تمہارا زینتمہارا – زین شکیل

تمہارا زین
تمہارا زین
دیکھو آ پڑا آخر کسی انجان غم اور درد کے مابین
کتنا بے کس و مجبور، دکھ سے چُور، تم سے دور
اور ہر شام کے کڑوے کسیلے طنز پر آنسو بہاتا، چیختا، روتا، تڑپتا، اک تمہیں آواز دیتا
شدتوں کے دوغلے نرغے میں آیا ہے
تمہارا زین
کتنا کھوکھلا، خالی، پریشاں الجھنوں، دشواریوں کا واحد و یکتا یگانہ یارِ دیرینہ
نہایت مضمحل، بےچین، پژمردہ، قیامت خیز رنج و غم کی کالی شال اوڑھے ایک بیوہ کی نگاہوں سے نکلتی بے کلی کے رنگ جیسا درد
سینے میں لیے
تنہا، اکیلا، لاغر و بیمار پہلے اس طرف
پھر اُس طرف
گلیوں، محلوں، چوک، چوباروں میں، ویرانوں میں آوارہ بھٹکتا پھر رہا ہے
زندگی کیا زندگی ہے؟ خوبصورت شے ہے
جس میں خواہشوں اور حسرتوں کا شور ہے
میلہ ہے خوشیوں کا، بڑی رونق ہے ہر بازار میں
ہر چیز بکتی ہے
مگر کچھ لوگ ایسے مفلسی کا فیض پا کر ہر دکانِ آرزو پر جھانکنے والی نگاہیں لے کے پھرتے ہیں بزاروں میں
اور آخر شام ہوتے ہی گھروں کو لوٹتے ہیں
ہاتھ خالی ڈال کر اپنی تمناؤں کی تنگ و سرد جیبوں میں
تمہارا زین بھی ویسا ہی… یونہی… اُن کے جیسا ہی
تہی دامن، بیچارہ، اَدھ مرا، کھوٹا، دکھوں مارا
تمہیں نا چھین سکتا ہے
نا تم کو جیت سکتا ہے
کرے بھی کیا؟ لڑے کیسے؟ نِہتّا
اور بہت غربت گزیدہ، آبرو ریزی کئی دن سے مسلسل جھیلتا، گرتا سنبھلتا
اب بھی تم کو یاد کرتا ہے
تمہارا زین
اب بھی ایسے عالم میں تمہی کو یاد کرتا ہے
تمہارا زین اکثر ڈاک خانے جایا کرتا ہے
شناسا ڈاکیے سے پوچھتا ہے “میں اگر ڈالوں پرانی طرز کے نیلے لفافے میں
(وہی نیلا لفافہ جس میں سالوں قبل چھٹی آیا کرتی تھی.. کہ جس میں خیریت لکھی ہوئی ہوتی تھی اپنے رشتہ داروں کی)
کوئی بھی خیریت کا خط تو یہ اُس تک پہنچ جانے کا کچھ امکان بھی ہے کیا؟”
تمہارا زین پھر ہر بار اک انکار لے کر لوٹ آتا ہے
تمہارا گھر (بہت اجڑا ہوا، بے چین اور بے کار تم بن)
اب نہیں ہے منتظر میرے خطِ بے ربط کا میری حریمِ جاں
تمہاری اب سدا کے واسطے جو مستقل ہے
اور موجودہ سکونت ہے
مجھے اُس کا پتہ معلوم ہی کب ہے
سو خط کیا خاک جائیں گے
تمہارا زین لیکن عادتاً پھر ڈاکیے سے لڑ جھگڑ کر لوٹ آتا ہے…
تمہارے زین کو لوگوں نے جانے کیا سمجھ رکھا ہے
سارے لوگ کب یہ جانتے ہیں وہ تمہارے واسطے کیا تھا!
تم اُس کے واسطے کیا تھی!
تمہارا زین تو بس اب تمہارے دکھ کا پروردہ،
تمامی سوگواری کو نگل بیٹھا تمہارے بعد،
اب بے آسرا، بے انت گہرا ہے مگر خالی
ذرا سی سانس لیتا ہے تو سینے کے کھنڈر میں بجلیاں سی کوند جاتی ہیں
در و دیوار خستہ ہیں
تمہی بتلاؤ! اے امیدِ آخر، دائمی حسرت،
بھلا یوں سانس لینا
اس قدر بے کیف سی بوجھل طبیعت لے کے بے پایاں گھٹن میں سانس لینا
اضطراب و بے کلی سینے میں رکھے زندگی کے دن بتانا
آرزوؤں کی بلی دینا
مکمل علم ہو کہ اب صدا نہ جائے گی تم تک
مگر پھر بھی صدا دینا
کئی اچھے بھلے پیارے بہت معصوم لوگوں کو خفا کرنا اور ایسے ناپسندیدہ بنے رہنا
اور ایسے ہی مسلسل جیتے رہنا بھی بھلا کیا جینا ہوتا ہے؟
تمہیں معلوم ہے ناں؟ یہ کوئی جینا نہیں ہوتا!
مگر دیکھو تمہارا زین اب بھی جی رہا ہے
اب بھی زندہ ہے
تمہارا زین جیتا جاگتا ہے
سانس لیتا ہے
مگر اب تم کہاں ہو؟ کچھ نہیں معلوم
لیکن زین اب بھی بس تمہارا ہے جو اس عالم میں زندہ ہے..
کسی کا زین کب کا مر چکا……..
یہ زین کس کا ہے….؟؟؟؟
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.