ایک اجڑی ہوئی زمیں ہوں – زین شکیل

ایک اجڑی ہوئی زمیں ہوں میں
اجنبی شہر کا مکیں ہوں میں
گو کہ مدت سے دورِ ہجراں ہے
کیا تمہیں یاد بھی نہیں ہوں میں؟
اب مری بندگی سے راضی ہو!
تیرے در پر جھکی جبیں ہوں میں
تُو ملا ہے تو میں نے جانا ہے
جھوٹ تھا آئینہ! حسیں ہوں میں
تم بھی میرے فسوں میں مت آنا
آج کل سخت دل نشیں ہوں میں
زینؔ الجھا ہوا ہوں مدت سے
میں کہیں اور تھا، کہیں ہوں میں
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.