تیری پوجا بِن کیا کاج – زین شکیل

تیری پوجا بِن کیا کاج پجارَن کو
دکھ آ جاویں کاٹن، کھاوَن، مارَن کو
سانول شاید سات سمندر پار گئے
گوری یہ جو بھول گئی سنگھارَن کو
ساجن کی فرقت میں ایک اکیلی جان
تکتی رہتی ہے گھر کی دیوارَن کو
ڈوبی کملی ایسے پی کی صندل میں
کچھ نہ سمجھے پھولوں کی مہکارَن کو
پی کے ہجر میں سدھ بدھ اپنی کھو بیٹھی
کوئی تو سمجھائے اس بنجارَن کو
اُن بن اجڑا اجڑا لاگے سب سنسار
لگ جاوے اب اُن بن آگ دیارَن کو
شہر نجف میں بسنے والے بادشہا
درش دانو بھیک میں آج بھکارَن کو
من بھاوے نا کچھ بھی توری صورت بن
چولھے اندر جھونکوں اس سنسارَن کو
شہر نجف کے سئیّاں لاج تمہارے ہاتھ
تم بن کون سنبھالے مجھ بیچارَن کو
شہر نجف کے شام سندر، لجپال علیؑ
کب دیکھیں گے نین ترے دربارَن کو
شہر نجف کے سانول، بلوا بھیجو ناں!
دیکھیں اب یہ نین ترے دربارَن کو
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.