باقی جو کچھ ہے مجھے سخت – زین شکیل

باقی جو کچھ ہے مجھے سخت سزا لگتا ہے
میری آنکھوں کو وہی شخص بھلا لگتا ہے
اُس کے آنسو بھی مناجات کی صورت ہیں کہ وہ
جب بھی روتا ہے مجھے محوِ دعا لگتا ہے
خامشی، اُس سے مجھے جوڑے ہوئے رکھتی ہے
درمیاں میں کوئی بولے تو بُرا لگتا ہے
اور پھر اٹھ ہی گیا اُس کا دعاؤں سے یقیں
اب تو وہ شخص خدا سے بھی خفا لگتا ہے
لمحہ لمحہ مجھے یاد آتے ہوئے شخص! بتا!
میں تجھے بھول سکوں گا؟ تجھے کیا لگتا ہے؟
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.