چھوڑ جاؤ گے – زین شکیل

چھوڑ جاؤ گے کیا؟
سوچتے ہیں کہ اب تم سے کچھ نہ کہیں
چاہ سکتے نہیں!
صبر ہوتا نہیں کیا کریں کچھ کہو کہ کہاں جائیں ہم
کوئی ایسی جگہ بھی نہیں محرماں
جس جگہ تم نہیں!
بند آنکھیں کریں بھی اگر تو تصور تمہارا کسی طور ہٹتا نہیں
چاہے کچھ سوچ لیں
لاکھ بھولیں تمہیں…. تم نہیں بھولتے
مانتے ہیں تمہیں!
جانتے ہیں تمہیں…
اک تمہارے سوا سب بھلا تو دیا
تم نہیں بھولتے… کیا کریں؟
ہم تمہیں بھول جانے کی قصداً جو کوششں کریں بھی اگر
بھول پاؤ گے کیا؟
ایک مدت سے خوشیاں بھی ناراض تھیں
اور اب مسکراہٹ کی کلیاں ہمارے لبوں پر سجا کر.. کہاں جا رہے ہو؟
رُلاؤ گے کیا؟
یوں ستاؤ گے کیا؟
جانے والے سنو!
گر تمہیں چھوڑ جانا ہی ہے تو بتا کر تو جاؤ ہمیں کیا کبھی یاد آئیں گے ہم؟
لوٹ آؤ گے کیا؟
یا سدا کے لیے ہی ہمیں بھول جاؤ گے کیا؟
چھوڑ جاؤ گے کیا؟؟؟؟؟
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.