اداس کر کے کہاں گئے – زین شکیل

اداس کر کے کہاں گئے ہو
مکان والو!
زمین والوں کو چھوڑکر تم کہاں گئے ہو؟
اے آسمانوں کے راستوں میں بھٹکنے والو
کہاں رکے تھے؟
تمہیں اداسی کے پار جانے کا شوق کیوں تھا؟
زبان کھولو!
کہ خاک ہونے سے خاک ہوتا نہیں ہے جیون
وہ ایک منزل کہ دو قدم پہ پہنچ تو سکتے تھے تم بھی ہم بھی
کہ ساتھ چلنے کے تم نے وعدے تو کر لئے تھے مگر بتاؤ
کہ دو قدم وہ کہاں چلے ہو؟
زبان والو!
ذرا بتاؤ کہاں پہ کرنی تھی بات کس سے، کہاں پہ کی تھی؟
کہی تھی کس سے؟ وہ بات کیا تھی؟
اے کان والو!
وہ جس کی باتیں ہنسی ہنسی میں اڑا گئے ہو وہ کس اذیت میں ذیست کرنے نکل پڑا ہے
کوئی خبر ہے؟؟
کہ جس نے عمروں کی بے حسی کو ،
اسی محبت کی بے بسی کو حروف دے کر بیاں کیا تھا
تمہاری خاطر
تمہیں سنانے کے واسطے ہی لہو جلا کر
اداسیوں کے اجاڑ خانے سے لفظ لا کر
تمہیں سنانے کے واسطے ہی عذاب جھیلے تھے شاعری کے
اسے ہی سن کر ہنسی ہنسی میں اڑا گئے ہو!
اے کان والو!
یہ کیا کِیا ہے؟
نظر ملانی تھی کس سے تم نے، ملائی کس سے؟
اے آنکھ والو!
نظر اٹھا کر جھکانے والو!
نگاہ والوں سے اے نگاہیں چرانے والو!
ذرا بتاؤ کہ کس نگر میں ہماری آنکھوں کو لے گئے ہو؟
کہاں پہ جا کر چھپا دیا ہے؟
تمہاری چاہت میں خون رسنے لگا ہے لیکن
کسی کی جانب نہیں یہ اٹھنے کی تاب رکھتیں
کسی بھی صورت
کسی بھی لمحے
حصار ٹوٹے اداسیوں کا
تو ہم بھی حسرت کے آئینوں پر
گرائیں پتھر
حصار ٹوٹے تو ہم بھی بولیں
مگر ابھی تک حروف جامد ہیں، آنکھ نم ہے،زبان چپ ہے۔۔
اداسیوں کے گڑھے میں ہم کو گرانے والو!
ہماری مردہ سی حسرتوں کو جناز گاہوں میں لانے والو!
زبان کھولو!
کہ آخری بار پوچھتے ہیں
سو آخری بار ہی بتا دو
اداس کر کے کہاں گئے ہو؟
مکین تم بن اجڑ چکے ہیں،
مکان والو!
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.