یہی سمجھ میں آیا ہے – فرحت عباس شاه

یہی سمجھ میں آیا ہے شہر کا شہر پرایا ہے بستی بستی میں اس کی ویرانہ ہمسایہ ہے جھوٹے رشتوں ناطوں کا برسوں بوجھ اٹھایا…

Read More..

یہی نہیں ہے کہ آنسو سمیٹ لایا ہوں – فرحت عباس شاه

یہی نہیں ہے کہ آنسو سمیٹ لایا ہوں میں اس کی آنکھ کی خوشبو سمیٹ لایا ہوں شبِ فراق کی آواز بھی تھی لیکن میں…

Read More..

یوں آگیا ہوں اُس کے اصولوں کے درمیاں – فرحت عباس شاه

یوں آگیا ہوں اُس کے اصولوں کے درمیاں کاغذ اُڑے ہے جیسے بگولوں کے درمیاں آپس میں شوخیاں نہ اُلجھ جائیں بے سبب رکھا ہے…

Read More..

یوں اچانک تمہارا مل جانا – فرحت عباس شاه

یوں اچانک تمہارا مل جانا میری خواہش تھی حادثہ کب تھا ہم جسے ڈھونڈ لائے دل میں سے وہ کوئی اور تھا خدا کب تھا…

Read More..

یوں ترا نام زباں سے نکلا – فرحت عباس شاه

یوں ترا نام زباں سے نکلا جس طرح تیر کماں سے نکلا میں اسے بھول چکا ہوں یارو وہ مری آہ و فغاں سے نکلا…

Read More..

یوم عاشور – فرحت عباس شاه

یوم عاشور سوگواری کی قسم یوم عاشور کی اک ایک گھڑی خون سے لتھڑی ہوئی لگتی ہے کوئی مظلوم ہو دنیا کے کسی خطے میں…

Read More..

یوں تری یاد گزر جاتی ہے – فرحت عباس شاه

یوں تری یاد گزر جاتی ہے جس طرح آنکھ سے بارش گزرے صبح کی شوخ ہنسی کے پیچھے رات کے رونے کی آواز سنو تم…

Read More..

یوں سجا غم مری پیشانی پر – فرحت عباس شاه

یوں سجا غم مری پیشانی پر جس طرح چاند کوئی پانی پر خوف آیا تھا مجھے پہلے پہل اب تو ہنس دیتا ہوں ویرانی پر…

Read More..

یوں نہ گم ہو کہ خرابی ہو جائے – فرحت عباس شاه

یوں نہ گم ہو کہ خرابی ہو جائے شہر کا شہر سرابی ہو جائے وہ مرے سامنے جب بھی گزرے اس کا انداز سحابی ہو…

Read More..

یوں مرے ساتھ رہا ہے دریا – فرحت عباس شاه

یوں مرے ساتھ رہا ہے دریا جیسے غمخوار رہا ہے دریا اس نے پوچھی ہے محبت جب بھی ہم نے ہر بار کہا ہے دریا…

Read More..

یوں سجے تیرے خواب چہرے پر – فرحت عباس شاه

یوں سجے تیرے خواب چہرے پر آ گیا انقلاب چہرے پر آنکھ میں شام سی کوئی چمکی اور اک ماہتاب چہرے پر روح میں اک…

Read More..

یوں عقیدت کے قرینے آگئے – فرحت عباس شاه

یوں عقیدت کے قرینے آگئے بند کی آنکھیں مدینے آگئے یوں لگا پا کر مجھے خاکِ نبیؐ ہاتھ میں جیسے نگینے آگئے ڈوبتے لمحے پکارا…

Read More..

یوں لگتا ہے جیسے ہم – فرحت عباس شاه

یوں لگتا ہے جیسے ہم ویوانوں میں سوئے ہیں تیز ہوا کی بات نہ سن کہتی ہو گی وحشت ہے صحراؤں کے لوگوں کو دھوپ…

Read More..

یونہی ملحوظ اگر عشق کے آداب رہیں – فرحت عباس شاه

یونہی ملحوظ اگر عشق کے آداب رہیں ہم بھی بے تاب رہیں آپ بھی بے تاب رہیں فرحت عباس شاہ (کتاب – سوال درد کا…

Read More..