بات سنو!بات سنو! یوں – زین شکیل

بات سنو!
بات سنو! یوں چپ مت بیٹھو
دیواروں سے لگ کر رونا
آنکھیں پتھر ہو جانے سے
کتنا بہتر ہوتا ہے ناں۔۔
کچھ تو بولو ناں اب چندا
کہ میں آنکھیں پتھر ہونے
سے پہلے دیوار سے لگ کر
ڈھیر سا تیری یاد میں رو لوں
اپنے ان خاموش لبوں کو
کھولو ناں اور یہ بتلا دو
کیا یہ چپ چپ دیواریں بھی
آنسو پونچھنا جان گئیں ہیں؟؟
اب یہ دکھ سکھ بانٹیں گی ناں؟؟
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.