حضرت مولانا جلال الدین محمد رومی بلخی رحمتہ اللہ علیہ

Hazrat Mawlana Rumi

حضرت مولانا جلال الدین محمد رومی بلخی رحمتہ اللہ علیہ

دور انسانیت میں بہت ہی کم ایسی ہستیاں ہیں جو انسان کی سربلندی کے لیے اپنی صدائے حق،پاس نفاس،جوش محبت،سچے وعدوں اورکامل راہنمائی کی وجہ سے صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی زندہ وجاویدہیں۔حقیقت میں ماضی ایسے عظیم کرداروں کو نہ تو ہم سے جداکرسکتاہےاورنہ ہی ان کے خیالات کومتروک کرسکتاہے۔ان کے قوت عمل سے لبریز زندہ وجاوید خیالات، تجزبات ،تشریحات ، روحانی پیغامات ہمارے جدید اورگوناں گوں سماجی مسائل کا قابل قبول نعم البدل پیش کرتے ہیں۔

رومی ایسی ہی ایک زندہ جاوید ممتازروحانی ہستی ہیں،گوکہ صدیوں کےطویل ترین عرصہ نے ان کو طبعی طور پر ہم سے جداکیا ہے وہ آج بھی ہماری آہوں او رسسکیوں کوسنتے ہیں۔ہماری حالت زارسے اچھی طرح باخبر ہیں۔ہمارے احساسات اورغموں میں شامل ہیں۔ اور ہمارے پیچیدہ اورگوناں گوں مسائل کا بے مثل حل مسحورکن آواز میں پیش کرتے ہیں۔جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ اس حقیقت کےباوجود کہ وہ صدیوں پہلے اس دنیا فانی میں تشریف فرماتھے ۔وہ آج بھی ہمارے درمیان ہماری راہنمائی کے لیے موجود ہیں۔وہ عظیم روحانی ہستی نور ہدایت سے منور ہے۔جو ہر لمحہ انسانیت کے آقاومولا حضر ت محمد  سے نورہدایت کے فیوض وبرکات حاصل کرتی ہے۔اور اس مقدس ومتبرک نور کوشش جہات مختلف انداز میں پھیلانے میں مصروف ہے ۔مولانا روم خاصہ خاصان اولیا کرام میں سے ہیں۔ان کا قلب خداکے عشق اوراخلاص کی دولت سے معمور ہے۔وہ پاکیزہ ہستی جن کے الفاظ انسانیت کے لیے منارہ نور ہیں اورانسانیت سے محبت کرنے والی عظیم شخصیات میں ممتاز اورنمایاں مقام رکھتے ہیں۔وہ حضرت اسرافیل کے مقدس مشن کے کل بھی امین تھے اور آج بھی مردہ دلوں میں روحانی زندگی کی شمع روشن کررہے ہیں ۔انہوں نے مردہ دلوں میں آب حیات سے زندگی کی روحانی اوراخلاقی رمق دمق پیداکی،اورآج بھی اس روحانی زرخیزی کاعمل خیز جاری کیےہوئے ہیں۔انہوں نے سالکین کونورہدایت سے مستفید فرمایا۔اور آج بھی انسانیت کواپنے نورسے منورفرمارہے ہیں۔وہ اپنے آقا ومولی حضرت محمد  کی حقیقی جانشین تھے اورآج بھی اس مسند غلامی پر جلوہ افروزہیں۔

مولانا جلال الدین رومی مردکامل اورمردخدا ہیں جنہوں نے خداکے قرب کےحصول کے لیے برق رفتاری سے روحانی منازل طے کیں ۔انہوں نے دوسرے لاتعداد افراد میں اس روحانی سفر کو طے کرنے کاپاکیزہ جذبہ بیدارکیا۔ایساعظیم روحانی سفر طے کرنے کاجذبہ صادق جو قرب خداکے حصول کی جستجو کوتیز تر کردے ۔وہ ایک متوازن صاحب حال مردکامل تھے۔جنہوں نے شدید جذبہ محبت سے اپنی پاکیزہ زندگی کو روحانی معراج کی رفعتوں سے ہم کنارکیا۔انہوں نے دوسرے افرادمیں بھی ان پاکیزہ احساسات کو تحریک دی ۔اورآج بھی اس روحانی تحریک کے روح رواں ہیں۔رومی نے اپنے عشق خدا اپنے علم مدنی اور خداکے ساتھ اپنے شدید لگاؤ کے علاوہ انہوں نے خوف خدااور ادب کی وجہ سے شہرت دوام اورممتا زمقام حاصل کیاہے۔انہوں نے انسانیت کو اپنے مسحورکن انداز میں حقیقت ابدی کی تلاش کرنے کی طرف مائل کیا۔ آج بھی اس روحانی تحریک کی راہنمائی فرمارہے ہیں ۔آج بھی ان کی صدائے حق ہر فرد کو حقیقت ابدی کی شدید محبت رب العزت کے خصوصی فضل وکرم کامرہون منت تھا۔ان کی پاکیزہ زندگی رب کی سچائی اورحقانیت کی واضح شہادت پیش کرتی ہے ۔بیک وقت جیسے وہ اپنے دورکے افراد سے انتہائی موثر انداز میں مخاطب ہوتے تھے ۔وہ اپنے اس عظیم مشن میں بہت ہی زیادہ صاحب اثر تھے ۔انہوں نے اپنی صدائے حق اور پاس انفاس میں ایسی اخلاقی اورروحانی قوت کو اجاگر کیاتھا، جوکہ پیغمبر اسلام حضرت محمد  کی صدائے حق اور پاس انفاس کاکامل پر توتھا۔رومی کی صدائے حق آج بھی صدیوں کے طویل عرصہ کے بعدجذبہ اشتیاق سے سماعت کی جاتی ہے ۔وہ ایسی مسرت بخش آواز میں مخاطب ہوئے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے ہم عصرمعزز عوام کی مکمل راہنمائی فرمائی ،بلکہ دور حاضر کے انسانوں کی بھی مکمل راہنمائی فرمارہے ہیں ۔ خداوندقدوس نے ان کو یہ عظیم فریضہ سرانجام دینے کے لیے منتخب فرمالیاتھا۔اس مقصد عظیم کے لیے رب ودودنے رومی کو روحانی اکمیت اورجسمانی جاہ وجلال سے مزین فرمایاتھا۔تاکہ وہ اس منسب جلیلہ میں مکمل طورپر نمایاں کامیابی حاصل کرسکیں ۔ان کاقلب اظہر نور خدا کے انوار وتجلیات سے منور تھا۔اسی طرح ان کی قدر ومنزلت اوران کی عقل سلیم کی وجہ سے بہت ہی نمایاں اورممتاز ہے۔اوران کی عقل سلیم کی ضیا،اس طرح سے منورہے جس طرح ایک گوہرنایاب چمکتا دمکتاہے ان کی خودی کو رب ذوالجلال کے مقدس رموزواسرار اورعلم معرفت نے مکمل طورپر اپنے احاطہ میں لیے ہوئے تھا۔ان کی روحانی آنکھیں اسی خصوصی نور سے منور تھیں ۔

آسمان ولایت پر مولانا جلال الدین رومی ایک روشن ستارے کی طرح چمک دمک رہے ہیں۔اورآج بھی اپنے زمانہ زندگی کی طرح دعوت حق کا منبع اورمرکزہے ۔انہوں نے چراغ ولایت کے تمام اوصاف جلیلہ کواپنی ذات میں مکمل طورپر متشکل کیا ہواہے۔اوروہ یہ نو رصداقت پیغمبر اسلام حضرت محمد  سے مسلسل حاصل کررہے ہیں ۔خداوند کائنات کی کثیر تعداد میں خوش بخت مخلوق ازخودوجدانی طور پر اس شمع ولایت کی جانب کشاں کشاں کھنچی آتی ہے ۔رومی کے نور ولایتنے لاکھوں روحانی تتلیوں کو اپنی روحانی کشش سے اپنادیوانہ بنایاہواہے ۔ وہ اس ضیائے حق کے حصول کی خاطر ان کی طرف کھنچی آتی ہیں۔انسانیت جن اوصاف کاملہ کی جستجو میں سرگرداں ہے،رومی اس تحریک کے راہبر کامل ہیں۔قرآن پاک میں جو صداقتیں بیان کی گئی ہیں ،رومی ان حقائق اورمعارف آیات قرآنی کے محتاب مفسر ہیں۔عشق مصطفے  کے خوش اسلوب اوررواں گفتار ترجمان ہیں ۔رومی نے انتہائی کامیابی سے معرفت کی زبان استعمال کرکے انسانوں کی خدا کے عشق میں رواں دواں ہونے کی راہنمائی کی ہے۔جوحضرات ان کے حلقہ ارادت میں ایک مرتبہ شامل ہوئے ،انہوںنے عقیدہ وحدت الوجود کا مکمل فہم اور ادراک حاصل کرلیاتھا۔جوان کی راہنمائی میں قرآن پاک کابغور مطالعہ کرتے ہیں ان کی زندگی میں ایسا روحانی انقلاب برپا ہوجاتاہے جس طرح عظیم تر روحانی واخلاقی انقلاب اصحاب رسول  کی زندگی میں بیان کیاجاتاہے ۔جب رومی کے فیض یافتہ احباب نے قرآن پاک کی آیات مقدسہ کی تفسیر بیان کی ۔تمام قلوب واذبان نےاسی نور ہدایت سے استفسادہ کیا۔جوکہ رومی کی عقل سلیم نے ان میں منور کیاتھا۔ایسا محسوس ہوتاتھاکہ آسمان معرفت کے تمام رموز واسراران کے ذکر ذات ‘اللہ ‘کرنے سے ان پر عیان ہوجاتے تھے ۔

رومی کا عشق الہی ایک شعلہ فشاں ولولہ تھا۔جومعرفت خداوندی کے حصول کے لیے انمٹ درداورمستقل جذب شوق اوراعلی اشتیاق رکھتاتھا۔وہ عشق الہی اورشوق معرفت کاروحانی جذبہ اپنی خلوت نشینی اورزہد وتقوی کومعاشرتی سرگرمیوں میں بروئے کار لاتے تھے ۔

یہ ان کی خلوت نشینی کاثمر تھاکہ ان سینہ حقیقی وصل خداکے لیے کھل گیاتھا۔اس تنہائی اورخلوت میں ہر چیز سے علیحدگی صرف اورصرف خداکے قرب اوروصال کے لیے اختیار کی ۔حتی کہ وہ عشق حقیقی میں آتش فشاں اجرام فلکی کی مانند ہوگئے تھے ۔اورجب کہ بہت سے افراد کے لیے آتش عشق الہی میں جلنے کا ادراک اوروحانی تجربہ سے گذرنا بہت ہی مشکل امرہے رومی نے کبھی بھی چند قطروں پر قناعت نہ کی اورنہ ہی بے صبری کامظاہرہ کیا،کیونکہ ایسی شعلہ فشان جذب محبت کے ولولہ انگیز جذبات آتش عشق الہی کی تپش کے لیے لازمی جزہے۔ کیونکہ کسی شکایت یاشکوہ کے اظہارسے پرہیز کرنا راہ عشق میں فرض عین ہے۔رومی کے مطابق جولوگ اللہ تعالی سے حقیقی عشق کرنے کی تعلیم دیتے ہیں وہ ہمیشہ اپنایہ عہد یادرکھیں کہ وہ شعلہ فشان جذبات کے ساتھ اللہ سے محبت کرتے تھے ۔یہ وہ گراں قیمت ہے جو ہر باوفا عاشق اللہ کے عشق میں فنا حاصل کرنے کے لیے ضرور ادا کرتاہے ۔مزید انہیں ایسے بلند پایہ اخلاق اوروحانی رویوں میں سرمست رہنے چاہیے کہ وہ کم خوروکم خواب ہوں اوراپنی گفتگو میں ہمیشہ رب تعالی کی طرف مکمل طور پر متوجہ رہیں ۔اورجب ایسا مرد کامل خداکے عشق میں فناہوکرلازوال نعمت عشق حاصل کرتاہے تووہ لازمی طورپر حیران کن روحانی تجربات سے گزرتا ہے۔

رومی نہیں سمجھ سکتے کہ ایک عاشق کیسے غفلت کی نیند سوسکتاہے ۔اوروہ کیسے محبوب سے ملاقات کے وقت غافل رہ سکتاہے ۔ان کے نزدیک غفلت کی نیند محبوب کو ناگوار گذرتی ہے ۔جیساکہ خداتعالی نے حضرت داود کوہدایت فرمائی ۔ اے داود جولوگ میرے دائمی ذکر سے غافل ہوکر سوتے ہیں اورپھر مجھ سے محبت کادعوی کرتے ہیں ،وہ جھوٹے ہیں ۔یہی رومی کہتے ہیں کہ جب رات شروع ہوتی ہے عاشق اللہ سے بہت ہی شدید محبت کی وجہ سے بیدار اورہوشیار ہوجاتاہے ۔ رومی نے یہ دعوی زبانی نہیں کیابلکہ اپنے دعوی کی اپنے اعمال سے بھر پور تائیدکی ۔ مندرجہ ذیل اشعاران کے دیوان کبیر سے منتخب کیے گئے ہیں ،جوانتہائی خوبصورتی سے ان کے جذبات اور ولولہ انگیز احساسات کے سمندر سے ایک طوفان کی مانند اٹھتا ہے۔

میراٹوٹا ہوا غریب وناتواں دل دشت محبت میں مجنوں کی طرح ہے
جس کے جسم کاانگ انگ فنا ہوچکاہے۔
مجھ میں خداکی محبت کا حق ادا کرنے کی طاقت نہیں ہے
ہر صبح وشام میں نے محبت کی زنجیروں کی گرفت سے اپنے آپ کو آزاد کرنے کی کوشش جاری رکھی ہے۔
وہ زنجیر جس نے مجھے قید میں ڈال رکھاہے۔
جب محبوب کے خواب شروع ہوتے ہیں،میں اپنے آپ کو لہو لہو پاتاہوں ۔
کیونکہ میں مکمل طور پرہوش وحواس میں نہیں ہوں۔
مجھے خدشہ ہے کہ میں اپنے محبوب کو اپنے خون دل سے رنگین کردوں۔
حقیقت میں اے محبوب حقیقی!توحوروں کو لازمی حکم دے کہ وہ ضرورجان سکیں کہ میں تمام رات کیسے جلتا ہوں۔
ہرکوئی آرام کی نیند سوچکاہے
مگر میں وہ ہوں جس نے اپنا دل تیرے حضور پیش کیاہے۔
غافلوں کی طرح سونا پسند نہیں کیا۔
تمام رات میری آنکھیں آسمان کی طرف تکتی ہیں۔
ستاروں کوگنتی ہیں ۔

محبوب کی شدید محبت نے میری نیندکو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے رکھاہے۔میں یقین نہیں کرتاکہ وہ دوبارہ کبھی آئے گی۔”

اگر رومی کے گلدستہ شاعری سے عمیق عرق ریزی کی جائے تو ان کے کلام محبت سے عشق ومستی ،محبت شدید اورعقیدہ وحدت الوجود کی توانائی معصوم ومنتظر آہیں اورسسکیاں ،تمنائے دیدارمحبوب اورملاقات رب ودود کے سچے جذبات ٹپکیں گے ۔

رومی نے اپنی تمام عمر عشق ومستی کااظہارکیا۔اوروہ یقین کامل رکھتے تھے کہ وہ اپنے جذبہ عشق ومحبت کی بدولت اللہ کو محبوب ہیں اسی طرح وہ اپنے عشق اوراللہ سے اپنے کامل تعلق کا ااظہار کرتے تھے ۔جب وہ اللہ سے عشق کرتے تھے تواس پاکیزہ عمل میں تنہانہ تھے۔انہوں نے اپنی قرابت اورمحبت میں بہت سی متبرک ہستیوں کو شامل رکھا۔جورومی کے حلقہ محبت میں ہروقت موجود رہتے تھے ۔وہ یقین رکھتے تھے کہ وفاکی حساسیت کے لیے ناگریرہے کہ وہ جام محبت جوان کورب کی جانب سے انہیں پیش کیاجاتاتھا۔وہ جام محبت اپنے تمام حلقہ احباب کو پیش کریں ۔

مندرجہ ذیل شعران کے عظیم ،اعلی وارفع روحانی سفر کی حقیقت اورآشنائی کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔

محبت کابراق میری روح اورذہن بلکہ دل اورسب کچھ اپنے اوپر سوار کرکے لے گیاہے۔

مت پوچھ کہ کہاں لے گیاہے۔

میں ایسے مقام رفعت میں پہنچ چکا ہوں ،جہاں کوئی چاند نہیں ہے،نہ دن ہے

میں ایسے جہاں میں پہنچ چکاہوں جہاں پر یہ دنیا نہیں ہے۔

رومی کابلند ترین روحانی سفر پیغمبر اسلام  کے مقام رفقت کا پرتوتھا، جس کو سلیمان جلی نے یوں بیان فرمایا ہے۔ (جلی ترکی زبان میں میلادشریف کے مصنف ہیں ،جوکہ سرکاردوعالم ،نور مجسم حضر ت محمد  کےمیلاد شریف کے موقع پر خوش کن لحجہ میں پڑھا جاتاہے ۔)

وہاں کوئی افق نہیں ،کوئی زمین نہیں ،اورکوئی آسمان نہیں ہیں ۔”

جوکچھ ان کی روح مبارک سماعت فرمائی تھی ،اورنظارہ کرتی تھی ،وہ رب العزت کاخاص فضل وکرم تھا۔جوکہ جسمانی آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا۔اورنہ ہی جسمانی کانوں سے سماعت کیاجاسکتاہ۔اورنہ ہی کوئی انسانی ذہن اس کااحاطہ کرسکتاہے۔

ایسےکامل فیض کاپرتوسب کو حاصل نہیں ہوسکتا۔رومی روحانی مقام ارفع پرپرواز کرتے تھے ۔اورنظارہ کرتے تھے ۔لطف انداز ہوتے تھے ۔اوروہ کامل علم رکھتے تھے جوکہ ایک فانی ہستی کے لیے ممکن ہے ۔وہ حضرات جودیکھ نہیں سکتے،وہ کچھ بھی معلوم نہیں کرسکتے ۔جو لذت نظارہ سے لطف اندوز نہیں کرتے ہیں۔جو انہوں نے رب العزت کے فضل و کرم سے حاصل کیاہے۔

اورجواسرار وحدت کو ظاہر کرتاہے ۔اکثروہ لوگوں کے عقل وشعور کےمعیار سے ماورا ء ہوتاہے ۔جیسا معروف ترکی شاعر غالب فرماتے ہیں:

”محبوب حقیقی کی شمع کاایسا حیران کن نور ہے کہ جنتی چراغوں میں نہیں سماسکتا۔”

مخلوق خدا کی محبت اور اللہ سے تعلق کاجوش وولولہ جیساکہ رومی بیان کرتے ہیں، عشق خداکی روحانی تحریک کومنظم انداز میں آگے بڑھانے کاپاکیز ہ عمل ہے ۔رومی جس کی فطرت مقدس شراب وحدت اورمحبت وحدت کے جام سے لبریز تھی ،نے تمام کائنات کواپنی انتہائی ترقی یافتہ پاکیزہ محبت کی آغوش میں لے لیاتھا۔وہ مخلوق سے مکالمہ کرنے میں مشغول تھے ۔اوریہ سب فیضان خداکی محبت اورنگاہ کرم اوران کے محبوب حقیقی سے تعلق کے سوا اورکچھ نہ تھا۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ تمام ترتیب اورکسی قدر الجھی ہوئی تاویلات کارومی کی حقیقت کوبیان کرنے یاسمجھانے سے دور کا تعلق بھی نہیں رکھتی ہیں۔یہ بے ربفگی رومی سے میرے خاص تعلق کی کاوش اورتلاش کالازمی نتیجہ ہے ۔

ایک قطرہ ناچیز سمندرکی حقیقت بیان نہیں کرسکتاہے۔نہ ہی ایک معمولی کرن آفتاب کی حقیقت کوبیان کرسکتی ہے۔اب جب کہ ان کی روشنی دوبارہ زمین پر ہر طرف بکھر ی ہے۔میں چند فقروں میں مولانا جلال الدین رومی کے متعلق بیان کرنا چاہتاہوں،

رومی ۱۲۰۷ء میں بلغ کے شہر میں پیداہوئے ۔اس وقت تمام ایشیا سماجی وسیاسی اورعسکری نقصانات برداشت کررہاتھا۔ان کے والد گرامی محمد بہاؤالدین الصدیقی ،جن کاسلسلہ نسب دس واسطوں سے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق سے ملتاہے۔جواسلام کے پہلے خلیفہ تھے ۔طاہر المولوی کےمطابق رومی کی والدہ ماجدہ بھی سرکاردوعالم  کی نسل پاک سے تعلق رکھتی تھیں۔رومی اس متبرک اورمطہر خاندان کے شجر محمود کامقدس ثمرتھے ۔سلطان العلما ء کی حیثیت خاص میں ان کے والدگرامی مرد حق اوروارث پیغمبر اسلام تھے۔ رب العزت کے دیگر اولیاء کاملین کی طرح ، انہوں نے سخت مصائب برداشت کیے اوربالآخرہجرت کرنے پر مجبور کردیےگئے ۔اس طرح انہوں نے خوارزم کی سرزمین کوچھوڑا،جہاں وہ پیداہوئے تھے ۔اورایک اذیت ناک اورطویل ترین سفر طے کیا۔جو مختلف مقام منازل پر مشتمل تھا۔سب سے پہلے انہوں نے اپنے افراد خاندان کے ہمراہ مقدس سرزمین مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ میں حاضری دی ۔یہاں سے انہوں نے دوبارہ سفر شروع کیااوردمشق میں کچھ عرصہ قیام پذیر رہے ۔جہا٘ں ان کی ملاقات بہت سے اولیاء کاملین سے ہوئی ۔ابن العربی جیسے اولیاء اللہ سے روحانی کمالات اورفیوض وبرکات سے استفادہ کیا۔چھ یا سات سال کی کم عمری میں رومی اپنے والدگرامی کے ہمراہ ان تمام حالات وواقعات کامشاہدہ کیا۔ان کی روحانی اسرارورموز دریافت کرنے کی عادت اورحسن تجسس نے ان کو اس قابل بنادیاکہ وہ تمام تجربات اور احوال کا غیر معمولی لیاقت سے احاطہ کرسکیں ۔اس کم عمری میں رومی نے اپنے پاکیزہ ماحول کو مکمل طورپر دل نشین کرلیاتھا۔اوران پر ابن عربی کے رموز واسرارروحانی حقیقت مکمل طورپر منکشف ہوگئی تھی ۔رومی نے ابن عربی سے کامل یکسوئی سے روحانی فیض حاصل کیا۔

گردش لیل ونہارنے ان کی ہجرت کے سفر کو کبھی چین نہیں لینے دیا۔اس سخت سفر ہجرت نے انہوں گوناں گوں فیوض وبرکات، فیضان روحانی اوروجدانی تحریک سے مستفید کیا۔حضرت ابراہیم ،حضرت موسی اور بالخصوص پیغمبر اسلام  کی پیروی میں رومی نے تواتر کے ساتھ ان فیوض وبرکات اورروحانی انعامات کو تلاش کرنے میں کامیاب وکامران رہے ۔تقدیر الہی نے ان کو جوکچھ عطا کیا، رومی نے قبول کیا۔اور رب العزت نے انہیں کثیر احسانات اورانعاما ت سے سرفراز فرمایاتھا۔

یہ متبرک اورممتاز خاندان سفر کے دوران شہرErizncan اورپھر کرامان Karamanقیام پذیر ہوا۔اس مختصر قیام کے دوران رومی نے کرامان میں مختلف عرصہ کے لیے میں Halavey Schoolمیں تعلیم حاصل کی ۔مزید اس مدرسہ کے علاوہ انہوں نےدینی علوم اورروحانی سائینسیزSpiritual Sciences کی تعلیم دمشق اور Aleppuکےمدارس سے حاصل کی ۔گریجویشن کرنے کے بعد قونیہ تشریف لائے ۔جس کو انہوں نے مستقل مسکن بنالیا۔اوربہت ہی عزت ومرتبہ سے قونیہ کی سرزمین کو سرفراز فرمایا۔یہاں پر انہوں نے حضرت شمس الدین سرقندی کی بیٹیGekher Khafunسے نکاح فرمایا۔کچھ عرصے بعد رومی کے والدگرامی سلطان العلماء اللہ کوپیارے ہوگئے ۔بہاء الدین ترمزی کی نگرانی میں رومی نے اپنا طویل روحانی سفر شروع کیا۔چند برسوں کے بعد رکن الدین زرکوبی کی تجویز پر رومی نے حضرت شمس الدین تبریزی سے قونیہ میں ملاقات کی، جو اس وقت قونیہ کے سفر پرتھے ۔شمس الدین تبریزی کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ۔اعلی وارفع روحانی منازل طے کیں ۔اورایک مرد حق اورمردکامل کے اوصاف طیبہ اپنی ذات اقدس میں جمع کیے ۔یہ شمس تبریزی کا فیضان نظر ہے کہ رومی نے روحانی رموز واسرار کی بناپر تمام دنیامیں شہرت دوام حاصل کیا۔

اب تک جو کچھ بیان کیاگیاہے درحقیقت ایک غیر معمولی روحانی ہستی سے متعلق چھوٹے دریچے کھولنے کی ایک کوشش عمل کرنے والے حقیقی عاشق اورسچے نمائندہ کی حیات مبارکہ بیان کرنے کی سعی ہے۔یہ کوشش ان کی زندگی کےچند مبارک روحانی گوشوں کی تصویر پیش کرتی ہے ۔جس نے اپنی تمام زندگی اخروی زندگی کے لیے وقف کردی تھی۔

یہ میر اقطعا ارادہ نہیں کہ ایسی عظیم اورپاکیزہ ہستیوں سے متعلق بحث کی جائے جو بالآخر خدانخواستہ اضطراب ورابہام کا باعث ہو۔ تاہم ایک انسان ضرورحیران ہوگاکہ آیاکہ رومی نے شمس تبریزی کے لیے شہرت دوام کاافق تلاش کیایاشمس تبریزی رومی کوایک ایسے غیر مرئی دیدہ جہاں میں لےگئے ۔کون کس کوحقائق کی اصل حقیقت میں لے گیااورعشق اورراحت کی بلندیوں پر ے گیا۔کس نے کس کو حقیقت کی تلاش میں محبوب حقیقی کی طرف راہنمائی کی ۔ان سوالات کے جوابات دیناانسان کے علم وشعور سے بالاہیں ۔

کم ازکم کوئی صاحب ذوق صرف یہ کہ سکتاہے “اس متبرک وقت کے دوران دوروشن دماغ اور بیدار روحیں دو سمندروں کی مانند اکٹھی ہوئیں اورایک دوسرے میں ضم ہوگئی ۔فیوضات ربانی سے انعام یافتہ ااپنے اپنے عطیات اکرام ربانی جو انہوں نے اپنے رب سے حاصل کیے تھے ۔ایک دوسرے کو خوب خوب نوازا۔دونوں بزرگ ایسے بلند ترین روحانی مقامات پر فائز تھے ۔جن مقامات پرعام انسان ازخودآسانی سے نہیں پہنچ سکتا۔روحانی اشتراک سے دو روحانی راحتوں، محبتوں اورانسانیت کی بلندیوں اوررفعتوں پر خداکی رضا کے حصول کے لیے مصروف عمل رہے ۔یہاں تک کہ انہوں نے اپنے زمانہ کو اپنے فیوض وبرکات سے منورکیا۔اورانہوں نے آنے والے تمام ادوار کو مستفید اورمتحرک کیا۔جس کاروحانی فیض آج بھی جاری ہے ۔آب شیریں کاچشمہ رحمت جو انہوں نے دریافت کیاآج بھی وہ چشمہ رحمت پیاسی روحوں کو سیراب کررہاہے ۔ صدیوں کاعرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی دونوں روحانی ہستیاں دلوں کے دریچوں میں آباد ہیں اور لاتعداد افراد کو انہوں نے اپنے فیوض وبرکات سے منور کیا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ رومی نے اپنے والد بزرگ جوکہ سلطان العلماء تھے کے علاوہ مزید مختلف وسیلوں سے روحانی علوم حاصل کیے تھے ۔اپنے سفر روحانی کے دوران ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے بہت سے ہم عصروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ان کی محبت،صلہ رحمی اور خداترسی دنیاکے سات سمندروں کی طرح رواں تھی ۔یہاں تک کہ جب وہ طبعی طور پر انسانوں کے درمیان موجود تھے ،رومی نے رب العزت کے قرب خاص میں غرق ہونے کا ہنر سیکھ لیاتھا۔ایسا معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے اپنی پر تاثیر تحریروں کے علاوہ دوسروں پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش نہ کی۔وہ ہدایت کاایک منور ستارہ تھے ۔جوپیغمبر اسلام  کی روحانی زندگی کاکامل عکس تھے ۔ اس طرح وہ ان چند متبرک ہستیوں میں شامل ہیں جنہوں نے زمان ومکان کو شاندار روحانی فیض اسے فیضیاب کیا۔

رومی روایتی صوفیوں کی طرح نہ طالب تھے ،نہ درویش ،نہ خلیفہ تھے اورنہ آقا تھے ۔انہوں نے ایک نیا سلسلہ طریقت تشکیل دیا۔اس سلسلہ طریقت میں احیائے اسلام کا عظیم جذبہ کار فرماتھا۔انہوں نے قرآن وسنت سے اسلامی تزکیہ نفس، روحانی اورعقلی استدلال اخذ کیے گئے تھے ،ان کاسلسلہ اسی رنگ کارنگا ہواتھا۔وہ ایک نئی صدائے حق اور پاس انفاس کی مددسے اپنی ہم عصر نسل اور آنے والے ادوار کے لوگوں کو بڑی کامیابی سے ایک جدیدروحانی دسترخوان پر اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔جہاں تک ان کے اللہ سے تعلق کا معاملہ ہے وہ مرد حق اورمرد عشق تھے۔جوان کے حضور خداکی جستجو کے لیے حاضر ہوئے ۔انہوں نے رومی کو خداترس،مہربان اور خداکی وحدتاورمحبت کاجام تھامے ہوئے پایا۔ہاں جیسے آسمان کے باولوں سے رحمت کی بارش برستی ہے،اگر ان کے تمام گلدستہ شاعری کو نچوڑا جائے تو اس سے عشق الہی اور عشق مصطفے  کے چشمے پھوٹتے ہوئے ملتے ہیں ۔مثنوی شریف ان کی ولولہ انگیز محبت کے جام سے لبریز آخری تصنیف ہے ۔یہ ایک ایسی مقدس کتاب ہے جوہدایت آموز ہے۔اس عظیم کتاب کوان کے مقبول نظر خلیفہ حسام الدین جلی نے ترتیب دیا۔یہ عظیم الشان کتاب ان کے متاثر کن اوریادگار روحانی موضوعات پر مبنی ہے ۔ان کی صحبت اورحقیقی محبت طوفانی موجوں سے لبریز اعلی وارفع شدید محبت کے بہاؤ کو چھوڑی لہروں میں مقیدکرکے پیش کرتی ہے ۔تاکہ روح محبت کو انسانوں کا بڑاطبقہ سمجھ سکے۔جواعلی اورلطیف روحانی لیاقت نہیں رکھتے ۔

ان کا دوسرا مجموعہ ،دیوان کبیر بھی اسی طرح کی اعلی وارفع شدید محبت کی بھرپور نمائندگی کرتاہے ۔اوران کی روحانی استعداد اوراعلی درجہ کی وجدانی وسعت کاپتہ دیتاہے ۔

مثنوی معنوں میں احساسات اورخیالات ایسے لطیف پرائے اورانداز میں اکٹھے کیے ہیں کہ وہ ہماری سمجھ وشعور میں ابہام اور پریشانی پیدانہیں کرتے ۔اورایسے اسلوب میں بیان کیے ہیں کہ ماورائے عقل نہیں ہیں۔جہاں تک دیوان کبیر کا تعلق ہے ،اس کا ہر شعر سے آتش فشاں ہے۔بہت سے قاری ان کے معنے سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ایک محتاط تحقیق یہ ثابت کرے گی کہ یہ عظیم الشان کتاب رومی کے روحانی اور وجدانی خیالات وتصورات فنافی اللہ اور بقایااللہ مع اللہ اورروحانی دنیا کے اسرار سمجھانے کے لیے معاون کتاب ہے ۔جو رومی کے اس دیوان میں ان کے ولولہ انگیر عشق الہی کامکمل ادراک کرسکتے ہیں۔وہ ان کے طوفان محبت اور عالم استغراق کے سامنے اپنے آپ کو شدید اورحیران کن سراسیمگی میں پائیں گے۔ جس کا آتش فشاں کے عمل سے موازنہ کیاجاسکتاہے ۔مولانا روم کے عظیم کلام کابہت سے لوگ مکمل ادراک نہیں کرسکتے ۔ ان کے کلام کے لطیف معنی ان کی عقل سے ماوراء ہیں مگران کے کلام سے روحانی اثرات کاپرتو اورروحانی رنگ جب قاری پر چڑھتا ہے، توقاری اسے طبعی زندگی سے متصادم پاتاہے ۔

جلال الدین رومی مختلف روحانی ثمرات سے فیضیاب ہوکر پروان چڑھے ۔ان ذرائع میں مذہبی مدارس، صوفیانہ خلوت گاہیں اور خانقاہیں شامل ہیں جہاں صوفیائے کرام سخت ریاضتوں اور مجاہدوں سے تربیت حاصل کرتے تھے۔

رومی نے حق تعالی کی معرفت حاصل کرلی تھی ۔انہوں نے اپنے طریقت کے اصولوں سےاپنی روح کی آبیاری کی ۔حتی کہ وہ آسمان ولایت پر قطبی ستارہ کی طرح چمکے ۔وہ چمکتے دمکتے مکمل چاند تھے جوکہ اپنے مدار میں حرکت کرتاہے،وہ ایسے عظیم بطل روحانی تھے، جوایسے بلند ترین مقام روحانیت کافائز ہوئے ، جہاں وہ فائز ہونا چاہتے تھے ۔اوراس مقام پر قیام پذیر ہوئے ،جہاں قیام پذیر ہونا چاہتے تھے ۔

انہوں نے جن عجائیات کانظارہ کیا۔ان عجائیات کاانتہائی عرق ریزی سے مطالعہ کیا۔اورجو کچھ محسوس کیا،اس کی بے نظیر قدر پیمائی کی۔ انہوں نے کبھی بھی اورناموافق اورناگوار رویہ اپنے روحانی سفر میں ظاہر نہیں کیا۔اورنہ کبھی کسی ناگوار سلوک میں شامل ہوئے ۔ان پر روحانی انعامات وفیوضات کی بہت کثیر تعداد ہے۔رومی نے کبھی بھی روحانی فیوض وبرکات حاصل کرکے انہیں ذرہ برابر بھی ضائع نہ کیا۔

اپنے بہت سے ہم عصروں کی طر ح انہوں نے اپنےروحانی کمالات کوصوفی شاعری میں بہت زیادہ موثر انداز میں نظم لیاہے ۔وہ اکثراپنی محبت اورعشق کوایسے مسحورکن الفاظ میں ڈھالتے ہیں،جوقیمتی موتیوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔شاعری کے ابہام انگیز سحر میں انہوں نے غیر واضح بیانات کی تشریح واضح طور پر کرنے میں ایساکرشمہ دکھایاکہ واقفان حال پر ان کے مطالب آشکار ہوجاتے ہیں۔ اورنا واقفان حال کے لیے ابہام انگیز رہتے ہیں۔

یہ بیانات جوکہ بیک وقت واضح بھی ہیں اورغیر واضح بھی۔وہ انکے اپنے اعلی وجدان کی آواز بھی ہے اور پاس انفاس کی تاثیر بھی ہے۔ وہ دوسروں کے علوم وفنون سے واقف نہ تھے۔اگرچہ کوئی شخص ان کے کلام میں بدیسی الفاظ یاخیالات تلاش کرکے رومی کو غیروں فیض یافتہ ثابت کرنے کی کوشش کرسکتاہے۔رومی کے کلام میں ان کی اپنی روحانی حدت اورقلبی تابش ہے۔اوران کے اپنے ہی دل کی مسحورکن موسیقی عشق سے لبریز ہے ۔ان کی پاکیزہ موسیقی جوسب کواپنے روحانی اثر سے سرشار اور فریفتہ کرکے سماعت کے لیے پیش کرتی ہے۔

رومی بہت ہی لطیف مزاج رکھتے تھے ،وہ اکثر ماں کی ممتاسے بہت زیادہ مہربان نظر آتے ہیں۔وہ غیر معمولی شخصیت تھے ۔ بالخصوص اپنے زمانے میں محبوب خدا کی روحانی تعلیمات کو منظم طریقہ سے وسیع پیمانے پر پھیلانے میں مصروف عظیم روحانی رہبر تھے ۔ یہ حقیقت ان کے کلام مثنوی شریف،دیوان کبیر اورجمع خطوط سے عیاں ہوتی ہے۔اوریہ خطوط رومی کے اپنے رفقاء سے خصوصی محبت او رکریمانہ سلوک کو ظاہر کرتےہیں ۔جن خوش بخت اشخاص نے اس حقیقت کامشاہدہ کیاوہ بہت ہی شدت سے پیغمبر اسلام  کے حقیقی وارث دیدار کرنے کا اشتیاق رکھتے ہیں۔اوروہ بہت ہی عاجزی اورانکسار،عزت وتکریم سے کہیں گے “ان پر ایسی خدا کی مہربانی اورعنایت خاص ہے ۔وہ اس فضل سے جسے چاہتاہے، نوازتا ہے”۔ (۵، ۵۴القرآن)

رومی خص پیکر وفا اورپیکر اخلاص تھے ۔منبع سخاوت تھے۔جب تک اورجو کچھ انہوں نے اپنے قلب اطہر میں اسلامی تعلیمات کے مطابق جاں گزیں پایا اورمحسوس کیا،اس کے مطابق اپنی زندگی اس انداز میں گزاری کہ ان کی زندگی کاکوئی بھی پہلو دین اسلام کی تعلیمات کے منافی نہ تھاگزاری ۔عشق ویقین کی دل نشین کشش سےاپنی زندگی کومحبت کی سرگرمیوں کامرکز بناتے ہوئے ،دوسروں کو نور ہدایت سے زندگی گزارنے کے مقدس انداز دکھاتے ہوئے”نے”(Net)بانسری میں پرجوش روحانی ولولہ سے بھونکتے ہوئے تتلی کی طرح رقص کرتے ہوئے ، ان کا دل عشق الہی کی آزرومیں ہر وقت جلتاتھا۔اس میں ہمیشہ درد اور آہیں اس طرح بلندہوتی تھیں جس طرح بانسری کی ایک سر سے درد عیاں ہوتاہے ۔جواشخاص یہ درد نہیں رکھتے تھے ،وہ رومی کو نہ سمجھ سکتے تھے ،وہ مغرور اور متکبر تھے اورمکر وفریب میں مبتلاتھے ۔وہ کچھ بھی محسو س نہ کرسکے جو کہ رومی نے محسوس کیاتھا۔رومی کہتے ہیں ۔”میں ایسا دل چاہتاہوں جو درد فراق میں پارہ پارہ ہوکر پھٹ چکاہو۔تاکہ میں اس کو اپنی ہجرکی تکلیف سےآگاہ کرسکوں۔” یہ ارشاد فرماتے ہوئے وہ ایسے رفقاء کو تلاش کرتے ہیں جوایسی ہی اولعزم آرزوئیں اوردرد محبت سے لبریز شکایتیں رکھتے ہیں۔

رومی نے اپنی تمام زندگی میں بے شمار دکھ درد،تکالیف اورمصائب برداشت کیے ۔لیکن انہوں نے کبھی بھی سخت اور ناگواررویہ اختیار نہ کیا۔اور جواب میں کسی کے دل کو کوٹھیس نہ پہنچائی ۔جب رومی خداکے فضل وکرم کی مداح سرائی کرتے ہیں ،وہ شیر کی طرح بے خوف وخطر دھاڑتے ہیں۔اپنے اعلی اخلاق کی وجہ سے وہ اپنے سلوک اور رویے میں بہت ہی حلیم الطبع اورمنکر المزاج تھے ۔وہ ہر وقت دوسروں کو اپنے دامن عافیت سے لگانے کے لیے جذبہ محبت سے سرشار رہتے تھے ۔بری خصلتوں ،مثلا خود غرضی ،ریاکاری ،غروروتکبر ،مکر وفریب اور جارحانہ جذبات کادورکابھی واسطہ نہ تھا۔اوران برائیوں کاان کے نزدیک سے کبھی بھی گزرنہ ہواتھا۔وہ ہمیشہ دوسروں کو بہت ہی عزت وتکریم دیتے تھے۔ بالخصوص ان احباب کو جن کی ان سے نسبت تھی ، ان کو بہت ہی زیادہ شان اور عظمت سے نوازتے تھے۔انہوں نے اپنے رفیق خاص ، مردحق حضرت شمس الدین تبریزی جن سے انہوں نے اپنی روح کی قندیل اورشمع منور کی تھی ،انہیں اپنا آقا ومولی اور پیر ومرشد تسلیم کرتے ہیں،وہ اپنے مریدین اور شاگردوں کواپناروحانی نمائندہ قرار دیتے تھے ۔صلاح الدین زرکوبی کو روحانی رہبر ،پیرومرشد اوربزرگ کے خطابات سے نوازتےتھے۔حسام الدین حلبی کو ہمیشہ کمال درجہ تکریم ورفعت دیتے تھے ۔ان کا اپنے اہل خاندان کے ساتھ برتا ؤ سرکار عالم،نو رمجسم حضر ت محمد مصطفے  کریمانہ سلوک کاپر تو اور آئینہ دارتھا۔ان کاحلقہ طریقت ہر شخص کے لیے عام تھا،جیسے پیغمبر اسلام  کاحلقہ اسلام نہایت ہی وسیع تھا۔جوان سے بہت ہی دور رہتے تھے ،رومی ان کے بہت ہی قریب رہتے تھے ۔حتی کہ ان کے بڑے بڑے دشمن لاشعوری طورپر ان کی رحمت بھری آغوش میں آنے پر مجبور ہوگئے ۔جب ایک مرتبہ ان کے حلقہ طریقت میں داخل ہوئے پھر کسی نے بھی ان کو نہ چھوڑا۔

مولانا روم ایک طرف سے روحانی اقلیم سے کامل تعلق رکھتے تھے اوردوسری طرف ان کی قرابت داری اپنے عزیز واقارب سے تھی لیکن انہوں نے ایک لمحہ کے لیے بھی دوسرے کی محبت کواپنے دل میں جگہ نہ دی۔اانہوں نے اپنے لیے خصوصی عزت ،اعلی مقام کی خواہش پروان نہ چڑھائی ۔یہ ان کی عاجزی ،اخلاص اورخوف خدا کی وجہ سےتھا۔وہ لوگوں میں ایک عام فرد کی حیثیت سے زندہ رہے ۔وہ لوگوں کی گفتگو مکمل توجہ سے سنتے تھے،ان کے ساتھ کھاتے اورپیتے تھے۔رومی نے کبھی بھی ایسے لوگوں کے سامنے اپنے اورخداکے درمیان اپنی کامل دوستی کے روحانی اسرارکسی پربھی ظاہرنہ کیے،خوروحانیت یکے رموز واسرارسے واقف نہ تھے۔ایک کامل پیر ومرشد کی حیثیت میں انہوں نے ایسی منکسر زندگی بسرکی جس پروہ مکمل یقین کے ساتھ عمل بھی کرتے تھے ۔وہ ہمیشہ اپنے دوستوں اوررفقاء کے دلوں میں گھرکرنے کی سعی کرتے تھے۔وہ اپنی محافل میں فرمائش کرتے کہ محبوب حقیقی سے متعلق کلام سنائیں ۔وہ مستقل طورپراپنی کامل توجہ سے اپنے رب کی یادمیں محور ہتے تھے۔

وہ ہمیشہ ارشاد فرماتے تھے کہ عشق الہی ،جذبہ شوق ، استغراق اورنیک تمناؤں سے دوسروں کو فیض یاب کرنے کی کوشش کرو۔یہ پاکیزہ جذبات واحساسات ان کی فطرت اورروح مبارک سے چشمہ ہدایت کی طرح ابلتے تھے ۔ وہ ہمیشہ اپنی خصوصی توجہات روحانی کے بابرکت فیوض وبرکات سے اپنے اردگر دلوگوں کونوازتے تھے ۔جوان کے رنگ ومزاج عشق اوراستغراق اورسچی انسانیت کوپاگیا،ان پروہ روحانی رموزواسرار ظاہر فرمادیتے تھے۔انہوں نے کبھی بھی دنیا کی امارت ،دولت اورعزت پر نظریں نہ جمائیں ۔وہ ہمیشہ اپنی ضرورت سے زائد دولت اشیائے خورونوش اوردیگر ضروری استعمال کی چیزیں ضرورت مندوں میں تقسیم کردیتے تھے ۔جب ان کے گھر میں کھانے کے لیے کوئی چیز نہ ہوتی توفرماتے ،خداکاشکرہے کہ آج ہماراگھر ہمیں سرکار دوعالم  کے گھر مبارک کی یاددلارہاہے ۔اپنے صبر وشکر پر کامل عمل کی وجہ سے انہوں نے روحانی پرواز اورروحانی اقلیم اور عالم غیب میں ممتاز مقام حاصل کیاتھا۔رومی کبھی بھی زکوۃ و عطیات و صدقات قبول نہ فرماتے تھے ۔اس طرح وہ ممنونیت کے احساس سے پرہیز فرماتے تھے ۔وہ فاقہ کشی برداشت کرتے تھے ۔انتہائی پاکیزہ زندگی عاجزی سے گزاری ۔وہ خداکی رضاکے حصول کے لیے اپنی رہبری کے فرائض کوتحائف ووظائف لے کر داغدار نہ کرنا چاہتے تھے ۔

مزیدان کے زہدوتقوی سے معمورپاکیزہ زندگی میں ان کا خوف خدا،شرم وحیاء،پرہیزگاری اورگناہوں سے مکمل محفوظ رہنابہت نمایاں تھے۔ان اوصاف جمیلہ کی بدولت وہ خداکے فضل وکرم سے آسمان ولایت پرروشن ستارے کی چمکے تھے

اپنی ذات پر کامل یقین کے ساتھ پاکیزہ زندگی بسر کرنا، ان کے رب کریم کا ان پر بہت سی عظیم انعام تھا۔رومی کاخدا کی معرفت کاعلم،ان کی رب ودود سے محبت اور مستقل اورابدی خدا لے قرب کے لیے آرزوئے انہیں زندگی میں انہیں آسمان سے ولایت پر قطبی ستارے کی طرح چمکایا ۔ان کے عشق الہی نے عام محبت کے مروج حدود وقیود اوراصول وقوانین کو عبور کرلیاتھا۔ان کی پاکیزہ اورحقیقی محبت صرف اور صرف خداوندکریم کے لیے تھی ۔انہیں یقین کامل تھاکہ رب ودود ان سے مکمل محبت فرماتے ہیں۔یہ احساس تحفظ کسی نقصان یاضرر کا نتیجہ نہ تھا۔نہ کسی خوف کے فقدان کی وجہ سے تھا۔نہ خداتعالی کے عزت وتکریم اورعبادت وریاضت میں کمی کی وجہ سے تھا۔یہ یقین کامل ،روزجزاوسزا اور حساب وکتاب سے مزین تھا۔رومی نے خدا کے احسانات کے اظہار کے لیے امیداور خوف میں مکمل توازن قائم کیاہوا تھا۔ہم اس متوازن سوچ اور صحیح فکر کو احکم الحاکمین اور رب العالمین کے انعامات اوراکرامات اورتسلیمات کااقرار کنندہ کہہ سکتے ہیں۔ ان کے اندر کی دنیا سےعشق الہی کے سمندر کی لہریں ابھرتی تھیں ۔اوراپنے روحانی فیوض وبرکات سے دور ونزدیک کے رفقاء کو فیض یاب کرتی تھیں۔اس پر خلوص اورباوفا سوچ،اپنے رب کی عنایت اوراپنی نیاز مندی اورفرض کی بجاآوری کے احساس کی بدولت انہیں رقت حقیقی اور استغراق کامل اورتوجہات رب ودود اورقرب خداوندی حاصل تھا۔انہیں قرب خداوندی میں خصوصی مقام حاصل تھا۔رب کی محبت اورعشق الہی کی منازل طے کرتے ہوئے وہ ایک مقام سے اعلی مقام میں داخل ہوتے ۔اورپہلی لذت جام (شراب )چھوڑکر نیاجام محبت نوش فرماتے ۔اورستغراق کی حالت میں مستقل قیام فرماتے تھے ۔وہ صرف رب کا دیدار کرنا چاہتے تھے ۔رب کا مشاہدہ چاہتے تھے ۔وہ رب کی کامل معرفت کے طلب گار تھے۔رب ودود کے جمال کا کامل مشاہدہ اوراحساس طلب فرماتے تھے ۔اورصرف اورایک اپنے رب سے ہم کلام ہونے کے تمنائی تھے۔اوراپناتمام تن ،من اوردھن رب کے لیے وقف کرنا ان کی سعادت تھی۔وہ رب کی کامل محبت میں اتنے شدید اورمخلص تھے کہ اگرایک لمحہ کے لیے بھی ان کی نظریں مشاہدے سے ہٹتیں ،توہجرمیں زاروقطارروتے روتے حالت استغراق میں پہنچ جاتے ۔ وہ مکمل طور پراپنے رب کے قرب میں زندہ رہنے کے تمنائی تھے ۔وہ شدید استغراق میں بھی آہ وزاری کرتے اور کوشش کرتےتھے کہ وہ محبوب بھی ہوں اورمحب بھی۔اوراپنی زندگی کے تمام لمحات اس استغراق کامل اور رقت حقیقی میں بسر کی۔

بہت سے عشاق الہی ایسے ہیں جنہیں قرب خداوندی کی ایسی ہی راحت اور سعادت نصیب ہے۔ جوکہ رومی سے پہلے مابعد میں تشریف فرماہوئے ہیں ۔تاہم رومی کی برتری یہ ہے کہ انہوں نے بہت ہی جرات اوردلیری سے اپنے دیوان کبیر میں اپنے خیالات،تصورات ،مشاہدات اورحال وقال کاذکر منظوم فرمایاہے ۔درحقیقت حضرت محمد  کےزمانہ مقدس سے لے کر آنے والے زمانوں میں بہت ہی عظیم الشان ،مقدس اوروحانی ہستیاں تشریف لائیں ۔اورتمام لوگ اتفاق رائے سے ان ہستیوں کو رومی پر فوقیت دیتے ہیں۔ تاہم رومی کی فوقیت میں ایک بہت عظیم الشان خوبی میں پوشیدہ ہے ۔ اس سلسلہ میں ہم رومی کو روحانی سلطنت کاقائد اوررہبر تسلیم کرتے ہیں۔جو کہ انتہائی جمیل اورلطیف ہے ۔رومی بہت ہی ممتاز روحانی رہبر ہیں ،جوکہ عام فردکورب جمیل کی محبت میں فریضہ کرکے محبوب حقیقی تک پہنچاتے ہیں۔

یہ انسانوں کے لیے بہت عظیم مقام ہے کہ وہ اپنے خالق حقیقی اورمحبوب حقیقی سے دل او رروح کی گہرائیوں سے خلوص کے ساتھ محبت شدید کریں ۔اور ہمیشہ اپنے رب کاذکر شدید محبت سے کریں ۔اگر اس مقام سے کوئی اوربلند مقام ہے تووہ اس حقیقت سے آشنائی اور آگاہی ہے کہ رقت ،استغراق ،آرزواور روحانی کیفیت میں انسانوں سے محبت کا خصوصی فضل وکرم اورعنایت ہے۔استغراق ،سرمدی تمنا،عشق الہی کی ممنونیت کایقین انسان پر رب کائنات کے خصوصی فضل وکرم اوررحمت اوربرکت کی وجہ سےہے۔رومی ہمیشہ اللہ کے ذکر میں مصروف رہے ۔رب کے صفاتی اسموں کاوردکرتے رہے ۔ جب وہ سانس باہر نکالتے توبھی اللہ کاذکرکرتے تھے۔وہ اپنے رب کے اس خصوصی فضل وکرم سے آگاہ تھے جوان کے مزاج اورسرشت،فطرت اور عادت میں رچ بس چکاتھا۔جن کے وجدان اورذہنی افق یہ مقام حاصل کرنے میں ناکام ہوچکے ہوں ، وہ اس حقیقت سے باخبر نہیں ہوسکتے ۔مندرجہ ذیل گمنام شاعر کی نظم کے مطابق اس میں خدشہ نہیں کہ الفاظ معانی کاخول پیش کرتے ہیں۔اورخول کے باطن میں عظیم معانی چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ انسانوں کی ذہنی لیاقتیں اورسعتیں انعامات ربانی حاصل کرنے کے لیے ضروری جزو کے طورپر کام کرتی ہیں۔

اس فضل وکرم کے تمام کاموں کی اساس مخلوق کی اہلیت پرہے

(اپریل کی بارش)بہار کی بارش سے سانپ زہر بناتاہے ، جب کہ سیپ ایک قیمتی اورانمول موتی بناتاہے۔

کچھ لوگ عشق الہی کی حقیقت پر اسلامی نقطہ نظر سے صحیح تدبر اور فکر نہیں کرتے ہیں ۔خدا کے بے شمار عشاق کی طرح ،رومی رب العزب کی تقدیس اورپاکی کے عین مطابق بہت ہی جرات اورپامردگی سے اس پاکیزہ عقیدہ عشق الہی کاوفاع کرتے ہیں۔جوکہ انسانی تصور ،محبت ،عشق اور رشتہ سے انتہائی ماورا ہے ۔انہوں نے عشق الہی کی معرفت کے اسرار کا بہت ہی نادرورثہ چھوڑ ا ہے۔جن کی تشریحات آنے والے زمانوں کے سکالرز کررہے ہیں۔

کچھ صوفیائے کرام او رعلمائے اسلام ابہام کی وجہ سے آلات موسیقی کے استعمال سے متعلق سوال کرتے ہیں۔مثلا بانسری کااستعمال اور سماع کی محافل جوکہ خانقاہوں میں منعقد ہوتی ہیں ۔یہ گروہ اکثر مولوی رقص Whirling Danceپر اعتراضات کرتے ہیں۔تاہم مولائے روم کو رقص اوروجد کی اپنی تشریح کی صداقت پر کوئی شک وشبہ نہیں ہے ۔اگر انہیں ذرہ برابر بھی شک ہوتاتووہ تمام آلات موسیقی توڑ دیتے ۔اوریقینا تمام ایسے حرکات وسکنات سے ہمیشہ کے لیے پرہیز کرتے ۔حقیقت میں میراخیال ہے کہ رومی کے قلب اطہر سے جنم لینے والے احساسات مذہب اسلام کی حقیقی روح سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ اسلام کے ایک بلند پایہ بزرگ اورمعصوم راہنما ہیں۔ان کی حضرت محمد رسول اللہ  کے ضابطہ اخلاق سے متعلق تشریحات اورتعبیرات دوسروں کو ہرگز یہ اجازت نہیں دیتے کہ مولائے روم کے صوفیانہ اطرز عمل کی مخالفت کریں ۔یہ دو تصورات رومی کے سلسلہ طریقت کوتسلیم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

رومی خاص پیکر وفااورپیکر اخلاص تھے۔منبع سخاوت تھے ۔جب تک اورجو کچھ انہوں نے اپنے قلب اطہر میں اسلامی تعلیمات کے مطابق جاں گزیں پایا اورمحسوس کیا۔اپنی زندگی اس انداز میں گزاری کہ ان کی زندگی کاکوئی بھی پہلودین اسلام کی تعلیمات کے منافی نہ تھا۔عشق و یقین کی دل نشین کشش سے اپنی زندگی کو محبت کی سرگرمیوں کامرکز بناتے ہوئے دوسروں کو نورہدایت سے زندگی گزارنے کے مقدس انداز سکھاتے ہوئے نے (بانسری )پر جوش روحانی ولولہ سے پھونکتے ہوئے ،تتلی کی طرح ناچتے ہوئے ،ان کا دل عشق الہی اورقرب الہی کی آرزومیں ہر وقت جلتاتھا۔اس میں ہمیشہ درداور آہیں اس طرح بلند ہوتی تھیں جس طرح بانسری کی ایک سرسے دردعیاں ہوتاہے ۔جواشخاص یہ درد نہیں رکھتے تھے ،اور نہ سمجھ سکتے تھے ،وہ مغروراورمتکبر تھے اورمکر وفریب میں مبتلاتھے ۔وہ کچھ بھی محسوس نہ کرسکے جوکہ رومی نے محسوس کیاتھا۔رومی کہتے ہیں “میں ایسا دل چاہتاہوں جو دردفراق سے پارہ پارہ ہو۔تاکہ میں اس کو اپنی ہجر کی تکلیف سے آگاہ کرسکوں۔” یہ ارشاد فرماتے ہوئے وہ ایسے رفقاء کو تلاش کرتے ہیں جوایسی ہی اولوالغرم آرزوئیں اوردردمحبت سے لبریز شکایتیں رکھتے ہیں۔

درحقیقت یہ میرا ہرگز بنیادی مقصد نہ تھاکہ اس عظیم الشان قابل قدر موضوع پر قلم اٹھاؤں ۔بہت ہی اہل اور قابل علماء ہیں جوکہ اس عظیم موضوع پر قلم اٹھائے بیان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیاررہیں ۔تاہم یہ درخواست مجھے ایک میرے پرانے اور انتہائی محبوب دوست کی طرف سے موصول ہوئی ۔لہذا میں اس درخواست کو ردنہ کرسکا۔میں نے ایسے موضوع پر لکھنا شروع لیا۔جوکہ درحقیقت میرے دانست میں اوروسعت علم سے ماوراء تھا۔سینکڑوں ،حتی کہ ہزاروں علماء وصوفیاکرام نے رومی سے متعلق تحریرفرماتاہے ۔یہ ان کا فرض منصبی ہے کہ وہ اس عظیم موضوع پر لکھیں ۔اگروہ کوئی اہم نکتہ بیان کرنے کے متمنی ہیں تو یہ ان کا فرض ہے کہ اس اہم ترین نکتہ معرفت پر قلم اٹھائیں ۔ا سکے باوجود مجھ جیسے عام لوگوں کوبھی کوئی امرمانع نہیں ہے کہ رومی کی عظیم اورباوقار شخصیت پر چند سطریں تحریر کروں۔میراذاتی خیال ہے کہ میں نے یہی حقیقت سمجھ کر چند سطوردرج کی ہیں۔یہ بہت ہی بہتر ہوتا کہ میں ا س موضوع پر تحریر نہ کرتا اورقارئین کوہدایت کرتاکہ وہ شفیق چن Sefik Can کی تصنیف خاص “FUNDAMENTALS OF RUMI’S THOUGHT” جوکہ رومی کی زندگی ،شخصیت اورخیالات سے متعلق ہے ،کامطالعہ کریں ۔اوراس کتاب سے براہ راست مستفید ہوسکیں ۔اگرچہ میرے خیالات کا اظہار اطویل ہوگیاہے ۔اس لیے میں پسند نہیں کرتاہوں کہ میں اپنے محدود علم سے اس عمل میں زیادہ دیر تک مخل نہ رہوں۔لہذااب میں اپنے احساسات کے اظہارکااختتام چاہتاہوں۔

تحریر: محمد فتح اللہ گلن
ترجمہ: محمد شبیررعنا

:: ADVERTISEMENTS ::
Share: