یوں تو ہر طور سے جینے – زین شکیل

یوں تو ہر طور سے جینے کا کمال آتا ہے
پر ترے ساتھ نہ رہنے کا ملال آتا ہے
کام آنکھوں سے چلا سکتا ہوں لیکن مجھ کو
تیرے بکھرے ہوئے بالوں کا خیال آتا ہے
میں بھی چھپ چھپ کے کہیں اشک بہا دیتا ہوں
روز یوں ہی مری آنکھوں پہ زوال آتا ہے
میرے اشعار سناتی ہیں ہوائیں مجھ کو
شعر میرے وہ ہواؤں میں اچھال آتا ہے
ایک بے چین گھٹا آنکھ میں چھا جاتی ہے
جب اچانک ترے بارے میں سوال آتا ہے
رات دن بس یہی ترتیب لگی رہتی ہے
دوسرا غم مجھے پہلے سے، نکال آتا ہے
دور ہو کر اسے کچھ اور بھی محسوس کروں
زینؔ اُس شخص کو اک یہ بھی کمال آتا ہے
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.