اور تم یاد آ گئے پھر – زین شکیل

’’اور تم یاد آ گئے پھر سے‘‘
آج میں نے سیاہ کپڑوں کو
زیب تن کر کے آئینہ دیکھا
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
چوڑیوں کی دکان پر میں نے
چوڑیاں لال رنگ کی دیکھیں
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
آج میں کس طرح کا دکھتی ہوں
میں نے سوچا کہ آئینہ دیکھوں
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
آج کالج میں ایک لڑکی نے
اک تمہاری غزل سنائی تھی
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
تیری یادوں سے تنگ آ کر یہ
میں نے سوچا کہ بھول جاتی ہوں
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
آج میں شام کو گئی چھت پر
دور سے چاند نے مجھے دیکھا
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
میں نے دیکھا کئی ستاروں کو
ایک دوجے سے چونچلیں کرتے
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
خواب میں آج ڈر گئی تھی میں
اور کمرہ، اندھیرا، تنہائی
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
آج موم بتیاں جلائیں تھیں
ہاتھ تھوڑا سا جل گیا میرا
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
آج میں نے کتاب بھی دیکھی
سب ریاضی کے حل، سوال کیے
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
آج اک راستے سے گزری میں
ایک سہما ہوا سا رستہ تھا
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
آج گھڑیال رُک گیا گھر کا
میں نے دیوار سے اُتارا تھا
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
آج گھر میں بڑی اداسی تھی
میں نے جی بھر کے اُس سے باتیں کیں
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
میرے اندر سے کوئی یہ بولا
لوگ مرتے نہیں جدائی میں
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
میرے چہرے پہ جب نمی پھیلی
میں یہ سمجھی ہوا بھی روتی ہے
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
شام کے بعد رات آ پہنچی
رات گزری تو دن نکل آیا
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
دن گیا ہی کہ شام پھر آئی
شام نے رات میں بدلنا تھا
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
میں نے سوچا کہ اپنے ہاتھوں کو
رنگ ڈالوں میں آج مہندی سے
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
آج بالوں کے خم نکالے تھے
اور کچھ بال ٹوٹ کر بکھرے
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
ایک پودا ہے میرے آنگن میں
آج پودے پہ ایک پھول آیا
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
لوگ خائف تھے مسکرانے سے
میں تو ایسے میں مسکرا بیٹھی
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
خواہشوں نے مجھے ستایا ہے
حسرتوں نے مجھے رُلایا ہے
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
مجھ پہ آنکھوں نے آج طنز کیا
ہم بھلا دید بن ہیں کس کاری
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
میری آنکھیں ہیں لال رو رو کر
میں ابھی ہی سنبھل کے بیٹھی تھی
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
میں ہوں مصروف ایک مدت سے
ایک بس تم کو یاد کرنے میں
اور تم یاد آ گئے پھر سے!
تیری یادوں سے اب فرار نہیں
اس قدر مجھ کو یاد آ آ کر
زینؔ تم یاد ہو گئے مجھ کو
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.