اجنبی لڑکیسنو!اے – زین شکیل

اجنبی لڑکی
سنو!
اے اجنبی لڑکی
تمہیں میں اجنبی کہتا تو ہوں لیکن
تمہیں میں اجنبی کب مانتا ہوں!
مجھ میں سکت ہی نہیں
میری مجال اتنی نہیں ہے کہ
تمہارے جس قدر بھی ہیں حوالے
اب میں ان سے کٹ سکوں
میں پھر تمہاری راہ سے بھی ہٹ سکوں
تم سے جدائی موت جیسی ہے
طبیعت مضطرب سی ہے
تمہارے بن
ادھورا پن مجھے اب چاٹنے کو ہر گھڑی رہتا ہے میرے پاس ہی
پہلو میں بیٹھا
زور سے جب چیختا ہے
سچ بتاؤں ؟
روح کے اندر بلا کا درد ہوتا ہے
اداسی پھیل جاتی ہے
وہ ناصر کاظمی کہتے جو تھے
کہ گھر کی دیواروں پہ ان کی
کھول کر یہ بال سوئی تھی۔۔
تمہیں اب کیا بتاؤں
اجنبی لڑکی
یہاں کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ عجب سا ہے
اداسی بال کھولے آ تو جاتی ہے
مگر سوتی نہیں
نا جاگتی ہے
نا ہی کوئی بات کرتی ہے
فقط خاموش ہے
مدت سے خاموشی کی چادر اوڑھ کر
اپنے لبوں میں ہی
نجانے کون سا منتر پڑھے جاتی ہے
اور پھر پھونک دیتی ہے
مری لاچاریوں پر بھی
مری بیداریوں پر بھی
مگر جب بھی تمہاری یاد آتی ہے
تو پھر یہ چیختی ہے
اور مرے کانوں میں وحشت گونجنے لگتی ہے
اور اندر تلک جاتی ہے
میری روح کو زخموں کا پہناوا عطا کر کے
نجانے پھر کہاں پر لوٹ جاتی ہے
اداسی بین کرتی ہے
تو پھر بے ساختہ میرے لبوں سے یہ نکلتا ہے
تمہیں میرا یقیں آتا نہیں کیوں کر؟؟
سنو اے اجنبی لڑکی
بتاؤ کس طرح سے میں تمہاری روح میں اتروں؟
بتاؤ کس طرح باور کراؤں میں تمہیں کیسے بتاؤں؟
کہ مجھے تم سے محبت ہو رہی تھی
ہو گئی تھی
ہو گئی ہے
اور بہت ہی دور تک ہوتی چلی جائے گی
میری اجنبی لڑکی
مجھے تم سے محبت بے تحاشہ ہے
بہت زیادہ سے زیادہ ہے
مگر جب پوچھتی ہو
کس قدر ہے
تو نجانے کیوں
تمہیں دکھلا نہیں پاتا
تمہیں بتلا نہیں پاتا
یقین جانو
محبت ناپنے کا کوئی بھی آلہ نہیں ہے پاس میرے
نا ہی میں نے اس طرح کی کوئی بھی خواہش کبھی کی ہے
کہ میں تم کو کبھی لفظوں میں بتلاؤں
کہ ہاں اتنی۔۔
ذرا سی۔۔
اور تھوڑی۔۔
اور زیادہ سی۔۔
یہاں تک بس۔۔
نہیں اے اجنبی لڑکی
محبت کب سماتی ہے
سمندر میں بتاؤ تو
نہ کوئی لفظ ایسا ہے
بتائے جو
کہ ہاں اتنی محبت ہے
یہاں سے ہے شروع اور بس یہاں تک ہے
مگر دیکھو
میں بے پایاں محبت تم سے کرتا ہوں
کنارا ہی نہیں اس کا
کبھی آؤ
کبھی تو ڈوب کر دیکھو
تمہیں شکوہ ہے تو بس یہ
کہ میں کہتا نہیں تم سے
تمہیں خود جان جانا چاہیے تھا ناں
مرے اندر بھی رہتی ہو
مگر تم بے خبر کیوں ہو؟
مری اس زندگانی سے جڑے سارے حوالوں سے جڑی
میری فقط
میری ہی ذاتی
اک مری اپنی
مری اے اجنبی لڑکی
مجھے تم سے محبت ہے
محبت ہے
محبت ہے
بہت زیادہ محبت ہے
بہت زیادہ سے بھی زیادہ محبت ہے
مری اے اجنبی لڑکی۔۔۔!
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.