پُشت پہ بندھے ہاتھ – فرحت عباس شاه

پُشت پہ بندھے ہاتھ ہم اکڑی ہوئی گردنوں اور تنے ہوئے سینوں والے کبھی اپنی آنکھوں سے ٹپکتی ہوئی رعونت کم نہیں ہونے دیتے ہم…

Read More..

بیڈ روم – فرحت عباس شاه

بیڈ روم بلا جواز رفاقت اور بے تعلق قربت در و دیوار میں چنی ہوئی روح تمہارے ہجر کا بدل نہیں ہو سکتی اور بستر…

Read More..

بے سہاروں کا سہارا کون ہے – فرحت عباس شاه

بے سہاروں کا سہارا کون ہے ان دیاروں میں ہمارا کون ہے تک رہا ہے جو تمہیں اک عمر سے جانتے ہو یہ ستارہ کون…

Read More..

بول سہیلی کس نے دل بے چین کیا – فرحت عباس شاه

بول سہیلی کس نے دل بے چین کیا ہجر نے اندر دور کہیں پر بین کیا بول سہیلی کس نے پلکیں لرزائی ہیں اک آنسو…

Read More..

بنا رسولؐ تو کوئی بھی بات کچھ بھی نہیں – فرحت عباس شاه

بنا رسولؐ تو کوئی بھی بات کچھ بھی نہیں مری نظر میں یہ سب کائنات کچھ بھی نہیں فرحت عباس شاہ

Read More..

بچھڑے تو کبھی لوٹ کے پھر پاس نہ آئے – فرحت عباس شاه

بچھڑے تو کبھی لوٹ کے پھر پاس نہ آئے ممکن ہے کہ اس بار انا راس نہ آئے فرحت عباس شاہ (کتاب – ہم اکیلے…

Read More..

بارش آگ لگائے – فرحت عباس شاه

بارش آگ لگائے سوئے درد جگائے چھوڑ آیا ہوں دل کون یہ بوجھ اٹھائے میں آیا ہوں دیکھ کتنے زخم سجائے فرحت عباس شاہ (کتاب…

Read More..

ایک طوفانی بارش کے دوران – فرحت عباس شاه

ایک طوفانی بارش کے دوران بارشیں ایسی تو نہ تھیں خوفزدہ کر دینے والی چھتیں گرانے اور گھروں کو مسمار کرنے والی اور راستے روک…

Read More..

ایسے لاحق ہوا یہ شہر کا ویرانہ مجھے – فرحت عباس شاه

ایسے لاحق ہوا یہ شہر کا ویرانہ مجھے روز اک خوف لپٹ جاتا ہے انجانا مجھے روز اک درد مجھے راہ میں آملتا ہے اور…

Read More..

اے تمنا اے مری بادل سوار – فرحت عباس شاه

اے تمنا اے مری بادل سوار اے تمنا اے مری بادل سوا آ گلے لگ جا مرے اور کھل کے رو رو سمندر خشک ہیں…

Read More..

آنکھیں سپنے ہار چکیں – فرحت عباس شاه

آنکھیں سپنے ہار چکیں جیون سب کچھ بانٹ چکا آدھے آدھے باقی ہیں میں اور میری تنہائی لوگ عجیب مصیبت ہیں سکھ کی بات نہیں…

Read More..

اندھے کالے سورج کی پیشانی پر – فرحت عباس شاه

اندھے کالے سورج کی پیشانی پر تیرا ماتھا جا چمکا ویرانی پر فرحت عباس شاہ (کتاب – اک بار کہو تم میرے ہو)

Read More..

اگرچہ اس کو پایا تھا نہ دیکھا – فرحت عباس شاه

اگرچہ اس کو پایا تھا نہ دیکھا مگر وہ خواب سے باہر نہیں تھا فرحت عباس شاہ (کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)

Read More..

اک دنیا – فرحت عباس شاه

اک دنیا بھول بھلیاں سی اک گونگا، بہرا، اندھا دل فرحت عباس شاہ

Read More..

اسے کہنا وہ گزرے یا نہ گزرے – فرحت عباس شاه

اسے کہنا وہ گزرے یا نہ گزرے ہم اس کی راہ میں بیٹھے ہوئے ہیں فرحت عباس شاہ (کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)

Read More..

اس لیے آپ کا گمان نہیں – فرحت عباس شاه

اس لیے آپ کا گمان نہیں آخرت تک کوئی نشان نہیں یہ دلائل فقط مہارت ہیں ان دلائل میں کوئی جان نہیں ہم اسے مان…

Read More..

اِس سے بہتر یہی ہے کہ ہم عمر بھر راستے میں رہیں – فرحت عباس شاه

اِس سے بہتر یہی ہے کہ ہم عمر بھر راستے میں رہیں بستیاں جھوٹ اور بستیوں کے لیے خواب بھی جھوٹ ہیں پیاس سچ ہے…

Read More..

یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے – فرحت عباس شاه

یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے ہم اتنی دیر سے بچھڑے کبھی ملنے ملانے کو چلیں تو بھاگ کر…

Read More..

آدھے غم – فرحت عباس شاه

آدھے غم میں نے سوچا تھا تم چلے جاؤ گے سارے کے سارے چلے جاؤ گے تم مجھے دھوکہ دو گے میں نے سمجھا تھا…

Read More..

یہ جو قافلوں کے پڑاؤ ہیں – فرحت عباس شاه

یہ جو قافلوں کے پڑاؤ ہیں یہ تو موت ہی کے گھراؤ ہیں مرے دل کا اپنا عروج ہے مری شخصیت کے سبھاؤ ہیں مرے…

Read More..

احساس جرم – فرحت عباس شاه

احساس جرم میں نے اپنے ہاتھوں دل کی کوکھ میں اتر کر خود کو قتل کیا لہو اچھل کر میری آنکھوں میں جا پڑا اور…

Read More..

یا نبیؐ آپ کے سوا مانگیں – فرحت عباس شاه

یا نبیؐ آپ کے سوا مانگیں کون ہے جس سے بارہا مانگیں آپ کے اختیار کے صدقے اپنی حاجات سے سوا مانگیں مانگنا بھی بہت…

Read More..

اپنے ہی آپ سے غضب کیا ہے؟ – فرحت عباس شاه

اپنے ہی آپ سے غضب کیا ہے؟ خواب گم کر دئیے تو اب کیا ہے؟ دنیا داری تو ٹھیک ہے لیکن یہ جو اندر ہے…

Read More..

وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا مرا دل – فرحت عباس شاه

وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا مرا دل سفر نے ڈھونڈ لیا ہے رہا سہا مرا دل کچھ اس طرح سے کسی تعزیت…

Read More..

آپ کیوں بے بسی پہ مائل ہیں – فرحت عباس شاه

آپ کیوں بے بسی پہ مائل ہیں آپ کے پاس تو وسائل ہیں میرے دشمن بھی اپنے اندر سے میری بے باکیوں کے قائل ہیں…

Read More..

وطن میں رہ کے بھی سبھی ہیں کو بہ کو جلا وطن – فرحت عباس شاه

وطن میں رہ کے بھی سبھی ہیں کو بہ کو جلا وطن کسی کا دل ہے تو کسی کی آرزو جلا وطن میں تیری بستیوں…

Read More..

اب دور ہی رہ یا مل سجنا – فرحت عباس شاه

اب دور ہی رہ یا مل سجنا تجھے سونپ دیا ہے دل سجنا اب خوشبو ہر سو پھیلے گی اِک زخم گیا ہے کھِل سجنا…

Read More..

ہوں پڑے لاکھ یہ سب چاند ستارے تیرے – فرحت عباس شاه

ہوں پڑے لاکھ یہ سب چاند ستارے تیرے چاندنی شب کی طرح روپ ادھارے تیرے یہ الگ بات کہ بولی نہ کوئی آنکھ نہ دل…

Read More..

ہمیں بھی شام ہی سے گھیر لیتی ہے پریشانی – فرحت عباس شاه

ہمیں بھی شام ہی سے گھیر لیتی ہے پریشانی پرندوں کی طرح ہم بھی گھروں کو لوٹ آتے ہیں توقع تھی کہ کوئی لوٹ کر…

Read More..

ہم نے اشکوں سے کبھی پوچھا نہ تھا – فرحت عباس شاه

ہم نے اشکوں سے کبھی پوچھا نہ تھا کس لیے بہتے رہے رخسار پر بے سبب رونا بھی کوئی بات ہے چبھ گئی ہوگی کوئی…

Read More..

ہم جو شاعر ہیں – فرحت عباس شاه

ہم جو شاعر ہیں ہم جو شاعر ہیں نا اے جان مری ہم ستاروں کی طرح ہوتے ہیں درد بن بن کے چمکتے ہیں خلاؤں…

Read More..

ہزار رنگ ہمیں چاند کی کرن میں ملے – فرحت عباس شاه

ہزار رنگ ہمیں چاند کی کرن میں ملے اور اس کے بعد فقط اک ترے بدن میں ملے خدا وہ وقت نہ لائے کہ اتنی…

Read More..

ہجر کا چاند – فرحت عباس شاه

ہجر کا چاند درمیانی کسی ویرانی میں اُترا ہے ترے ہجر کا چاند پار لگنے کا گلہ کیا کرنا آنکھ اک درد سے ہٹتی ہے…

Read More..

نہ کہا تھا کہ کبھی دور نہ جانا مجھ سے – فرحت عباس شاه

نہ کہا تھا کہ کبھی دور نہ جانا مجھ سے اب تری یاد بھی چھینے گا زمانہ مجھ سے فرحت عباس شاہ

Read More..

میں یہی سمجھوں گا میری محبت جھوٹی تھی – فرحت عباس شاه

میں یہی سمجھوں گا میری محبت جھوٹی تھی تم اگر کہیں بھی مجھے نظر انداز کر کے آگے بڑھ سکتے ہو تو بڑھ جاؤ مجھے…

Read More..

میں سفر پر تھا جب سمندر کے – فرحت عباس شاه

میں سفر پر تھا جب سمندر کے وہ مرے ساتھ تھا ہوا کی طرح المیہ ہے کہ سطح غم پہ کہیں شہر کا مجھ سے…

Read More..

میں بہت اکیلا کھڑا رہا ترا منتظر – فرحت عباس شاه

میں بہت اکیلا کھڑا رہا ترا منتظر سبھی چھوڑ چھاڑ کے چل دیے ترا راستہ مجھے آرزوؤں پہ شک گزرتا ہے رات دن کسی لمحہ…

Read More..

موم کا چہرہ پہن لیا ہے – فرحت عباس شاه

موم کا چہرہ پہن لیا ہے پتھر کے انسانوں نے دنیا نے جب بھی چھوڑا ہے اک نازک سا دل توڑا ہے ہمیں سمیٹ لیا…

Read More..

من مندر کا شاہ نرالا – فرحت عباس شاه

من مندر کا شاہ نرالا تن لاگے من بھائے عشق نگر کی تنہائی میں روئے اور رلائے ہجر عبادت بن جاتا ہے کونج کونج کرلائے…

Read More..

مستقل ورنہ سفر کرتے ہیں – فرحت عباس شاه

مستقل ورنہ سفر کرتے ہیں دل نظر آئے تو گھر کرتے ہیں خوف کے مارے پرندوں کی طرح جاگ کر رات بسر کرتے ہیں کیا…

Read More..

مرے بعد درد کی داستاں – فرحت عباس شاه

مرے بعد درد کی داستاں تجھے کون آ کے سنائے گا مجھے راستے میں خبر ملی وہ تو شہر ہی سے چلا گیا مری زندگانی…

Read More..

محرومی اور بے بسی کی گھٹن – فرحت عباس شاه

محرومی اور بے بسی کی گھٹن کمرے میں دو چار، دس بیس بتیاں، اور ہوتیں وہ بھی جلا لیتا کھڑکیاں اور زیادہ ہوتیں وہ بھی…

Read More..

محبت رقص میں ہے انگ بھیجے – فرحت عباس شاه

محبت رقص میں ہے انگ بھیجے کوئی لہجہ کوئی آہنگ بھیجے نہ بھیجے آرزوؤں کو اکیلا ہوا تو ہے ہوا کے سنگ بھیجے فرحت عباس…

Read More..

مجھے تم یاد آتے ہو – فرحت عباس شاه

مجھے تم یاد آتے ہو مجھے تم یاد آتے ہو کسی سنسان سپنے میں چھپی خواہش کی حدت میں کسی مصروفیت کے موڑ پر تنہائی…

Read More..

مانا کہ ترا درد زیادہ بھی نہیں ہے – فرحت عباس شاه

مانا کہ ترا درد زیادہ بھی نہیں ہے دل وقف کروں ایسا ارادہ بھی نہیں ہے یہ اور کہ کچھ سیدھا طبیعت کا ہے ورنہ…

Read More..

لباس – فرحت عباس شاه

لباس آج تو جیسے تیسے وقت گزر گیا کل پھر رات اور زیادہ سیاہ ہو جائے گی دن اور زیادہ مشکل ہو جائے گا شام…

Read More..

گھٹن – فرحت عباس شاه

گھٹن کسی جھکی ہوئی شاخ کو پکڑ کے درخت سے نوچ لوں جہاں جہاں ننھی منی چیونٹیاں رزق تلاش کرتی پھرتی ہیں کیا وہاں وہاں…

Read More..

گرچہ سارا جیون ہم نے غم لکھا – فرحت عباس شاه

گرچہ سارا جیون ہم نے غم لکھا ہم کو یہ معلوم ہے کتنا کم لکھا ہم نے اپنے دل کو بھی لکھا خوش خوش ہم…

Read More..

کیا بتلائیں کیسے کیسے جیون سہنا پڑتا ہے – فرحت عباس شاه

کیا بتلائیں کیسے کیسے جیون سہنا پڑتا ہے اک اک شے سے ڈر لگتا ہے پھر بھی رہنا پڑتا ہے کاغذ بن کر اڑنا پڑتا…

Read More..

کون ہے؟ – فرحت عباس شاه

کون ہے؟ کون ہے۔۔۔؟ کون ہے جس نے پکارا ہے ہمیں ہم تو دنیا میں اکیلے ہیں بہت فرحت عباس شاہ (کتاب – ہم اکیلے…

Read More..

کہاں سے ہو کے گزرے ہو مسافر – فرحت عباس شاه

کہاں سے ہو کے گزرے ہو مسافر تمہارا نقش پا دل پر نہیں ہے فرحت عباس شاہ (کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)

Read More..

کسی کا کیا پتہ، ہم کیسے ہیں – فرحت عباس شاه

کسی کا کیا پتہ، ہم کیسے ہیں کسی کو کیا پتہ ہم کیسے ہیں ہم ایسے ہی ہیں جیسے، جلا ہوا وجود جیسے تازہ زخم…

Read More..

کچھ بھی تو سیکھنے نہیں دیتا – فرحت عباس شاه

کچھ بھی تو سیکھنے نہیں دیتا کتنا استاد ہے زمانہ بھی تُو مجھے بے سبب ہی ملتا تھا بات تو میرے دل میں تھی کوئی…

Read More..

کبھی بول بھی – فرحت عباس شاه

کبھی بول بھی دلِ سوختہ کبھی بول بھی جو اسیر کہتے تھے خود کو تیری اداؤں کے وہ کہاں گئے جو سفیر تھے تری چاہتوں…

Read More..

قدرت – فرحت عباس شاه

قدرت سزا فرحت شاہ انگلیوں سے سورج بنانا اور سورج میں آنکھوں سے روشنی بھرنا اور دل سے دھوپ ڈال دینا اور رات کے چٹکی…

Read More..

غم کی من مانیاں نہیں دیکھیں – فرحت عباس شاه

غم کی من مانیاں نہیں دیکھیں تم نے ویرانیاں نہیں دیکھیں فرحت عباس شاہ (کتاب – ہم اکیلے ہیں بہت)

Read More..

عشق کے باب ٹھہر جاتے ہیں – فرحت عباس شاه

عشق کے باب ٹھہر جاتے ہیں خواب در خواب ٹھہر جاتے ہیں آنکھ بھر جاتی ہے جب اشکوں سے ہم تہہِ آب ٹھہر جاتے ہیں…

Read More..

ظالم وقت نے چاہ کے لاحاصل کا خنجر – فرحت عباس شاه

ظالم وقت نے چاہ کے لاحاصل کا خنجر جانے کس کے زخمی دل میں گھونپ دیا ہے آخر کو تھک ہار کے جاناں میں نے…

Read More..

شورش دیدہ نم سے آباد – فرحت عباس شاه

شورش دیدہ نم سے آباد میری ہر شب ترے غم سے آباد ساری رونق ہی تری ذات سے ہے ساری دنیا ترے دم سے آباد…

Read More..

شکایت اور خوف کی ملی جُلی نظم – فرحت عباس شاه

شکایت اور خوف کی ملی جُلی نظم میں نے شکایت بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور چاند لگا وضاحتیں کرنے وہ تو چونکہ…

Read More..