کیا بتلائیں کیسے کیسے جیون سہنا پڑتا ہے – فرحت عباس شاه

کیا بتلائیں کیسے کیسے جیون سہنا پڑتا ہے اک اک شے سے ڈر لگتا ہے پھر بھی رہنا پڑتا ہے کاغذ بن کر اڑنا پڑتا…

Read More..

کون ہے؟ – فرحت عباس شاه

کون ہے؟ کون ہے۔۔۔؟ کون ہے جس نے پکارا ہے ہمیں ہم تو دنیا میں اکیلے ہیں بہت فرحت عباس شاہ (کتاب – ہم اکیلے…

Read More..

کہاں سے ہو کے گزرے ہو مسافر – فرحت عباس شاه

کہاں سے ہو کے گزرے ہو مسافر تمہارا نقش پا دل پر نہیں ہے فرحت عباس شاہ (کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)

Read More..

کسی کا کیا پتہ، ہم کیسے ہیں – فرحت عباس شاه

کسی کا کیا پتہ، ہم کیسے ہیں کسی کو کیا پتہ ہم کیسے ہیں ہم ایسے ہی ہیں جیسے، جلا ہوا وجود جیسے تازہ زخم…

Read More..

کچھ بھی تو سیکھنے نہیں دیتا – فرحت عباس شاه

کچھ بھی تو سیکھنے نہیں دیتا کتنا استاد ہے زمانہ بھی تُو مجھے بے سبب ہی ملتا تھا بات تو میرے دل میں تھی کوئی…

Read More..

کبھی بول بھی – فرحت عباس شاه

کبھی بول بھی دلِ سوختہ کبھی بول بھی جو اسیر کہتے تھے خود کو تیری اداؤں کے وہ کہاں گئے جو سفیر تھے تری چاہتوں…

Read More..

قدرت – فرحت عباس شاه

قدرت سزا فرحت شاہ انگلیوں سے سورج بنانا اور سورج میں آنکھوں سے روشنی بھرنا اور دل سے دھوپ ڈال دینا اور رات کے چٹکی…

Read More..

غم کی من مانیاں نہیں دیکھیں – فرحت عباس شاه

غم کی من مانیاں نہیں دیکھیں تم نے ویرانیاں نہیں دیکھیں فرحت عباس شاہ (کتاب – ہم اکیلے ہیں بہت)

Read More..

عشق کے باب ٹھہر جاتے ہیں – فرحت عباس شاه

عشق کے باب ٹھہر جاتے ہیں خواب در خواب ٹھہر جاتے ہیں آنکھ بھر جاتی ہے جب اشکوں سے ہم تہہِ آب ٹھہر جاتے ہیں…

Read More..

ظالم وقت نے چاہ کے لاحاصل کا خنجر – فرحت عباس شاه

ظالم وقت نے چاہ کے لاحاصل کا خنجر جانے کس کے زخمی دل میں گھونپ دیا ہے آخر کو تھک ہار کے جاناں میں نے…

Read More..

شورش دیدہ نم سے آباد – فرحت عباس شاه

شورش دیدہ نم سے آباد میری ہر شب ترے غم سے آباد ساری رونق ہی تری ذات سے ہے ساری دنیا ترے دم سے آباد…

Read More..

شکایت اور خوف کی ملی جُلی نظم – فرحت عباس شاه

شکایت اور خوف کی ملی جُلی نظم میں نے شکایت بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور چاند لگا وضاحتیں کرنے وہ تو چونکہ…

Read More..

شام تمہارا نام نہ جانے – فرحت عباس شاه

شام تمہارا نام نہ جانے شام تمہارا نام نہ جانے مجھ سے بولے جھوٹ رات تمہاری یاد نہ آئے نا ممکن سی بات وقت اور…

Read More..

سوا نیزہ – فرحت عباس شاه

سوا نیزہ ہم نے سمجھا تھا دکھ غروب ہو جائے گا دھوپ ڈھل جائے گی تپش کم ہو جائے گی ہم اپنی مرضی سے زمین…

Read More..

سفر میں شب بھی آنی ہے ستارہ بھی نہیں رہنا – فرحت عباس شاه

سفر میں شب بھی آنی ہے ستارہ بھی نہیں رہنا سمندر میں پرندوں کا اشارہ بھی نہیں رہنا محبت میں دلوں کا کھیل ایسے ہی…

Read More..

سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف – فرحت عباس شاه

سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف تو میرا ہوا ہے تو ہوئے یار مخالف سنتے تھے کہ بس ہوتے ہیں اغیار مخالف میرے تو نکل…

Read More..

ساتھ ہے کہکشاں، پیار سارا جہاں – فرحت عباس شاه

ساتھ ہے کہکشاں، پیار سارا جہاں دل میں سمٹ آیا ہے آسماں بانہوں میں بھر لوں اگر روشنی کی ہوائیں لہراؤں صندلی بدن جھوم اٹھیں…

Read More..

زندانِ ذات – فرحت عباس شاه

زندانِ ذات حبس کا پہلاپر بانسری کی پُر درد لے نے ذات کے اندر کہیں کھڑکی کھولی داخل ہوئی اور قید ہوگئی ملگجے اندھیرے جدائی…

Read More..

روز ہم زرد بیابانی کے خارج میں پڑے – فرحت عباس شاه

روز ہم زرد بیابانی کے خارج میں پڑے اپنے باطن کا سفر کرتے ہیں درد مین صبر کی گنجائش بے پایاں ریاضت ہے بڑی سارا…

Read More..

رستے میں تری یاد سے دوچار نہ ہوتے – فرحت عباس شاه

رستے میں تری یاد سے دوچار نہ ہوتے ہم بھول، بھلیوں میں گرفتار نہ ہوتے نفرت کی کوئی بات اگر ہوتی تو جاناں ہم تیرے…

Read More..

رات ہے اور میں اکیلا ہوں – فرحت عباس شاه

رات ہے اور میں اکیلا ہوں تیری یادوں کے ساتھ کھیلا ہوں مِیت ہوں بے قراریوں کا میں اور تنہائی کا سہیلا ہوں مجھ کو…

Read More..

رات بھر میں ترے خیال کے ساتھ – فرحت عباس شاه

رات بھر میں ترے خیال کے ساتھ بات کرتا رہا ملال کے ساتھ بے کلی ہے کہ بڑھتی جاتی ہے میری دھڑکن کی تال تا…

Read More..

دیمک – فرحت عباس شاه

دیمک اداسی زہر ہے جو دھیرے دھیرے جسم و جاں کو چاٹ جاتی ہے فرحت عباس شاہ (کتاب – ملو ہم سے)

Read More..

دھمال – فرحت عباس شاه

دھمال دھما دھم دھم دھما دھم دھم فقیرا نَچ، فقیرا نَچ اوہ اوّل وی اوہ آخر وی اوہ سبھّو حق اوہ سبھّو سچ فقیرا نَچ…

Read More..

دل نے تمہارا نام لیا تو فوراً ہم نے – فرحت عباس شاه

دل نے تمہارا نام لیا تو فوراً ہم نے رو دینے سے پہلے خود کو تھام لیا تھا دکھ کی دھوپ میں کیسی ناگن ہے…

Read More..

دل سُونا دل خالی خالی – فرحت عباس شاه

دل سُونا دل خالی خالی دل سُونا، دل خالی خالی شامیں کالی نیل سپنے ٹھنڈے یخ بستہ شب گونگی بہری جھیل جسم سراپا گھائل گھائل…

Read More..

دکھ بھی کتنا تہہ دار ہوتا ہے – فرحت عباس شاه

دکھ بھی کتنا تہہ دار ہوتا ہے صد شکر کہ میری یادداشت گم ہو چکی ہے میرے لیے کسی صدا کی بازگشت ممکن نہیں تحفظ…

Read More..

درد کی دھار بن گئی جاناں – فرحت عباس شاه

درد کی دھار بن گئی جاناں سانس تلوار بن گئی جاناں اس طرف تم تھے اس طرف میں تھا شام دیوار بن گئی جاناں اور…

Read More..

داستان گو کی موت – فرحت عباس شاه

داستان گو کی موت کون آنکھوں کے تلے دفن حکایات پڑھے کون لفظوں کے پس صوت معانی ڈھونڈے کون کومل سی ہنسی کے پیچھے دل…

Read More..

خواہش خام کے مارے ہوئے ہم لوگوں کا – فرحت عباس شاه

خواہش خام کے مارے ہوئے ہم لوگوں کا خواب اور خوف کے مابین سفر بیت گیا فرحت عباس شاہ (کتاب – بارشوں کے موسم میں)

Read More..

خالی کاغذ پہ حرف سجایا کرتا تھا – فرحت عباس شاه

خالی کاغذ پہ حرف سجایا کرتا تھا تنہائی میں شہر بسایا کرتا تھا کیسا پاگل شخص تھا ساری ساری رات دیواروں کو درد سنایا کرتا…

Read More..

چند چیزیں تو وہیں ہیں – فرحت عباس شاه

چند چیزیں تو وہیں ہیں چند چیزیں تو وہیں ہیں اب تک وہ ترا ساتھ ترا لمس اور تیری خوشبو، مرا دل تری آواز کی…

Read More..

چاند پر زور نہیں دل تو ہے بس میں اپنے – فرحت عباس شاه

چاند پر زور نہیں دل تو ہے بس میں اپنے تم کہو تو یہی دو نیم کیے لیتے ہیں فرحت عباس شاہ

Read More..

جو اس کے چہرے پہ رنگِ حیا ٹھہر جائے – فرحت عباس شاه

جو اس کے چہرے پہ رنگِ حیا ٹھہر جائے تو سانس، وقت، سمندر، ہوا ٹھہر جائے وہ مسکرائے تو ہنس ہنس پڑیں کئی موسم وہ…

Read More..

جس قدر ہو گا پرانا، ہے نکھرنے والا – فرحت عباس شاه

جس قدر ہو گا پرانا، ہے نکھرنے والا زخم جو دل پہ لگا ہے نہیں بھرنے والا پھر تری یاد جنازوں کو لیے آتی ہے…

Read More..

جب کوئی میرے ہاتھ میں تقدیر دیکھتا – فرحت عباس شاه

جب کوئی میرے ہاتھ میں تقدیر دیکھتا میں جھک کے اپنے پاؤں میں زنجیر دیکھتا اک خواب تھا بہت ہی پرانا، جھٹک دیا کب تک…

Read More..

ٹھیک ہے تیرے افسانے بھی عام ہوئے – فرحت عباس شاه

ٹھیک ہے تیرے افسانے بھی عام ہوئے تیری خاطر ہم بھی تو بدنام ہوئے آؤ نہ آؤ تم مرضی کے مالک ہو ہم تو ہوئے…

Read More..

تو مسافر نہیں تو کیا جانے – فرحت عباس شاه

تو مسافر نہیں تو کیا جانے راستوں کے مزاج ہوتے ہیں فرحت عباس شاہ (کتاب – چاند پر زور نہیں)

Read More..

تمہیں دیکھا تو دیکھا چاند جیسے – فرحت عباس شاه

تمہیں دیکھا تو دیکھا چاند جیسے مری میں آنکھوں میں اترا چاند جیسے ہنسی گونجی مری یادوں میں تیری خوشی میں آ کے بولا چاند…

Read More..

تما شا – فرحت عباس شاه

تما شا روز اداسی چہرہ بدلے روز دکھائے ہاتھ روز اک نئے سرے سے کھیلے بازی دل کے ساتھ فرحت عباس شاہ (کتاب – من…

Read More..

تم – فرحت عباس شاه

تم دل کی دہلیز سے لگی ویرانی اور ویرانی کی دہلیز سے لگی بیٹھی جدائی اور جدائی کی دہلیز سے لگی بیٹھی محبت اور محبت…

Read More..

ترے پیار میں – فرحت عباس شاه

ترے پیار میں کبھی دھند میں یا غبار میں کبھی بادلوں کی قطار میں کبھی پھول میں کبھی خار میں کبھی آرزوئے بہار میں کبھی…

Read More..

پیشِ انسانیت – فرحت عباس شاه

پیشِ انسانیت پسِ انسانیت ایک چھوٹا پرندہ کسی بڑے پرندے کے ہتھے چڑھا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا چڑیا کا بچہ روشندان میں بنے…

Read More..

پُشت پہ بندھے ہاتھ – فرحت عباس شاه

پُشت پہ بندھے ہاتھ ہم اکڑی ہوئی گردنوں اور تنے ہوئے سینوں والے کبھی اپنی آنکھوں سے ٹپکتی ہوئی رعونت کم نہیں ہونے دیتے ہم…

Read More..

بیڈ روم – فرحت عباس شاه

بیڈ روم بلا جواز رفاقت اور بے تعلق قربت در و دیوار میں چنی ہوئی روح تمہارے ہجر کا بدل نہیں ہو سکتی اور بستر…

Read More..

بے سہاروں کا سہارا کون ہے – فرحت عباس شاه

بے سہاروں کا سہارا کون ہے ان دیاروں میں ہمارا کون ہے تک رہا ہے جو تمہیں اک عمر سے جانتے ہو یہ ستارہ کون…

Read More..

بول سہیلی کس نے دل بے چین کیا – فرحت عباس شاه

بول سہیلی کس نے دل بے چین کیا ہجر نے اندر دور کہیں پر بین کیا بول سہیلی کس نے پلکیں لرزائی ہیں اک آنسو…

Read More..

بنا رسولؐ تو کوئی بھی بات کچھ بھی نہیں – فرحت عباس شاه

بنا رسولؐ تو کوئی بھی بات کچھ بھی نہیں مری نظر میں یہ سب کائنات کچھ بھی نہیں فرحت عباس شاہ

Read More..

بچھڑے تو کبھی لوٹ کے پھر پاس نہ آئے – فرحت عباس شاه

بچھڑے تو کبھی لوٹ کے پھر پاس نہ آئے ممکن ہے کہ اس بار انا راس نہ آئے فرحت عباس شاہ (کتاب – ہم اکیلے…

Read More..

بارش آگ لگائے – فرحت عباس شاه

بارش آگ لگائے سوئے درد جگائے چھوڑ آیا ہوں دل کون یہ بوجھ اٹھائے میں آیا ہوں دیکھ کتنے زخم سجائے فرحت عباس شاہ (کتاب…

Read More..

ایک طوفانی بارش کے دوران – فرحت عباس شاه

ایک طوفانی بارش کے دوران بارشیں ایسی تو نہ تھیں خوفزدہ کر دینے والی چھتیں گرانے اور گھروں کو مسمار کرنے والی اور راستے روک…

Read More..

ایسے لاحق ہوا یہ شہر کا ویرانہ مجھے – فرحت عباس شاه

ایسے لاحق ہوا یہ شہر کا ویرانہ مجھے روز اک خوف لپٹ جاتا ہے انجانا مجھے روز اک درد مجھے راہ میں آملتا ہے اور…

Read More..

اے تمنا اے مری بادل سوار – فرحت عباس شاه

اے تمنا اے مری بادل سوار اے تمنا اے مری بادل سوا آ گلے لگ جا مرے اور کھل کے رو رو سمندر خشک ہیں…

Read More..

آنکھیں سپنے ہار چکیں – فرحت عباس شاه

آنکھیں سپنے ہار چکیں جیون سب کچھ بانٹ چکا آدھے آدھے باقی ہیں میں اور میری تنہائی لوگ عجیب مصیبت ہیں سکھ کی بات نہیں…

Read More..

اندھے کالے سورج کی پیشانی پر – فرحت عباس شاه

اندھے کالے سورج کی پیشانی پر تیرا ماتھا جا چمکا ویرانی پر فرحت عباس شاہ (کتاب – اک بار کہو تم میرے ہو)

Read More..

اگرچہ اس کو پایا تھا نہ دیکھا – فرحت عباس شاه

اگرچہ اس کو پایا تھا نہ دیکھا مگر وہ خواب سے باہر نہیں تھا فرحت عباس شاہ (کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)

Read More..

اک دنیا – فرحت عباس شاه

اک دنیا بھول بھلیاں سی اک گونگا، بہرا، اندھا دل فرحت عباس شاہ

Read More..

اسے کہنا وہ گزرے یا نہ گزرے – فرحت عباس شاه

اسے کہنا وہ گزرے یا نہ گزرے ہم اس کی راہ میں بیٹھے ہوئے ہیں فرحت عباس شاہ (کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)

Read More..

اس لیے آپ کا گمان نہیں – فرحت عباس شاه

اس لیے آپ کا گمان نہیں آخرت تک کوئی نشان نہیں یہ دلائل فقط مہارت ہیں ان دلائل میں کوئی جان نہیں ہم اسے مان…

Read More..

اِس سے بہتر یہی ہے کہ ہم عمر بھر راستے میں رہیں – فرحت عباس شاه

اِس سے بہتر یہی ہے کہ ہم عمر بھر راستے میں رہیں بستیاں جھوٹ اور بستیوں کے لیے خواب بھی جھوٹ ہیں پیاس سچ ہے…

Read More..