بولتی ہیں تمہاری – زین شکیل

بولتی ہیں تمہاری آنکھیں بھی
کس لئے تم کلام کرتے ہو
تم فقط مسکرا کے دیکھو ناں
بولتی ہیں تمہاری آنکھیں بھی
موسموں میں اداس رہنے کا
میں نے اک شوق پال رکھا ہے
تم بھی بارش کے ساتھ آ جاؤ
اک جنازے کا حال دیکھا ہے
بین کرتی تھیں حسرتیں ایسے
جانے والا کہیں نہ لوٹ آئے
کیا خبر تھی کہ سوکھ جائے گا
اُس نے اک روز پیڑ پر لکھا
نام میرا، چھپا کے پتوں سے!
اک تخیل اداس رکھتا ہے
ایک چہرہ کمال کرتا ہے
ایک آنسو پناہ دیتا ہے
تم کسی روز لوٹ کر آؤ
میں نے گٹھڑی میں باندھ رکھی ہیں
ساری خوشیاں تمہیں تھما دوں گا
زندگی کا ادھار باقی ہے
سانس گروی ہے پاس لمحوں کے
ضبط بھی کب ہمیں میسر ہے
خواہشوں کے عجیب میلے میں
کس نمائش میں درد ہے کتنا
یہ میں اچھے سے جان لیتا ہوں
تم کئی بار یاد آتے ہو
سکھ کئی بار روٹھ جاتا ہے
میں کئی بار ٹوٹ جاتا ہوں
تیری آنکھوں سے جو نکلتے ہیں
ان ستاروں میں روشنی کم ہے
رات یہ چاند نے کہا مجھ سے!
وہ اکیلی اداس بیٹھی ہے
اور پگلی ہے بے خبر کتنی
سارا عالم اُداس بیٹھا ہے
میں کبھی لوٹ کر نہیں آیا
میں جہاں ہوں وہاں نہیں ہوں میں
تم کہاں ساتھ لے گئے مجھ کو؟
وہ تری دید کو ترستا ہے
وہ کبھی بددعا نہیں دیتا
کس لئے بدگمان ہو اُس سے؟
درد اگر روٹھ کر چلا جائے
اْس کو فوراً منا کے لے آنا
کون ورنہ تمہیں منائے گا؟
غم کا ٹکڑا اُداس بیٹھا تھا
میں نے اْس کو اُٹھا کے ہاتھوں میں
اپنے سینے میں لا سجایا ہے
تم تو کہتے تھے یہ محبت ہے
میں نے آکر قریب سے دیکھا
اس میں وحشت تھی، رنج تھا، دُکھ تھا
میں کبھی دور سے ملوں تجھ کو
تو اگر پاس سے گزر جائے
ربط کیسا بھی ہو مگر ہوتا
وہ جو ساون سے روٹھ آئی تھی
اس لئے ہی بنی نہیں اُس سے
اُس کی آنکھیں عجیب صحرا تھیں
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.