من مندر کا شاہ نرالا – فرحت عباس شاه

من مندر کا شاہ نرالا تن لاگے من بھائے عشق نگر کی تنہائی میں روئے اور رلائے ہجر عبادت بن جاتا ہے کونج کونج کرلائے…

Read More..

مستقل ورنہ سفر کرتے ہیں – فرحت عباس شاه

مستقل ورنہ سفر کرتے ہیں دل نظر آئے تو گھر کرتے ہیں خوف کے مارے پرندوں کی طرح جاگ کر رات بسر کرتے ہیں کیا…

Read More..

مرے بعد درد کی داستاں – فرحت عباس شاه

مرے بعد درد کی داستاں تجھے کون آ کے سنائے گا مجھے راستے میں خبر ملی وہ تو شہر ہی سے چلا گیا مری زندگانی…

Read More..

محرومی اور بے بسی کی گھٹن – فرحت عباس شاه

محرومی اور بے بسی کی گھٹن کمرے میں دو چار، دس بیس بتیاں، اور ہوتیں وہ بھی جلا لیتا کھڑکیاں اور زیادہ ہوتیں وہ بھی…

Read More..

محبت رقص میں ہے انگ بھیجے – فرحت عباس شاه

محبت رقص میں ہے انگ بھیجے کوئی لہجہ کوئی آہنگ بھیجے نہ بھیجے آرزوؤں کو اکیلا ہوا تو ہے ہوا کے سنگ بھیجے فرحت عباس…

Read More..

مجھے تم یاد آتے ہو – فرحت عباس شاه

مجھے تم یاد آتے ہو مجھے تم یاد آتے ہو کسی سنسان سپنے میں چھپی خواہش کی حدت میں کسی مصروفیت کے موڑ پر تنہائی…

Read More..

مانا کہ ترا درد زیادہ بھی نہیں ہے – فرحت عباس شاه

مانا کہ ترا درد زیادہ بھی نہیں ہے دل وقف کروں ایسا ارادہ بھی نہیں ہے یہ اور کہ کچھ سیدھا طبیعت کا ہے ورنہ…

Read More..

لباس – فرحت عباس شاه

لباس آج تو جیسے تیسے وقت گزر گیا کل پھر رات اور زیادہ سیاہ ہو جائے گی دن اور زیادہ مشکل ہو جائے گا شام…

Read More..

گھٹن – فرحت عباس شاه

گھٹن کسی جھکی ہوئی شاخ کو پکڑ کے درخت سے نوچ لوں جہاں جہاں ننھی منی چیونٹیاں رزق تلاش کرتی پھرتی ہیں کیا وہاں وہاں…

Read More..

گرچہ سارا جیون ہم نے غم لکھا – فرحت عباس شاه

گرچہ سارا جیون ہم نے غم لکھا ہم کو یہ معلوم ہے کتنا کم لکھا ہم نے اپنے دل کو بھی لکھا خوش خوش ہم…

Read More..

کیا بتلائیں کیسے کیسے جیون سہنا پڑتا ہے – فرحت عباس شاه

کیا بتلائیں کیسے کیسے جیون سہنا پڑتا ہے اک اک شے سے ڈر لگتا ہے پھر بھی رہنا پڑتا ہے کاغذ بن کر اڑنا پڑتا…

Read More..

کون ہے؟ – فرحت عباس شاه

کون ہے؟ کون ہے۔۔۔؟ کون ہے جس نے پکارا ہے ہمیں ہم تو دنیا میں اکیلے ہیں بہت فرحت عباس شاہ (کتاب – ہم اکیلے…

Read More..

کہاں سے ہو کے گزرے ہو مسافر – فرحت عباس شاه

کہاں سے ہو کے گزرے ہو مسافر تمہارا نقش پا دل پر نہیں ہے فرحت عباس شاہ (کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)

Read More..

کسی کا کیا پتہ، ہم کیسے ہیں – فرحت عباس شاه

کسی کا کیا پتہ، ہم کیسے ہیں کسی کو کیا پتہ ہم کیسے ہیں ہم ایسے ہی ہیں جیسے، جلا ہوا وجود جیسے تازہ زخم…

Read More..

کچھ بھی تو سیکھنے نہیں دیتا – فرحت عباس شاه

کچھ بھی تو سیکھنے نہیں دیتا کتنا استاد ہے زمانہ بھی تُو مجھے بے سبب ہی ملتا تھا بات تو میرے دل میں تھی کوئی…

Read More..

کبھی بول بھی – فرحت عباس شاه

کبھی بول بھی دلِ سوختہ کبھی بول بھی جو اسیر کہتے تھے خود کو تیری اداؤں کے وہ کہاں گئے جو سفیر تھے تری چاہتوں…

Read More..

قدرت – فرحت عباس شاه

قدرت سزا فرحت شاہ انگلیوں سے سورج بنانا اور سورج میں آنکھوں سے روشنی بھرنا اور دل سے دھوپ ڈال دینا اور رات کے چٹکی…

Read More..

غم کی من مانیاں نہیں دیکھیں – فرحت عباس شاه

غم کی من مانیاں نہیں دیکھیں تم نے ویرانیاں نہیں دیکھیں فرحت عباس شاہ (کتاب – ہم اکیلے ہیں بہت)

Read More..

عشق کے باب ٹھہر جاتے ہیں – فرحت عباس شاه

عشق کے باب ٹھہر جاتے ہیں خواب در خواب ٹھہر جاتے ہیں آنکھ بھر جاتی ہے جب اشکوں سے ہم تہہِ آب ٹھہر جاتے ہیں…

Read More..

ظالم وقت نے چاہ کے لاحاصل کا خنجر – فرحت عباس شاه

ظالم وقت نے چاہ کے لاحاصل کا خنجر جانے کس کے زخمی دل میں گھونپ دیا ہے آخر کو تھک ہار کے جاناں میں نے…

Read More..

شورش دیدہ نم سے آباد – فرحت عباس شاه

شورش دیدہ نم سے آباد میری ہر شب ترے غم سے آباد ساری رونق ہی تری ذات سے ہے ساری دنیا ترے دم سے آباد…

Read More..

شکایت اور خوف کی ملی جُلی نظم – فرحت عباس شاه

شکایت اور خوف کی ملی جُلی نظم میں نے شکایت بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور چاند لگا وضاحتیں کرنے وہ تو چونکہ…

Read More..

شام تمہارا نام نہ جانے – فرحت عباس شاه

شام تمہارا نام نہ جانے شام تمہارا نام نہ جانے مجھ سے بولے جھوٹ رات تمہاری یاد نہ آئے نا ممکن سی بات وقت اور…

Read More..

سوا نیزہ – فرحت عباس شاه

سوا نیزہ ہم نے سمجھا تھا دکھ غروب ہو جائے گا دھوپ ڈھل جائے گی تپش کم ہو جائے گی ہم اپنی مرضی سے زمین…

Read More..

سفر میں شب بھی آنی ہے ستارہ بھی نہیں رہنا – فرحت عباس شاه

سفر میں شب بھی آنی ہے ستارہ بھی نہیں رہنا سمندر میں پرندوں کا اشارہ بھی نہیں رہنا محبت میں دلوں کا کھیل ایسے ہی…

Read More..

سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف – فرحت عباس شاه

سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف تو میرا ہوا ہے تو ہوئے یار مخالف سنتے تھے کہ بس ہوتے ہیں اغیار مخالف میرے تو نکل…

Read More..

ساتھ ہے کہکشاں، پیار سارا جہاں – فرحت عباس شاه

ساتھ ہے کہکشاں، پیار سارا جہاں دل میں سمٹ آیا ہے آسماں بانہوں میں بھر لوں اگر روشنی کی ہوائیں لہراؤں صندلی بدن جھوم اٹھیں…

Read More..

زندانِ ذات – فرحت عباس شاه

زندانِ ذات حبس کا پہلاپر بانسری کی پُر درد لے نے ذات کے اندر کہیں کھڑکی کھولی داخل ہوئی اور قید ہوگئی ملگجے اندھیرے جدائی…

Read More..

روز ہم زرد بیابانی کے خارج میں پڑے – فرحت عباس شاه

روز ہم زرد بیابانی کے خارج میں پڑے اپنے باطن کا سفر کرتے ہیں درد مین صبر کی گنجائش بے پایاں ریاضت ہے بڑی سارا…

Read More..

رستے میں تری یاد سے دوچار نہ ہوتے – فرحت عباس شاه

رستے میں تری یاد سے دوچار نہ ہوتے ہم بھول، بھلیوں میں گرفتار نہ ہوتے نفرت کی کوئی بات اگر ہوتی تو جاناں ہم تیرے…

Read More..

رات ہے اور میں اکیلا ہوں – فرحت عباس شاه

رات ہے اور میں اکیلا ہوں تیری یادوں کے ساتھ کھیلا ہوں مِیت ہوں بے قراریوں کا میں اور تنہائی کا سہیلا ہوں مجھ کو…

Read More..

رات بھر میں ترے خیال کے ساتھ – فرحت عباس شاه

رات بھر میں ترے خیال کے ساتھ بات کرتا رہا ملال کے ساتھ بے کلی ہے کہ بڑھتی جاتی ہے میری دھڑکن کی تال تا…

Read More..

دیمک – فرحت عباس شاه

دیمک اداسی زہر ہے جو دھیرے دھیرے جسم و جاں کو چاٹ جاتی ہے فرحت عباس شاہ (کتاب – ملو ہم سے)

Read More..

دھمال – فرحت عباس شاه

دھمال دھما دھم دھم دھما دھم دھم فقیرا نَچ، فقیرا نَچ اوہ اوّل وی اوہ آخر وی اوہ سبھّو حق اوہ سبھّو سچ فقیرا نَچ…

Read More..

دل نے تمہارا نام لیا تو فوراً ہم نے – فرحت عباس شاه

دل نے تمہارا نام لیا تو فوراً ہم نے رو دینے سے پہلے خود کو تھام لیا تھا دکھ کی دھوپ میں کیسی ناگن ہے…

Read More..

دل سُونا دل خالی خالی – فرحت عباس شاه

دل سُونا دل خالی خالی دل سُونا، دل خالی خالی شامیں کالی نیل سپنے ٹھنڈے یخ بستہ شب گونگی بہری جھیل جسم سراپا گھائل گھائل…

Read More..

دکھ بھی کتنا تہہ دار ہوتا ہے – فرحت عباس شاه

دکھ بھی کتنا تہہ دار ہوتا ہے صد شکر کہ میری یادداشت گم ہو چکی ہے میرے لیے کسی صدا کی بازگشت ممکن نہیں تحفظ…

Read More..

درد کی دھار بن گئی جاناں – فرحت عباس شاه

درد کی دھار بن گئی جاناں سانس تلوار بن گئی جاناں اس طرف تم تھے اس طرف میں تھا شام دیوار بن گئی جاناں اور…

Read More..

داستان گو کی موت – فرحت عباس شاه

داستان گو کی موت کون آنکھوں کے تلے دفن حکایات پڑھے کون لفظوں کے پس صوت معانی ڈھونڈے کون کومل سی ہنسی کے پیچھے دل…

Read More..

خواہش خام کے مارے ہوئے ہم لوگوں کا – فرحت عباس شاه

خواہش خام کے مارے ہوئے ہم لوگوں کا خواب اور خوف کے مابین سفر بیت گیا فرحت عباس شاہ (کتاب – بارشوں کے موسم میں)

Read More..

خالی کاغذ پہ حرف سجایا کرتا تھا – فرحت عباس شاه

خالی کاغذ پہ حرف سجایا کرتا تھا تنہائی میں شہر بسایا کرتا تھا کیسا پاگل شخص تھا ساری ساری رات دیواروں کو درد سنایا کرتا…

Read More..

چند چیزیں تو وہیں ہیں – فرحت عباس شاه

چند چیزیں تو وہیں ہیں چند چیزیں تو وہیں ہیں اب تک وہ ترا ساتھ ترا لمس اور تیری خوشبو، مرا دل تری آواز کی…

Read More..

چاند پر زور نہیں دل تو ہے بس میں اپنے – فرحت عباس شاه

چاند پر زور نہیں دل تو ہے بس میں اپنے تم کہو تو یہی دو نیم کیے لیتے ہیں فرحت عباس شاہ

Read More..

جو اس کے چہرے پہ رنگِ حیا ٹھہر جائے – فرحت عباس شاه

جو اس کے چہرے پہ رنگِ حیا ٹھہر جائے تو سانس، وقت، سمندر، ہوا ٹھہر جائے وہ مسکرائے تو ہنس ہنس پڑیں کئی موسم وہ…

Read More..

جس قدر ہو گا پرانا، ہے نکھرنے والا – فرحت عباس شاه

جس قدر ہو گا پرانا، ہے نکھرنے والا زخم جو دل پہ لگا ہے نہیں بھرنے والا پھر تری یاد جنازوں کو لیے آتی ہے…

Read More..

جب کوئی میرے ہاتھ میں تقدیر دیکھتا – فرحت عباس شاه

جب کوئی میرے ہاتھ میں تقدیر دیکھتا میں جھک کے اپنے پاؤں میں زنجیر دیکھتا اک خواب تھا بہت ہی پرانا، جھٹک دیا کب تک…

Read More..

ٹھیک ہے تیرے افسانے بھی عام ہوئے – فرحت عباس شاه

ٹھیک ہے تیرے افسانے بھی عام ہوئے تیری خاطر ہم بھی تو بدنام ہوئے آؤ نہ آؤ تم مرضی کے مالک ہو ہم تو ہوئے…

Read More..

تو مسافر نہیں تو کیا جانے – فرحت عباس شاه

تو مسافر نہیں تو کیا جانے راستوں کے مزاج ہوتے ہیں فرحت عباس شاہ (کتاب – چاند پر زور نہیں)

Read More..

تمہیں دیکھا تو دیکھا چاند جیسے – فرحت عباس شاه

تمہیں دیکھا تو دیکھا چاند جیسے مری میں آنکھوں میں اترا چاند جیسے ہنسی گونجی مری یادوں میں تیری خوشی میں آ کے بولا چاند…

Read More..

تما شا – فرحت عباس شاه

تما شا روز اداسی چہرہ بدلے روز دکھائے ہاتھ روز اک نئے سرے سے کھیلے بازی دل کے ساتھ فرحت عباس شاہ (کتاب – من…

Read More..

تم – فرحت عباس شاه

تم دل کی دہلیز سے لگی ویرانی اور ویرانی کی دہلیز سے لگی بیٹھی جدائی اور جدائی کی دہلیز سے لگی بیٹھی محبت اور محبت…

Read More..

ترے پیار میں – فرحت عباس شاه

ترے پیار میں کبھی دھند میں یا غبار میں کبھی بادلوں کی قطار میں کبھی پھول میں کبھی خار میں کبھی آرزوئے بہار میں کبھی…

Read More..

پیشِ انسانیت – فرحت عباس شاه

پیشِ انسانیت پسِ انسانیت ایک چھوٹا پرندہ کسی بڑے پرندے کے ہتھے چڑھا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا چڑیا کا بچہ روشندان میں بنے…

Read More..

پُشت پہ بندھے ہاتھ – فرحت عباس شاه

پُشت پہ بندھے ہاتھ ہم اکڑی ہوئی گردنوں اور تنے ہوئے سینوں والے کبھی اپنی آنکھوں سے ٹپکتی ہوئی رعونت کم نہیں ہونے دیتے ہم…

Read More..

بیڈ روم – فرحت عباس شاه

بیڈ روم بلا جواز رفاقت اور بے تعلق قربت در و دیوار میں چنی ہوئی روح تمہارے ہجر کا بدل نہیں ہو سکتی اور بستر…

Read More..

بے سہاروں کا سہارا کون ہے – فرحت عباس شاه

بے سہاروں کا سہارا کون ہے ان دیاروں میں ہمارا کون ہے تک رہا ہے جو تمہیں اک عمر سے جانتے ہو یہ ستارہ کون…

Read More..

بول سہیلی کس نے دل بے چین کیا – فرحت عباس شاه

بول سہیلی کس نے دل بے چین کیا ہجر نے اندر دور کہیں پر بین کیا بول سہیلی کس نے پلکیں لرزائی ہیں اک آنسو…

Read More..

بنا رسولؐ تو کوئی بھی بات کچھ بھی نہیں – فرحت عباس شاه

بنا رسولؐ تو کوئی بھی بات کچھ بھی نہیں مری نظر میں یہ سب کائنات کچھ بھی نہیں فرحت عباس شاہ

Read More..

بچھڑے تو کبھی لوٹ کے پھر پاس نہ آئے – فرحت عباس شاه

بچھڑے تو کبھی لوٹ کے پھر پاس نہ آئے ممکن ہے کہ اس بار انا راس نہ آئے فرحت عباس شاہ (کتاب – ہم اکیلے…

Read More..

بارش آگ لگائے – فرحت عباس شاه

بارش آگ لگائے سوئے درد جگائے چھوڑ آیا ہوں دل کون یہ بوجھ اٹھائے میں آیا ہوں دیکھ کتنے زخم سجائے فرحت عباس شاہ (کتاب…

Read More..