Atif Saeed

بے بسی کا عجیب عالم ہے – عاطف سعید

بے بسی کا عجیب عالم ہے – عاطف سعید

بے بسی کا عجیب عالم ہے بے بسی کا عجیب عالم ہے جا رہی ہے وہ چھوڑ کر مجھ کو دل یہ کہتا ہے روک لوں اس کو نام اس کا پکار کر یہ کہوں تم نا جاؤ، تمہارے بن میری زندگی بے قرار گذرے گی تھام کر ہاتھ اس کا یہ بولوں مجھ کو تنہا یہاں نہیں رہنا مجھ کو بھی ساتھ اپنے لے جاؤ بے بسی کا عجیب عالم ہے دل میں طوفاں اٹھے ...

شرط – عاطف سعید

شرط – عاطف سعید

شرط یہ تم جانتی ہو میں ضدی بہت ہوں انا بھی ہے مجھ میں میں سنتا ہوں دل کی (فقط اپنے دل کی) کسی کی کوئی بات سنتا نہیں ہوں مگن اپنی دھن میں صبح و شام رہنا کوئی درد اپنا کسی سے نہ کہنا یہ عادت ہے میری میں عادت بھی کوئی بدلتا نہیں ہوں یہ تم جانتی ہو مگر یہ بھی سچ ہے میں ضد چھوڑ دوں گا انا کی یہ دیوار بھی...

مشورہ – عاطف سعید

مشورہ – عاطف سعید

مشورہ سنو! تم سوچ سکتی ہو، جدائی کے عذابوں پر کہ تم نادان ہو نہ جانتی ہو اس جدائی کو، سنو! تم سوچ سکتی ہو تعلق ٹوٹ سکتا ہے، کہ تم اس درد سے نا آشنا ہو جو رگوں میں خون بن کر بہنے لگتا ہے تعلق ٹوٹنے کا درد کچھ ایسا ہی ہوتا ہے سنو! تم پوچھتی ہو آپ نے جانا ہے یہ کیسے؟ تو ہمدم! زندگی کے تجربے یونہی نہی...

ابھی تو رات باقی ہے – عاطف سعید

ابھی تو رات باقی ہے – عاطف سعید

ابھی تو رات باقی ہے ابھی تارے چمکتے ہیں ابھی سورج نہیں نکلا ابھی تیری کہی باتیں مری پلکوں پہ بیٹھی ہیں ابھی منظر جدائی کا مری آنکھوں میں ٹھہرا ہے ابھی اک آس کا دیپک مری آنکھوں میں جلتا ہے ابھی جو خود سے کہنی ہے وہ مشکل بات باقی ہے ابھی کچھ دیر رونا ہے ابھی تو رات باقی ہے

ج پھر شام ڈھلے – عاطف سعید

ج پھر شام ڈھلے – عاطف سعید

ج پھر شام ڈھلے پھر وہی درد سا جاگا ہے رگوں میں میری پھر وہی آہ سے نکلی ہے میرے سینے سے پھر وہی خواب سے ٹوٹے ہیں میری آنکھوں میں پھر وہی درد کی تلخی ہے مری باتوں میں پھر وہی اشک سے ٹھہرے ہیں مری پلکوں پر پھر وہی رات سی جیون میں اتر آئی ہے آج پھر شام ڈھلے تم مجھے یاد آئی ہو

کچھ تو محسوس کر – عاطف سعید

کچھ تو محسوس کر – عاطف سعید

کچھ تو محسوس کر اے مرے نوجواں! تو مری بات سن، کچھ تو محسوس کر، تیرے چاروں طرف جو ہے پھیلاہوا ،اس کو محسوس کر سب مجھے نوچ کر کھا رہے ہیں یہاں بات اب کی نہیں بات صدیوں کی ہے ان کو معلوم ہے، جانتے ہیں وہ سب کتنی لاشیں گریں کتنے بازو کٹے کتنی ماؤں کے بیٹے جدا ہو گئے کتنی بہنوں کے آنچل جلائے گئے کتنے بچ...

وعدہ – عاطف سعید

وعدہ – عاطف سعید

وعدہ مرا وعدہ یہ ہے تم سے! تمہیں اتنا میں چاہوں گا کہ دنیا میں کہیں پر بھی محبت کے حوالے سے کبھی جو بات نکلے گی ہمارا نام آئے گا

ایک شعر – عاطف سعید

ایک شعر – عاطف سعید

ایک شعر یہ بات ہی تو مجھے بھولتی نہیں عاطف وہ بات بات پہ کہتی تھی بھول جاؤ گے

عادتیں – عاطف سعید

عادتیں – عاطف سعید

عادتیں لاکھ چاہو بدل نہیں سکتیں زندگی سے نکل نہیں سکتیں عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں

مجھ کو باتیں کب آتی ہیں؟ – عاطف سعید

مجھ کو باتیں کب آتی ہیں؟ – عاطف سعید

مجھ کو باتیں کب آتی ہیں؟ میں تو بس خاموش سا شاعر الفت، چاہت کے رنگوں سے دل کی خالی تصویروں میں کوئی محبت بھر دیتا ہوں اور کبھی اپنے اشکوں سے بنجر اس من کی دھرتی پر کوئی محبت بودیتا ہوں اور کبھی دیوار سے لگ کر کوئی محبت رو دیتا ہوں اور کبھی آنکھوں آنکھوں میں ساری باتیں کہہ جاتا ہوں میں اپنے اس پاگ...

تضاد – عاطف سعید

تضاد – عاطف سعید

تضاد مجھے اکثر یہ کہتی تھی کہ اتنی بار کہتے ہو، ’’مجھے تم سے محبت ہے‘‘ کہ اب سنتی ہوں یہ تم سے تو دل پاگل نہیں ہوتا مگر جب آج دانستہ، اسے میں نے نہیں بولا ’’مجھے تم سے محبت ہے‘‘ تو اس کی آنکھ بھر آئی

فرق – عاطف سعید

فرق – عاطف سعید

فرق بچھڑنے اور جدائی میں ذرا سا فرق ہوتا ہے جدا ہو کر کسی سے پھر کبھی کوئی نہیں ملتا بچھڑ جائیں تو ملنے کا کوئی امکان رہتا ہے جدا ہو کر کسی کی یاد دل میں رہ نہیں سکتی بچھڑ جائیں تو دل میں اک دیا جلتا ہی رہتا ہے جدا ہو کرکسی کا پیار دل میں رہ نہیں سکتا بچھڑ جائیں تو دل میں بس اُسی کا پیار رہتا ہے تو ...

مصالحت – عاطف سعید

مصالحت – عاطف سعید

مصالحت مجھ سے کہتی ہو کہ تم اپنی محبت لے لو یہ مجھے خون رلاتی ہے بہت راتوں میں جن کو سننے سے مجھے میرا پتا ملتا ہے کھوئی رہتی ہوں صبح وشام انہی باتوں میں جانتی ہوں کہ بہت تلخ حقیقت ہے مگر ساتھ چاہوں بھی تمہارے تو نہیں چل سکتی بات یہ مان لو! تم اپنی محبت لے لو میں اب اس آگ میں اک پل بھی نہیں جل سکتی...

ابھی اک آس باقی ہے – عاطف سعید

ابھی اک آس باقی ہے – عاطف سعید

ابھی اک آس باقی ہے بہت دن سے! مجھے کچھ اَن کہے الفاظ نے بے چین کررکھا ہے مجھے سونے نہیں دیتے مجھے ہنسنے نہیں دیتے مجھے رونے نہیں دیتے یوں لگتا ہے! کہ جیسے سانس سینے میں کہیں ٹھہری ہوئی ہے یوں لگتا ہے! کہ جیسے تیز گرمی میں ذرا سی دیر کو بارش برس کے رک گئی ہے گھٹن چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے بہت دن سے! مر...

خود کو تجھ پہ میں وار دیتا ہوں – عاطف سعید

خود کو تجھ پہ میں وار دیتا ہوں – عاطف سعید

خود کو تجھ پہ میں وار دیتا ہوں تیرا صدقہ اُتار دیتا ہوں جیسے کچھ بھی نہیں ہے کرنے کو وقت ایسے گزار دیتا ہوں تو ستاروں کو توڑ سکتا ہے میں تجھے اعتبار دیتا ہوں دکھ مسلسل ہیں اِن میں خوشیوں کو چند لمحے ادھار دیتا ہوں تیری یادوں کے سائے میں اکثر شام اپنی گزار دیتا ہوں

کچھ دیر پہلے نیند سے – عاطف سعید

کچھ دیر پہلے نیند سے – عاطف سعید

کچھ دیر پہلے نیند سے کل رات جانے کیا ہوا کچھ دیر پہلے نیند سے کچھ اشک ملنے آ گئے کچھ خواب بھی ٹوٹے ہوئے کچھ لوگ بھی بھولے ہوئے کچھ راستہ بھٹکی ہوئیں کچھ گرد میں لپٹی ہوئیں کچھ بے طرح پھیلی ہوئیں کچھ خول میں سمٹی ہوئیں بے ربط سی سوچیں کئی بھولی ہوئی باتیں کئی اک شخص کی یادیں کئی پھر دیر تک جاگا رہا! ...

میں شام یادوں کے جنگلوں میں گذارتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا – عاطف سعید

میں شام یادوں کے جنگلوں میں گذارتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا – عاطف سعید

میں شام یادوں کے جنگلوں میں گذارتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا یہ شہر سارا ہی سو چکا ہے میں جاگتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا میں پچھلے موسم کی بارشوں کو پھر اپنی آنکھوں میں لا رہا ہوں کہ اب کے ساون کی رُت میں‘ میں بھی یہ سوچتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا عجیب رُت ہے جدائیوں کی‘ عذاب دن ہیں عذاب راتیں میں چند مہمل سے لفظ ل...

بدل گئی ہے یہ زندگی اب سبھی نظارے بدل گئے ہیں – عاطف سعید

بدل گئی ہے یہ زندگی اب سبھی نظارے بدل گئے ہیں – عاطف سعید

بدل گئی ہے یہ زندگی اب سبھی نظارے بدل گئے ہیں کہیں پہ موجیں بدل گئی ہیں کہیں کنارے بدل گئے ہیں بدل گیا ہے اب اس کا لہجہ‘ اب اُس کی آنکھیں بدل گئی ہیں وہ چاند چہرہ ہے اب بھی ویسا مرے ستارے بدل گئے ہیں ملا ہوں اُس سے تو یوں لگا ہے کہ جیسے دونوں ہی اجنبی ہوں کبھی جو مجھ کو عزیز جاں تھے‘ وہ طور سارے بدل...

دو شعر – عاطف سعید

دو شعر – عاطف سعید

دو شعر کیا بتلاؤں ان لمحوں میں کتنا تم کو سوچا تھا جھیل کنارے جس دم میں نے چاند نکلتے دیکھا تھا دیر تلک شانے پر میرے تم سر رکھ کر روئی تھیں ’’میرے بن کیا تم جی لو گی‘‘ میں نے اتنا پوچھا تھا

مجھے کچھ دیر سونے دے – عاطف سعید

مجھے کچھ دیر سونے دے – عاطف سعید

مجھے کچھ دیر سونے دے سنو! اِس یاد سے کہہ دو بہت ہی تھک گیا ہوں میں! مری پلکوں پہ اب تک کچھ ادھورے خواب جلتے ہیں تمہارے وصل کا ریشم مری نیندوں میں اُلجھاہے مرے آنسو تمہارا غم، مرے چہرے پہ لکھتے ہیں مرے اندر کئی صدیوں کے سناٹوں کا ڈیرہ ہے مرے الفاظ بانہیں وا کیے مجھ کو بلاتے ہیں مگر میں تھک گیا ہوں! ا...

تمناؤں کے سب دَر کھولتا ہے – عاطف سعید

تمناؤں کے سب دَر کھولتا ہے – عاطف سعید

تمناؤں کے سب دَر کھولتا ہے ’’تری آنکھوں کا لہجہ بولتا ہے‘‘ چھپانے کی کوئی صورت نہیں ہے خدا اوپر سے سب کچھ دیکھتا ہے سنا ہے بھیگتی ہیں اُس کی پلکیں وہ جب بھی کچھ خدا سے مانگتا ہے کہیں سے روشنی لاؤ خدارا! مرے گھر میں اندھیرا بولتا ہے مرے چاروں طرف پھیلی ہے خوشبو یہ لگتا ہے وہ مجھ کو سوچتا ہے نجانے کیو...

کتنا بوجھل سا لہجہ تھا – عاطف سعید

کتنا بوجھل سا لہجہ تھا – عاطف سعید

کتنا بوجھل سا لہجہ تھا جب تو نے مجھ سے پوچھا تھا پیار کے بارے میں کچھ بولو عشق کی ساری رمزیں کھولو پیار عبادت کیوں ہوتا ہے؟ درد کی کوئی حد ہوتی ہے؟ ہجر قیامت کیوں ہوتا ہے؟ کتنا بوجھل سا لہجہ تھا جب تو نے یہ سب پوچھا تھا اور میں اُس بوجھل لہجے میں خود کو جلتا دیکھ رہا تھا

میرے اندر سانس لینا چھوڑ دے – عاطف سعید

میرے اندر سانس لینا چھوڑ دے – عاطف سعید

میرے اندر سانس لینا چھوڑ دے اے اداسی! میرا پیچھا چھوڑ دے چاند کیا آنگن میں اترا ہے کبھی سن مری جاں یہ تمنا چھوڑ دے تو کبھی سوکھے ہوئے پتوں پہ لکھ سبز شاخوں کا قصیدہ چھوڑ دے ایک دن رکھا مرے شانے پہ سر اور یہ بولی کہ ’’دنیا چھوڑ دے‘‘ زندگی اب تھک گیا ہوں میں بہت اب خدارا یہ تماشا چھوڑ دے اس محبت کو تج...

آج تک میں نہیں سمجھا تیری دنیا کیا ہے – عاطف سعید

آج تک میں نہیں سمجھا تیری دنیا کیا ہے – عاطف سعید

آج تک میں نہیں سمجھا تیری دنیا کیا ہے اے خدا تو ہی بتا دے یہ تماشا کیا ہے یہ سنا ہے کہ لکیروں کی زباں ہوتی ہے بول دیتی ہیں کہ اِس ہاتھ میں لکھا کیا ہے کیا تقاضا ہے ترا؟ علم نہیں ہے مجھ کو دل مرے تو ہی بتا دے تری منشا کیا ہے بندگی اور عبادت میں یہ دل جھکتا ہے جس میں یہ دل نا جھکے بول وہ سجدہ کیا ہے ت...

جیت – عاطف سعید

جیت – عاطف سعید

جیت تم سے ملنے کا وعدہ تھا جی کرتا تھا جیسے مجھ کو تڑپاتی ہو ویسے ہی تم کو تڑپاؤں تم سے آج نہ ملنے جاؤں لیکن آج بھی دیکھو جاناں! میری محبت‘ میری ضد سے جیت گئی ہے

کسی کی یاد کی پرچھائیوں میں چھوڑ گیا – عاطف سعید

کسی کی یاد کی پرچھائیوں میں چھوڑ گیا – عاطف سعید

کسی کی یاد کی پرچھائیوں میں چھوڑ گیا یہ کون پھرسے مجھے آندھیوں میں چھوڑ گیا مہک رہا ہوں صبح و شام تیری یادوں میں ترا وجود مجھے خوشبوؤں میں چھوڑ گیا قدم قدم وہ مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے وہ اپنا آپ مرے راستوں میں چھوڑ گیا تمام عمر مرے ساتھ وہ بھی جاگے گا جو اپنی نیند مرے رتجگوں میں چھوڑ گیا ابھی تو ڈوب کے...

بھی اک موڑ آیا ہے – عاطف سعید

بھی اک موڑ آیا ہے – عاطف سعید

بھی اک موڑ آیا ہے ابھی اک موڑ آیا ہے ابھی منزل نہیں آئی ابھی اپنے دیے سے اور کتنے ہی دیے مجھ کو جلانے ہیں ابھی تو اِس سفر میں اور کتنے موڑ آنے ہیں ابھی میں تازہ دم ہوں ابھی سینے میں جلتا وہ دیا ویسے ہی روشن ہے ابھی ظلمت کدے میں اپنے حصے کی شمعیں مجھ کو جلانی ہیں کہ یوں بھی روشنی تقسیم کرنے کے سفر می...

دیا جلائے رکھنا – عاطف سعید

دیا جلائے رکھنا – عاطف سعید

دیا جلائے رکھنا اک شجر کٹ گیا کتنے بے بس پرندوں کا گھر لُٹ گیا کچھ نہیں کر سکا بین کرتے پرندوں کو تکتا رہا کچھ نہیں کہہ سکا صرف تکتا رہا کتنا بے بس تھا میں بے بسی کے اندھیرے کو یوں کم کیا بیج میں نے وہاں اک نیا بو دیا

مجھے لکھنے کی خواہش ہے – عاطف سعید

مجھے لکھنے کی خواہش ہے – عاطف سعید

مجھے لکھنے کی خواہش ہے مجھے لکھنے کی خواہش ہے مگر لکھا نہیں جاتا! مرے الفاظ دل کی آہنی دیوار سے سر پھوڑتے ہیں اور انہیں اظہار کا رستہ نہیں ملتا مری آنکھیں! جنہیں دل میں چھپے جذبات کو اشکوں کی بولی میں بتا دینے پہ قدرت تھی وہ اب کچھ بھی نہیں کہتیں مرے یہ لب! مرے جذبات کو الفاظ کی پوشاک دیتے تھے وہ لب...

جشن – عاطف سعید

جشن – عاطف سعید

جشن کتنی مدت بعد تمہاری یاد آئی ہے یوں لگتا ہے جیسے دل یہ رک جائے گا یوں لگتا ہے جیسے آنکھیں! اپنے سارے آنسو روکر! بالکل بنجر ہو جائیں گی یوں لگتا ہے جیسے پچھلے موسم پھر سے لوٹ آئے ہیں جاناں! یہ دل خوش رہنے کے طور طریقے بھول چکا ہے اُس پرایسے یاد کی دستک یوں لگتا ہے جیسے دل پر ایک قیامت گزر رہی ہو ک...

غموں سے اس قدر ہے دوستی اب – عاطف سعید

غموں سے اس قدر ہے دوستی اب – عاطف سعید

غموں سے اس قدر ہے دوستی اب خوشی کی بھی نہیں مجھ کو خوشی اب خدا جانے اسے کیا ہو گیا ہے بہت ہی بولتی ہے خامشی اب کروں گا یاد جو فرصت ملی تو بڑی مصروف ہے یہ زندگی اب قناعت سیکھ لی ہے میرے دل نے کمی لگتی نہیں مجھ کو کمی اب کبھی جس کی طلب ہی زندگی تھی ضرورت ہی نہیں اُس کی رہی اب کبھی کہتے تو کتنی اہم ہوت...

معجزہ – عاطف سعید

معجزہ – عاطف سعید

معجزہ مجھے معجزوں پر یقیں تو نہیں ہے مگر پھر بھی آنکھوں میں سپنے سجائے تری راہگذر سے میں دن میں کئی بار یونہی گذرتا کہ شاید کبھی آمنا سامنا ہو توبس ایک لمحے کو تو مجھ کو دیکھے میں اس ایک لمحے میں جیون بتا لوں

آگ ہیں عمل میرے یا ثواب رہنے دے – عاطف سعید

آگ ہیں عمل میرے یا ثواب رہنے دے – عاطف سعید

آگ ہیں عمل میرے یا ثواب رہنے دے حشر میں ہی دیکھیں گے یہ حساب رہنے دے زندگی معلم ہے تجھ کو سب سکھا دے گی اس کو سیکھ لے پڑھنا ہر کتاب رہنے دے وصل کی تمنا میں زندگی گذارے جا! سامنے نگاہوں کے یہ سراب رہنے دے یہ نا ہو کہیں تجھ کو لاجواب کر دوں میں کچھ سوال رہنے دے‘ کچھ جواب رہنے دے عشق کی مسافت میں‘ پیار...

جو سمجھو پیار محبت کا اتنا افسانہ ہوتا ہے – عاطف سعید

جو سمجھو پیار محبت کا اتنا افسانہ ہوتا ہے – عاطف سعید

جو سمجھو پیار محبت کا اتنا افسانہ ہوتا ہے کچھ آنکھیں پاگل ہوتی ہیں کچھ دل دیوانہ ہوتا ہے کیوں آنکھیں چوکھٹ پر رکھ کر تم دنیا بھول کے بیٹھے ہو کب چھوڑ کے جانے والے کو پھر واپس آنا ہوتا ہے جب پیار کسی سے کرتے ہو کیوں واعظ سے گھبراتے ہو یہ بات ہی ایسی ہوتی ہے سب نے سمجھانا ہوتا ہے یہ آنسو‘ شکوے‘ آہیں س...

کسی موسم میں بھی جاناں – عاطف سعید

کسی موسم میں بھی جاناں – عاطف سعید

کسی موسم میں بھی جاناں کسی موسم میں بھی جاناں! جو میری یاد کا دل سے ذرا بھی رابطہ ٹوٹے تودل کو دوش مت دینا سمجھ لینا! کہ جو تم سے یہ کہتا تھا ’’تمہارا پیار جیون ہے‘‘ وہ اب ایسا نہیں کہتا

اور کچھ نہیں بدلا – عاطف سعید

اور کچھ نہیں بدلا – عاطف سعید

اور کچھ نہیں بدلا آج بعد مدت کے میں نے اُس کو دیکھا ہے وہ ذرا نہیں بدلی! اب بھی اپنی آنکھوں میں سو سوال رکھتی ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پہ اب بھی کھل کے ہنستی ہے اب بھی اُس کے لہجے میں وہ ہی کھنکھناہٹ ہے وہ ذرا نہیں بدلی! اب بھی اُس کی پلکوں کے سائے گیلے رہتے ہیں اب بھی اُس کی سوچوں میں میرا نام رہتا ہے ...

دوریاں مقدر ہیں – عاطف سعید

دوریاں مقدر ہیں – عاطف سعید

دوریاں مقدر ہیں سوگوار لہجے میں پیڑ خشک پتوں سے کہہ رہے ہیں پت جھڑ ہے دوریاں مقدر ہیں دو شعر مجھے جو آنکھ سے اوجھل دکھائی دیتا ہے وہ چپ رہے بھی تو مجھ کو سنائی دیتا ہے تمہارے پاؤں میں رکھ دی ہے شاعری اپنی کسی کو کون یوں اپنی کمائی دیتا ہے

محبت کی ایک نظم – عاطف سعید

محبت کی ایک نظم – عاطف سعید

محبت کی ایک نظم چھپانا راز اس دل کے اگر تم چھوڑ دو جاناں تمہیں مجھ سے محبت ہے اگر تم بول دو جاناں تو جیون کے سفر میں راستے آسان ہو جائیں مرے بھی پاس جینے کا کوئی سامان ہو جائے وگرنہ میں‘ تمہارے دل کے دروازے کے باہر آس میں بیٹھا رہوں گا تم کبھی تو بند دروازے کو کھولو گی مرے شانے پہ سر رکھ کر کبھی دھی...

تمہیں کتنا یہ بولا تھا – عاطف سعید

تمہیں کتنا یہ بولا تھا – عاطف سعید

تمہیں کتنا یہ بولا تھا کہ میری زندگی میں اس طرح شامل نہیں ہونا جب آنکھیں صبح کو کھولوں پکاروں نام میں تیرا کبھی جب آئینہ دیکھوں تمہاراعکس میری آنکھ کی پتلی میں جم جائے خوشی مجھ کو ملے کوئی، تمہارا ساتھ میں ڈھونڈوں دکھوں میں بھی یہی چاہوں کہ میرے پاس ہوبس تم تمہیں کتنا یہ بولا تھا مجھے بادل سے ، ب...

کیا جادو ہے؟ – عاطف سعید

کیا جادو ہے؟ – عاطف سعید

کیا جادو ہے؟ تم ہنس دو تو! سارا عالم ہنس دیتا ہے تم گر رو دو! ہر شئے بھیگی سی لگتی ہے تم روٹھو تو! ہرمنظر روٹھا لگتا ہے تم مَن جاؤ! تو سانسیں چلنے لگتی ہیں کیا جادوہے؟ تم سے مل کر جی اٹھتا ہوں آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں سب کچھ اچھا سا لگتا ہے جینا سچا سا لگتا ہے

یہی ہوا ناں – عاطف سعید

یہی ہوا ناں – عاطف سعید

یہی ہوا ناں یہی ہوا ناں! کہ تم نے مجھ کو بھلا دیا ہے جو نقشِ الفت‘ تمہارے دل پہ کھدا ہوا تھا اُسے کھرچ کے مٹا دیا ہے مجھے خبر ہے! کہ تم میں مجھ میں جو دوریاں ہیں ہماری قسمت میں وہ لکھی تھیں میں قسمتوں کے لکھے ہوئے کو مٹاؤں کیسے؟ بچھڑ کے تم سے‘ جو آگ سینے میں جل رہی ہے بتاؤ اُس کو بجھاؤں کیسے؟ کہ تم ...

اپنا دل تھام کسی یاد کی دہلیز پہ آ – عاطف سعید

اپنا دل تھام کسی یاد کی دہلیز پہ آ – عاطف سعید

اپنا دل تھام کسی یاد کی دہلیز پہ آ ’’آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ‘‘ دیکھ آتے ہیں نظر تجھ کو مناظر کیسے لے مرا نام کسی یاد کی دہلیز پہ آ اب تو ہر گام ضرورت ہے تیری یادوں کی اب تُو ہر گام کسی یاد کی دہلیز پہ آ غمِ دنیا نہ کہیں چھین لے تجھ کو مجھ سے چھوڑ سب کام کسی یاد کی دہلیز پہ آ آج کی شام منانا ...

چار شعر – عاطف سعید

چار شعر – عاطف سعید

چار شعر دل کے رشتے تو خاص ہوتے ہیں دور رہ کر بھی پاس ہوتے ہیں ہر گھڑی ان کو اُوڑھ رکھتا ہے غم بھی دل کا لباس ہوتے ہیں مسکراہٹ میں ڈھونڈتے ہیں غم وہ حقیقت شناس ہوتے ہیں لوگ کچھ شبنمی ستاروں سے زیست کا اقتباس ہوتے ہیں

متفرق اشعار – عاطف سعید

متفرق اشعار – عاطف سعید

متفرق اشعار ٭ میرے ہر شعر میں آتے ہیں حوالے تیرے جز مرے کون یہ دکھ درد سنبھالے تیرے ٭ ہجر اگنے لگا ہے پوروں پر دل میں کیا بیج بو گئی ہو تم ایک لمحہ کو سوچتی بھی نہیں کتنی مصروف ہو گئی ہو تم ٭ ہر دعا میں رہا خیال ترا اس طرح تجھ سے رابطہ رکھا ٭ محبتوں میں اگر اعتدال آجاتا یقین کر مرے دکھ کو زوال آ ...

تری آنکھوں سی آنکھیں – عاطف سعید

تری آنکھوں سی آنکھیں – عاطف سعید

تری آنکھوں سی آنکھیں تری آنکھوں سی آنکھیں آج اک چہرے پہ دیکھی ہیں وہی رنگت‘ بناوٹ اور ویسی بے رُخی اُن میں بچھڑتے وقت جو میں نے تری آنکھوں میں دیکھی تھی تری آنکھوں سی آنکھوں نے مجھے اک پل کو دیکھا تھا وہ پل اک عام سا پل تھا مگر اس عام سے پل میں پرانے کتنے موسم کتنے منظر میں نے دیکھے تھے مری جاں! میں...

زمانے سے جدا لگنے لگا ہے – عاطف سعید

زمانے سے جدا لگنے لگا ہے – عاطف سعید

زمانے سے جدا لگنے لگا ہے وہ کتنا باوفا لگنے لگا ہے یہ کیسے دور میں ہم جی رہے ہیں بشر بھی اب خدا لگنے لگا ہے مجھے تاریکیوں نے ڈس لیا ہے مجھے جگنو دیا لگنے لگا ہے عجب سی پیاس ٹھہری ہے لبوں پر سمندر بھی ذرا لگنے لگا ہے دکھی لوگوں کے آنسو پونچھتا ہے وہ کتنا پارسا لگنے لگا ہے یوں اپنے شہر میں گم ہو گیا ہ...

محبت کچھ نہیں ہوتی – عاطف سعید

محبت کچھ نہیں ہوتی – عاطف سعید

محبت کچھ نہیں ہوتی مجھے اکثر یہ کہتی تھی محبت کچھ نہیں ہوتی جدائی کے سبھی خدشے، وصل کے خواب بھی سارے، فقط افسانوی قصّے کوئی صورت نگاہوںمیں کہاں دن رات رہتی ہے اسے کیوں خامشی کہیے کہ جس میں بات رہتی ہے یہ آنسو بے زباں آنسو بھلا کیا بول سکتے ہیں کہاں دل میں کسی کی یادسے طوفان اٹھتے ہیں کہاں پلکوں کے س...

جدائی کے بعد پہلی نظم – عاطف سعید

جدائی کے بعد پہلی نظم – عاطف سعید

جدائی کے بعد پہلی نظم شفق روئی ہوئی آنکھوں کی مانند ستارے مجھ کو آنسو دِکھ رہے ہیں مجھے اِن پتیوں کی سرسراہٹ دبی آہوں کی مانند لگ رہی ہے پرندے بولتے ہیں تو! مجھے لگتا ہے کہ جیسے یہ سارے بین کرتے ہوں میں مرجھائی ہوئی‘ نوچی ہوئی کلیوں کو تکتا ہوں تو لگتا ہے کہ جیسے غم میں ڈوبی ہوئی مجھے اس دم کھلی کلی...

کچھ اس طرح سے تمہارا خیال رکھا ہے – عاطف سعید

کچھ اس طرح سے تمہارا خیال رکھا ہے – عاطف سعید

کچھ اس طرح سے تمہارا خیال رکھا ہے تمہارے واسطے خود کو سنبھال رکھا ہے یوں لگ رہا ہے کہ بارش میں دھوپ نکلی ہے خوشی میں اس طرح تم نے ملال رکھا ہے کچھ اس لیے بھی مرا حرف حرف روشن ہے تمہاری سوچ نے دل کو اجال رکھا ہے جو مجھ کو چھوڑ کے تقسیم ہو گیا سب میں اسی کے واسطے خود کو سنبھال رکھا ہے خود اپنے آپ میں ...

ہو سکتا ہے – عاطف سعید

ہو سکتا ہے – عاطف سعید

ہو سکتا ہے ہو سکتا ہے یاد ہو اس کو بھیگی شام دسمبر کی ہو سکتا ہے بھول گئی ہو وہ ایسی سب باتوں کو ہو سکتا ہے میرا سورج اس کا دن چمکاتا ہو ہوسکتا ہے یادیں میری تڑپاتی ہوں راتوں کو ہو سکتا ہے عید پہ اب بھی ویسے ہی وہ سجتی ہو ہو سکتا ہے خود سے اکثر میری باتیں کرتی ہو ہو سکتا ہے آنکھیں اس کی ایسے ہی بھر...

اے میرے کم سخن ساتھی – عاطف سعید

اے میرے کم سخن ساتھی – عاطف سعید

اے میرے کم سخن ساتھی مری بنجر سی آنکھوں سے کوئی دھوکا نہیں کھاؤ کہ تم کب دیکھ سکتی ہو مرے دل میں چھپے گھاؤ اے میرے کم سخن ساتھی! تمہیں شاید خبر ہو گی محبت میں جو بہتے ہیں وہ آنسو خشک ہوتے ہیں

خود فریبی – عاطف سعید

خود فریبی – عاطف سعید

خود فریبی ابھی تک تو ہم خود فریبی کی دھند میں یوں ہاتھوں کو تھامے جدائی کے خدشوں کو دل سے نکالے چلے جا رہے ہیں مگر دھند چھٹے گی تو معلوم ہو گا کہ ہم اس سفر میں اکیلے نہیں ہیں جدائی ہمیشہ سے تھی ساتھ اپنے

کہیں ایسا کبھی دیکھا نہیں ہے – عاطف سعید

کہیں ایسا کبھی دیکھا نہیں ہے – عاطف سعید

کہیں ایسا کبھی دیکھا نہیں ہے وہ میرا ہو کے بھی میرا نہیں ہے سمندر بانٹتا پھرتا ہے پانی مگر اب کوئی بھی پیاسا نہیں ہے خزاں رُت میں ہری شاخوں کی باتیں سنو! یہ تذکرہ اچھا نہیں ہے تمہاری آنکھ میں ٹھہرا ہوا ہے وہ جملہ جو ابھی بولا نہیں ہے اُسے مل کر یہی جانا ہے میں نے سمندر اس قدر گہرا نہیں ہے میں خود کو...

بے بسی پر ایک اور نظم – عاطف سعید

بے بسی پر ایک اور نظم – عاطف سعید

بے بسی پر ایک اور نظم عجیب سی بے بسی ہے یہ تمہیں کہہ بھی نہیں سکتا ’’مجھے تم سے محبت ہے‘‘

ذرا سی بے سکونی ہے – عاطف سعید

ذرا سی بے سکونی ہے – عاطف سعید

ذرا سی بے سکونی ہے مجھے اس زندگانی سے کوئی شکوہ نہیں لیکن ذرا سی بے سکونی ہے نجانے کیوں مرے دل میں عجب اک خوف رہتا ہے مجھے محسوس ہوتا ہے مرے دل پر، تمہاری یاد کی دستک میں وہ شدت نہیں ہوتی بہت سی خاص باتیں ہیں مجھے جو عام لگتی ہیں مرے دل میں انہیں سن کر کوئی طوفاں نہیں اُٹھتا تمہاری شربتی آنکھیں‘ تمہ...

مرے بے خبر – عاطف سعید

مرے بے خبر – عاطف سعید

مرے بے خبر مرے ہمنشیں، میرے ہمسفر تجھے کیا پتا، تجھے کیا خبر مرے لب پہ ٹھہری ہوئی تھی جو وہ ہزار صدیوں کی پیاس تھی تجھے پا کے مجھ کو لگا ہے یوں مجھے صرف تیری تلاش تھی مرے ہمنشیں،مرے ہمسفر تجھے کیا پتا تجھے کیا خبر مرے دل میں جتنا بھی پیار ہے وہ ترے لیے ہے ترے لیے! میں نے برسوں جس کے لیے لکھا مرے خوا...

تمھیں چھونے کی خواہش میں – عاطف سعید

تمھیں چھونے کی خواہش میں – عاطف سعید

تمھیں چھونے کی خواہش میں نجانے ضبط کے کتنے کڑے موسم تمہارے سامنے بیٹھے ہوئے میں نے گذارے ہیں مجھے معلوم ہے چھونے سے تم کو یہ نہیں ہو گا مرے ہاتھوں کی پوروں پر کئی جگنو دمک اٹھیں تمہارے لمس کی خوشبو مری رگ رگ میں بس جائے مگر شاید یہ ممکن ہے تمہارے لمس کو پا کر سلگتے دل کی دھرتی پر کوئی بادل برس جائے ...

کبھی قیاس کبھی وہ گمان بدلے گا – عاطف سعید

کبھی قیاس کبھی وہ گمان بدلے گا – عاطف سعید

کبھی قیاس کبھی وہ گمان بدلے گا میں جانتا تھا وہ اپنا بیان بدلے گا مری آنکھوں میں بھی رہنا تجھے قبول نہیں بتا کہ اور تو کتنے مکان بدلے گا بس ایک آس پہ جیتا ہوں آج تک مولا کبھی تو رنگ تیرا آسمان بدلے گا یہ ممتحن‘ یہ نتیجہ بدل نہیں سکتا اے دل فقط یہ ترا امتحان بدلے گا ابھی تو راہ میں کتنے ہی موڑ آنے ہی...

میں کیا لکھوں – عاطف سعید

میں کیا لکھوں – عاطف سعید

میں کیا لکھوں کہ دکھ ایسا ہے جو لفظوں کی صورت لکھ نہیں سکتا سلگتے آنسوؤں کو کس طرح سے نظم میں باندھوں سسکتی بین کرتی زندگی کس رنگ میں لکھوں مجھے معصوم آہوں کو زباں دینی نہیں آتی میں ان بے بس نگاہوں کی کہانی لکھ نہیں سکتا جہاں پر آشیانے تھے وہاں ہیں ڈھیر ملبے کے کہ جن میں دفن ہیں یادیں کئی گذرے ز...

اُس کی پلکوں پہ کوئی خواب سجا رہنے دے – عاطف سعید

اُس کی پلکوں پہ کوئی خواب سجا رہنے دے – عاطف سعید

اُس کی پلکوں پہ کوئی خواب سجا رہنے دے حبس بڑھ جائے گا اِس در کو کھلا رہنے دے میرے مالک تو بھلے چھین لے گویائی مری میرے ہونٹوں پہ فقط ایک دعا رہنے دے میرے خوابوں کو بھٹکنے سے بچانے کے لیے شب کی دہلیز پہ یادوں کا دیا رہنے دے بے رُخی ہی ترے مجرم کے لیے کافی ہے اُس سے منہ موڑ کوئی اور سزا رہنے دے چاند ب...

  • 1
  • 2