حضرت مولانا رومي پر مختصر نظر

حضرت مولانا رومي پر مختصر نظر

دنيا ميں بہت ہي کم لوگ ايسے ہوتے ہيں جو انسانيت کي سربلندي کے ليۓ اور فلاح کے راستے کي تلاش ميں اپني پوري زندگي قربان کر ديتے ہيں – يہي وہ لوگ ہوتے ہيں جو اپني محبت، قرباني ، سچے وعدوں اور کامل رہنمائي کي بدولت ہميشہ کے ليۓ تاريخ کا حصہ بن جاتے ہيں اور ان کے بعد آنے والے انسان انہيں ہميشہ قدر و منزلت کي نگاہ سے ديکھتے ہوۓ ان کو اپنے دلوں ميں زندہ رکھتے ہيں – ايسے عظيم کردار تاريخ کے اوراق سے کبھي بھي غائب نہيں ہو سکتے بلکہ ان کے قوت عمل سے لبريز زندہ وجاويد خيالات، تجزبات ،تشريحات ، روحاني پيغامات ہمارے جديد اورگوناں گوں سماجي مسائل کا قابل قبول نعم البدل پيش کرتے ہيں

مولانا جلال الدين رومي کي شخصيت بھي کچھ ايسي ہي تھي جو صديوں پہلے اس دنيا ميں نمودار ہوئي اور پھر اس دنيا سے کوچ کر گئي مگر وہ اپنے عظيم کارناموں کي بدولت ہمارے دلوں ميں آج بھي زندہ و جاويد ہيں اور آج بھي  ہمارے احساسات اور غموں ميں شامل ہيں – ان کے نظريات سے اور ان کي تعليمات سے ہم آج بھي بہت سے مسائل کا حل تلاش کر ليتے ہيں – وہ آج بھي صديوں پہلے کي طرح ہمارے درميان رہنما ہيں – مولانا روم کي شخصيت نور ہدايت سے مالا اور تاريخ  کے  خاصہ خاصان اولياء کرام ميں شمار ہوتي تھي  – ان کا قلب  عشق الہي اور عشق نبي کي دولت سے معمور تھا – وہ انسانيت سے محبت کرنے والي عظيم شخصيات ميں ممتاز اور نماياں مقام رکھتے تھے – وہ حضرت اسرافيل کے مقدس مشن کے کل بھي امين تھے اور آج بھي مردہ دلوں ميں روحاني زندگي کي شمع روشن کر رہے ہيں – انہوں نے مردہ دلوں ميں آب حيات سے زندگي کي روحاني اوراخلاقي رمق دمق پيدا کي، اور آج بھي اس روحاني زرخيزي کا عمل خيز جاري کيے ہوئے ہيں- انہوں نے سالکين کو نور ہدايت سے مستفيد فرمايا- اور آج بھي انسانيت کو اپنے نور سے منور فرما  رہے ہيں

مولانا جلال الدين رومي مرد کامل اور مرد خدا تھے  جنہوں نے خدا کے  قرب کے حصول کے ليے برق رفتاري سے روحاني منازل طے کيں – انہوں نے دوسرے لاتعداد افراد ميں اس روحاني سفر کو طے کرنے کا پاکيزہ جذبہ بيدار کيا- ايسا عظيم روحاني سفر طے کرنے کا جذبہ صادق جو قرب خدا کے حصول کي جستجو کو تيز تر کردے – وہ ايک متوازن صاحب حال مرد کامل تھے- جنہوں نے شديد جذبہ محبت سے اپني پاکيزہ زندگي کو روحاني معراج کي رفعتوں سے ہم کنار کيا- انہوں نے دوسرے افراد ميں بھي ان پاکيزہ احساسات کو تحريک دي اور آج بھي اس روحاني تحريک کے روح رواں ہيں – رومي نے اپنے عشق خدا اپنے علم مدني اور خدا کے ساتھ اپنے شديد لگاؤ کے علاوہ انہوں نے خوف خدا اور ادب کي وجہ سے شہرت دوام اور ممتاز مقام حاصل کيا – انہوں نے انسانيت کو اپنے مسحور کن انداز ميں حقيقت ابدي کي تلاش کرنے کي طرف مائل کيا- آج بھي ان کي صدائے حق ہر فرد کو حقيقت ابدي کي شديد محبت رب العزت کے خصوصي فضل و کرم کا مرہون منت ہے – ان کي پاکيزہ زندگي رب کي سچائي اور حقانيت کي واضح شہادت پيش کرتي ہے – بيک وقت جيسے  وہ اپنے دورکے افراد سے انتہائي موثر انداز ميں مخاطب ہوتے تھے –  وہ اپنے اس عظيم مشن ميں بہت ہي زيادہ صاحب اثر تھے – انہوں نے اپني صدائے حق اور پاس انفاس ميں ايسي اخلاقي اور روحاني قوت کو اجاگر کيا تھا، جو کہ پيغمبر اسلام حضرت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  کي صدائے حق اور پاس انفاس کا کامل پر تو تھا- رومي کي صدائے حق آج بھي صديوں کے طويل عرصہ کے بعد جذبہ اشتياق سے سماعت کي جاتي ہے – وہ ايسي مسرت بخش آواز ميں مخاطب ہوئے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے ہم عصرمعزز عوام کي مکمل راہنمائي فرمائي ، بلکہ دور حاضر کے انسانوں کي بھي مکمل راہنمائي فرما رہے ہيں – خداوند قدوس نے ان کو يہ عظيم فريضہ سرانجام دينے کے ليے منتخب فرما ليا تھا- اس مقصد عظيم کے ليے رب و دود نے رومي کو روحاني اکميت اور جسماني جاہ و جلال سے مزين فرمايا تھا- تاکہ وہ اس منسب جليلہ ميں مکمل طور پر نماياں کاميابي حاصل کر سکيں – ان کا قلب اظہر نور خدا کے انوار و تجليات سے منور تھا – اسي طرح ان کي قدر و منزلت اوران کي عقل سليم کي وجہ سے بہت ہي نماياں اور ممتاز ہے- اوران کي عقل سليم کي ضيا، اس طرح سے منور ہے جس طرح ايک گوہر ناياب چمکتا دمکتا ہے ان کي خودي کو رب ذوالجلال کے مقدس رموز و اسرار اور علم معرفت نے مکمل طور پر اپنے احاطہ ميں ليے ہوئے تھا- ان کي روحاني آنکھيں اسي خصوصي نور سے منور تھيں

آسمان ولايت پر مولانا جلال الدين رومي ايک روشن ستارے کي طرح چمک دمک رہے ہيں- اور آج بھي اپنے زمانہ زندگي کي طرح دعوت حق کا منبع اور مرکز ہے – انہوں نے چراغ ولايت کے تمام اوصاف جليلہ کو اپني ذات ميں مکمل طور پر متشکل کيا ہوا ہے-  رومي کے نور ولايت نے لاکھوں روحاني تتليوں کو اپني روحاني کشش سے اپنا ديوانہ بنايا ہوا ہے – وہ اس ضيائے حق کے حصول کي خاطر ان کي طرف کھنچي آتي ہيں- انسانيت جن اوصاف کاملہ کي جستجو ميں سرگرداں ہے، رومي اس تحريک کے راہبر کامل ہيں- قرآن پاک ميں جو صداقتيں بيان کي گئي ہيں ، رومي ان حقائق اور معارف آيات قرآني کے محتاب مفسر ہيں- عشق مصطفے صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  کے خوش اسلوب اور رواں گفتار ترجمان ہيں -رومي نے انتہائي کاميابي سے معرفت کي زبان استعمال کرکے انسانوں کي خدا کے عشق ميں رواں دواں ہونے کي راہنمائي کي ہے- جو حضرات ان کے حلقہ ارادت ميں ايک مرتبہ شامل ہوئے، انہوں نے عقيدہ وحدت الوجود کا مکمل فہم اور ادراک حاصل کر ليا تھا- جو ان کي راہنمائي ميں قرآن پاک کا بغور مطالعہ کرتے ہيں ان کي زندگي ميں ايسا روحاني انقلاب برپا ہو جاتا ہے جس طرح عظيم تر روحاني و اخلاقي انقلاب اصحاب رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  کي زندگي ميں بيان کيا جاتا ہے – جب رومي کے فيض يافتہ احباب نے قرآن پاک کي آيات مقدسہ کي تفسير بيان کي ، تمام قلوب و اذبان نے اسي نور ہدايت سے استفادہ کيا- جو کہ رومي کي عقل سليم نے ان ميں منور کيا تھا- ايسا محسوس ہوتا تھا کہ آسمان معرفت کے تمام رموز و اسرار ان کے ذکر ذات ‘اللہ ‘کرنے سے ان پر عيان ہو جاتے –

ماخذ: شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان

Hits: 41

:: ADVERTISEMENTS ::
shares