اک اثر جو مری زبان میں – زین شکیل

اک اثر جو مری زبان میں ہے
اب تلک وہ مرے گمان میں ہے
اپنے اندر ہی پھڑ پھڑاتا ہوں
اک رکاوٹ مری اُڑان میں ہے
کر چکا اب تجھے سپردِ خدا
اب مری جان، میری جان میں ہے
ایک رُودادِ حادثہ موجود
میرے ہر زخم کے نشان میں ہے
منزلیں بھی دکھائی دیتی ہیں
اُس کا چہرہ مرے دھیان میں ہے
زینؔ یوں اُسکے روبرو مت جا
وہ ابھی سخت امتحان میں ہے
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.