خود ہنگامہ آرا ہے یا – زین شکیل

خود ہنگامہ آرا ہے یا بد ہنگام محبت
کیونکر ہے مدت سے یارو تشنہ کام محبت
چاہ، خلوص، مروت، خدمت سارے روپ ہی تیرے
دیکھو تو ہیں جگ میں کتنے تیرے نام محبت
خواہش اٹھنے لگتی ہے تو مر جاتی ہے فوراً
بول ہمارے پاس ہے کیا اب تیرا کام محبت
اک ہم ہیں اور ایک زمانہ آتش زن صدیوں سے
اور کرے گی تُو ہم کو کتنا بدنام، محبت!
جو تھا، جتنا تھا، جیسا تھا قدموں میں رکھ چھوڑا
جانے کس لمحے پائے گی تُو انجام، محبت
جذبوں کی سچائی میں گر فرق ذرا آ جائے
ایسے میں اکثر ہو جاتی ہے ناکام، محبت
تُو تھی سادہ، کملی جھلّی، پھر کیوں بدلے چہرے؟
جا اب زیادہ چھڑ ہمیں مت، اے مادام محبت!
بس اک بار خلاصی ہو تو اس کے بعد کبھی پھر
بھولے سے بھی لیں گے نہ ہم تیرا نام محبت
اس سے بڑھ کر حیف نہیں اب میں تجھ پہ کر سکتا
آہ محبت، وائے محبت، بدفرجام محبت
زینؔ ہمارے پاس متاعِ درد بچی ہے، جس میں
اک بے سود اداسی ہے اور اک بے نام محبت
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.