تم کیا جانو!رونے – زین شکیل

تم کیا جانو!
رونے والو!
درد کہاں، کب کس لمحے
کس پور میں آ کر
اپنا آپ دکھا دیتا ہے
تم کیا جانو!
تم کو تو بس خستہ حال پہ
رونا دھونا آتا ہے!
تم کیا جانو
لاوارث سی خواہش کوئی
چھپ چھپ کر جب
ایک یتیمی کو روتی ہے
تم کیا جانو
درد سوتیلا بن کر کیسے
برتاؤ کرتا ہے اُس سے
تم کیا جانو
سرد ہوا میں
کن کن بھولے بسرے،
بچھڑے لوگوں کے غم یاد آتے ہیں
تم کیا جانو!
غم کی درد بھری آغوش میں
پل بھر آنکھیں بند کر لینا
اور کبھی پھر کھول نہ پانا
تم کیا جانو یہ سب کیسا ہوتا ہے!
صحرا میں اک تنہا پیڑ کے سائے میں
پل بھر کو بیٹھو
تو معلوم پڑے نا تم کو!
کھوکھلے خالی پیڑ سے
صحراؤں میں جھلستی دھوپ اور
مردہ لُو کا قصیدہ آ کے سنو
تو تم کو بھی معلوم پڑے ناں
تم کو تو بس ہجر زدوں کا ماتم کرنا آتا ہے
تم کیا جانو درد پرستی کیا ہوتی ہے
تم کو تو بس اشک بہانے آتے ہیں!
تم کیا جانو بے حالی اور
بے چینی کیا ہوتی ہے!
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.