پھر آنکھوں نے خواب – زین شکیل

پھر آنکھوں نے خواب سجایا ہو گا ناں
پھر وحشت نے شور مچایا ہو گا ناں
میری آنکھ میں پھیل گئے ہیں پھر آنسو
اُس نے میرا سوگ منایا ہوا گا ناں
تُو نے بھی تو شہر میں بسنے کی خاطر
کیسا کیسا ڈھونگ رچایا ہو گا ناں
میں جو اتنے پاس سے تجھ کو دیکھوں گا
تو بھی کتنی دور سے آیا ہو گا ناں
یہ جو آدھی رات کو تارے روئے ہیں
پھر بادل نے چاند چرایا ہو گا ناں
آجا میری نیند کہیں سے آ بھی جا
وہ ملنے کو خواب میں آیا ہو گا ناں
جن پیڑوں کے سوکھ گئے ہیں پھل ، ان کو
اُس نے میرا حال سنایا ہو گا ناں
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.