Farhat Abbas Shah

اِس سے بہتر یہی ہے کہ ہم عمر بھر راستے میں رہیں – فرحت عباس شاه

اِس سے بہتر یہی ہے کہ ہم عمر بھر راستے میں رہیں – فرحت عباس شاه

اِس سے بہتر یہی ہے کہ ہم عمر بھر راستے میں رہیں بستیاں جھوٹ اور بستیوں کے لیے خواب بھی جھوٹ ہیں پیاس سچ ہے مگر ریت کے فرش پر سب چمکتے ہوئے آب بھی جھوٹ ہیں ہر طرف ایک غم کی مسافت ہے اور اس مسافت میں وقتی پڑاؤ کے سب باب بھی جھوٹ ہیں جھوٹ ہیں جب تو پھر کیوں نہ اگلے سے اگلے سفر کے کسی واسطے میں رہیں ہ... »

یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے – فرحت عباس شاه

یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے – فرحت عباس شاه

یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے ہم اتنی دیر سے بچھڑے کبھی ملنے ملانے کو چلیں تو بھاگ کر کوئی جدائی ساتھ ہی ہو لے کبھی بازار کو جائیں تو تنہائی لپٹ جائے یہاں تو یہ بھی ممکن ہے کبھی ہم دیر سے گھر آئیں تو باہر گلی میں بھیڑ ہو گھر میں کوئی ماتم، کوئی کہرام برپا ہو تو دل ٹکڑوں میں بٹ جائ... »

آدھے غم – فرحت عباس شاه

آدھے غم – فرحت عباس شاه

آدھے غم میں نے سوچا تھا تم چلے جاؤ گے سارے کے سارے چلے جاؤ گے تم مجھے دھوکہ دو گے میں نے سمجھا تھا تم بھول جاؤ گے سب کچھ بھول جاؤ گے اور تمام کی تمام باتیں ادھر سے ادھر اور دائیں سے بائیں ہر جگہ سے کھرچ ڈالو گے میں نے چاہا تھا تم میرے ہو جاؤ میرے اپنے سارے اور مکمل لیکن تم نے مجھے ہمیشہ آدھے ... »

یہ جو قافلوں کے پڑاؤ ہیں – فرحت عباس شاه

یہ جو قافلوں کے پڑاؤ ہیں – فرحت عباس شاه

یہ جو قافلوں کے پڑاؤ ہیں یہ تو موت ہی کے گھراؤ ہیں مرے دل کا اپنا عروج ہے مری شخصیت کے سبھاؤ ہیں مرے انگ انگ میں آج تک تری چاہتوں کے رچاؤ ہیں مری روح میں بھی ہے آگ سی مرے خون میں بھی الاؤ ہیں مری نظم تو مرا درد ہے مرے شعر تو مرے گھاؤ ہیں ترے دشمنوں کی طرف بہت مری جان اب کے جھکاؤ ہیں یہ جو آبشاریں ہی... »

احساس جرم – فرحت عباس شاه

احساس جرم – فرحت عباس شاه

احساس جرم میں نے اپنے ہاتھوں دل کی کوکھ میں اتر کر خود کو قتل کیا لہو اچھل کر میری آنکھوں میں جا پڑا اور دل ایڑیوں میں میں نے اپنی بجھتی ہوئی آنکھوں میں کتنے ہی دم توڑتے عکس دیکھے ہتھیلی پر پرانی یاد داشتوں کا سوگ دیکھا پیشانی پر سسکتی شرمندگی جانکنی میں اٹکا ضمیر بے لباسی میں موت دیکھ لینے کے باوجو... »

یا نبیؐ آپ کے سوا مانگیں – فرحت عباس شاه

یا نبیؐ آپ کے سوا مانگیں – فرحت عباس شاه

یا نبیؐ آپ کے سوا مانگیں کون ہے جس سے بارہا مانگیں آپ کے اختیار کے صدقے اپنی حاجات سے سوا مانگیں مانگنا بھی بہت ضروری ہے خود خدا نے بھی ہے کہا مانگیں پہنچ جاتی ہے عرش پر سیدھی تیرے در پر اگر دعا مانگیں میرے آقا ہیں بانٹنے والے جتنے بیمار ہیں شفا مانگیں فرحت عباس شاہ »

اپنے ہی آپ سے غضب کیا ہے؟ – فرحت عباس شاه

اپنے ہی آپ سے غضب کیا ہے؟ – فرحت عباس شاه

اپنے ہی آپ سے غضب کیا ہے؟ خواب گم کر دئیے تو اب کیا ہے؟ دنیا داری تو ٹھیک ہے لیکن یہ جو اندر ہے بے طلب کیا ہے؟ درد کیوں اس کا پال رکھا ہے؟ ایسی بیگار کا سبب کیا ہے؟ آج تک میں نے راز رکھا ہے میرے سینے میں بے طلب کیا ہے؟ غم سے نکلیں تو ہم بھی غور کریں صبح کیا ہے ہماری شب کیا ہے فرحت عباس شاہ »

وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا مرا دل – فرحت عباس شاه

وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا مرا دل – فرحت عباس شاه

وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا مرا دل سفر نے ڈھونڈ لیا ہے رہا سہا مرا دل کچھ اس طرح سے کسی تعزیت کی آس میں تھا کسی نے ہنس کے بھی دیکھا تو رو دیا مرا دل ہے اپنی اپنی رسائی رہ محبت میں ہے اپنا اپنا طریقہ ترا خدا مرا دل نگر نے معجزہ مانگا تری محبت کا تو جھوم جھوم کے صحراؤں سے اٹھا مرا دل کسی نے جب بھی... »

آپ کیوں بے بسی پہ مائل ہیں – فرحت عباس شاه

آپ کیوں بے بسی پہ مائل ہیں – فرحت عباس شاه

آپ کیوں بے بسی پہ مائل ہیں آپ کے پاس تو وسائل ہیں میرے دشمن بھی اپنے اندر سے میری بے باکیوں کے قائل ہیں دیکھ لے تُو گداگری یہ بھی ہم تری قربتوں کے سائل ہیں میری گم سم اداس سی آنکھیں عمر سے چاندنی کی گھائل ہیں آپ اور میرے درمیاں فرحت چند بے کار لوگ حائل ہیں فرحت عباس شاہ (کتاب – شام کے بعد ... »

وطن میں رہ کے بھی سبھی ہیں کو بہ کو جلا وطن – فرحت عباس شاه

وطن میں رہ کے بھی سبھی ہیں کو بہ کو جلا وطن – فرحت عباس شاه

وطن میں رہ کے بھی سبھی ہیں کو بہ کو جلا وطن کسی کا دل ہے تو کسی کی آرزو جلا وطن میں تیری بستیوں میں اور تو کسی کے شہر میں کہیں پہ میں جلا وطن کہیں پہ تو جلا وطن فرحت عباس شاہ »

اب دور ہی رہ یا مل سجنا – فرحت عباس شاه

اب دور ہی رہ یا مل سجنا – فرحت عباس شاه

اب دور ہی رہ یا مل سجنا تجھے سونپ دیا ہے دل سجنا اب خوشبو ہر سو پھیلے گی اِک زخم گیا ہے کھِل سجنا ہر رات ترے بن سینے پر ہے دَھری ہوئی اِک سِل سجنا ہر حُسن میں وار دوں تم پر سے کیا آنکھیں، عارض، تِل سجنا سینے میں میٹھا میٹھا دکھ آنکھوں میں ہے جھلمِل سجنا فرحت عباس شاہ (کتاب – من پنچھی بے چین) »

ہوں پڑے لاکھ یہ سب چاند ستارے تیرے – فرحت عباس شاه

ہوں پڑے لاکھ یہ سب چاند ستارے تیرے – فرحت عباس شاه

ہوں پڑے لاکھ یہ سب چاند ستارے تیرے چاندنی شب کی طرح روپ ادھارے تیرے یہ الگ بات کہ بولی نہ کوئی آنکھ نہ دل ہم نے کاغذ پہ بہت نقش اتارے تیرے تو کہ کمزور سی اک شاخ ہے اس جنگل کی پھر بھی اک پیڑ کو رہتے ہیں سہارے تیرے آنکھ دیوار پہ، سوچیں کہیں دیوار کے پار ہم سمجھتے ہی نہیں گویا اشارے تیرے در سے ٹکرائیں ... »

ہمیں بھی شام ہی سے گھیر لیتی ہے پریشانی – فرحت عباس شاه

ہمیں بھی شام ہی سے گھیر لیتی ہے پریشانی – فرحت عباس شاه

ہمیں بھی شام ہی سے گھیر لیتی ہے پریشانی پرندوں کی طرح ہم بھی گھروں کو لوٹ آتے ہیں توقع تھی کہ کوئی لوٹ کر آئے گا جیتے جی مگر یہ لوٹنا اور موت آ جانا اچانک ہی سمندر سے کبھی پوچھو تمہیں رو کر بتائے گا کوئی ایسا نہیں تھا جو تلاطم کو سمجھ پاتا تمہیں اپنے کسی سکھ کا نشہ ہو گا مگر یارو ہمیں بھی ناز ہے ... »

ہم نے اشکوں سے کبھی پوچھا نہ تھا – فرحت عباس شاه

ہم نے اشکوں سے کبھی پوچھا نہ تھا – فرحت عباس شاه

ہم نے اشکوں سے کبھی پوچھا نہ تھا کس لیے بہتے رہے رخسار پر بے سبب رونا بھی کوئی بات ہے چبھ گئی ہوگی کوئی شے روح میں رات کی دیوی تجھے معلوم ہے کب بھلا ہم نے تری پوجا نہ کی تو جدائی کی طرح ڈستی رہی ہم سہیلی کی طرح ہنستے رہے ایک غم ہو کوئی تو بتلائیں بھی کھو گیا ہے دل ہجومِ درد میں فرحت عباس شاہ (کتاب &... »

ہم جو شاعر ہیں – فرحت عباس شاه

ہم جو شاعر ہیں – فرحت عباس شاه

ہم جو شاعر ہیں ہم جو شاعر ہیں نا اے جان مری ہم ستاروں کی طرح ہوتے ہیں درد بن بن کے چمکتے ہیں خلاؤں میں سفر کرتے ہیں جگنو کی طرح ہنستے اور بجھتے ہوئے دل کے لیے ٹمٹماتے ہیں محبت سے بھرے ہم جو شاعر ہیں نا اے جان مری ہم تو اشکوں کی قطاروں کی طرح ہوتے ہیں بہنے لگ جائیں تو بہنے لگ جائیں ہم جو شاعر ہیں نا... »

ہزار رنگ ہمیں چاند کی کرن میں ملے – فرحت عباس شاه

ہزار رنگ ہمیں چاند کی کرن میں ملے – فرحت عباس شاه

ہزار رنگ ہمیں چاند کی کرن میں ملے اور اس کے بعد فقط اک ترے بدن میں ملے خدا وہ وقت نہ لائے کہ اتنی دیر کے بعد تُو آئے اور ترا منتظر کفن میں ملے قدم قدم پہ مرے رہنما ہیں جیون میں کئی چلن جو مجھے تیرے اک چلن میں ملے مرا کلام تری رہگذار بن جائے مرے خدا جو کبھی تُو مجھے سخن میں ملے تری نگاہ سے اوجھل ہوئے... »

ہجر کا چاند – فرحت عباس شاه

ہجر کا چاند – فرحت عباس شاه

ہجر کا چاند درمیانی کسی ویرانی میں اُترا ہے ترے ہجر کا چاند پار لگنے کا گلہ کیا کرنا آنکھ اک درد سے ہٹتی ہے تو کتنے ہی نظر آتے ہیں پاک دامن مری چاہت کسی جنگل کو نکل جاتی تو اچھا ہوتا جھاڑیاں اتنی بھی بے رحم نہیں ہوتیں کہ روحوں پہ خراشیں ڈالیں درمیانی کسی ویرانی میں اٹکا ہوا دل لڑکھڑاتی ہوئی سانسوں... »

نہ کہا تھا کہ کبھی دور نہ جانا مجھ سے – فرحت عباس شاه

نہ کہا تھا کہ کبھی دور نہ جانا مجھ سے – فرحت عباس شاه

نہ کہا تھا کہ کبھی دور نہ جانا مجھ سے اب تری یاد بھی چھینے گا زمانہ مجھ سے فرحت عباس شاہ »

میں یہی سمجھوں گا میری محبت جھوٹی تھی – فرحت عباس شاه

میں یہی سمجھوں گا میری محبت جھوٹی تھی – فرحت عباس شاه

میں یہی سمجھوں گا میری محبت جھوٹی تھی تم اگر کہیں بھی مجھے نظر انداز کر کے آگے بڑھ سکتے ہو تو بڑھ جاؤ مجھے بھلا سکتے ہو تو بھلا دو یا اگر راستوں، ویرانوں اور لوگوں کے دلوں میں یا خود اپنے اندر کہیں بھی مجھے مار سکتے ہو تو مارو فرحت عباس شاہ »

میں سفر پر تھا جب سمندر کے – فرحت عباس شاه

میں سفر پر تھا جب سمندر کے – فرحت عباس شاه

میں سفر پر تھا جب سمندر کے وہ مرے ساتھ تھا ہوا کی طرح المیہ ہے کہ سطح غم پہ کہیں شہر کا مجھ سے رابطہ ہی نہیں گر گئی ہے کتاب ہاتھوں سے کوئی تو مجھ کو یاد کرتا ہے اور اس کے سوا نہیں کچھ بھی زندگی موت کا بہانہ ہے ایک کمرہ ہے درد کا جس میں کوئی میرے سوا نہیں رہتا فرحت عباس شاہ (کتاب – اداس شامیں ا... »

میں بہت اکیلا کھڑا رہا ترا منتظر – فرحت عباس شاه

میں بہت اکیلا کھڑا رہا ترا منتظر – فرحت عباس شاه

میں بہت اکیلا کھڑا رہا ترا منتظر سبھی چھوڑ چھاڑ کے چل دیے ترا راستہ مجھے آرزوؤں پہ شک گزرتا ہے رات دن کسی لمحہ ڈس ہی نہ لیں مزاج کی تازگی مجھے اپنے آپ زمین ہی نہ دبوچ لے مرے ارد گرد کھڑے رہو نہ مرے لیے شبِ بے قرار کا خوف تھا کہ میں شام تک ترے راستے سے پلٹ کے شہر نہ آ سکا یہ جو آنکھ پر ہے تنا ہوا ترا... »

موم کا چہرہ پہن لیا ہے – فرحت عباس شاه

موم کا چہرہ پہن لیا ہے – فرحت عباس شاه

موم کا چہرہ پہن لیا ہے پتھر کے انسانوں نے دنیا نے جب بھی چھوڑا ہے اک نازک سا دل توڑا ہے ہمیں سمیٹ لیا دامن میں درد بھرے ارمانوں نے کچھ کہہ کر بھی جی نہیں سکتے چپ رہ کر بھی جی نہیں سکتے سارے رستے بند کیے ہیں دنیا کے افسانوں نے مجبوری نے آن لیا ہے اب تو سب نے جان لیا ہے کون ہے اس چہرے کے پیچھے دیکھ ل... »

من مندر کا شاہ نرالا – فرحت عباس شاه

من مندر کا شاہ نرالا – فرحت عباس شاه

من مندر کا شاہ نرالا تن لاگے من بھائے عشق نگر کی تنہائی میں روئے اور رلائے ہجر عبادت بن جاتا ہے کونج کونج کرلائے کچھ بھی سمجھ نہ آئے روح نگر کا شاہ نرالا تن لاگے من بھائے عشق سکول کے ویرانوں میں کونج کونج کرلائے ہجر عبادت بن جاتا ہے دھڑکن سبق پڑھائے کچھ بھی سمجھ نہ آئے فرحت عباس شاہ »

مستقل ورنہ سفر کرتے ہیں – فرحت عباس شاه

مستقل ورنہ سفر کرتے ہیں – فرحت عباس شاه

مستقل ورنہ سفر کرتے ہیں دل نظر آئے تو گھر کرتے ہیں خوف کے مارے پرندوں کی طرح جاگ کر رات بسر کرتے ہیں کیا کہوں نین کسی کے مجھ پر کس قدر جلد اثر کرتے ہیں سچ کا پرچار کھلے عام سدا ہم بلا خوف و خطر کرتے ہیں اپنا سب حسن نظر عجز کے ساتھ آپ کے پیش نظر کرتے ہیں تلملا اٹھتا ہے پھر دریا بھی ہم جب آنسو کو گ... »

مرے بعد درد کی داستاں – فرحت عباس شاه

مرے بعد درد کی داستاں – فرحت عباس شاه

مرے بعد درد کی داستاں تجھے کون آ کے سنائے گا مجھے راستے میں خبر ملی وہ تو شہر ہی سے چلا گیا مری زندگانی کے خاروخس کوئی جاتے جاتے جلا گیا مرے رتجگوں کو خبر کرو مجھے نیند آئی ہے دیکھنے میں تو اپنے آپ میں ہی نہیں مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو بڑا سخت ہے ترا راستہ مجھے میری راہ پہ موڑ دے تجھے کیسا لگتا ہے... »

محرومی اور بے بسی کی گھٹن – فرحت عباس شاه

محرومی اور بے بسی کی گھٹن – فرحت عباس شاه

محرومی اور بے بسی کی گھٹن کمرے میں دو چار، دس بیس بتیاں، اور ہوتیں وہ بھی جلا لیتا کھڑکیاں اور زیادہ ہوتیں وہ بھی کھول لیتا، کاش کسی طرح چھت ہی کھل سکتی، یا پھر سینہ ہی ایسا ہوتا، جب چاہتے کھلا آسمان بنا لیتے ہر طرف چراغ ہی چراغ جلا لیتے کہیں سے کسی سورج کو پکڑ لاتے، اور کہیں درمیان میں گاڑ دیتے اُ... »

محبت رقص میں ہے انگ بھیجے – فرحت عباس شاه

محبت رقص میں ہے انگ بھیجے – فرحت عباس شاه

محبت رقص میں ہے انگ بھیجے کوئی لہجہ کوئی آہنگ بھیجے نہ بھیجے آرزوؤں کو اکیلا ہوا تو ہے ہوا کے سنگ بھیجے فرحت عباس شاہ (کتاب – ہم جیسے آوارہ دل) »

مجھے تم یاد آتے ہو – فرحت عباس شاه

مجھے تم یاد آتے ہو – فرحت عباس شاه

مجھے تم یاد آتے ہو مجھے تم یاد آتے ہو کسی سنسان سپنے میں چھپی خواہش کی حدت میں کسی مصروفیت کے موڑ پر تنہائی کے صحراؤں میں یا پھر کسی انجان بیماری کی شدت میں مجھے تم یاد آتے ہو کسی بچھڑے ہوئے کی چشم پرنم کے نظارے پر کسی بیتے ہوئے دن کی تھکن کی اوٹ سے یا پھر تمھارے ذکر میں گزری ہوئی شب کے اشارے پر... »

مانا کہ ترا درد زیادہ بھی نہیں ہے – فرحت عباس شاه

مانا کہ ترا درد زیادہ بھی نہیں ہے – فرحت عباس شاه

مانا کہ ترا درد زیادہ بھی نہیں ہے دل وقف کروں ایسا ارادہ بھی نہیں ہے یہ اور کہ کچھ سیدھا طبیعت کا ہے ورنہ اس دور کا انسان ہے سادہ بھی نہیں ہے فرحت عباس شاہ (کتاب – سوال درد کا ہے) »

لباس – فرحت عباس شاه

لباس – فرحت عباس شاه

لباس آج تو جیسے تیسے وقت گزر گیا کل پھر رات اور زیادہ سیاہ ہو جائے گی دن اور زیادہ مشکل ہو جائے گا شام کی ویرانی مزید بڑھ جائے گی صبح کی اجنبیت کم نہیں ہوگی پتہ نہیں میرے اس لباس کا کیا ہوگا جسے میں نے ہمیشہ ایسے موسموں سے بچایا ہے جو روح پر زخم لگانے آتے ہیں ایک دن جب شہر کی بیابانی اچانک مجھ پر جھ... »

گھٹن – فرحت عباس شاه

گھٹن – فرحت عباس شاه

گھٹن کسی جھکی ہوئی شاخ کو پکڑ کے درخت سے نوچ لوں جہاں جہاں ننھی منی چیونٹیاں رزق تلاش کرتی پھرتی ہیں کیا وہاں وہاں پاؤں رکھ رکھ کے چلوں اور کیا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نرم اور دھیمے لہجے میں بولنا چھوڑ دوں بولو آخر کیا کروں فرحت عباس شاہ »

گرچہ سارا جیون ہم نے غم لکھا – فرحت عباس شاه

گرچہ سارا جیون ہم نے غم لکھا – فرحت عباس شاه

گرچہ سارا جیون ہم نے غم لکھا ہم کو یہ معلوم ہے کتنا کم لکھا ہم نے اپنے دل کو بھی لکھا خوش خوش ہم نے تیری آنکھوں کو بھی نم لکھا دیکھو ہم نے کیسے ان کو ہمت دی تھکے ہوئے لوگوں کو تازہ دم لکھا جانے اس میں حکمت کیا تھی ہم دونوں الگ الگ تھے لوگوں نے باہم لکھا تیرے بعد تو روز بہت تفصیل کے ساتھ ہم نے دل کا... »

کیا بتلائیں کیسے کیسے جیون سہنا پڑتا ہے – فرحت عباس شاه

کیا بتلائیں کیسے کیسے جیون سہنا پڑتا ہے – فرحت عباس شاه

کیا بتلائیں کیسے کیسے جیون سہنا پڑتا ہے اک اک شے سے ڈر لگتا ہے پھر بھی رہنا پڑتا ہے کاغذ بن کر اڑنا پڑتا ہے بے رحم ہواؤں میں لکڑی بن کر ظالم دریاؤں میں بہنا پڑتا ہے فرحت عباس شاہ (کتاب – آنکھوں کے پار چاند) »

کون ہے؟ – فرحت عباس شاه

کون ہے؟ – فرحت عباس شاه

کون ہے؟ کون ہے۔۔۔؟ کون ہے جس نے پکارا ہے ہمیں ہم تو دنیا میں اکیلے ہیں بہت فرحت عباس شاہ (کتاب – ہم اکیلے ہیں بہت) »

کہاں سے ہو کے گزرے ہو مسافر – فرحت عباس شاه

کہاں سے ہو کے گزرے ہو مسافر – فرحت عباس شاه

کہاں سے ہو کے گزرے ہو مسافر تمہارا نقش پا دل پر نہیں ہے فرحت عباس شاہ (کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے) »

کسی کا کیا پتہ، ہم کیسے ہیں – فرحت عباس شاه

کسی کا کیا پتہ، ہم کیسے ہیں – فرحت عباس شاه

کسی کا کیا پتہ، ہم کیسے ہیں کسی کو کیا پتہ ہم کیسے ہیں ہم ایسے ہی ہیں جیسے، جلا ہوا وجود جیسے تازہ زخم جیسے دکھا ہوا دل جو ہوا سے بھی دکھ جائے اور شبنم سے بھی ہم نے بلانا چایا کوئی آیا نہیں ہم نے لوٹانا چاہا کوئی لوٹا نہیں ہم نے تلاش کرنا چاہا کوئی ملا نہیں ہم نے گُم کرنا چاہا کوئی ہوا نہیں کسی کو ... »

کچھ بھی تو سیکھنے نہیں دیتا – فرحت عباس شاه

کچھ بھی تو سیکھنے نہیں دیتا – فرحت عباس شاه

کچھ بھی تو سیکھنے نہیں دیتا کتنا استاد ہے زمانہ بھی تُو مجھے بے سبب ہی ملتا تھا بات تو میرے دل میں تھی کوئی زندگی خود سے خود کُشی تک ہے درمیاں کرب ناک عالم ہے اس نے لکھا نہیں ہے کچھ خط میں اس کی یہ بات بھی سمجھتا ہوں ہجر کا اپنا راز ہوتا ہے وصل کے انکشاف سے بڑھ کر فرحت عباس شاہ (کتاب – محبت گم... »

کبھی بول بھی – فرحت عباس شاه

کبھی بول بھی – فرحت عباس شاه

کبھی بول بھی دلِ سوختہ کبھی بول بھی جو اسیر کہتے تھے خود کو تیری اداؤں کے وہ کہاں گئے جو سفیر تھے تری چاہتوں کی فضاؤں کے وہ کہاں گئے وہ جو مُبتلائے سفر تھے تیرے خیال میں وہ جو دعویدار تھے عمر بھر کی وفاؤں کے وہ کہاں گئے کبھی کوئی راز تو کھول بھی کبھی بول بھی دلِ نا خدا کبھی بول بھی جو ترے سفینہِ ... »

قدرت – فرحت عباس شاه

قدرت – فرحت عباس شاه

قدرت سزا فرحت شاہ انگلیوں سے سورج بنانا اور سورج میں آنکھوں سے روشنی بھرنا اور دل سے دھوپ ڈال دینا اور رات کے چٹکی بھرنا کھلکھلا کے ہنس دینا ہر کسی کو کہاں آتا ہے فرحت شاہ روح کے کھیل بھی عجیب ہوتے ہیں شکست ہی فتح دے سکتی ہے کھیلو تب بھی نہ کھیلو تب بھی اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھیں چبھو لینا اور ا... »

غم کی من مانیاں نہیں دیکھیں – فرحت عباس شاه

غم کی من مانیاں نہیں دیکھیں – فرحت عباس شاه

غم کی من مانیاں نہیں دیکھیں تم نے ویرانیاں نہیں دیکھیں فرحت عباس شاہ (کتاب – ہم اکیلے ہیں بہت) »

عشق کے باب ٹھہر جاتے ہیں – فرحت عباس شاه

عشق کے باب ٹھہر جاتے ہیں – فرحت عباس شاه

عشق کے باب ٹھہر جاتے ہیں خواب در خواب ٹھہر جاتے ہیں آنکھ بھر جاتی ہے جب اشکوں سے ہم تہہِ آب ٹھہر جاتے ہیں اب تو زرخیز زمیں پر اپنی آ کے سیلاب ٹھہر جاتے ہیں یاد آتے ہو تو چلتے چلتے ہم سے بے تاب ٹھہر جاتے ہیں درد چل پڑتا ہے جب تیری طرف آنکھ میں خواب ٹھہر جاتے ہیں یوں تڑپ کر کوئی دل رکتا ہے جیسے ب... »

ظالم وقت نے چاہ کے لاحاصل کا خنجر – فرحت عباس شاه

ظالم وقت نے چاہ کے لاحاصل کا خنجر – فرحت عباس شاه

ظالم وقت نے چاہ کے لاحاصل کا خنجر جانے کس کے زخمی دل میں گھونپ دیا ہے آخر کو تھک ہار کے جاناں میں نے اپنی ویراں آنکھیں بنجر خواہش اور یادوں کے زرد صحیفے پھینک دیے ہیں اپنی ذات پہ جبر کے گہرے غاروں میں اور اک باقی ماندہ صحرا سپنوں کی نگری سے کوسوں دور کھڑے اک پیاسے شخص کو سونپ دیا ہے، ہم کیا جانیں ... »

شورش دیدہ نم سے آباد – فرحت عباس شاه

شورش دیدہ نم سے آباد – فرحت عباس شاه

شورش دیدہ نم سے آباد میری ہر شب ترے غم سے آباد ساری رونق ہی تری ذات سے ہے ساری دنیا ترے دم سے آباد ہے مری چھوٹی سی دنیا بے شک میرے مولا کے کرم سے آباد کچھ نہ کچھ تیری بدولت بھی ہے کچھ نہ کچھ شہر ہے ہم سے آباد مجھ کو معلوم ہے دکھ کی قیمت میری ہستی ہے الم سے آباد فرحت عباس شاہ (کتاب – اک ب... »

شکایت اور خوف کی ملی جُلی نظم – فرحت عباس شاه

شکایت اور خوف کی ملی جُلی نظم – فرحت عباس شاه

شکایت اور خوف کی ملی جُلی نظم میں نے شکایت بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور چاند لگا وضاحتیں کرنے وہ تو چونکہ بادل بہت تھے اور رات پوری طرح گہری نہیں تھی ہوا بند تھی اور ستارے خاموش تھے اور یہ تھا اور وہ تھا میں نے شکایت بھرے انداز میں دوبارہ اس کی طرف دیکھا اور تمام وضاحتیں رد کر دیں اجنبی پرندے ا... »

شام تمہارا نام نہ جانے – فرحت عباس شاه

شام تمہارا نام نہ جانے – فرحت عباس شاه

شام تمہارا نام نہ جانے شام تمہارا نام نہ جانے مجھ سے بولے جھوٹ رات تمہاری یاد نہ آئے نا ممکن سی بات وقت اور موسم تیری ذات میں گڈ مڈ ہو کر میرے اندر دکھ اور سکھ کی فصل اگائیں ہنس ہنس گائیں گیت رو رو تیری ذات پکاریں صدیاں جائیں بیت سب کچھ پریت ہی پریت شام تمہارا نام نہ جانے رات تمہاری یاد نہ آئے نام... »

سوا نیزہ – فرحت عباس شاه

سوا نیزہ – فرحت عباس شاه

سوا نیزہ ہم نے سمجھا تھا دکھ غروب ہو جائے گا دھوپ ڈھل جائے گی تپش کم ہو جائے گی ہم اپنی مرضی سے زمین پر پاؤں رکھ سکیں گے آسمان کے عین درمیان میں ایک ہی جگہ پہ اٹکا ہوا آگ برساتا یہ کیسا سورج ہے اور زمین کے عین درمیان میں ایک ہی جگہ پر ٹکے ہوئے ہم سوا نیزے کے قدوں والے فرحت عباس شاہ »

سفر میں شب بھی آنی ہے ستارہ بھی نہیں رہنا – فرحت عباس شاه

سفر میں شب بھی آنی ہے ستارہ بھی نہیں رہنا – فرحت عباس شاه

سفر میں شب بھی آنی ہے ستارہ بھی نہیں رہنا سمندر میں پرندوں کا اشارہ بھی نہیں رہنا محبت میں دلوں کا کھیل ایسے ہی تو ہوتا ہے ہمارا بھی نہیں رہنا تمہارا بھی نہیں رہنا عجب بے مائیگی ہے زندگی کی بے ثباتی کی کنارے پر کھڑے ہیں اور کنارہ بھی نہیں رہنا جدائی پل میں لے آئے گی اک سیلاب آنکھوں میں نگاہیں ڈوب... »

سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف – فرحت عباس شاه

سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف – فرحت عباس شاه

سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف تو میرا ہوا ہے تو ہوئے یار مخالف سنتے تھے کہ بس ہوتے ہیں اغیار مخالف میرے تو نکل آئے ہیں سب یار مخالف بنیاد رکھوں کوئی تو بنیاد ہے دشمن دیوار اٹھاتا ہوں تو دیوار مخالف ہر بار میں منہ پھیر لیا کرتا ہوں تم سے اور تم کہ نکل آتے ہو ہربار مخالف میں تو کسی قابل ہی نہیں تم ... »

ساتھ ہے کہکشاں، پیار سارا جہاں – فرحت عباس شاه

ساتھ ہے کہکشاں، پیار سارا جہاں – فرحت عباس شاه

ساتھ ہے کہکشاں، پیار سارا جہاں دل میں سمٹ آیا ہے آسماں بانہوں میں بھر لوں اگر روشنی کی ہوائیں لہراؤں صندلی بدن جھوم اٹھیں گی فضائیں حسن ہے بے کراں۔۔۔ پیار سارا جہاں سانسوں میں بھی گنگنائیں گیتوں بھری آبشاریں بجنے لگیں ساز بن کر دھڑکنوں کی قطاریں رقص میں ہے سماں۔۔۔ پیار سارا جہاں ہاتھوں پہ اتری ہ... »

زندانِ ذات – فرحت عباس شاه

زندانِ ذات – فرحت عباس شاه

زندانِ ذات حبس کا پہلاپر بانسری کی پُر درد لے نے ذات کے اندر کہیں کھڑکی کھولی داخل ہوئی اور قید ہوگئی ملگجے اندھیرے جدائی تنہائی ماضی دل، بے بسی مستقبل، دھند اور تمہاری یادوں کے ساتھ بانسری قیدی ہوگئی کبھی کبھی تمہارا بھیجا ہوا کوئی خط ملاقات کو آتا ہے اور حبس کچھ دیر کو کم ہو جاتا ہے حبس کچھ دیر ک... »

روز ہم زرد بیابانی کے خارج میں پڑے – فرحت عباس شاه

روز ہم زرد بیابانی کے خارج میں پڑے – فرحت عباس شاه

روز ہم زرد بیابانی کے خارج میں پڑے اپنے باطن کا سفر کرتے ہیں درد مین صبر کی گنجائش بے پایاں ریاضت ہے بڑی سارا ماحول ہو چپ اور کوئی دل بولے ساری چلائیں تو ہم چپ ہی رہیں روز ہم ہجر کے بے چین مزاروں پہ ملنگوں کی طرح تسبیاں رولیں ترے آنے کی راکھ سر ڈھانپ کے رکھتی ہے فقیروں کا رداؤں کی طرح روز ہم راکھ ... »

رستے میں تری یاد سے دوچار نہ ہوتے – فرحت عباس شاه

رستے میں تری یاد سے دوچار نہ ہوتے – فرحت عباس شاه

رستے میں تری یاد سے دوچار نہ ہوتے ہم بھول، بھلیوں میں گرفتار نہ ہوتے نفرت کی کوئی بات اگر ہوتی تو جاناں ہم تیرے لیے عمر سے بیمار نہ ہوتے اک جان اگر وقف ہوا کرتی کسی پر اک جان پہ سو طرح کے آزار نہ ہوتے تو شامل احوال زمانہ اگر ہوتا آنکھوں میں تری درد کے آثار نہ ہوتے کس چیز سے لگ بیٹھتے حیران و پریشاں ... »

رات ہے اور میں اکیلا ہوں – فرحت عباس شاه

رات ہے اور میں اکیلا ہوں – فرحت عباس شاه

رات ہے اور میں اکیلا ہوں تیری یادوں کے ساتھ کھیلا ہوں مِیت ہوں بے قراریوں کا میں اور تنہائی کا سہیلا ہوں مجھ کو صحراؤں والی رونقیں ہیں میں بیابانیوں کا میلہ ہوں میرے درجات کا تعّیُن کر دل ہوں اور پورا عشق جھیلا ہوں کچھ نہیں میں ترے مقابلے میں کچی مٹی کا ایک ڈھیلا ہوں جانے کب سوکھ جاؤں اپنے آپ ہجر... »

رات بھر میں ترے خیال کے ساتھ – فرحت عباس شاه

رات بھر میں ترے خیال کے ساتھ – فرحت عباس شاه

رات بھر میں ترے خیال کے ساتھ بات کرتا رہا ملال کے ساتھ بے کلی ہے کہ بڑھتی جاتی ہے میری دھڑکن کی تال تا ل کے ساتھ دوست بیماریءِ محبت میں درد بڑھتا ہے اندمال کے ساتھ آ کے دیکھو تو باغ میں میرے ہجر لپٹا ہے ڈال ڈال کے ساتھ ایک لمبی جدائی کا دکھ بھی ڈسنے لگتا ہے دل، وصال کے ساتھ اور کچھ بھی نہیں کہا لیک... »

دیمک – فرحت عباس شاه

دیمک – فرحت عباس شاه

دیمک اداسی زہر ہے جو دھیرے دھیرے جسم و جاں کو چاٹ جاتی ہے فرحت عباس شاہ (کتاب – ملو ہم سے) »

دھمال – فرحت عباس شاه

دھمال – فرحت عباس شاه

دھمال دھما دھم دھم دھما دھم دھم فقیرا نَچ، فقیرا نَچ اوہ اوّل وی اوہ آخر وی اوہ سبھّو حق اوہ سبھّو سچ فقیرا نَچ فقیرا نَچ دھما دھم دھم دھما دھم دھم نہ چھوٹی شے نوں لاویں دِل نہ چاویں سِل فقیرا نَچ، فقیرا نَچ دھما دھم دھم دھما دھم دھم تیری چاہت تیری الفت مرے لہو وِچ مچاوے مچ فقیرا نَچ، فقیرا نَچ دھم... »

دل نے تمہارا نام لیا تو فوراً ہم نے – فرحت عباس شاه

دل نے تمہارا نام لیا تو فوراً ہم نے – فرحت عباس شاه

دل نے تمہارا نام لیا تو فوراً ہم نے رو دینے سے پہلے خود کو تھام لیا تھا دکھ کی دھوپ میں کیسی ناگن ہے دل والو مجھ کو اکثر راتوں کو بھی ڈس لیتی ہے دفنانے آئے تھے میری آرزؤں کو قبریں کھلی ہوئی ہی چھوڑ گئے ہیں ظالم دل کے اندر صحرا بھی بڑھتا جاتا ہے دیر گئے تک بارش بھی ہوتی رہتی ہے ہم بھی ساتھ چلے تھے... »

دل سُونا دل خالی خالی – فرحت عباس شاه

دل سُونا دل خالی خالی – فرحت عباس شاه

دل سُونا دل خالی خالی دل سُونا، دل خالی خالی شامیں کالی نیل سپنے ٹھنڈے یخ بستہ شب گونگی بہری جھیل جسم سراپا گھائل گھائل تلوے اندر کیل اک خواہش اک لال سمندر اک طوفاں اک چیل دل سُونا دل خالی خالی شامیں کالی نیل فرحت عباس شاہ (کتاب – دکھ بولتے ہیں) »

دکھ بھی کتنا تہہ دار ہوتا ہے – فرحت عباس شاه

دکھ بھی کتنا تہہ دار ہوتا ہے – فرحت عباس شاه

دکھ بھی کتنا تہہ دار ہوتا ہے صد شکر کہ میری یادداشت گم ہو چکی ہے میرے لیے کسی صدا کی بازگشت ممکن نہیں تحفظ کبھی کبھی خود بخود ہی ہو جاتا ہے تم وہی ہونا جو مجھے یاد نہیں رہے سنا ہے میری یادداشت گم ہونے سے پہلے مجھے بس تم ہی یاد رہ گئے تھے دکھ بھی کتنا تہہ دار ہوتا ہے کبھی یادداشت کا دکھ کبھی یادداشت ... »

درد کی دھار بن گئی جاناں – فرحت عباس شاه

درد کی دھار بن گئی جاناں – فرحت عباس شاه

درد کی دھار بن گئی جاناں سانس تلوار بن گئی جاناں اس طرف تم تھے اس طرف میں تھا شام دیوار بن گئی جاناں اور جاں آبلہ ہوئی ثابت زندگی خار بن گئی جاناں مانتی ہی نہیں دوا کوئی چاہ آزار بن گئی جاناں آستانے پہ بیٹھنے کی ضد وجہِ دیدار بن گئی جاناں غم کی تائید ہو گئی شامل نظم شہکار بن گئی جاناں دیکھ کر مجھ... »