت عباس شاه

شکایت اور خوف کی ملی جُلی نظم میں نے شکایت بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور چاند لگا وضاحتیں کرنے وہ تو چونکہ بادل بہت تھے اور رات پوری طرح گہری نہیں تھی ہوا بند تھی اور ستارے خاموش تھے اور یہ تھا اور وہ تھا میں نے شکایت بھرے انداز میں دوبارہ اس کی طرف دیکھا اور تمام وضاحتیں رد کر دیں اجنبی پرندے ا...

شام تمہارا نام نہ جانے – فرحت عباس شاه

شام تمہارا نام نہ جانے – فرحت عباس شاه

شام تمہارا نام نہ جانے شام تمہارا نام نہ جانے مجھ سے بولے جھوٹ رات تمہاری یاد نہ آئے نا ممکن سی بات وقت اور موسم تیری ذات میں گڈ مڈ ہو کر میرے اندر دکھ اور سکھ کی فصل اگائیں ہنس ہنس گائیں گیت رو رو تیری ذات پکاریں صدیاں جائیں بیت سب کچھ پریت ہی پریت شام تمہارا نام نہ جانے رات تمہاری یاد نہ آئے نام...

سوا نیزہ – فرحت عباس شاه

سوا نیزہ – فرحت عباس شاه

سوا نیزہ ہم نے سمجھا تھا دکھ غروب ہو جائے گا دھوپ ڈھل جائے گی تپش کم ہو جائے گی ہم اپنی مرضی سے زمین پر پاؤں رکھ سکیں گے آسمان کے عین درمیان میں ایک ہی جگہ پہ اٹکا ہوا آگ برساتا یہ کیسا سورج ہے اور زمین کے عین درمیان میں ایک ہی جگہ پر ٹکے ہوئے ہم سوا نیزے کے قدوں والے فرحت عباس شاہ

سفر میں شب بھی آنی ہے ستارہ بھی نہیں رہنا – فرحت عباس شاه

سفر میں شب بھی آنی ہے ستارہ بھی نہیں رہنا – فرحت عباس شاه

سفر میں شب بھی آنی ہے ستارہ بھی نہیں رہنا سمندر میں پرندوں کا اشارہ بھی نہیں رہنا محبت میں دلوں کا کھیل ایسے ہی تو ہوتا ہے ہمارا بھی نہیں رہنا تمہارا بھی نہیں رہنا عجب بے مائیگی ہے زندگی کی بے ثباتی کی کنارے پر کھڑے ہیں اور کنارہ بھی نہیں رہنا جدائی پل میں لے آئے گی اک سیلاب آنکھوں میں نگاہیں ڈوب...

سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف – فرحت عباس شاه

سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف – فرحت عباس شاه

سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف تو میرا ہوا ہے تو ہوئے یار مخالف سنتے تھے کہ بس ہوتے ہیں اغیار مخالف میرے تو نکل آئے ہیں سب یار مخالف بنیاد رکھوں کوئی تو بنیاد ہے دشمن دیوار اٹھاتا ہوں تو دیوار مخالف ہر بار میں منہ پھیر لیا کرتا ہوں تم سے اور تم کہ نکل آتے ہو ہربار مخالف میں تو کسی قابل ہی نہیں تم ...

ساتھ ہے کہکشاں، پیار سارا جہاں – فرحت عباس شاه

ساتھ ہے کہکشاں، پیار سارا جہاں – فرحت عباس شاه

ساتھ ہے کہکشاں، پیار سارا جہاں دل میں سمٹ آیا ہے آسماں بانہوں میں بھر لوں اگر روشنی کی ہوائیں لہراؤں صندلی بدن جھوم اٹھیں گی فضائیں حسن ہے بے کراں۔۔۔ پیار سارا جہاں سانسوں میں بھی گنگنائیں گیتوں بھری آبشاریں بجنے لگیں ساز بن کر دھڑکنوں کی قطاریں رقص میں ہے سماں۔۔۔ پیار سارا جہاں ہاتھوں پہ اتری ہ...

زندانِ ذات – فرحت عباس شاه

زندانِ ذات – فرحت عباس شاه

زندانِ ذات حبس کا پہلاپر بانسری کی پُر درد لے نے ذات کے اندر کہیں کھڑکی کھولی داخل ہوئی اور قید ہوگئی ملگجے اندھیرے جدائی تنہائی ماضی دل، بے بسی مستقبل، دھند اور تمہاری یادوں کے ساتھ بانسری قیدی ہوگئی کبھی کبھی تمہارا بھیجا ہوا کوئی خط ملاقات کو آتا ہے اور حبس کچھ دیر کو کم ہو جاتا ہے حبس کچھ دیر ک...

روز ہم زرد بیابانی کے خارج میں پڑے – فرحت عباس شاه

روز ہم زرد بیابانی کے خارج میں پڑے – فرحت عباس شاه

روز ہم زرد بیابانی کے خارج میں پڑے اپنے باطن کا سفر کرتے ہیں درد مین صبر کی گنجائش بے پایاں ریاضت ہے بڑی سارا ماحول ہو چپ اور کوئی دل بولے ساری چلائیں تو ہم چپ ہی رہیں روز ہم ہجر کے بے چین مزاروں پہ ملنگوں کی طرح تسبیاں رولیں ترے آنے کی راکھ سر ڈھانپ کے رکھتی ہے فقیروں کا رداؤں کی طرح روز ہم راکھ ...

رستے میں تری یاد سے دوچار نہ ہوتے – فرحت عباس شاه

رستے میں تری یاد سے دوچار نہ ہوتے – فرحت عباس شاه

رستے میں تری یاد سے دوچار نہ ہوتے ہم بھول، بھلیوں میں گرفتار نہ ہوتے نفرت کی کوئی بات اگر ہوتی تو جاناں ہم تیرے لیے عمر سے بیمار نہ ہوتے اک جان اگر وقف ہوا کرتی کسی پر اک جان پہ سو طرح کے آزار نہ ہوتے تو شامل احوال زمانہ اگر ہوتا آنکھوں میں تری درد کے آثار نہ ہوتے کس چیز سے لگ بیٹھتے حیران و پریشاں ...

رات ہے اور میں اکیلا ہوں – فرحت عباس شاه

رات ہے اور میں اکیلا ہوں – فرحت عباس شاه

رات ہے اور میں اکیلا ہوں تیری یادوں کے ساتھ کھیلا ہوں مِیت ہوں بے قراریوں کا میں اور تنہائی کا سہیلا ہوں مجھ کو صحراؤں والی رونقیں ہیں میں بیابانیوں کا میلہ ہوں میرے درجات کا تعّیُن کر دل ہوں اور پورا عشق جھیلا ہوں کچھ نہیں میں ترے مقابلے میں کچی مٹی کا ایک ڈھیلا ہوں جانے کب سوکھ جاؤں اپنے آپ ہجر...

رات بھر میں ترے خیال کے ساتھ – فرحت عباس شاه

رات بھر میں ترے خیال کے ساتھ – فرحت عباس شاه

رات بھر میں ترے خیال کے ساتھ بات کرتا رہا ملال کے ساتھ بے کلی ہے کہ بڑھتی جاتی ہے میری دھڑکن کی تال تا ل کے ساتھ دوست بیماریءِ محبت میں درد بڑھتا ہے اندمال کے ساتھ آ کے دیکھو تو باغ میں میرے ہجر لپٹا ہے ڈال ڈال کے ساتھ ایک لمبی جدائی کا دکھ بھی ڈسنے لگتا ہے دل، وصال کے ساتھ اور کچھ بھی نہیں کہا لیک...

دیمک – فرحت عباس شاه

دیمک – فرحت عباس شاه

دیمک اداسی زہر ہے جو دھیرے دھیرے جسم و جاں کو چاٹ جاتی ہے فرحت عباس شاہ (کتاب – ملو ہم سے)

دھمال – فرحت عباس شاه

دھمال – فرحت عباس شاه

دھمال دھما دھم دھم دھما دھم دھم فقیرا نَچ، فقیرا نَچ اوہ اوّل وی اوہ آخر وی اوہ سبھّو حق اوہ سبھّو سچ فقیرا نَچ فقیرا نَچ دھما دھم دھم دھما دھم دھم نہ چھوٹی شے نوں لاویں دِل نہ چاویں سِل فقیرا نَچ، فقیرا نَچ دھما دھم دھم دھما دھم دھم تیری چاہت تیری الفت مرے لہو وِچ مچاوے مچ فقیرا نَچ، فقیرا نَچ دھم...

دل نے تمہارا نام لیا تو فوراً ہم نے – فرحت عباس شاه

دل نے تمہارا نام لیا تو فوراً ہم نے – فرحت عباس شاه

دل نے تمہارا نام لیا تو فوراً ہم نے رو دینے سے پہلے خود کو تھام لیا تھا دکھ کی دھوپ میں کیسی ناگن ہے دل والو مجھ کو اکثر راتوں کو بھی ڈس لیتی ہے دفنانے آئے تھے میری آرزؤں کو قبریں کھلی ہوئی ہی چھوڑ گئے ہیں ظالم دل کے اندر صحرا بھی بڑھتا جاتا ہے دیر گئے تک بارش بھی ہوتی رہتی ہے ہم بھی ساتھ چلے تھے...

دل سُونا دل خالی خالی – فرحت عباس شاه

دل سُونا دل خالی خالی – فرحت عباس شاه

دل سُونا دل خالی خالی دل سُونا، دل خالی خالی شامیں کالی نیل سپنے ٹھنڈے یخ بستہ شب گونگی بہری جھیل جسم سراپا گھائل گھائل تلوے اندر کیل اک خواہش اک لال سمندر اک طوفاں اک چیل دل سُونا دل خالی خالی شامیں کالی نیل فرحت عباس شاہ (کتاب – دکھ بولتے ہیں)

دکھ بھی کتنا تہہ دار ہوتا ہے – فرحت عباس شاه

دکھ بھی کتنا تہہ دار ہوتا ہے – فرحت عباس شاه

دکھ بھی کتنا تہہ دار ہوتا ہے صد شکر کہ میری یادداشت گم ہو چکی ہے میرے لیے کسی صدا کی بازگشت ممکن نہیں تحفظ کبھی کبھی خود بخود ہی ہو جاتا ہے تم وہی ہونا جو مجھے یاد نہیں رہے سنا ہے میری یادداشت گم ہونے سے پہلے مجھے بس تم ہی یاد رہ گئے تھے دکھ بھی کتنا تہہ دار ہوتا ہے کبھی یادداشت کا دکھ کبھی یادداشت ...

درد کی دھار بن گئی جاناں – فرحت عباس شاه

درد کی دھار بن گئی جاناں – فرحت عباس شاه

درد کی دھار بن گئی جاناں سانس تلوار بن گئی جاناں اس طرف تم تھے اس طرف میں تھا شام دیوار بن گئی جاناں اور جاں آبلہ ہوئی ثابت زندگی خار بن گئی جاناں مانتی ہی نہیں دوا کوئی چاہ آزار بن گئی جاناں آستانے پہ بیٹھنے کی ضد وجہِ دیدار بن گئی جاناں غم کی تائید ہو گئی شامل نظم شہکار بن گئی جاناں دیکھ کر مجھ...

داستان گو کی موت – فرحت عباس شاه

داستان گو کی موت – فرحت عباس شاه

داستان گو کی موت کون آنکھوں کے تلے دفن حکایات پڑھے کون لفظوں کے پس صوت معانی ڈھونڈے کون کومل سی ہنسی کے پیچھے دل کی کرلاٹ سنے کون تصویر کے ماضی میں اتر کر دیکھے کون دن رات کے پس منظر میں جمی برف کے صحراؤں کو محسوس کرے ہم کہ جو ہاتھوں میں دل لے کے پھرا کرتے تھے آج اس دل میں کئی زخم لیے پھرتے ہیں اور ...

خواہش خام کے مارے ہوئے ہم لوگوں کا – فرحت عباس شاه

خواہش خام کے مارے ہوئے ہم لوگوں کا – فرحت عباس شاه

خواہش خام کے مارے ہوئے ہم لوگوں کا خواب اور خوف کے مابین سفر بیت گیا فرحت عباس شاہ (کتاب – بارشوں کے موسم میں)

خالی کاغذ پہ حرف سجایا کرتا تھا – فرحت عباس شاه

خالی کاغذ پہ حرف سجایا کرتا تھا – فرحت عباس شاه

خالی کاغذ پہ حرف سجایا کرتا تھا تنہائی میں شہر بسایا کرتا تھا کیسا پاگل شخص تھا ساری ساری رات دیواروں کو درد سنایا کرتا تھا رو دیتا تھا آپ ہی اپنی باتوں پر اور پھر خود کو آپ ہنسایا کرتا تھا فرحت عباس شاہ (کتاب – شام کے بعد – اول)

چند چیزیں تو وہیں ہیں – فرحت عباس شاه

چند چیزیں تو وہیں ہیں – فرحت عباس شاه

چند چیزیں تو وہیں ہیں چند چیزیں تو وہیں ہیں اب تک وہ ترا ساتھ ترا لمس اور تیری خوشبو، مرا دل تری آواز کی رنگت تری ناراض اداسی کی فضا تر یادوں کے بدن میرے خیالوں کی ہوا کچھ مقامات ملاقات جدائی اور دکھ ہم چلے آئے ہیں ان جگہوں سے راستے اور چھتیں اور شجر اب بھی وہیں ہیں سارے بے خیالی میں گزاری ہوئی چا...

چاند پر زور نہیں دل تو ہے بس میں اپنے – فرحت عباس شاه

چاند پر زور نہیں دل تو ہے بس میں اپنے – فرحت عباس شاه

چاند پر زور نہیں دل تو ہے بس میں اپنے تم کہو تو یہی دو نیم کیے لیتے ہیں فرحت عباس شاہ

جو اس کے چہرے پہ رنگِ حیا ٹھہر جائے – فرحت عباس شاه

جو اس کے چہرے پہ رنگِ حیا ٹھہر جائے – فرحت عباس شاه

جو اس کے چہرے پہ رنگِ حیا ٹھہر جائے تو سانس، وقت، سمندر، ہوا ٹھہر جائے وہ مسکرائے تو ہنس ہنس پڑیں کئی موسم وہ گنگنائے تو بادِ صبا ٹھہر جائے سبک خرام صبا چال چل پڑے جب بھی ہزار پھول سرِ راہ آ ٹھہر جائے وہ ہونٹ ہونٹوں پہ رکھ دے اگر دمِ آخر مجھے گماں ہے کہ آئی قضا ٹھہر جائے میں اس کی آنکھوں میں جھا...

جس قدر ہو گا پرانا، ہے نکھرنے والا – فرحت عباس شاه

جس قدر ہو گا پرانا، ہے نکھرنے والا – فرحت عباس شاه

جس قدر ہو گا پرانا، ہے نکھرنے والا زخم جو دل پہ لگا ہے نہیں بھرنے والا پھر تری یاد جنازوں کو لیے آتی ہے پھر ترا سوگ مرے گھر ہے بکھرنے والا وہ مجھے اچھی طرح جانتا ہے مشکل میں اس کو معلوم ہے سب میں نہیں ڈرنے والا موت اک بچھڑی ہوئی شام ہے آنے والی زندگی ریت کا دریا ہے اترنے والا ایسا لگتا ہے زمانے کی...

جب کوئی میرے ہاتھ میں تقدیر دیکھتا – فرحت عباس شاه

جب کوئی میرے ہاتھ میں تقدیر دیکھتا – فرحت عباس شاه

جب کوئی میرے ہاتھ میں تقدیر دیکھتا میں جھک کے اپنے پاؤں میں زنجیر دیکھتا اک خواب تھا بہت ہی پرانا، جھٹک دیا کب تک فقط خیال کی تصویر دیکھتا فرحت عباس شاہ

ٹھیک ہے تیرے افسانے بھی عام ہوئے – فرحت عباس شاه

ٹھیک ہے تیرے افسانے بھی عام ہوئے – فرحت عباس شاه

ٹھیک ہے تیرے افسانے بھی عام ہوئے تیری خاطر ہم بھی تو بدنام ہوئے آؤ نہ آؤ تم مرضی کے مالک ہو ہم تو ہوئے غلام تمہارے نام ہوئے دھیرے دھیرے کاٹ رہے ہیں تنہائی ہم نا ہوئے اداسی کی کوئی شام ہوئے روئے، تم کو یاد کیا اور شعر لکھے چپکے چپکے اچھے خاصے کام ہوئے یہ تو تاجوں تختوں والے ہوتے ہیں کٹیا والے شاہ...

تو مسافر نہیں تو کیا جانے – فرحت عباس شاه

تو مسافر نہیں تو کیا جانے – فرحت عباس شاه

تو مسافر نہیں تو کیا جانے راستوں کے مزاج ہوتے ہیں فرحت عباس شاہ (کتاب – چاند پر زور نہیں)

تمہیں دیکھا تو دیکھا چاند جیسے – فرحت عباس شاه

تمہیں دیکھا تو دیکھا چاند جیسے – فرحت عباس شاه

تمہیں دیکھا تو دیکھا چاند جیسے مری میں آنکھوں میں اترا چاند جیسے ہنسی گونجی مری یادوں میں تیری خوشی میں آ کے بولا چاند جیسے مرے لفظوں میں تیرا نام آیا کسی شاعر نے لکھا چاند جیسے وہ یوں لگتا ہے لوگوں میں ہمیشہ ستاروں میں اکیلا چاند جیسے تمہارے ہجر کی ویراں شبوں میں پھرے ہیں ہم بھی تنہا چاند جیسے فرحت...

تما شا – فرحت عباس شاه

تما شا – فرحت عباس شاه

تما شا روز اداسی چہرہ بدلے روز دکھائے ہاتھ روز اک نئے سرے سے کھیلے بازی دل کے ساتھ فرحت عباس شاہ (کتاب – من پنچھی بے چین)

تم – فرحت عباس شاه

تم – فرحت عباس شاه

تم دل کی دہلیز سے لگی ویرانی اور ویرانی کی دہلیز سے لگی بیٹھی جدائی اور جدائی کی دہلیز سے لگی بیٹھی محبت اور محبت کی دہلیز سے لگی بیٹھی کائنات فرحت عباس شاہ (کتاب – اداس شامیں اجاڑ رستے)

ترے پیار میں – فرحت عباس شاه

ترے پیار میں – فرحت عباس شاه

ترے پیار میں کبھی دھند میں یا غبار میں کبھی بادلوں کی قطار میں کبھی پھول میں کبھی خار میں کبھی آرزوئے بہار میں کبھی جیت میں کبھی ہار میں کسی بھولی بھٹکی اداس رت کے حصار میں ترا ہجر پھرتا ہے لے کے ہم کو جگہ جگہ یہ جو دل کو مٹھی میں بھینچ کر ہے رکھا ہوا یہ جو آہ ہونٹوں میں تھام کر ہے رکھی ہوئی یہ جو...

پیشِ انسانیت – فرحت عباس شاه

پیشِ انسانیت – فرحت عباس شاه

پیشِ انسانیت پسِ انسانیت ایک چھوٹا پرندہ کسی بڑے پرندے کے ہتھے چڑھا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا چڑیا کا بچہ روشندان میں بنے ہوئے گھونسلے سے گرا اور مر گیا چیونٹیاں پیروں کے نیچے آ کے کچلی گئیں مکھی کتاب کی زد میں آئی اور ماری گئی ہزاروں جانور ہر روز گاڑیوں کی زد میں آتے ہیں اور باقی نہیں رہتے ایسے ...

پُشت پہ بندھے ہاتھ – فرحت عباس شاه

پُشت پہ بندھے ہاتھ – فرحت عباس شاه

پُشت پہ بندھے ہاتھ ہم اکڑی ہوئی گردنوں اور تنے ہوئے سینوں والے کبھی اپنی آنکھوں سے ٹپکتی ہوئی رعونت کم نہیں ہونے دیتے ہم گونجتی کڑ کڑاتی آوازوں اور دھمکتے ہوئے قدموں والے اپنی پیشانیوں سے جابرانہ لکیریں اور کرخت سلوٹیں ایک لحظہ کے لئے بھی ہٹانے کو تیار نہیں حالانکہ ہم میں سے ہر ایک ہر لمحہ اپنے اپ...

بیڈ روم – فرحت عباس شاه

بیڈ روم – فرحت عباس شاه

بیڈ روم بلا جواز رفاقت اور بے تعلق قربت در و دیوار میں چنی ہوئی روح تمہارے ہجر کا بدل نہیں ہو سکتی اور بستر پر بندھا ہوا بدن اور تکیے سے الجھی ہوئی سانسیں تم سے علیحدہ نہیں کی جاسکتیں کمرے میں نیند کم ہے اور بے خوابی بہت زیادہ ہے پھر بھی خواب پہلے سے زیادہ آن بسے ہیں ایک پر پڑے خواب سائڈ ٹیبل پر پڑے...

بے سہاروں کا سہارا کون ہے – فرحت عباس شاه

بے سہاروں کا سہارا کون ہے – فرحت عباس شاه

بے سہاروں کا سہارا کون ہے ان دیاروں میں ہمارا کون ہے تک رہا ہے جو تمہیں اک عمر سے جانتے ہو یہ ستارہ کون ہے بول مت پیغامبر سے بھیڑ میں پوچھ لے کر کے اشارہ کون ہے کون روتا ہے یہاں ہر شام کو اس قدر جیون کا مارا کون ہے مجھ سے بھی لڑتے ہو فرحت بے سبب میرے بن آخر تمہارا کون ہے فرحت عباس شاہ (کتاب – ...

بول سہیلی کس نے دل بے چین کیا – فرحت عباس شاه

بول سہیلی کس نے دل بے چین کیا – فرحت عباس شاه

بول سہیلی کس نے دل بے چین کیا ہجر نے اندر دور کہیں پر بین کیا بول سہیلی کس نے پلکیں لرزائی ہیں اک آنسو نے ابھی جو رستے ہی میں ہے بول سہیلی کس نے نیندیں چوری کی ہیں جو آنکھوں کی نگری میں آباد ہوا ہے بول سہیلی رات آئی ہے کچھ تو بول چپ کے ڈسے ہوئے لفظوں میں کیا رکھا ہے بول سہیلی تنہائی کیا کہتی ہے ...

بنا رسولؐ تو کوئی بھی بات کچھ بھی نہیں – فرحت عباس شاه

بنا رسولؐ تو کوئی بھی بات کچھ بھی نہیں – فرحت عباس شاه

بنا رسولؐ تو کوئی بھی بات کچھ بھی نہیں مری نظر میں یہ سب کائنات کچھ بھی نہیں فرحت عباس شاہ

بچھڑے تو کبھی لوٹ کے پھر پاس نہ آئے – فرحت عباس شاه

بچھڑے تو کبھی لوٹ کے پھر پاس نہ آئے – فرحت عباس شاه

بچھڑے تو کبھی لوٹ کے پھر پاس نہ آئے ممکن ہے کہ اس بار انا راس نہ آئے فرحت عباس شاہ (کتاب – ہم اکیلے ہیں بہت)

بارش آگ لگائے – فرحت عباس شاه

بارش آگ لگائے – فرحت عباس شاه

بارش آگ لگائے سوئے درد جگائے چھوڑ آیا ہوں دل کون یہ بوجھ اٹھائے میں آیا ہوں دیکھ کتنے زخم سجائے فرحت عباس شاہ (کتاب – شام کے بعد – دوم)

ایک طوفانی بارش کے دوران – فرحت عباس شاه

ایک طوفانی بارش کے دوران – فرحت عباس شاه

ایک طوفانی بارش کے دوران بارشیں ایسی تو نہ تھیں خوفزدہ کر دینے والی چھتیں گرانے اور گھروں کو مسمار کرنے والی اور راستے روک دینے والی بارشیں ایسی تو نہ تھیں بارشیں تو اور طرح کی تھیں اداس کر دینے والی اور یاد دلانے والی۔۔۔ جانے کیا کیا کچھ یاد دلانے والی اور کبھی کبھی رلا دینے والی کسی شدید اداسی سے،...

ایسے لاحق ہوا یہ شہر کا ویرانہ مجھے – فرحت عباس شاه

ایسے لاحق ہوا یہ شہر کا ویرانہ مجھے – فرحت عباس شاه

ایسے لاحق ہوا یہ شہر کا ویرانہ مجھے روز اک خوف لپٹ جاتا ہے انجانا مجھے روز اک درد مجھے راہ میں آملتا ہے اور کہتا ہے سلام ، آپ نے پہچانا مجھے ایک ہی فلم چلی رہتی ہے ہر چینل پر دیکھنا پڑتا ہے یہ کام بہیمانہ مجھے دیکھنا ہوتا ہے اک خواب ترے ملنے کا اور پھر پڑتا ہے اس خواب کو بہلانا مجھے مجھ کو اس بات ...

اے تمنا اے مری بادل سوار – فرحت عباس شاه

اے تمنا اے مری بادل سوار – فرحت عباس شاه

اے تمنا اے مری بادل سوار اے تمنا اے مری بادل سوا آ گلے لگ جا مرے اور کھل کے رو رو سمندر خشک ہیں بھر دے انہیں رو کہ دریا جل رہے ہیں ریت میں راکھ ہوتے جا رہے ہیں خیمہ ہائے زندگی اور ترے چہرے پہ رنگِ آتشِ نمناک ساکت ہو گیا ہے روک لے اپنا سفر اور مڑ کے دیکھ اپنے ان قدموں تلے روندے گئے گم سُم نقوشِ پا ...

آنکھیں سپنے ہار چکیں – فرحت عباس شاه

آنکھیں سپنے ہار چکیں – فرحت عباس شاه

آنکھیں سپنے ہار چکیں جیون سب کچھ بانٹ چکا آدھے آدھے باقی ہیں میں اور میری تنہائی لوگ عجیب مصیبت ہیں سکھ کی بات نہیں کرتے ایک اداسی رہتی ہے گھر کے کونوں کھدروں میں اکثر تیری خاطر میں گھر سے باہر آتا ہوں گھر سے جانے والوں پر گھر کے رستے بند ہوئے خاک اڑائے گی اب تو بستی بستی ویرانی فرحت عباس شاہ (کتاب ...

اندھے کالے سورج کی پیشانی پر – فرحت عباس شاه

اندھے کالے سورج کی پیشانی پر – فرحت عباس شاه

اندھے کالے سورج کی پیشانی پر تیرا ماتھا جا چمکا ویرانی پر فرحت عباس شاہ (کتاب – اک بار کہو تم میرے ہو)

اگرچہ اس کو پایا تھا نہ دیکھا – فرحت عباس شاه

اگرچہ اس کو پایا تھا نہ دیکھا – فرحت عباس شاه

اگرچہ اس کو پایا تھا نہ دیکھا مگر وہ خواب سے باہر نہیں تھا فرحت عباس شاہ (کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)

اک دنیا – فرحت عباس شاه

اک دنیا – فرحت عباس شاه

اک دنیا بھول بھلیاں سی اک گونگا، بہرا، اندھا دل فرحت عباس شاہ

اسے کہنا وہ گزرے یا نہ گزرے – فرحت عباس شاه

اسے کہنا وہ گزرے یا نہ گزرے – فرحت عباس شاه

اسے کہنا وہ گزرے یا نہ گزرے ہم اس کی راہ میں بیٹھے ہوئے ہیں فرحت عباس شاہ (کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)

اس لیے آپ کا گمان نہیں – فرحت عباس شاه

اس لیے آپ کا گمان نہیں – فرحت عباس شاه

اس لیے آپ کا گمان نہیں آخرت تک کوئی نشان نہیں یہ دلائل فقط مہارت ہیں ان دلائل میں کوئی جان نہیں ہم اسے مان لیں بنا سمجھے جھوٹ بولیں ہماری شان نہیں کوئی بھی تو نہیں یہاں پہلا کوئی بھی آخری جہان نہیں دل میں یادیں تمہاری بستی ہیں یہ تو گھر ہے کوئی مکان نہیں آپ کی سلطنت گئی کہ گئی یہ عمل ہے فقط بیان...

اِس سے بہتر یہی ہے کہ ہم عمر بھر راستے میں رہیں – فرحت عباس شاه

اِس سے بہتر یہی ہے کہ ہم عمر بھر راستے میں رہیں – فرحت عباس شاه

اِس سے بہتر یہی ہے کہ ہم عمر بھر راستے میں رہیں بستیاں جھوٹ اور بستیوں کے لیے خواب بھی جھوٹ ہیں پیاس سچ ہے مگر ریت کے فرش پر سب چمکتے ہوئے آب بھی جھوٹ ہیں ہر طرف ایک غم کی مسافت ہے اور اس مسافت میں وقتی پڑاؤ کے سب باب بھی جھوٹ ہیں جھوٹ ہیں جب تو پھر کیوں نہ اگلے سے اگلے سفر کے کسی واسطے میں رہیں ہ...

یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے – فرحت عباس شاه

یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے – فرحت عباس شاه

یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے ہم اتنی دیر سے بچھڑے کبھی ملنے ملانے کو چلیں تو بھاگ کر کوئی جدائی ساتھ ہی ہو لے کبھی بازار کو جائیں تو تنہائی لپٹ جائے یہاں تو یہ بھی ممکن ہے کبھی ہم دیر سے گھر آئیں تو باہر گلی میں بھیڑ ہو گھر میں کوئی ماتم، کوئی کہرام برپا ہو تو دل ٹکڑوں میں بٹ جائ...

آدھے غم – فرحت عباس شاه

آدھے غم – فرحت عباس شاه

آدھے غم میں نے سوچا تھا تم چلے جاؤ گے سارے کے سارے چلے جاؤ گے تم مجھے دھوکہ دو گے میں نے سمجھا تھا تم بھول جاؤ گے سب کچھ بھول جاؤ گے اور تمام کی تمام باتیں ادھر سے ادھر اور دائیں سے بائیں ہر جگہ سے کھرچ ڈالو گے میں نے چاہا تھا تم میرے ہو جاؤ میرے اپنے سارے اور مکمل لیکن تم نے مجھے ہمیشہ آدھے ...

یہ جو قافلوں کے پڑاؤ ہیں – فرحت عباس شاه

یہ جو قافلوں کے پڑاؤ ہیں – فرحت عباس شاه

یہ جو قافلوں کے پڑاؤ ہیں یہ تو موت ہی کے گھراؤ ہیں مرے دل کا اپنا عروج ہے مری شخصیت کے سبھاؤ ہیں مرے انگ انگ میں آج تک تری چاہتوں کے رچاؤ ہیں مری روح میں بھی ہے آگ سی مرے خون میں بھی الاؤ ہیں مری نظم تو مرا درد ہے مرے شعر تو مرے گھاؤ ہیں ترے دشمنوں کی طرف بہت مری جان اب کے جھکاؤ ہیں یہ جو آبشاریں ہی...

احساس جرم – فرحت عباس شاه

احساس جرم – فرحت عباس شاه

احساس جرم میں نے اپنے ہاتھوں دل کی کوکھ میں اتر کر خود کو قتل کیا لہو اچھل کر میری آنکھوں میں جا پڑا اور دل ایڑیوں میں میں نے اپنی بجھتی ہوئی آنکھوں میں کتنے ہی دم توڑتے عکس دیکھے ہتھیلی پر پرانی یاد داشتوں کا سوگ دیکھا پیشانی پر سسکتی شرمندگی جانکنی میں اٹکا ضمیر بے لباسی میں موت دیکھ لینے کے باوجو...

یا نبیؐ آپ کے سوا مانگیں – فرحت عباس شاه

یا نبیؐ آپ کے سوا مانگیں – فرحت عباس شاه

یا نبیؐ آپ کے سوا مانگیں کون ہے جس سے بارہا مانگیں آپ کے اختیار کے صدقے اپنی حاجات سے سوا مانگیں مانگنا بھی بہت ضروری ہے خود خدا نے بھی ہے کہا مانگیں پہنچ جاتی ہے عرش پر سیدھی تیرے در پر اگر دعا مانگیں میرے آقا ہیں بانٹنے والے جتنے بیمار ہیں شفا مانگیں فرحت عباس شاہ

اپنے ہی آپ سے غضب کیا ہے؟ – فرحت عباس شاه

اپنے ہی آپ سے غضب کیا ہے؟ – فرحت عباس شاه

اپنے ہی آپ سے غضب کیا ہے؟ خواب گم کر دئیے تو اب کیا ہے؟ دنیا داری تو ٹھیک ہے لیکن یہ جو اندر ہے بے طلب کیا ہے؟ درد کیوں اس کا پال رکھا ہے؟ ایسی بیگار کا سبب کیا ہے؟ آج تک میں نے راز رکھا ہے میرے سینے میں بے طلب کیا ہے؟ غم سے نکلیں تو ہم بھی غور کریں صبح کیا ہے ہماری شب کیا ہے فرحت عباس شاہ

وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا مرا دل – فرحت عباس شاه

وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا مرا دل – فرحت عباس شاه

وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا مرا دل سفر نے ڈھونڈ لیا ہے رہا سہا مرا دل کچھ اس طرح سے کسی تعزیت کی آس میں تھا کسی نے ہنس کے بھی دیکھا تو رو دیا مرا دل ہے اپنی اپنی رسائی رہ محبت میں ہے اپنا اپنا طریقہ ترا خدا مرا دل نگر نے معجزہ مانگا تری محبت کا تو جھوم جھوم کے صحراؤں سے اٹھا مرا دل کسی نے جب بھی...

آپ کیوں بے بسی پہ مائل ہیں – فرحت عباس شاه

آپ کیوں بے بسی پہ مائل ہیں – فرحت عباس شاه

آپ کیوں بے بسی پہ مائل ہیں آپ کے پاس تو وسائل ہیں میرے دشمن بھی اپنے اندر سے میری بے باکیوں کے قائل ہیں دیکھ لے تُو گداگری یہ بھی ہم تری قربتوں کے سائل ہیں میری گم سم اداس سی آنکھیں عمر سے چاندنی کی گھائل ہیں آپ اور میرے درمیاں فرحت چند بے کار لوگ حائل ہیں فرحت عباس شاہ (کتاب – شام کے بعد ...

وطن میں رہ کے بھی سبھی ہیں کو بہ کو جلا وطن – فرحت عباس شاه

وطن میں رہ کے بھی سبھی ہیں کو بہ کو جلا وطن – فرحت عباس شاه

وطن میں رہ کے بھی سبھی ہیں کو بہ کو جلا وطن کسی کا دل ہے تو کسی کی آرزو جلا وطن میں تیری بستیوں میں اور تو کسی کے شہر میں کہیں پہ میں جلا وطن کہیں پہ تو جلا وطن فرحت عباس شاہ

اب دور ہی رہ یا مل سجنا – فرحت عباس شاه

اب دور ہی رہ یا مل سجنا – فرحت عباس شاه

اب دور ہی رہ یا مل سجنا تجھے سونپ دیا ہے دل سجنا اب خوشبو ہر سو پھیلے گی اِک زخم گیا ہے کھِل سجنا ہر رات ترے بن سینے پر ہے دَھری ہوئی اِک سِل سجنا ہر حُسن میں وار دوں تم پر سے کیا آنکھیں، عارض، تِل سجنا سینے میں میٹھا میٹھا دکھ آنکھوں میں ہے جھلمِل سجنا فرحت عباس شاہ (کتاب – من پنچھی بے چین)

ہوں پڑے لاکھ یہ سب چاند ستارے تیرے – فرحت عباس شاه

ہوں پڑے لاکھ یہ سب چاند ستارے تیرے – فرحت عباس شاه

ہوں پڑے لاکھ یہ سب چاند ستارے تیرے چاندنی شب کی طرح روپ ادھارے تیرے یہ الگ بات کہ بولی نہ کوئی آنکھ نہ دل ہم نے کاغذ پہ بہت نقش اتارے تیرے تو کہ کمزور سی اک شاخ ہے اس جنگل کی پھر بھی اک پیڑ کو رہتے ہیں سہارے تیرے آنکھ دیوار پہ، سوچیں کہیں دیوار کے پار ہم سمجھتے ہی نہیں گویا اشارے تیرے در سے ٹکرائیں ...