Ahmad Faraz

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی – احمد فراز

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی – احمد فراز

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میں آج اس سے مجبوراً تازہ آشنائی کی ہو چلا تھا جب بھی مجھ کو اختلاف اپنے سے تو نے کس گھڑی ظالم میری ہمنوائی کی ترک کر چک...

انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں – احمد فراز

انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں – احمد فراز

انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چپ ہیں آسان نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چپ ہیں اب کوئی اشارہ ہے نہ پیغام نہ آہٹ بام و در و دیوار بڑی دیر سے چپ ہیں ساقی یہ خاموشی بھی تو کچھ غور طلب ہے ساقی ترے میخوار بڑی دیر سے چپ ہیں یہ برق نشیمن پہ گری تھی ک...

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں – احمد فراز

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں – احمد فراز

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں تو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیک...

دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں – احمد فراز

دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں – احمد فراز

دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں آج تک اپنی بے کلی کا سبب خود بھی جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں بے طرح حالِ دل ہے اور تجھ سے دوستانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں ایک تو حرف آشنا تھا مگر اب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں قاصدا ! ہم فقیر لوگوں کا اک ٹھکانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں اے خدا درد دل ہ...

تجھ پر بھی نہ ہو گمان میرا – احمد فراز

تجھ پر بھی نہ ہو گمان میرا – احمد فراز

تجھ پر بھی نہ ہو گمان میرا اتنا بھی کہا نہ مان میرا میں دکھتے ہوئے دلوں کا عیسیٰ اور جسم لہو لہان میرا کچھ روشنی شہر کو ملی تو جلتا ہے جلے مکاں میرا یہ ذات یہ کائنات کیا ہے تو جان مری جہان میرا تو آیا تو کب پلٹ کے آیا جب ٹوٹ چکا تھا مان میرا جو کچھ بھی ہوا یہی بہت ہے تجھ کو بھی رہا ہے دھیان میرا احم...

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے – احمد فراز

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے – احمد فراز

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے شکوہ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جلاتے کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے اس کی وہ جانے اسے پاسِ و...

کب تک درد کے تحفے بانٹو خونِ جگر سوغات کرو – احمد فراز

کب تک درد کے تحفے بانٹو خونِ جگر سوغات کرو – احمد فراز

کب تک درد کے تحفے بانٹو خونِ جگر سوغات کرو ”جالب ہن گل مک گئی اے” ھن جان نوں ہی خیرات کرو کیسے کیسے دشمنِ جاں اب پرسش حال کو آئے ہیں ان کے بڑے احسان ہیں تم پر اٹھو تسلیمات کرو تم تو ازل کے دیوانے اور دیوانوں کا شیوہ ہے اپنے گھر کو آگ لگا کر روشن شہر کی رات کرو اے بے زور پیارے تم سے کس نے کہا کہ یہ ج...

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں – احمد فراز

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں – احمد فراز

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں پھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں ہم اگر منزلیں نہ بن پائے منزلوں تک کا راستہ ہو جائیں دیر سے س...

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں – احمد فراز

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں – احمد فراز

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جانِ سفر کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں رہِ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں یہ کو...

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں – احمد فراز

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں – احمد فراز

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے ہم نے جیسے بھی بسر کی ترا احساں جاناں دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہو فسردہ تو بھی دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں م...